پیسے دے دو، نقل کرلو!

(عابد محمود عزام, Lahore)

کسی بھی قوم کا انتہائی قیمتی اثاثہ طلبا و طالبات ہوا کرتے ہیں، جن کی بدولت ملک و قوم ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے بام عروج تک پہنچتے ہیں، لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے، جب تعلیمی نظام مضبوط ہو، جہاں تعلیم کے ساتھ تربیت بھی بہترین طریقے سے کی جاتی ہو تاکہ وہ ملک کا اچھا شہری بن کر ہمیشہ معاشرے میں اچھائی کو فروغ دیں اور برائی کی روک تھام کریں اور اگر تعلیمی نظام کی بنیادیں کھوکھلی رہ جائیں تو اس پر مضبوط عمارت کھڑی نہیں ہوسکتی۔ بدقسمتی سے پاکستان میں نظام تعلیم کی بنیادیں کھوکھلی ہوتی جارہی ہیں، امتحانات میں نقل کے بڑھتے ہوئے رجحان نے اس میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ امتحانات میں مختلف طریقوں سے نقل کرنے کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے، جس میں موبائل فون کے ذریعے معاونت، کتاب یا کاپی کو چھپا کر امتحان گاہ میں لے جانا یا مطلوبہ سوالات کے جوابات کاغذ یا کسی اور چیز پر لکھ کر امتحان گاہ میں لے جانا شامل ہے، جسے بوٹی بھی کہا جاتا ہے، ان سمیت امتحانات میں نقل کے تمام طریقے پورے معاشرے، ملک وقوم، حکم رانوں، صاحبانِ اقتدار و اختیار، ماہرین تعلیم، تعلیمی اداروں، اساتذہ اور والدین کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ امتحانات میں نقل کرنا اورکرانا ایک برائی، گناہ، جرم،بدعنوانی اور انصاف کا قتل ہے۔ نقل ایک ایسا ناسور ہے، جس سے ملک وملت کی جڑیں کھوکھلی ہورہی ہیں۔ یہ ناسور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو زنگ آلود کرتا ہے اور قومی ترقی کی عمارت کو گرانے اور تعلیمی نظام کو ناکارہ بنانے کے مترادف ہے۔ نقل کے گھناؤنے عمل میں کسی نہ کسی سطح پر ہم سب شریک ہیں، کیونکہ بحیثیت مجموعی ہم نے مکمل طور پر اس کی روک تھام کی کوشش ہی نہیں کی، بلکہ بعض اوقات تو ممتحن حضرات ہی پیسے لے کر نقل کروانے والوں میں شامل ہوتے ہیں اور کسی ملک وقوم کے ساتھ اس سے بڑا ظلم اورکیا ہوگا کہ تعلیم کے رکھوالے ہی پیسے لے کر تعلیم دشمنی کرنے لگ جائیں۔
نقل کی روک تھام کی جانب عدم توجہی کا نتیجہ ہے کہ پورا سال کتاب سے دور رہ کر آوارہ گردی کرنے والے بچوں کو معلوم ہوتا ہے کہ امتحان میں نقل کے باعث کامیابی یقینی ہے، اگر انہیں یقین ہوکہ امتحان شفاف ہوں گے اور نقل کرنے کی اجازت ہرگز نہیں ہوگی تو وہ پڑھنے پر مجبور ہوں گے۔ نقل کرنے، نقل میں مدد دینے اور نقل کو نہ روکنے سے ملک وقوم اور معاشرہ پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو ملک وقوم کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ نقل کے ذریعے پاس ہونے والے نوجوان معاشرے پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ ان کے پاس ڈگری تو ہوتی ہے، مگر وہ کسی کام کے اہل نہیں ہوتے۔ ناہل ہونے کی وجہ سے منفی سرگرمیوں کی طرف مائل ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات جرائم میں بھی ملوث پائے جاتے ہیں۔ نقل کر کے پاس ہونے والے اور پوزیشن لینے والے طلبا و طالبات اپنی ’’کامیابی‘‘ پر دلی طور پرکبھی مطمئن نہیں ہو سکتے۔ اْن کا ضمیر اگر زندہ ہو تو یقینا انہیں ہر وقت ملامت کرتا رہتا ہو گا۔ نقل کے بل بوتے پر حاصل ہونے والی کامیابی اور خوشی جعلی اور وقتی ہوتی ہے۔ امتحانات میں نقل طلبا و طالبات کو علم کی دولت سے محروم کرنے کا ایک بڑا سبب ہے اور علم کی دولت سے محروم رہ جانے والے لوگ اپنی عملی زندگی میں ہمیشہ ناکام اور دوسروں پر انحصارکرنے والے ہوتے ہیں۔

