اسلامی نظام تعلیم اور ہمارا ملک پاکستان دوسرا حصّہ

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
ایسی خوبیوں والے انسانوں کی سیاست دانوں کو ضرورت ہوتی ہے جن کو اسلام میں بچپن میں ہی قتل کر دینے کا درس قرآن میں حضرت خضر علیہ السلام والے واقعہ میں دیا گیا ہے کہ بڑے ہوکر ظلم و دجل برپا کر دیں گے دنیا میں ایسے لوگوں کی کم عمری سمیت دوسری تمام برائیاں بھی گوارہ ہیں ان کو جعلی سندیں بھی مل جاتی ہیں اور گاڑی بنگلہ بینک بیلنس وافر دے دیا جاتا ہے اس کے لیے کوئی امتحان نہیں کوئی رکاوٹ نہیں
اسلامی نظام تعلیم میں ایسے تمام گناہوں کو ناقبل معافی کہا گیا ہے جن سے جرائم اور کرپشن پھیلے اور اگر اس نے ڈگریاں حاصل کر بھی لی ہوں تو وہ بھی ناقابل قبول ہوں گی مگر ہمارے پاکستان میں معاملہ الٹ ہے کہ جرائم کو کرپشن کو بے حیائی بدکرداری کو فن کے نام سے جائز کر لیا جاتا ہے اور حفظ قرآن و حدیث نیکی بلند اخلاقی تقوٰی پرہیزگاری صاحب کردار ہونے کو جرائم دہشت گردی نااہلی قرار دے کر ڈسکوالیفائیڈ قرار دے دیا جاتا ہے جس ملک میں 90 پرسینٹ کرپشن ہو اس ملک سے اور کیا توقع رکھی جاسکتی ہے

اسلامی تعلیمی نظام میں تمام طالب علم قوم کے سپاہی اور مجاہد ہوتے ہیں اور اسلام میں یہ ٹو سٹیٹس باتیں نہیں ہیں کہ یہ نرسری ہے یہ پرائمری ہے یہ مڈل ہے یہ میٹرک ہے یہ سب باتیں تو اس لیے ہیں کہ ایک لائق انسان کو فیلئر بنایا جاسکے جیسا کہ جو انسان کم عمری میں اگر قرآن پاک اور سحاح ستّہ کی احادیث زبانی یاد کر لیتا ہے اور اس میں محمد بن قاسم خالد بن ولید طارق بن زیاد صلاح الدین ایّوبی سلطان محمود غزنوی صدّیق و فاروق و عثمان اور علی رضوان اللہ علیھم اجمعین والی انقلابی صلاحیّتیں موجود ہوں مگر موجودہ نظام تعلیم میں کسی اہمیّت کا حامل نہیں ہے کیوں کہ اس نے نرسری پرائمری مڈل میٹرک پاس نہیں کیا ہے وہ پاکستانی معاشرے میں کسی کام کا نہیں ہے کیوں کہ اس نے انگریزوں والے نظام تعلیم پڑھانے والے استادوں کی سال ہا سال غلامی نہیں کی ہے یہ تو صاف ظاہر ہے کہ نیکی اور تقوٰی وپرہیزگاری جہالت اورکرپشن پر غالب آ جائے یہ بات ہمارے سیاست دانوں کو گوارہ نہیں ہے

ہاں اگر کسی طالب علم میں سیاست دانوں کی مرضی کی خوبیاں پائی جاتی ہیں جیسا کہ جادو کے ذریعہ خزانے تلاش کرنا
جادو کے ذریعہ سے دشمنوں کو ایسے طریقے سے قتل کرنا کہ کسی کو کوئی ثبوت نا ملے
جادو کے ذریعہ سے کسی کی جائدادوں پر ناجا ئز قبضے کرنا کہ اصل مالک قانونی چارہ جوئی کرنے کے بھی قابل نا رہیں
جادو کے ذریعہ سے امیر کبیر رئیس زادیوں کو خوبصورت اورمعصوم امیر زادیوں کو جادو کے زورپر سیاست دانوں کے تلوے چاٹنے پر مجبور کر دینا جیسا کہ اشتہارات میں آتا ہے ایسا کامل پیر عامل بنگالی بابا کہ خوبصورت اور امیر دوشیزائیں آپ کے قدموں میں
یا کہانت کے ذریعہ سے پہلے ہی یہ بات معلوم کرلینا کہ کون سا لڑکا یا لڑکی بڑے ہوکر نیک اور متّقی پرہیزگار بنیں گے کہ عزّت شہرت اور مالداری کی زندگی گزاریں گے اور دنیا میں بڑے بڑے بدلاو لا سکتے ہیں ان کی سرگرمیوں کو محدود کرکے خود ان کی جگہ لے لینا اور ان کو قیدی یا معزور یا مرحوم بنا دینا اور اپنے کیے ہوئے جرائم اس کے نام جڑ دینا

