اسکواش- پاکستان کے لیجنڈ کھلاڑی

(Rafi Abbasi, Karachi)
پاکستان اسکواش کے عظیم کھلاڑی جنہوں نے طویل عرصے تک اسکواش کے کھیل میں حکم رانی کی

اسکواش، ٹینس کی طرز کا کھیل ہے جسے ریکٹ اور ربر کی گیند کی مدد سے کھیلا جاتا ہے۔ اس کی ابتداء برطانیہ میں ہوئی، 1830میں ’’ہارو اسکول ‘‘نے اسے متعارف کرایااور 19ویں صدی میں یہ برطانیہ کا مقبول عام کھیل بن گیالیکن اس کھیل کے لیے کوئی اسکواش کورٹ نہیں بنائی جاسکی۔ پہلی اسکواش کورٹ کا قیام امریکا کے شہر کنکارڈ میں سینٹ پال اسکول میںہوا، جس کے بعد نیو ہمپشائر، فلاڈیلفیااور پنسلوانیا میں بھی کورٹ بنائی گئیں۔ 1907ء میں یونائیٹڈ اسٹیٹس ریکٹس اسکواش ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں آیا،1967ء میں عالمی اسکواش فیڈریشن قائم ہوئی جس میں اس وقت 175رکن ممالک شریک ہیں۔عالمی اسکواش فیڈریشن کی گورننگ باڈی اگرچہ انٹرنیشنل ولمپک کمیٹی سے تسلیم شدہ ہے لیکن اس کے باوجود، تاحال یہ کھیل اولمپک گیمز کا حصہ نہیں بن سکا۔1950ء تک اس پر یورپ ، آسٹریلیااور امریکا کو دست رس حاصل تھی لیکن بعد ازاں پاکستانی کھلاڑیوں نے اس میں کارہائے نمایاں انجام دیئے اور نصف صدی سے زائدعرصے تک عالمی اسکواش پر اپنی حکم رانی قائم رکھی اور عالمی چیمپئن شپ، برٹش اوپن، ایشین چیمپئن شپ سمیت کئی بین الاقومی اعزازات طویل عرصے تک اپنے پاس رکھے۔ شاید اسی خوف کی وجہ سے اس کھیل کو اولمپک مقابلوں کا حصہ نہیں بنایا جا سکا۔1950ء میں خیبر پختون خوا کے کئی کھلاڑیوں نے اس کھیل میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنہری تاریخ رقم کی۔ ہاشم خان ، روشن خان،جہانگیر خان ، قمر زمان، رحمت خان ، جان شیر خان، گوگی علائو الدین، محب اللہ خان ، ماریہ طوراور دیگرکھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کی بہ دولت غیر ملکی کھلاڑیوں کے لیے عالمی ٹائٹلز کا حصول ناممکن بنا دیا تھا۔ لیکن رواں صدی میں احمقانہ پالیسیوں، ، غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ، مفاد پرستی ، اقرباء پروری کی وجہ پاکستان فتح سے دور ہوتا گیااور اس کھیل کا درخشاں دور صرف ماضی کے اوراق میں ہی باقی رہ گیا۔ پاکستان 14 بار ورلڈ اوپن چیمپئن شپ جیتنے کا منفرد ریکارڈ رکھتا ہے، 8 بار جان شیر خان اور 6 بار جہانگیر خان نے ملک کو سرخرو کیا۔ پاکستانی کھلاڑی ایونٹ میں 9 بار رنرز اپ بھی رہے، قمر زمان 4 مرتبہ فائنل ہارے، جہانگیر خان 3، جان شیر خان اور محب اللہ خان ایک ایک فیصلہ کن معرکہ میں ناکام رہے۔ 14 مرتبہ ایسا ہوا کہ ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلنے والے دونوں کھلاڑی پاکستانی تھے۔ بیسویں صدی کے دوسرے پانچ عشرے میں،دنیائے اسکواش میں پاکستان کی حکم رانی رہی، لیکن 21 ویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان اس کھیل سے باہر ہوگیا۔گزشتہ صدی کی پچاس کی دھائی سے لے کر1993ء تک کے اس کھیل کےچند لیجنڈ کھلاڑیوں کے کارناموں کا تذکرہ پیش کررہے ہیں، جنہوں نے اسکواش میں کارہائے نمایاں انجام دے کر پاکستان کا نام روشن کیا ۔