معاشرتی طور پر نقل کی روک تھام نہ کرنے کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ نقل کرکے پاس ہونے والے اور پوزیشن لینے والے بچوں کو دیکھ کر سارا سال محنت کرکے امتحان دینے والے باصلاحیت طلبا و طالبات ناامید ہوجاتے ہیں۔ نقل کی وجہ سے زیادہ نقصان ان محنتی طلباء کا ہوتا ہے، جو سارا سال اپنی محنت اور کوشش سے تیاری کرتے ہیں، مگر نقل کے باعث نالائق طلباء و طالبات زیادہ نمبر لے جاتے ہیں اور محنتی طلباء و طالبات کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور پھر بعد میں نقل کر کے پاس ہونے والے لوگ ہی رشوت دے کر بڑے بڑے عہدوں پر براجمان ہوجاتے ہیں، اس طرح زمانہ طالب علمی سے نقل کر کے جعل سازی کا آغاز کرنے والے رشوت کے ذریعے بڑے عہدوں پر پہنچ کر جعل سازی اور کرپشن کو مزید فروغ دیتے ہیں۔ اگرنقل کے اس بڑھتے ہوئے جحان کو بروقت نہ روکاگیااور اس کے تدارک کے لیے سنجیدہ اورٹھوس اقدامات نہ اٹھائے گئے تو یقین جانیے ملک وقوم کا مستقبل خطرہ سے خالی نہیں ہوگا۔ ہر شعبہ زندگی نقل کے نقصانات سے شدید متاثر ہوگا۔ ہرمحکمے میں نااہل لوگ رشوتیں دے کر آجائیں گے اور کرپشن کو فروغ دیں گے۔ملکی ترقی اور عروج کی منزلیں دور ہوتی جائیں گی اور پھر ملک وقوم کی تعمیر کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا، کیونکہ جس عمارت کی بنیاد ناقص ہوگی، وہ عمارت کبھی بھی مضبوط اور پائیدار نہیں ہو سکتی۔ عمارت کو مضبوط اور مستحکم کرنا ہے تو اس کی بنیاد نقل کو ختم کر کے تعلیمی نظام کو مضبوط کرنا ہوگا۔

نقل جیسی برائی کی روک تھام کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ضرور ادا کرنا چاہیے، یہ ہمارا دینی، ملی اور اخلاقی فرض ہے۔ نقل کی روک تھام کے لیے معاشرے کے ہرفرد اور ہر ادارے کو اپنا فریضہ ضرور ادا کرنا چاہیے۔ حکومت اور خصوصی طور پر محکمہ تعلیم توجہ دے تو تعلیمی نظام میں بہتری کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ اساتذہ اپنے طلباء وطالبات کو معیاری تعلیم دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں اور والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو نقل کی لعنت سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور نقل کی نفرت ان کی دل میں بٹھا دیں۔ اکثر و بیشتر امتحانات میں وہی بچے نقل کرتے ہیں، جنہیں ان کے اساتذہ نے دلچسپی کے ساتھ پڑھایا نہیں ہوتا یا پھر ان کی اچھی تربیت نہیں کی ہوتی۔ اچھی طرح پڑھانا استاد کی ذمہ داری ہے اور نقل کی برائی بچے کے ذہن میں بٹھانا استاد اور والدین دونوں کی ذمہ داری ہے۔ نقل کرنے اور کرانے والوں کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ نقل کرنے اور کرانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔ نقل روکنے کے لیے ہر سطح پر اور ہر طرح کے قابل عمل، بنیادی اور ٹھوس اقدامات کرنے چاہییں۔ طلبہ اور طالبات کو تعلیم کے آغاز پر ہی نقل کے نقصانات سے آگاہ کر دینا چاہیے۔ ’’نقل کے نقصانات‘‘ کے عنوان پر تمام کلاسز کے طلبا و طالبات سے مضامین لکھوائے جائیں، تاکہ بچوں میں علمی شعور اور احساسِ ذمہ داری پیدا ہو۔ امتحانات کے انعقاد سے پہلے امتحانات دینے والے طلبہ سے نقل نہ کرنے اور امتحانات لینے والے ممتحن سے نقل نہ کرانے پر حلف لیا جائے۔ کسی بھی شعبے میں ملازمتیں صرف میرٹ کی بنیاد پر دی جائیں۔ اگر ہر طالبعلم کو یقین ہو کہ مطلوبہ قابلیت کے بغیر ملازمت کا حصول کسی طرح ممکن نہیں تو مستقبل کا سوچتے ہوئے وہ یقیناً تعلیم پر توجہ دیں گے اور نقل سے دور رہیں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 427583 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 May, 2017 Views: 822

Comments

آپ کی رائے