خاموشی - ساتویں قسط

(kanwalnaveed, Karachi)

رفیق نے اپنی امی کو فون کیا۔ اب اس نے اپنے دوستوں کی مدد سے ایک گاڑی لے لی تھی ۔ وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ اب صرف گاڑی چلاتا ۔اب تکلیفوں کے دن گزر چکے تھے۔ اس کے پاس ایک اچھا موبائل تھا ۔وہ اپنی امی کو بھی کبھی کبھار کچھ پیسے بھیج دیتا ۔اس کے دل میں تھا کہ جب میں پڑھائی پوری کر لوں گا تو ،ماموں کے پیسے بھی انہیں ضرور واپس کر دوں گا۔لیکن ابھی وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا ۔ اسے اپنے دوستوں کو ان سے لیے ہوئے ،پیسے ہر ہفتہ انہیں دینا ہوتے ، یونیورسٹی میں تعلیم کے لیے بھی اُسے پیسہ کی ضرورت تھی ۔ اس کا ایم پی اے میں ایک سال اچھے سے مکمل ہوگیا تھا۔ تمام پروفیسر اسے پسند کرتے تھے ۔ وہ بہت محنت سے تعلیم حاصل کر رہا تھا۔
رفیق گاڑی چلا رہا تھا کہ ایک نوجوان بلیک لڑکا اس نے سڑک کی سائیڈ پر کھڑا دیکھا۔چند ہی لمحے گزرے تھے کہ وہ گاڑی کے آگے جان بوجھ کر کود گیا۔ اس کے سر پر چوٹ آئی ۔رفیق نے گاڑی روکی ،اسے ہوسپٹل لے کر جانے کے لیے گاڑی میں بٹھایا۔ اس لڑکے نے رفیق سے پانچ سو پونڈ مانگ لیے اور دھمکی دی کہ اگر وہ رقم نہیں دے گا تو وہ اسے جیل میں ڈلوا دے گا ۔ رفیق کو سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرئے ۔ پانچ سو پونڈ رفیق کے لیے کافی بڑی رقم تھی ۔ اس نے اسے سمجھایا کہ وہ خود یہاں ایک طالب علم ہے اور اس کے پاس اتنی رقم ہے بھی نہیں کہ وہ اسے دے گا۔وہ نہیں مانا ۔ اس نے رفیق کو گردن سے پکڑ لیا اورکہا ،رفیق جہاں سے مرضی اسے رقم فراہم کرئے۔ رفیق کو لگا کہ اگر اس نے اس بلیک لڑکے کی بات نہ مانی تو پتہ نہیں وہ اس کے ساتھ کیا کرئے گا۔ وہ بار بار اُسے فون دیکھا کر پولیس کو بلانے کی دھمکی دے رہا تھا۔رفیق نے اس بلیک نو جوان سے فون کرنے کی اجاذت مانگی تا کر رقم کا انتظام کر سکے ۔رفیق نے گلکندر کو فون کیا اور اپنا مسلہ بتایا۔ تو اس نے کہاتم اسے روکو میں آتا ہو ں۔
رفیق:پلیز ویٹ ۔
بلیک بوائے: گیو می مائی منی ،آئی وانٹ ٹو گو ناو۔
رفیق نے بار بار اس کی منت سماجت کی کہ وہ اسے معاف کر دے ۔وہ نہیں مانا۔ کچھ دیر میں گلکندر وہاں پہنچ گیا ۔
گلکندر : ہاں ،بول اب ہوا کیا؟
رفیق : یہ لڑکا جان بوجھ کر میری گاڑی کے آگے آ گیا۔
بلیک بوائے : واٹ آر یو ٹاکنگ۔ ٹیل می۔
گلکندر نے اس کے منہ پر ذور سے مکا مارا اور ہاتھ میں سے موبائل لے کر کافی دور پھینک دیا۔
گلکندر : تو گاڑی میں بیٹھ اور جا میں دیتا ہوں ،اسے پیسے۔
رفیق : میں چلا جاوں ، ہاں گاڑی میں بیٹھ اور جا۔
گلکندر نے اس کالے انگریز کی گردن کو پکڑ کر اس کی ٹھیک سے پٹائی کی، پھر اسے سڑک پر پھینک کر گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔ رفیق نے اپنے پیچھے شیشے میں اُسے گاڑی میں آتے دیکھا ۔اس نےرفیق کو فون لگایا۔
رفیق: جی گلکندر بھائی۔
گلکندر: ان اچکوں سے ہوشیار رہا کر ۔ہر ملک میں ایسے لوگ ہوتے ہیں ۔
رفیق : آپ کا بہت شکریہ ۔بھائی
گلکندر: شکریہ کیسا۔چل اب، اس گوری کو اس کی گاڑی دوں ۔وہ بھی کہتی ہو گی ،پتہ نہیں کہاں چلا گیا۔
رفیق : جی
رفیق نے دل میں سوچا، گلکندر اگر نہ آتا تو وہ کیا کرتا ۔
گلکندر جسمانی طور پر مضبوط لمبا چوڑا آدمی تھا ، رفیق جب سے ان لوگوں کے ساتھ تھا ،اس نے کوئی ایسا دن نہیں دیکھا ۔جب گلکندر نے ورزش نہ کی ہو ۔ کھانے پینے میں بھی وہ اپنی خوراک پر باقی سب دوستوں کی نسبت ذیادہ دھیان دیتا تھا۔ اگرچہ اسے ذہنی صحت سے کوئی سروکار نہ تھا ۔ رفیق کو محسوس ہوا کہ وہ بھی جسمانی صحت کے معاملے میں کاہل ہے ۔ اس واقعے کے بعد وہ اپنی خوراک اور صحت پر بھی دھیان دینے لگا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر شہر بانو نے ڈاکٹر شیزاد کو فون کیا ۔ ان سے کہا آپ آکر مجھ سے اکیلے ملیں ۔ جب ڈاکٹر شیزاد ملنے کے لیے ڈاکٹر شہر بانو کے پاس آئے تو انہوں نے ڈاکٹر شیزاد کو بتایا کو غزل نے ان سے بات جیت کی ہے ۔ انہیں لگتا ہے کہ اب اسے مذید ایک نفسیاتی ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس کے ساتھ اگلی ملاقات ان کی آخری ملاقات ہو گی ۔
ڈاکٹر شیزاد: آپ کا مطلب ہے کہ غزل اب نارمل زندگی کی طرف لوٹ آئے گی۔
ڈاکٹر شہر بانو: وہ لوٹ چکی ہے نارمل زندگی کی طرف۔میں نے اس کے چہرے پر چمک دیکھی ہے۔میں اسے آپ سے بات جیت پر آمادہ کروں گی۔ مجھے یقین ہے کہ وہ بات جیت کرئے گی آپ سے۔وہ جن باتوں کو آپ سے شیئر نہیں کرنا چاہتی ۔نہ کرئے ۔ کیا آپ اس کی پچھلی زندگی کے بارے میں سب کچھ جاننا چاہتے ہیں؟
ڈاکٹر شیزاد :نہیں۔