ایسی خوبیوں والے انسانوں کی سیاست دانوں کو ضرورت ہوتی ہے جن کو اسلام میں بچپن میں ہی قتل کر دینے کا درس قرآن میں حضرت خضر علیہ السلام والے واقعہ میں دیا گیا ہے کہ بڑے ہوکر ظلم و دجل برپا کر دیں گے دنیا میں ایسے لوگوں کی کم عمری سمیت دوسری تمام برائیاں بھی گوارہ ہیں ان کو جعلی سندیں بھی مل جاتی ہیں اور گاڑی بنگلہ بینک بیلنس وافر دے دیا جاتا ہے اس کے لیے کوئی امتحان نہیں کوئی رکاوٹ نہیں
اسلامی نظام تعلیم میں ایسے تمام گناہوں کو ناقبل معافی کہا گیا ہے جن سے جرائم اور کرپشن پھیلے اور اگر اس نے ڈگریاں حاصل کر بھی لی ہوں تو وہ بھی ناقابل قبول ہوں گی مگر ہمارے پاکستان میں معاملہ الٹ ہے کہ جرائم کو کرپشن کو بے حیائی بدکرداری کو فن کے نام سے جائز کر لیا جاتا ہے اور حفظ قرآن و حدیث نیکی بلند اخلاقی تقوٰی پرہیزگاری صاحب کردار ہونے کو جرائم دہشت گردی نااہلی قرار دے کر ڈسکوالیفائیڈ قرار دے دیا جاتا ہے جس ملک میں 90 پرسینٹ کرپشن ہو اس ملک سے اور کیا توقع رکھی جاسکتی ہے
یہ کلچر پاپولر کیا جارہا ہے کہ جو عورت میک اپ کر کے بھڑکیلے لباس پہن کر دعوت گناہ دیتی ہے اس کو اپیل فار پیس کہا جاتا ہے اور جو اللہ کے ڈر سے اس کی اس دعوت گناہ کو ردّ کرتا ہے اسے دل توڑنے والا نان سینس جاہل بدّو کہا جاتا ہے اور مجرم سمجھا جاتا ہے اللہ کی پناہ ایسے کلچر سے ---- آمین