ڈاکٹر شہر بانو:تو ٹھیک ہے آپ اسے وقت دیں ۔ اس لیے جب تک وہ اپنے گھر والوں کا ذکر نہ کرئے ۔آپ بھی ذکر نہ کریں ۔ اگر وہ کچھ خود سے بولنا چاہے ،تو بے شک آپ اسے موقع دے سکتے ہیں ۔ انسان خواہ کیسا ہی ہو ،بچہ ہو یا بڑا وہ امیر ہو یا غریب دوسرے انسانوں کی توجہ اور محبت چاہتا ہے ۔ اسے جینے کے لیے کوئی خواب اور چاہنے کے لیے کوئی انسان ہمیشہ چاہیے ۔ خوشی مطلب غزل جس کو آپ اپنی بیٹی بنا چکے ہیں ۔اس کا ایک خواب ہے ۔کچھ بننا اس نے کہاکہ وہ ٹیچر بننا چاہ رہی ہے ۔ آپ جب اس کو اور اس کے خواب کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھیں گئے تو وہ بھی آپ کو پسند کرئے گی ۔ ہم سب یہ ہی تو چاہتے ہیں ۔ہمیں چاہ جائے ۔ ہمیں اہمیت دی جائے ۔ ہماری خواہشوں کو پورا ہونے دیا جائے۔
ڈاکٹر شیزاد : آپ کو وہ پسند کرنے لگی ہے تو آپ کیسے اسے کہہ دیں گی کہ اب آپ اسے نہیں پڑھائیں گی۔
ڈاکٹر شہر بانو: میں کہہ دوں گی کہ میرے فادر بیمار ہیں ۔ان سے ملنے جا رہی ہوں ۔ پھر آپ سے اگر اس نے پوچھا بعد میں تو آپ کہہ دیجئے گا ،میرا فون نمبر کھو گیااور میرے گھر پر تالا لگا ہے ۔ میرا خیال ہے کہ وہ سنبھل جائے گی ۔ ویسے بھی اسے مذید اپنے پاس رکھنا اس کا اور اپنا وقت ضائع کرنا ہے ۔ اسے اب اپنی پڑھائی پر دھیان دینا چاہیے۔
ڈاکٹر شیزاد۔اب لاسٹ ڈے کون سا دیں گی آپ؟غزل کو
ڈاکٹر شہر بانو: کل ہفتہ ہی ہے تو کل چار بجے۔
ڈاکٹر شیزاد : آپ کی فیس ۔پلیز آپ منع نہ کریں ۔ مجھے خوشی ہو گی ۔میں دوں گا تو۔
ڈاکٹر شہر بانو: آپ جو ایک انجان لڑکی کے لیے کر رہے ہیں، اسے دیکھتے ہوئے ، آپ سے فیس لیتے ہوئے مجھے شرم آئے گی۔جب وہ پڑھ لکھ کر دنیا کو سمجھ جائے،تو آپ اسے بتا دیجئے گا کہ میں ایک ماہر نفسیات تھی۔جب کبھی اسے دوبارہ کسی دوست کی ضرورت ہو تو وہ مجھ سے مل سکتی ہے۔
ڈاکٹر شیزاد : جی ضروربتا دوں گا۔
ڈاکٹر شیزاد کو گھر جاتے ہوئے آج بہت اطمینان محسوس ہو رہا تھا۔ ان کو لگ رہا تھا کہ انہوں نےاپنی زندگی کا شاہد سب سے اچھا کام خوشی کو گھرلا کر کیا ہے ۔ انہوں نے اسے کتابیں پڑھتے دیکھا تھا۔جب وہ واپس آئے تو انہوں نے سغرہ کو آواز دی کہ وہ غزل کے کمرے میں جائے اور اسے بلا کر لائے ۔ انہوں نے شایان کو آواز دی ۔
ڈاکٹر شیزاد : شایان بیٹا آپ خوشی کو کمپیوٹر چلانا سکھاو گئے۔
شایان : کیوں نہیں ڈیڈی مگر یہ تو بولتی ہی نہیں مجھے کیسے پتہ چلے گا ۔انہیں سمجھ بھی آئی ہے کہ نہیں ۔
ڈاکٹر شیزاد: بولے گی بیٹا ، ضرور بولے گی ،آپ سکھانا شروع کرو ۔اپنی آپی کو۔
شایان : موسٹ ویلکم،آپ رات کو نو بجے کے بعد سیکھ سکتی ہیں ، کچھ دیر ۔
شایان نے خوشی کی طرف دیکھ کر کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دس دن گزر چکے تھے ،فیصل کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔شفق بہت پریشان تھی ،مگر اس کے گھر والوں کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ شفق کس حال میں ہے ۔ماموں،ممانی نے شفق کو منع کر دیا تھا کہ وہ اپنی امی کو کچھ نہ بتائے۔ دن ہفتوں اور ہفتے،مہینوں میں بدل گئے ۔شفق کو سب گھر والوں نے نوکرانی کی طرح سمجھنا شروع کر دیا تھا۔
شفق کی جب بھی امی سے بات ہوتی تو وہ جی جی ، کرتی رہ جاتی ،ممانی اس اطمینان سے بات کرتیں کہ شفق کی ماں کو بھی تسلی ہو جاتی کہ سب ٹھیک ہے ۔ تین ماہ بعد فیصل کی لاش نالہ لئی کے ایک کنارے سے ملی ، پولیس نے فرحان کو شناخت کے لیے بنایا۔ فیصل کو کسی نے دو دن پہلے ہی گلا دبا کر مار ڈالا تھا ۔پوسٹ ماٹم سے پتہ چلا کے اسے کافی دنوں سے اذیت سے دوچار رکھا گیا تھا۔ اس کی موت مگر گلا دبا کر کی گئی تھی۔ جب یہ خبر گھر میں پہنچی تو شفق کو ممانی نے منحوس قرار دے دیا ۔
فرحان نے جب مہناز کو فیصل کی موت کی اطلاع دی تو وہ سکتے میں آگئیں۔وہاں جا کر انہیں اندازہ ہوا کہ شفق کا کیا حال تھا ۔
شفق: امی مجھےیہاں سے لے جائیں ۔
وہ رو رو کر اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے بارے میں اپنی ماں کو بتا رہی تھی۔ مہناز کوحیرت تھی کہ فرحان نے شفق کو فیصل کی گمشدگی کی اطلاح میکے میں دینے سے منع کیوں کیا ۔ انہیں بہت افسوس ہو رہا تھا کہ اپنی مجبوریوں کی وجہ سے انہوں نے شفق کی پڑھائی چھڑوا کر بہت بڑی غلطی کی تھی۔
مہناز : فرحان میرا خیال ہے کہ شفق کو میں اپنے ساتھ لے جاوں ۔یہاں رہنے کا اس کا کوئی مقصد بھی نہیں ہے۔
فرحان : کیسی بات کر رہی ہیں آپ ۔ عدت تو ہو جائے۔
مہناز: کیسی عدت ۔اِتنے مہینوں سے غائب تھا فیصل ،عدت کس وجہ سے کی اور کروائی جاتی ہے ۔تم بھی جانتے ہو اور میں بھی ۔ چوتھا ہو چکا ہے میں کل ہی شفق کو لے کر یہاں سے جاوں گی۔
فرحان : اگر آپ ایسے جائیں گئیں تو میرا آپ سے کوئی واسطہ نہیں رہے گا۔
مہناز : تم کچھ بھی کہو۔ شفق کو تو میں لے کر جاوں گئی۔ اولاد سے بڑھ کر نہیں ہوتے ہیں بہن بھائی۔ شفق کو یہاں کسی صورت چھوڑ کر نہین جا سکتی۔
انہوں نے دو ٹوک فیصلہ سنا دیا۔شفق کو کچھ اطمینان ہوا۔وہ لوگ دوسرے ہی دن کراچی واپس آ گئے۔ رفیق نے اپنی ماں کو تسلی دی۔
رفیق: امی زندگی، موت تو رب کے ہاتھ میں ہے کوئی کیا کر سکتا ہے۔شفق کے ساتھ انہیں ذیادتی نہیں کرنی چاہیے تھی۔
مہناز: بیٹا وہ تمہاری ممانی تو میرے منہ کے سامنے کہہ رہی تھی ۔جس دن سے یہ لڑکی ہمارے گھر آئی ہے ۔ایک دن سکون کا نہیں دیکھا ،پہلے فیصل کو دُبئی جانے سے روک دیا اس لڑکی نے اور اب اس منحوس کی وجہ سے۔۔۔۔
مہناز بات کرتے ہوئے رو رو کر رفیق کو اپنے بھائی اور بھابھی کی ذیادتیاں بتا رہی تھی۔ رفیق بھی شفق کی حالت سن کر رو رہا تھا۔
رفیق : امی آپ ان کی باتیں نہ دُہرائیں ۔شفق کو سن کر بُرا لگے گا۔ آپ شفق کا بہت خیال رکھیں ۔ اللہ انسان کوصبر دیتا ہے۔ یہ غم کے دن بھی کٹ ہی جائیں گئے۔
مہناز: ہائے کاش ، میرا مالک ایسا نہ کرتا ۔ میری جوان بیٹی ، اس کا اب کیا ہو گا۔
مہناز اور رفیق کافی دیر بات کرتے اور شفق کے لیے روتے رہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹرشہر بانو سے ملاقات کے لیے ڈاکٹر شیزاد خوشی کو آخری بار لے کر جا رہے تھے ۔ اس کے چہرے کا اطمینان انہیں تسلی دے رہا تھا۔ وہ سوچ رہے تھے ۔ کاش یہ لڑکی سب سے بات جیت کرنے لگے جیسے اس نے اپنی ٹیچر سے بات جیت کرنی شروع کر دی ہے۔
ڈاکٹر شیزاد : غزل
خوشی: جی
خوشی بے دھیانی میں اپنی اور اپنی ٹیچر کی باتوں کو دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ ڈاکٹر شیزاد نے اس کو سوچتا دیکھ کر یوں ہی اس کا نام لیا۔ خوشی اب اپنے اس نام سے مانوس ہو چکی تھی ۔سکول میں گھر پر سب ہی اسے اسی نام سے پکارتے تھے ۔
ڈاکٹر شیزاد : غزل بیٹا ، تم بات کیوں نہیں کرتی مجھ سے ۔ میں جانناچاہتا ہوں ،تمہارا سکول میں کیسے وقت گزرتا ہے۔تمہیں کچھ ضرورت تو نہیں ۔ مگر تمہاری خاموشی۔ کبھی کبھی ہماری خاموشی ہمیں بہت نقصان دیتی ہے۔ ہمارے ارد گرد جو لوگ ہمیں پسند کرتے ہیں ،ان کے دُکھ کا باعث بنتی ہے۔ تم جانتی ہو، میں تم میں اپنی بیٹی غزل کو دیکھتا ہو ، جو شایان سے بڑی تھی ۔ اگر وہ زندہ ہوتی تو تمہاری عمر کی ہوتی ، اتفاق سے اس کی انکھیں بھی نیلی تھیں۔ خوشی ان کی ساری بات سنتے ہوئے ان کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر سکون تھا ۔
ڈاکٹر شہر بانو: اسلام علیکم ۔کیسی ہو غزل ،آپ کیسے ہیں، ڈاکٹر صاحب۔
ڈاکٹر شیزاد : اللہ کا شکر ہے ۔ میں ٹھیک ہوں ،آپ اپنی سٹوڈنٹ سے پوچھیں ۔ ہم سے تو یہ بات کرتی نہیں ہے ، جی سے آگے۔
ڈاکٹر شہر بانو: یہ تو بہت غلط بات ہے ۔ اپنے فادر سے کون بات نہیں کرتا بھلا۔
ڈاکٹر شہر بانو : ٹھیک ہے، ابھی آپ جائیں ۔ آپ خود لینے آئیے گا ۔ آج اپنی بیٹی کو۔
ڈاکٹر شیزاد : اچھا تو میں چلتا ہوں۔
خوشی : آپ نے ڈاکٹر شیزاد کو بتا دیا ہے کہ میں نے آپ سے بات کی۔
ڈاکٹر شہر بانو: ہاں ،وہ بہت پریشان تھے تمہیں لے کر ۔ اگر میں نہیں بتاتی تو وہ تمہیں سکول میں داخل کیسے کرواتے۔
خوشی: اچھا۔
ڈاکٹر شہر بانو: میرے فادر بیمار ہیں۔ مجھے یہاں سے جانا ہو گا کچھ دنوں کے لیے ۔ آج تمہارا یہاں آخری دن ہے ۔
خوشی : کیا؟
خوشی کے چہرے پر افسردگی کے ساتھ ساتھ آنسو وں نے بھی جگہ بنا لی ،وہ خودکو رونے سے نہ روک سکی۔ گھر سے نکلنے کے بعد وہ اپنی ٹیچر سے ہی سب سے ذیادہ مانوس ہوئی تھی۔ ڈاکٹر شیزاد کو وہ اپنا محسن سمجھتی تھی مگر ٹیچر اس کے لیے سب کچھ تھیں ۔ اسے اچانک سے اپنا وجود پھر سےخالی خالی لگنا محسوس ہو ا۔
خوشی: آپ نہ جائیں۔
وہ روتے ہوئے فقط اِتنا ہی کہہ پائی تھی۔
ڈاکٹر شہر بانو نے اسے کافی دیر تک رونے دیا ۔ جب انہیں خوشی کے آنسو تھمتے ہوئے محسوس ہوئے تو انہوں نے دھیمے لہجے میں کہا ۔ خوشی۔خوشی نے چونک کر ان کی طرف دیکھا۔
خوشی : آپ نے کیا کہا۔
ڈاکٹر شہر بانو: خوشی اور غم کچھ ذیادہ اثر نہیں کر سکتے اگر ہم انہیں خود کو متاثر نہ کرنے دیں ۔ خوشی ہو یا غم جتنا محسوس کرو،جتنا ان کے متعلق سوچو بڑھ جاتے ہیں ۔ تم اپنی زندگی میں جو حاصل کرنا چاہو ۔اس سے متعلق سوچو وہ تمہیں ضرو ملتا ہے۔
خوشی: اگر میں سوچوں آپ نہ جائیں ،تو کیا آپ نہیں جائیں گی۔
ڈاکٹر شہر بانو: اگر تمہاری سوچوں میں حد درجہ سچائی ہو گی تو ہم پھر ملیں گئے۔ کہاں ،کب ، کیسے یہ تم اللہ پر چھوڑ دو۔
خوشی: اللہ پر۔