اسلامی نظام تعلیم میں طالب علم دین کے سپاہی ہوتے ہیں اور اللہ کے مجاہد ہوتے ہیں ان کو جس عمر میں نرسری کے لیے سکولوں میں داخل کرا دیا جاتا ہے اس عمر میں ان کو قرآن وحدیث زبانی یاد کرانی چاہیے نماز سکھانی چاہیے اور لکھنا پڑھنا سکھانا چاہیے اور جب ان پر نماز پڑھنا ضروری ہوجاتا ہے مثلا جب بچے دس سال کے ہوجاتے ہیں تو ان کو باقاعدہ فوجی وردی مل جانی چاہیے اور چھاونیوں میں کوارٹر مل جانے چاہئیں گاڑیاں ٹرک ٹینک توپخانے فوجی اسلحہ اور نکل و حرکت کے وسائل مل جانے چاہئیں اور قابلیت کے مطابق تنخواہ اور ترقّی ملنی چاہیے حتّی کہ جو لڑکے غیر معمولی ہیں ان کو جنگی ہوائی جہاز مل جانے چاہئیں اس طرح سے ہمارے ملک میں کروڑوں کی تعداد میں فوج ہوجائے گی اور سن بلوغت کو پہچتے پہچتے وہ اور زیادہ میچور ہوجائیں گے اور ایک قابل دینداراور محب وطن مرد مجاہد بن جائیں گے اورجو خطرات ہمارے اسلامی ملکوں میں منڈلا رہے ہیں کہ کافر ہندو پاکستان افغانستان پر قبضہ کر لیں اور پھر ایٹمی پاور پر وہ قبضہ کر لیں اور ایٹم بم ایسے ہی پڑے رہ جائیں ہم کافروں کے ملکوں پر قبضہ کر لیں گے اور ان کی ایٹمی پاور پر بھی قبضہ کر لیں گے ایسا اسلامی نظام تعلیم سے ہی ممکن ہوسکتا ہے مگر یہ کام اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ موجودہ افسران بالا بیرونی قرضوں کے لالچ میں اس سوچ کو ہی غلط اور ناقابل عمل قرار نا دے دیں کہ ہم تو اپنے بچّوں کو بیورو کریٹ بنائیں گے اور ان کو پولیٹیشن بنانا ہے یا وکیل ایڈووکیٹ بیرسٹر بنانا ہے یا بینک مینیجر اور بزنس ٹائیکون بنانا ہے یا پولیس افسر بنانا ہے یا ہم نے اپنے بچّوں کو اداکار اینکر کالمسٹ بنانا ہے تو ایسی صورت میں تبدیلی ناممکن کی حد تک مشکل ہے

اور کرپشن کا خاتمہ کرنے کی بجائے ہم کرپشن میں اضافہ کرلیں گے جیسا کہ کچھ عرصہ پہلے کہا جاتا تھا کہ 85 پرسینٹ کرپشن ہے اضافہ ہوکر 90 پرسینٹ ہوگئی اور اسی طرح اور زیادہ بڑھ کر جائے گی اتنی کرپشن تو جنگوں کی حالت میں لوٹ مار کے وقت بھی نہیں ہوتی - اور لوگ اسلام کی طرف فوج در فوج کھچے چلے آنے کی بجائے اسلام سے متنفر ہوجائیں گے جیسا کہ موجودہ صورت حال میں ہو رہا ہے کہ ہمارے دانشور اسلام کو ہر لحاظ سے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ پرانے وقتوں کی باتیں ہیں قرآن وحدیث پر عمل کرنا اس دور مین ممکن ہی نہیں ہے معاذ اللہ اور اسلام میں فرقہ پرستی کاخاتمہ ہی ممکن نہیں ہے اس طرح کے بیانات کے کتنے پیسے ملتے ہیں ان نام نہاد دانشوروں کو یہ کسی کو معلوم ہی نہیں ہے یوں ہی راتوں رات کوئی ایسے ہی تو نیوز ایجنسیوں اور ٹی وی چینلزکا مالک بن کے نہیں بیٹھ جاتا ہے یہ سب پہلے اپنے آقاوں کو مرتد ہونے کا یقین دلاتے ہیں تو وہ ان کو پیسوں سے نوازتے ہیں اہل اسلام تو اس طرح اتنے پیسے نہیں دیتے ہیں کہ لو بھائی ہم تمھیں اتنے پیسے دیتے ہیں کہ تم چینل کھولو اور اسلام کا پرچار کرو لیکن اسلام مخالف قوّتیں ایسی بہت ساری ہیں جو پیسے دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ٹی وی چینل کھولو اور خوب اسلام کی مخالفت کرو فرقہ پرستی مین اضافہ کرو اہل اسلام دانشوروں کو دنیا کے بڑے مجرم ثابت کر دو مسلمان ملکو٘ں کو آپس میں بھائی چارہ نا کرنے دو عرب ملکوں پر تنقید کرو ان کے نظام کو ظالمانہ نظام ثابت کردو اور یہ ثابت کرو کہ عالم کفر جو عالم اسلام سے ملکوں کے ملک چھین رہا ہے صحیح کر رہا ہے معصوم اور نہتّے مسلمانوں پر بمباریاں کر رہے ہیں صحیح کر رہے ہیں مسلمان ملکوں پر اقتصادی پابندیاں لگا رہے ہیں صحیح لگا رہے ہیں -

ان سب باتوں اور کاموں کا بہترین حل یہی ہے کہ فوج بجائے ڈائریکٹ اقتدار میں آنے کے نظام تعلیم کو اسلامی بنانے میں کردار ادا کریں یہاں تک کہ اگر مسلم ملکوں میں اتّحاد ہوا ہے تو پھر اس میں سارے اسلامی ملکوں جہاد کی تربیّت سکول کالج یونیورسٹی میں ہی لازم اور فرض قرار دیں اور جدید جنگی مہارتیں حاصل کرنے کے لیے مشترکہ جنگی مشقوں کوشہر شہر گاوں گاوں گلی محلّہ کی حد تک ممکن بنانا چاہیے جیسے الیکشن مہم جب شروع ہوتی ہے تو ہر گلی محلّہ کی حد تک لوگ متحرک ہو جاتے ہیں اور حالانکہ فوج کو مشترکہ جنگی مشقوں کےلیے اس سے بھی زیادہ متحرک ہونا چاہیے اگرچہ یہ سب ناممکن نظر آتا ہےمگر خالص اللہ کے لیےکوشش کرنے سے بہت کامیابیاں مل جایا کرتی ہیں لیکن شیطان ہمیں ایسا کرنے نہیں دے گا کیونکہ ایسا کرنے سے ناصرف ملک پاکستان میں انقلاب رونما ہوسکتا ہے بلکہ عالم اسلام میں بھی انقلاب رونما ہوسکتا ہے اور بڑا مضبوط اورکارآمد انقلاب لایا جاسکتا ہے میں اس بات سے ہرگز متفقّ نہیں ہوں کہ جیسے شہنشاہ اکبر نے سارے فرقوں کے عقائد کا مکسچر بنا کے اکبری نظام ہندوستان میں رائج کر دیا تھا اور موجودہ دور میں بھی جو انقلاب لانے کی بات کرتا ہے اور بڑی محنت سے انقلاب کے لیے قربانیاں دیتا ہے تو یہ مسئلہ بنا دیا جاتا ہے کہ اکبری نظام والا انقلاب لایا جائے یا ایرانی انقلاب والا طریقہ برتا جائے یا کمال اتاترک والا انقلاب لایا جائے یوں ساری کوششوں پر پانی پھیر دیا جاتا ہے اور نفاذ اسلام اور اجرائے جہاد کو ناکام بنا دیا جاتا ہے -

ایسے تھنک ٹینک موجود ہیں جو سعودیہ والے اسلامی نظام کو چھوڑ کر شہنشاہ اکبر والے یا ایرانی ملے جلےاسلام کو رائج کرنےکی تحریک شروع کردیتے ہیں اس صورت میں بھی کافروں کو ہی زیادہ فائدہ پہنچتا ہے جو رفتہ رفتہ پھر سے اسلامی ملکوں میں فرقہ پرستی اور خانہ جنگیاں کرا دیتے ہیں اور پھر خود جنگ بندی اور صلح کے نام پر آکر ملک میں اپنا انٹر فئر شروع کر دیتے ہیں اور وہی سیکولرازم کے نام پر حالات کو کنٹرول میں لے آتے ہیں اس طرح سے بجائے اسلام نافذ ہونے اہل کفر کے کالے کاروبار شروع ہوجاتے ہیں اسلامی انقلاب برپا کرنے والے جانباز مجاہدوں کو دہشت گرد قرار دے کر مجرم قرار دے کر جیلوں میں یا مفروری میں زندگی گزارنی پڑتی ہے یا گرفتار کر کے سزائے موت دے دی جاتی ہے اور پھر الیکشن اور مارشل لاء اور کمال اتاترک والے فارمولے جو اسلامی انقلاب کے لیے زہر قاتل ہوتے ہیں اور ان کو معاشرے میں پنپنے کا موقع مل جاتا ہے اور بجائے سدھار کے بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے جس کا وبال سارے کا سارہ اسلام اور اہل اسلام پر ڈال دیا جاتا ہے اور سکّے میں وزن پیدا ہونے کی بجائے سکّہ اور زیادہ بے قیمت ہوکر رہ جاتا ہے جیسا کہ ضیاء دور میں پاکستان کا سکّہ ہندوستان سے بھاری تھا مثال کے طور پر ہندوستان کے ایک سو بیس روپے پاکستانی سو روپے کے برابر تھے اور اب معاملہ الٹ ہو چکا ہے کہ ہندوستانی روپے کی قیمت پاکستانی روپے سے زیادہ ہے اور دن بدن زیادہ ہونے کا امکان ہے اور پاکستانی روپے کا معیار بھی ناقص ہوتا جارہا ہے اور ہندوستانی سرمایہ کاری نظام میں اور پاکستانی سرمایہ کاری نظام کوئی خاص فرق باقی نہیں رہا اس کے علاوہ ہندوستانی سرمایہ کاری نظام زیادہ پر کشش ہے اسی لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھیل میں نمایاں خرابی دیکھنے میں آرہی ہے خیر سرمایہ کاری ایک الگ مسئلہ ہے اس وقت میں نظام تعلیم کے بارے میں عرض کرتا ہوں -