ڈاکٹر شہر بانو: وہ بہترین منصوبہ ساز ہے ۔غزل اگر تم سے کچھ کہوں تو مانوگی۔
خوشی : جی۔
ڈاکٹر شہر بانو: تم سب سے بات کیا کرو۔ اگر تم سچ مچ مجھےاپنا سمجھتی ہو تو ۔تم میری بات ضرور مانوگی ۔ مجھے یقین ہے۔
خوشی : میرا نام خوشی ہے۔ میں غزل نہیں ہوں ۔
ڈاکٹر شہر بانو: اچھا۔
انہوں نے نرم لہجے میں ،خوشی کو مسکرا کر دیکھتے ہوئے کہا۔
خوشی: آپ میرانام جانتی تھی۔ میرے بتانے سے پہلے۔
ڈاکٹر شہر بانو: تمہیں ایسا کیوں لگا؟
خوشی : پتہ نہیں ۔ مگر مجھے لگتا ہے ۔آپ میرے بارے میں جیسے سب کچھ جانتی ہیں ۔
ڈاکٹر شہر بانو: جب ہم کسی کو پسند کرتے ہیں تو چاہتے ہیں ، کہ وہ ہمارے بارے میں سب کچھ جانتا ہو ۔ شاہد اس لیے تمہیں ایسا لگا ہے۔کیا تم کچھ بتا نا یا پوچھنا چاہتی ہو۔ آج رات کو میں چلی جاوں گی۔تو شاہد ہم پھر ملیں یانہ ملیں۔
خوشی: میرا ایک بھائی تھا ۔ شاہد ہو۔ پتہ نہیں ۔ ہم دونوں میں لڑائی ہو رہی تھی ۔ اس کا پاوں پھسل گیا ۔ وہ چھت سے گر گیا۔ میں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی ۔ کیا میری غلطی تھی؟
اس کی خاموشی پا کر ڈاکٹر شہر بانو نے کہا۔
ڈاکٹر شہر بانو: خوشی ،تم کیا تھی کون تھی ،کوئی نہیں جانتا ۔سب تمہیں غزل کے نام سے جانتے ہیں ، جو تم کہہ رہی ہو کہ تمہاری غلطی تھی یا نہیں تو حادثہ ہوتے ہیں ۔ ہر روز لوگوں کے ساتھ، موت اور زندگی پر ہمارا اختیار نہیں ،ہاں ہوش میں جو گناہ کیے جاتے ہیں ۔ان کو غلطی کہا جاتا ہے ۔ تمہیں قدرت نے دوبارہ موقع دیا ہے جینے کا ،ورنہ کتنی لڑکیاں ہوتیں ہیں، جن کو ڈاکٹر شیزاد سا محسن ملتا ہے ۔ یہاں پر تو سگے ماں باپ لڑکی کے پیدا ہونے پر افسوس کر رہے ہوتے ہیں ۔
خوشی: آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔میرے ابو کے لیے بھی میں بوجھ ہی تھی۔ اللہ کرے مراد کو کچھ نہ ہوا ہو ۔ اُسی میں ان کی جان بستی تھی۔
ڈاکٹر شہر بانو: تم کیا میرے لیے ایک نئی زندگی شروع نہیں کر سکتی ۔
خوشی کچھ دیر خاموش رہی۔
ڈاکٹر شیزاد بہت اچھے اور نیک انسان ہیں ،تمہاری ذمہ داری لی ہے انہوں نے ۔وہ تمہیں نارمل لائف دینا چاہتے ہیں ۔ تم کیا میری خاطراپنے آپ کو غزل نہیں سمجھ سکتی ۔بھول جاو ۔تم خوشی ہو ۔تمہارا کوئی بھائی تھا۔ زندہ ہے یا مر گیا ۔ سب بھول جاو۔ یاد رکھو کہ تم ڈاکٹر شیزاد کی بیٹی ہو۔ جو تمہیں نئی زندگی دینے کے لیے تمہارے ساتھ کھڑے ہیں ۔ تم سوچ بھی نہیں سکتی ۔ قدرت نے تم پر کس قدر مہربانی کی ہے ۔ ورنہ جس شہر میں لاکھوں لوگ بھوکے سوتے ہیں ۔وہاں کسی کو کیا پروا کسی لڑ کی کے ساتھ کوحادثہ ہو ا ہے یا نہیں ۔کسی کو کیا غرض کہ اس کے خواب کیا ہیں۔ یہ رب ہی ہے۔جس نے ڈاکٹر شیزاد کے دل میں تمہارے لیے محبت ڈال دی ہے۔ یہ رب ہی ہے جس نے تمہیں ،نہ جانے تمہاری کون سی نیکی کے عوض اس بھیڑیوں سے بھری دنیا میں تمہارے لیے سائبان عطا کیا۔ خوشی زندگی ایک کھیل ہے ،جس کو ہر کوئی اپنے طریقے سے کھیلتا ہے ۔رب ہماری نیت دیکھ کر ہمیں عطا کرتا ہے ۔
خوشی: کیا آپ جانتی ہیں جو میرے ساتھ ہو ا۔ کیا ڈاکٹر شیزاد نے آپ کو بتایا کہ میں انہیں کس حالت میں ملی۔
ڈاکٹر شہر بانو: ہاں ۔
خوشی: آپ مجھ سے ہمددی رکھتی ہیں یا پیار۔
ڈاکٹر شہر بانو: ہمدردی اس وقت ہوتی جب تم مجھے اس حال میں ملتی جس حال میں تم ڈاکٹر شیزاد کو ملی تھی۔ مجھے تو تم غزل کے نام سے ڈاکٹر شیزاد کی بیٹی کے طور پر ملی ۔ ہمدردی نہیں مجھے خوشی ہوئی کہ آج بھی دنیا میں نیکی زندہ ہے ورنہ کسی کو کیا پڑی ہے کسی انجان لڑکی کی ۔وہ اسے اپنے گھر میں اپنی بیٹی بنا کر لے جائے۔
خوشی تم اِتنی پیاری ہو کہ کوئی بھی تم سے کسی بھی واسطہ کے بغیر پیار کرئے گا ۔ اگر تم مجھے ڈاکٹر شیزاد کی بیٹی کے طور پر بھی نہ ملی ہوتی ،تو بھی مجھے اچھی ہی لگتی۔خوشی رو رہی تھی ڈاکٹر شہر بانو نے اسے تسلی دی۔
خوشی: آپ مجھے اپنے ساتھ رکھ لیں ۔ میں آپ کے سارے کام بھی کروں گی ۔ اور۔۔۔۔
ڈاکٹر شہر بانو: بیٹا یہ ممکن ہوتا تو میں تمہارے کہنے سے پہلے ہی کر لیتی ۔ صدیق صاحب سے بات کی تھی میں نے ،وہ نہیں مانے ۔ میں تمہیں اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتی۔
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد خوشی نے دھیمے لہجے میں کہا۔
خوشی : کوئی بات نہیں ۔
ڈاکٹر شہر بانو: تم میری خاطر اپنی پچھلی زندگی نہیں بھول سکتی ۔ غزل بننے میں ہی تمہاری بھلائی ہے بچہ ۔ مجھے اپنی ماں جیسا ہی سمجھو ،وہ بھی اگر تمہیں اس حالت میں دیکھتی تو کہتی ،خوشی تم خوش رہو ۔
ڈاکٹر شہر بانو نے پھر پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔وعدہ کرو ،میرے جانے کے بعد تم اپنی اس نئی زندگی کو پورے دل سے قبول کر لو گی ۔ جو ہو چکا اسے یاد بھی نہیں کرو گی۔ سمجھو خوشی مر گئی۔ غزل زندہ ہے ۔
خوشی : جی
ڈاکٹرشہر بانو : جی ۔
ڈاکٹر شہربانو:صرف جی نہیں ۔ وعدہ کرو۔ آج سے تمہاری نئی زندگی کا آغاز ہو گا۔
خوشی نے روتے ہوئے وعدہ کیا۔اس نے اپنے وعدے کو نبھایا ۔اس کی نئی زندگی کا آغاز ہو چکا تھا ۔اس کی زندگی بدل چکی تھی ۔ اس کی سوچوں کا انداز بدل چکا تھا۔ خوشی نے اپنے نئے ماحول سے مطابقت پیدا کر لی تھی ۔عنابیہ کو وہ آنٹی ہی کہتی تھی ۔ ڈاکٹر شیزاد کے اصرار پر اس نے انہیں ڈیڈی ہی کہنا بہتر جانا ۔ وہ بھی اسے اپنی سگی بیٹی کی طرح چاہتے تھے ۔ اس نے میٹرک شایان کے ساتھ ہی پاس کیا تھا ۔ اس کا ایک سال ضائع ہوا تھا۔انہیں ایک ہی کالج میں ایڈمیشن مل چکا تھا ۔ شایان نے سائنس لینے سے منع کر دیا جبکہ خوشی نے میڈیکل سائنس کے ہی مضامین لیے تھے ۔ ڈاکٹر شیزاد نے خوشی کو ڈاکٹر بننے کے لیے تحریک بھی دی ،وہ اسے بتاتے کہ ہمارے ہاں بہترین ڈاکٹر ز کی ضرورت ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شفق واپس اپنے گھر آچکی تھی ۔ وہ پوری بدل چکی تھی ،مہناز کے بہت کہنے پر بھی اس نے اپنی تعلیم کوجاری رکھنے سے انکار کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس سے اب پڑھنے نہیں ہوتا ۔ وہ چھت پر بھی بہت کم ہی جاتی تھی۔ اس کا دل اب عبادت میں بھی نہ لگتا ۔ اگر اس کی امی نماز پڑھنے کا کہتی تو وہ ٹال دیتی ۔ شفق سوچتی تھی ۔اللہ تعالیٰ نے اس کی دُعاوں میں سے کوئی بھی تو قبول نہیں کی ۔ وہ سب کچھ تو اپنی مرضی سے کرتا ہے ۔ہمیں تو محض کٹپتلی کی طرح ہی چلاتا ہے ۔ کچھ بھی تو ہمیں ہماری خواہش کے مطابق نہیں ملتا ۔
اس کے دل میں شکر گزاری کی جگہ شکایات کے ایک ڈھیر نے لے لی تھی ۔شکایات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ،اس کے دل و دماغ میں ہوتاتھا۔ جورات کو سونے سے پہلے اس کے مکمل وجود کو تر کرتے ہوئے ،اس کے تکیہ کو بھگو،دیتا ۔وہ روتے ہوئے اکثر اپنا وجود نیند کو سونپ دیتی ۔ اس نے دُعا مانگنی چھوڑدی تھی۔ اگرچہ اب اس کی عدت کے دن بھی گزر چکے تھے، وقت چل رہا تھامگرشفق کی زندگی رُک گئی تھی۔ صبح جب مہناز اسے جگا رہی تھی تو انہوں نے محسوس کیا ،شفق کا جسم بہت گرم تھا ،جب انہوں نے اسے اُٹھایا تو وہ بخار سے نڈھال ہورہی تھی۔ انہوں نے شفق کو ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے تیار ہونے کا بولا تو اس نے بیزاری کا اظہار کیااور جانے سے انکار کر دیا۔شام تک اس کی حالت مذید خراب ہونےلگی ۔
مہناز: شفق تم ایسی تو نہیں تھی بیٹا ،نہ اپنا خیال ہے تمہیں نہ کسی اور کی پروا۔تم میری بات کیوں نہیں سنتی ہو؟ ڈاکٹر کے پاس نہیں جاو گی تو ٹھیک کیسے ہو گی۔
شفق: اللہ نے ٹھیک کرنا ہوا تو گھر میں ہی کر دے گا ۔ امی ،اسے مجھے تکلیف میں دیکھ کر ہی اچھا لگتا ہے ،تو یوں ہی سہی۔
مہناز: بیٹا کیسی بات کرتی ہو۔ اللہ کو تمہیں تکلیف میں دیکھنا کیسے پسند ہو سکتا ہے ۔ وہ تو اپنے بندوں سے ماں سے بھی ستر گنا ذیادہ محبت کرتا ہے ۔ چلو بیٹا ،تیار ہو جاو۔ ڈاکٹر کے پاس چلو۔
شفق: امی، آپ چھوڑ دیں نا ،میں نہیں مروں گی۔
مہناز : اللہ نہ کرئے بیٹا ،تم کیسی ہو گئی ہو شفق؟
وہ رونے لگیں ۔ مہناز کو روتے دیکھ کر شفق نے ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے تیاری شروع کر دی۔ وہ اپنی ماں کو روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھی۔جب وہ ڈاکٹر کے ہاں سے واپس آ رہیں تھیں تو دانش نے انہیں گلی میں دیکھا،وہ ان کے پیچھے پیچھے ہی تھا ۔ اس نے کافی عرصہ بعد شفق کو دیکھا تھا۔وہ جلدی جلدی چلتا ہو ااُن کے برابر پہنچا تھا۔مہناز نے جب اپنے دروازے پر دستک دی تو دانش بھی اپنے دروازے پر پہنچ چکا تھا۔
دانش: اسلام علیکم ،آنٹی۔
مہناز: واعلیکم اسلام۔بیٹا دانش کیسے ہو۔
دانش نے شفق کی طرف دیکھا ،تو مہناز نے اپنے غم کو بیان کرنا شروع کر دیا ۔ بیٹا شفق کی تو زندگی برباد دہو گی ، میری بیٹی بیوہ ہو گئی ۔شادی کاکوئی سکھ بھی نہیں دیکھا اس نے ۔وہ افسردہ تھیں،دانش نے افسردگی سے شفق کی طرف دیکھا ،جس نے اس کو دیکھنے کی زحمت بھی گہوارہ نہ کی تھی ۔اس نے اپنے دل میں شفق کے لیے محبت کو ابھرتے ہوئے محسوس کیا۔
دانش: آنٹی صبر کریں ۔ انسان رب کی مرضی کے سامنے بےبس ہے۔رفیق کب تک واپس آ رہا ہے۔
مہناز: وہ تو پتہ نہیں کب آئے گا ۔ جب پوچھو تو کہتا ہے چھ ماہ بعد آجاوں گا مگر آتا نہیں ہے۔ اس کاایم پی اے کا اب آخری ہی امتحان رہتا ہے۔
دانش: یہ تو اچھا ہے۔ممکن ہے اسے کوئی کام مل گیا ہو۔