میں نے کئی سیکولر ذہن رکھنے والے دانش وروں سے اپنے کانوں سے سنا ہے کہ میدان جہاد میں جو جذبہ مسلمانوں میں ظاہر ہو جاتا ہے جس بنا پر مسلمان قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود بڑے لشکروں پر غالب آ جایا کرتے تھے ہم مسلمانوں کا وہ جذبہ ایمان ٹھنڈا کرنے کے لیے ایسا نظام تعلیم رائج کریں گے کہ مسلمانوں کا یہ جذبہ ایمان ان کے بچّوں سے کھرچ ڈالیں گے اس کام میں ہمارے لیے یہ حدیث مددگار ہے جس میں مسلمانوں کے پیغمبر نے فرمایا ہے کہ سب بچّے فطرت اسلام پر پیدا ہوتے ہیں اور ان کی تربیّت کرکے ان کے والدین ان کو مجوسی بنا دیتے ہیں یا عیسائی بنا دیتے ہیں یا یہودی بنا دیتے ہیں اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ تربیّت کے ذریعہ سے معصوم اور مسلمان بچّے یہودی عیسائی یا مجوسی بن سکتے ہیں اس طریقہ سے مسلمانوں کے بچّوں کو اپنی تربیّت کے وجہ سے کافر بنا سکتے ہیں اور ان سے جذبہ ایمان اور جذبہ جہاد کھرچ کر نکال سکتے ہیں اسی فارمولے پر عمل کرکے ہم نے اندلس مسلمانوں سے واپس حاصل کیا اور اسی فارمولے پر عمل کرکے ہم مسلمانوں سے ملکوں کے ملک اپنی ملکیت میں شامل کرتے جارہے ہیں کیونکہ ہم تربیّت پر زیادہ توجّہ دیتے ہیں اور میرے جیسے اسلام پسند انسان کو سنگین دھمکیاں دیتے ہیں کہ ہم تمھیں تمھارے اپنے گھر والوں سے مروا دیں گے بلکہ ہم تو ایسی سزائیں دے سکتے ہیں کہ مسلمانوں کے دین کے مطابق دوزخ میں بھی ایسی سزائیں نہیں ملیں گی اور ہم اتنی ترقّی کر چکے ہیں کہ ہمیش عذاب بھی ہم دینے پر قادر ہیں جو مسلمانوں کی شریعت میں بیان ہوا ہے کہ مشرکوں کو ہمیش عذاب دیا جائے گا ہم انسانوں کو اس ہمیش عذاب سے زیادہ بڑے ہمیش عذاب میں مبتلا کر سکتے ہیں -