مہناز نے اچھا بیٹا ،کہہ کر کھلے دروازے کے اندر پاوں رکھا ،ربیعہ دروازے میں کھڑی تھی ۔دانش گھر میں داخل ہوا۔ اسے اپنے دل میں برف اُترتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ،اسے ایسے لگ رہا تھا ،جیسے کسی بہت اونچائی پر کھڑے انسان کو کوئی راستہ نیچے اُترنے کا نہ مل رہا ہو اور اس کے لیے اچانک سے قدرت سیڑھی لگا دے ۔وہ اپنے اندر عجیب سی لہریں اُٹھی ہوئی محسوس کر رہا تھا اس نے سوچا اب اسے دیر نہیں کرنی چاہیے۔ وہ بجلی کی سی تیزی سے اُٹھا اوراپنی امی کے پاس جا پہنچا۔
دانش: امی آپ کو اپنا وعدہ یاد ہے۔
کلثوم:کیسا وعدہ؟
دانش : آپ نے کہا تھا کہ اگر میں کسی لڑکی سے شادی کرنا چاہوں تو آپ اس کا نام بھی پورا نہیں پوچھیں گی اور میری شادی اس سے کروا دیں گی۔
کلثوم: ہاں بیٹا کیوں نہیں کروادوں گی ،تمہاری خوشی میں میری خوشی ہے۔
دانش : امی وہ شفق واپس آ گئی ہے۔ آپ کو پتہ ہے؟
کلثوم: پاگل ہو گئےہو تم ،کیا بیوہ سے شادی کرو گئے۔ کیا کمی ہے تم میں۔
دانش: امی آپ جانتی ہیں ،میں اسے ہی پسند کرتا ہوں ۔ اللہ نے اگر ایک راستہ بنا دیا ہے تو میں کسی قیمت پر اب اُسے نہیں کھو سکتا۔میرے دل میں کل بھی وہ تھی آج بھی وہ ہے اور ہمیشہ وہ ہی رہے گی۔
کلثوم:بیٹا کل کی بات اور تھی اب وہ شادی شدہ رہی ہے ۔ تمہیں ایک سے ایک اچھی لڑکی مل جائے گی۔
دانش : شادی شدہ نہیں ہے وہ بیوہ ہے ۔ مر چکا ہے اس کا شوہر۔
کلثوم :لوگ کیا کہیں گئے ۔ ایک اکلوتا بیٹا ۔
دانش: آپ کو میں ذیادہ عزیز ہو یا لوگ ،امی۔ میں جانتا ہوں ،شفق کے ساتھ میں بہت خوش رہوں گا۔
کلثوم :اچھا مجھے کچھ وقت دو ۔ میں اکیلی تو فیصلہ نہیں کر سکتی ۔
دانش: امی جتنا چاہے وقت لیں ۔ اگر شفق سے میری شادی نہیں ہوئی تو میں کسی سے بھی ساری عمر شادی نہیں کروں گا۔
دانش کمرے سے جا چکا تھا ۔اس کی امی پریشانی نےاسے دیکھ رہی تھیں۔
کبھی کبھی خواہش کے پورا ہونے کے کیسے عجیب راستے نکل آتے ہیں ۔ انسان اپنی ذات کی طرح محدود سوچیں رکھتا ہے ۔رب کی منصوبہ بندیاں اس کی ذات کی طرح کس قدر لامحدود ہیں ۔ دانش اپنے کمرے میں لیٹا سوچ رہا تھا۔اس نے دل ہی دل میں بند انکھوں سے رب سے کلام کرتے ہوئے کہا۔ اے اللہ تو دلوں کے بھید جانتا ہے ۔ میری چاہت مجھے عطا کر دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوشی نے بی اے میں میڈیکل سائنس رکھی تھی۔ ڈاکٹر شیزاداور مدحت کے علاوہ گھر میں اسے کو ئی پسند نہیں کرتا تھا ۔ اسے میڈیکل میں عدم دلچسپی محسوس ہو رہی تھی۔ اب وہ مکمل طور پر بدل چکی تھی ۔ اس کے اندر خود اعتمادی بھر چکی تھی۔ اگرچہ شایان اور عنابیہ اسے کبھی کبھی طنز بھی کرتے لیکن وہ ان کے طنز کو خوش اسلوبی سے نظر انداز کرتی ،اگرچہ آفان کو اس سے کوئی مطلب نہ تھا ،وہ اپنی ہی دنیا میں مگن رہتا تھا۔ شایان اپنی امی کی پسند و ناپسند میں ان کا ساتھ دینا اپنا فرض سمجھتا تھا ،وقت کے ساتھ اس کا رویہ خوشی کے ساتھ تلخ ہو چکا تھا۔
ڈاکٹر شیزاد: تم ڈاکٹر نہیں بننا چاہتی غزل ،کیا کہہ رہی ہو۔
شایان : ڈیڈی آپ نے خواہ مخواہ اس پر اپنے پیسے ہی بر باد کیے ۔
ڈاکٹر شیزاد: تم چپ رہو ،پیسے تو میں تم پر بھی بہت برباد کر رہا ہوں۔
غزل : ڈیڈی ،میں ٹیچر بننا چاہتی ہوں ، مجھےبی ایڈ کرنے کا شوق ہے ،پھر ایم ایڈ کر کے پروفیسر بنوں گی۔
شایان: ہاں یہ سبق تو اچھا پڑھا لیتی ہے ۔ اچھے خاصے پڑھے لکھوں کو بھی۔
ڈاکٹر شیزاد: شایان اگر تم کھانا کھا چکے ہو تو یہاں سے جا سکتے ہو۔تمہیں کوئی حق نہیں ہے ،ہمارے درمیان بولنے کا۔
شایان: جب آپ ہمارا حق کسی اور کو دیں گئے تو اپنے حق کے لیے بولنا ہمارا حق ہے ۔
ڈاکٹر شیزاد : غزل بیٹا ،تم جو کرنا چاہو گی ،میں تمہارے ساتھ ہوں ۔ تم بی ایڈسے متعلقہ تمام معلومات جمع کرو ۔
ان کے چہرے پر خوشی دیکھ کر غزل کو اطمینان ہو ا ۔ڈاکٹر شیزاد اس کی پسند اور ناپسند کوبہت اہمیت دیتے تھے ۔ وہ شایان کے رویہ اور عنابیہ کی باتوں کی کوئی پروا نہ کرتی ۔ وہ جانتی تھی کہ ڈاکٹر شیزاد کے اس گھر میں ہوتے ۔ کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔ اس نے بی ایڈ سے متعلقہ معلومات جمع کرنا شروع کر دیں۔
جب کبھی اسے اپنی پرانی زندگی یاد آجاتی تووہ کچھ لکھنے بیٹھ جاتی وہ بچوں کے لیے اصلاحی کہانیاں شوق سے لکھتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دانش کے رشتے کا سن کر شفق کو حیرت ہوئی ،اس نے امی کو منع کر دیا ۔
مہناز : تم شکر کرو شفق ۔بیوہ کے لیے کون رشتہ بھیجتا ہے ۔ دانش ایم اے کر چکا ہے ،بینک میں نوکری کرتا ہے۔ لائق بچہ ہے ۔ تمہیں اعتراض کیا ہے۔ پڑھائی تم مکمل کرنا نہیں چاہتی ۔ شادی سے تم انکار کر رہی ہو ۔ ربیعہ بھی جوان ہو گئی ہے ۔ تمہاری شادی ہو جائے تو میں اس کا سوچوں بی اے کر لیا ہے اس نے ۔ رفیق سے بات ہوئی ہے میری ،وہ کہتا ہے ، دانش سے اچھا لڑکا شفق کو مل ہی نہیں سکتا ۔ اب جلد ازجلد شادی کی تیاری کریں ۔ میں رقم بھیج دو ں گا ۔ وہ وہاں ہمارے لیے ہی رکا ہو ا ہے ۔ رفیق نے مجھے کہا ہے ۔ دانش کو وہ اچھے سے جانتا ہے ۔ بہت اچھا اور سمجھدار لڑکا ہے۔
شفق: امی آپ سمجھ کیوں نہیں رہی ،مجھے دانش سے شادی نہیں کرنی ،اگر آپ میری شادی کروانا چاہ رہی ہیں تو کسی سے بھی کروا دیں مگر دانش سے نہیں ۔
مہناز : اچھا میں پھر ان لوگوں سے ربیعہ کی بات کر لیتی ہوں ۔ شاہد وہ مان جائیں ،دانش اکلوتا ہے ماں ،باپ کا ۔ ہم اِتنے سالوں سے ان کے کرایہ دار ہیں ،ان لوگوں سے کبھی کوئی ایسی بات نہیں ہوئی جو ناگوار ہو ۔ انتہائی شریف لوگ ہیں ۔
شفق : امی وہ ربیعہ سے عمر میں بڑا ہے۔
مہناز : تمہاری تو عمر کا ہے نا؟تم جب انکار کر رہی ہو ۔ لڑکوں کی عمر کون دیکھتا ہے۔ صرف پانچ سال کا فرق ہے ،اِتنا بڑا تو ہونا ہی چاہیے نا لڑکا۔
شفق : نہیں امی ربیعہ کی شادی نہ کریں دانش سے ۔ وہ بی ایڈ کرنا چاہ رہی ہے اسے کرنے دیں ۔
مہناز : اچھا تو کیا کروں ،اِتنا اچھا لڑکا جانے دو ،میں تو ضرور ربیعہ کا نام لوں گی ۔اگر انہیں اچھا لگے تو ،میں ربیعہ کو منا بھی لوں گی۔
شفق : اچھا امی کر دیں میری شادی پھر سے ۔اپنا شوق پورا کر لیں ۔ ربیعہ کی زندگی برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتی ہوں ۔
وہ کہہ کر روتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی۔
مہناز نے رفیق کو فون کیا اور شفق کی رضامندی کی اطلاح دی۔ رفیق نے خوشی کا اظہار کیا ،شادی میں نہ آ سکنے کی وجوہات بتائی۔ شفق اور رفیق کی شادی چار ماہ بعد کرنا قرار پائی ۔ رسم کے طور پر منگنی کی انگوٹھی اور کپڑے دانش کے گھر والوں نے مہناز کو دیئے۔
دانش : امی شفق خوش لگ رہی تھی۔
کلثوم: پتہ نہیں، کچھ کہا نہیں جا سکتا ۔ اس کے چہرے سے تو کچھ بھی نہیں لگ رہا تھا۔
دانش : مہنازآنٹی خوش تھیں ۔
کلثوم: وہ تو خوش ہوں گی ہی نا۔ آج کے دورمیں ،جس لڑکی میں کوئی بھی کمی نہیں ہوتی ،اس کاایسا رشتہ ملنا مشکل ہوتا ہے۔ جیسا انہیں ان کی بیوہ بیٹی کے لیے مل گیا۔
رفیق کا آخری سمسٹر تھا ،اس نےانگلینڈمیں قدم جمانے کی خاطر تعلیم کا عرصہ جان بوجھ کر بڑھا لیا تھا ۔ اس نےاپنے ماموں کے پیسے بھی واپس کر دیئے تھے ۔اب وہ پاکستان میں گھر لینے کے لیے پیسے جمع کر رہا تھا ۔اس کا ڈاکٹر شیزاد کی طرح سلف میڈ بننے کا خواب اسے ایم پی اے کی ڈگری کے بعد پورا ہوتا نظر آ رہا تھا۔ اس کی ڈاکٹر شیزاد سے بات ہوتی رہتی تھی ۔آج بھی جب اس نے سکائپ آن کیا تو وہ بھی آن لائن تھے ۔
رفیق: اسلام علیکم سر ؟ کیسے ہیں آپ ؟
ڈاکٹر شیزاد: رفیق تم کیسے ہو ؟کافی ماہ بعد بات ہو رہی ہے ،کیا ہو رہا ہے؟
رفیق: جی سر ،بلکل ٹھیک ہوں۔
ڈاکٹر شیزاد : انگلینڈپڑھائی کے لیے گئے تھے تم ،لگتا ہے وہیں کے ہو کر رہ گئے ہو۔
رفیق: سر آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ، یہاں کے پونڈدیکھ کر لالچ آ گئی ۔سوچا اپنی بہنوں کا جہیز جمع کر لوں ۔ مگر اپنے مقصد سے بھی پیچھے نہیں ہٹا ہوں۔ بس اب کی بار لاسٹ سمسٹر کا امتحان دو ں گا ۔ اگر امتحان دے کر پاس کر لیتا تو یہاں جو میرے پاس پڑھائی کا ویزا ہے اس کے ساتھ رہنا مشکل ہو جاتا ۔اس لیے ابھی تک امتحان نہیں دے رہا تھا ۔ مگر اب سوچتا ہوں رسک تو لینا ہی ہے ۔ ممکن ہے اچھی جاب مل جائے۔
ڈاکٹر شیزاد :ہاں کیوں نہیں ،زندگی تمام کی تمام ہی رسک ہے ،ہم کہاں جانتے ہیں کہ اگلے لمحہ ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔
رفیق : سر آوں گا تو آپ کے ہاں ضرور حاضر ہوں گا۔
ڈاکٹر شیزاد: کیوں نہیں ۔ ضرور آنا۔
رفیق سوچ رہاتھا ۔کبھی کبھی کچھ لوگوں سے بات کرنا ،ان کی آواز سن لینا بھی سکون دیتا ہے ۔ جذبہ کس قدر طاقت ور ہوتے ہیں ۔انسان کو کبھی تنہائی میں بھی تنہا نہیں رہنے دیتے ۔ دل و دماغ میں ایک بزم جاری رہتی ہے ۔جہاں کو ئی روشن ستارہ ہوتا ہے تو کوئی پتھر ۔کوئی کنکر تو کوئی بوند ۔ انسان اپنے اپنے وجود کے ساتھ خیالوں میں اپنی جگہ پر مکمل قبضہ کیے ہوئے ہوتے ہیں مگریہ حق ہم خود ہی انہیں دیتے ہیں ۔کبھی تو کوئی بوند سا آدمی ہمارے لیے سمندر بن جاتا ہے تو کبھی کوئی کوئی کنکر ہمارے لیے پہاڑ سے بھی بلند جسامت ہو جاتا ہے ۔ ڈاکٹر شیزاد اس کے لیے روشن ستارہ ہی تھے ۔ جو اسے ہمیشہ اچھا ئی کے لیے آمادہ رہنے کی امید دیتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شفق کی شادی پر رفیق نہیں آیا مگر اس کی شادی دھوم دھام سے کی گئی ۔اس کے ابو کی طرف کےتمام رشتے دارو ں نے شرکت کی ۔ دُلہن میرج حال میں رخصتی کی تقریب رکھی گئی۔ اس کی تمام خالہ بھی شادی کی تقریب میں موجود تھیں ۔ سب کے سب لوگ شفق کو بہترین زندگی کی دُعائیں دیتے ہوئے رخصت ہوئے تھے۔شفق نے دانش کے گھر میں قدم رکھنے کے لیے پاوں اُٹھایا تو دانش کی امی نے روک دیا۔