ہم تربیّت پر زیادہ توجّہ دیتے ہیں اس کام کے لیے ہم نےہسپتال سسٹم چلایا ہے جس میں ہم مریضوں کی اپنی تربیّت کے مطابق دیکھ بھال کرتے ہیں اور مسلمانوں کی تربیّت خراب کرنے کے لیے ہم کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں مثلاّ اپنی بہو بیٹیوں کو تیار کرکے مسلمانوں کے ساتھ ہم بستری کے لیے پیش کرنا بے تہاشہ مال کرچ کرنا اداکاری اور سرکس میں جادو کے فنون دکھا کر ان کو اپنے رنگ میں رنگنا حتّیٰ کہ ہمیں مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے اور اپنی مرضی کی ان کی تربیّت کرنے کے لیے ہم ان سے ہم جنس پرستی بھی کروا سکتے ہیں اپنے آپ سے یعنی ہر اس حد تک بھی جاسکتے ہیں جس کو بیان کرنا کسی شریف آدمی کے لیے ممکن ہی نا ہو اور ہم مسلمانوں کے بچّوں کی تربیّت ایسی کر دیتے ہیں کہ وہ اگر ہماری طرح کافر نہیں ہو جاتے ہیں تو مسلمان بھی نہیں رہتے ہیں کیونکہ ہم جذبہ ایمان اور جذبہ جہاد کو دلوں سے کھرچ کر نکال دینے کا ہنر جانتے ہیں -
قارئین کرام لمحہ فکریہ ہے کہ اللہ نے کافروں سے دوستی لگانے سے منع فرمایا ہے کیونکہ دوست بن کر وہ ہماری تربیّت اپنے جیسی کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں مثال کے طور پر بلّے سے دودھ کی رکھوالی کرانے والی بات جیسے ناممکن کی حد تک مشکل ہے اسی طرح سے کافروں سے دوستی کرکے ہم اپنے بچّوں کی تربیّت کے حوالے رکھوالی کیسے کر سکتے ہیں اس سے بڑھ کر یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بری مجلس سے بچّو {کیونکہ بری مجلس تربیّت میں خرابی کا باعث بن سکتی ہے} حالانکہ مجلس میں تو دوستی والا معاملہ نہیں ہوتا پھر بھی اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ برے لوگوں کی مجلس اختیار کی جائے لیکن ہمارے معاشرے میں کافر اور خاص طور پر عیسائی اس حد تک کامیاب ہو چکے ہیں کہ ہمارے دانشور سیاست دان اور میڈیا والے یہ بات ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں کہ کافر برے ہوتے ہیں

وہ ہماری تربیّت اس حد تک خراب کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں کہ ہمارے بڑے اسکالر اور پروفیسر یہ کہتے ہیں اور ہر لمحہ سٹیج پر یہ کہتے ہیں کہ کافر ہم سے اچھے ہیں مسلمانوں میں یہ خرابی ہے مسلمانوں میں وہ خرابی ہے اور مسلمانوں کی خرابیاں دور کرنے کے لیے اپنے ملک میں کافرانہ تعلیمی نظام رائج کرا بیٹھے ہیں اور اب اس نظام کو درست کرنے کی طاقت دن بدن کھو رہے ہیں اب توجو لوگوں کو اللہ کا حکم سناتا ہے وہ سب سے برا انسان قرار پاتا ہے اور اس تلخ حقیقت کو کوئی ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہے کہ کافر برے انسان ہوتے ہیں ہم ان سے دوستی کریں گے تو اللہ کے نافرمان بن جائیں گے بلکہ وہ ہماری تربیّت اپنی مرضی کی کر کے ہم سے جذبہ ایمان اور جذبہ جہاد کھرچ کر نکال ڈالیں گے اور پھر انسانی حقوق کے نام پر بے دینی کو وہ ہمارے ملک میں نافذ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور ہمارے گلی کوچوں میں اور ہمارے گھروں میں بھی جہالت اور بے دینی کاراج اور ننگا ناچ ہوگا ان سب ناکامیوں سے بچنے کے لیے اسلامی نظام تعلیم رائج اور نافذ کرنے کی اشد ضرورت ہے جس سےہمارا ملک بھی ترقّی کی راہ پر گامزن ہوگا اور اگر ہمیں کافرانہ نظام تعلیم کے تحت اپنے بچّوں کو تعلیم دلائیں گے تو بچّے فیل ہوکر بھی فیل ہی رہیں گے اور پاس ہوکر بھی فیل ہوتے رہیں گے اور کرپشن سے پیچھا چھڑانے میں ہم کبھی کامیاب نہیں ہو پائیں گے اللہ کی پناہ جہالت اور بے دینی کے شر سے ---- آمین
----------------------------------------------جاری ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 108 Articles with 82658 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 May, 2017 Views: 640

Comments

آپ کی رائے