کلثوم: ایک منٹ
وہ مہندی کے رنگ والا پانی لے کر آئیں اور شفق کو اپنے پاوں ا س میں بسم اللہ کر کے رکھنے کو کہا۔
کلثوم: بیٹا یہ سنت ہے۔ دلہن اپنے ہاتھ اس پانی میں لگا کر دیوار کو لگاتی ہے ۔ پاوں کے نشان سے کہتے ہیں،گھر میں برکت آتی ہے۔
شفق نے ان کی بات فوراً مانی ، وہ بات ماننا بہت اچھے سے سیکھ چکی تھی۔ اسے اس شادی میں اس کی ماں نے دل کھول کر جہیز دیا تھا ۔رفیق نےمہناز سے کہا تھا کہ شفق کی شادی میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں آنی چاہیے۔شادی میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں رکھی گئی تھی۔ مگر شفق دل ہی دل میں بہت پریشان تھی۔ دانش نے کہیں اس سے بدلہ لینے کے لیے شادی نہ کی ہو۔ اس نے اُسے تھپڑ جو مارا تھا ۔ وہ پریشان حال بیڈ پر سمٹ کر بیٹھی تھی ،کہ دانش کمرے میں آیا۔
دانش :اسلام علیکم۔
اس نے شفق کے جھکے ہو ے چہرے کو دیکھنے کےلیے اپنا سر اس کی گود میں رکھ لیا۔دانش کے چہرے پر وہ ہی پرائی مسکراہٹ لوٹ آئی تھی۔
شفق : واعلیکم اسلام ۔
ا س کا لہجہ دھیماتھا جبکہ چہرہ سنجیدہ ۔ابھی تک وہ کشمکش تھی۔
دانش: یہ تمہاری منہ دیکھائی ۔ دیکھو ایس فور شفق اینڈ ڈی فار ڈانش ۔اچھا ہے نا۔
شفق نے دیکھا وہ ایک چین اور لاکٹ دیکھا رہا تھا ،لاکٹ پر ایس اور ڈی کے ایلفا بیٹ تھے ۔وہ ابھی تک حیران تھی ، کیا دانش نے اس پیار کی وجہ سے اس سے شادی کی تھی جو ان کے درمیان کسی زمانے میں تھا۔
دانش: کیا سوچ رہی ہو۔ تم بھی تو کچھ بولو۔ہماری محبت یا دہے یا بھول گئی ۔ تم نے مجھے معاف نہیں کیا ابھی تک۔
شفق کو اپنے دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہوئی محسوس ہوئی ، دانش اس کا ہاتھ پکڑ کر اس سے معافی منگوانے کا نہیں مانگنے کا ذکر کر رہاتھا ۔
شفق: کیا۔
دانش: کیا ؟ کیا؟تم نے معاف کر دیا مجھے یا نہیں ؟
شفق: جی
دانش : تو پھر یہ لاکٹ پہنانا ہے ذرا گردن اور جھکاو۔
شفق کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل چکی تھی۔ اس نے اپنی سر کو مذید دانش کے چہرے کی سمت جھکا لیااور اپنی انکھیں بند کر لیں۔ وہ سوچ رہی تھی کہ رب نے اس کی دُعاوں کو کیسے عجیب طریقے سے قبولیت کا شرف بخشاہے ۔ وہ جو پتھر میں کیڑے کو رزق دیتا ہے ،وہ بہتر جانتا ہے کہ انسان کےلیے کیا بُرا ہے کیا بھلا ہے۔ وہ انسان کو اسی لیے آزماتا ہے تاکہ سونے کو پیتل سے الگ کر دے ۔ اسے اس کا من چاہ جیون ساتھی مل چکا تھا۔ وہ دونوں اپنی محبت کی معراج میں بے خود ہو گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رفیق کے گھر کے حالات بدل چکے تھے ربیعہ نے رفیق کو شادی کی تصاویر اور مووی بھیجی تھی ۔ جب اس نے شادی کی مووی میں غزل کو دیکھا تو وہ حیران رہ گیا ۔یہ تو وہ ہی لڑکی ہے ۔ جو ڈاکٹر شیزاد کے ساتھ اسے ملی تھی ۔ شادی میں وہ ربیعہ کے ساتھ ساتھ تھی ۔ مہندی کی رسم میں اور رخصتی کے وقت کی مووی اور تصاویر میں ۔ وہ غزل کی تصویروں کو کافی دیر تک دیکھتا رہا ۔ یہ لڑ کی اس نے ربیعہ کو کال کی اور شادی کی تمام تر باتیں اس سے سنی ۔ پھر جو بات اس کے دل میں تھی۔ وہ پوچھی۔
رفیق: ربی ۔ یہ لڑکی کون ہے تمہارے ساتھ؟ بلیک جین اور بلیو آنکھوں والی۔
ربیعہ : وہ ۔ وہ تو میری دوست ہے غزل ۔
رفیق: ڈاکٹر شیزاد کی بیٹی ؟
ربیعہ : کیا ؟ آپ جانتے ہیں۔ اُسے؟
رفیق: نہیں ،وہ میں نے اسے ایک بار ڈاکٹر شیزاد کے گھر دیکھا تھا۔ تو مجھے لگا کہ وہ ان کی بیٹی ہے۔
ربیعہ : لگا کیا ،وہ ان کی بیٹی ہے ۔ غزل ۔ میری بہت اچھی دوست ہے۔
رفیق: اچھا
ربیعہ: خیریت تو ہے بھائی ۔ آپ بہت سوال کر رہے ہیں ،اس کے بارے میں۔
رفیق : میں تو یوں ہی۔
ربیعہ: وہ بہت امیر لوگ ہیں ۔ ہماری طرح کرایہ کا گھر نہیں ہے ان کا۔
رفیق : ہمارا بھی ساری زندگی کرایہ کا گھر نہیں رہے گا ۔
ربیعہ : پھر بھی ان جیسا بنگلہ نہیں ہو سکتا ہمارا۔
رفیق: ہونے کو تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ تمہارے ساتھ ہی پڑھ رہی ہے نا وہ بھی۔
ربیعہ :یہ تو آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 182333 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
18 May, 2017 Views: 722

Comments

آپ کی رائے