ہاشم خان
ہاشم خان 1914ء میں پشاور کے قریب واقع ایک چھوٹے سے گائوں،نواںکلی میں پیدا ہوئے۔ان کے والد،عبداللہ خان پشاور کے ایک کلب میںملازم تھے۔وہ اکثر اپنے ننھے بیٹےہاشم کو وہاںلے کر جاتے تھے ،جہاں پشاور میں مقیم برطانوی حکام اورفوجی افسران آتے تھے۔مذکورہ کلب میں ہاشم خان کی دل چسپی کی جگہ اسکواش کورٹ تھا۔وہاں وہ گھنٹوں بیٹھ کر برطانوی کھلاڑیوں کو اسکواش کھیلتا دیکھتے تھے۔ کچھ عرصے میں انگریزکھلاڑی بھی اس کم سن بچے سے مانوس ہو گئے۔انہوں نے ہاشم خان کو بھی اپنے کھیل میں شریک کرنا شروع کیا، وہ کھیل کے دوران انہوں نے انہیں مختلف نوعیت کی ذمہ داریاں سونپیں جن میںکورٹ سے باہر جاتی ہوئی گیند کو پکڑ کر لانااور پانی وغیرہ پلانا شامل تھیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کھیل ختم ہونے کے بعد جب اسکواش کورٹ خالی ہوجاتا،تو انگریز کھلاڑی ہاشم خان کوبھی کھیلنے کی اجازت دے دیتے۔انگریزکھلاڑیوںنے انہیں کھیلنے کے لیے اپنا استعمال شدہ ریکٹ اور گیند بھی دی۔اس طرح ہاشم کومذکورہ کھیل سیکھنے کا سنہری موقع ملا، جو عام ہندوستانیوں کے لیے اجنبی کھیل تھا۔جب وہ گیارہ سال کی عمر کے تھے تو ان کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیااور ان کے والد ٹریفک حادثے میں شدید زخمی ہونے کے بعد انتقال کرگئے۔کلب انتظامیہ کی طرف سے ان پر رحم کھا کر ’’بال بوائے‘‘کی حیثیت سے ملازمت دے دی گئ،ان کی ذمہ داری میںگری ہوئی گیندیں اٹھانا،انہیں سمیٹنا اور کھلاڑیوں کے دیگر کام کرنا شامل تھا۔ان خدمات کے عوض ہاشم کو ہر مہینے اتنی آمدنی ہوجاتی تھی کہ وہ باآسانی اپنی کفالت خود کرلیتے تھے۔ ڈیوٹی کے دوران کیوں کہ ان کا سارا وقت اسکواش کورٹ میں ہی گزرتاتھا، اس لیے وہ کسی استاد کی ر ہنمائی کے بغیر یہ کھیل کھیلنا سیکھ گئے اور انہوں نے اس میں اتنی مہارت حاصل کرلی کہ جس کورٹ میں وہ ’’بال بوائے‘‘ کی حیثیت سے ملازم ہوئے تھے، وہاں وہ نئے کھلاڑیوں کے کوچ کے فرائض انجام دینے لگے۔ہاشم خان کی محنت، لگن اور صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے برطانوی سرکار نے 1942ء میں شاہی فضائیہ میں اسکواش کوچ کے طور پر بھرتی کر لیا۔1944ء میں ہندوستان میں اسکواش کا پہلا قومی ٹورنامنٹ ’’آل انڈیا اسکواش چیمپئن شپ ‘‘بمبئی میں منعقد ہوا۔اس مقابلے میں فضائیہ کے کھلاڑی کی حیثیت سے ہاشم خان بھی شریک ہوئے اور یہ مقابلہ جیت کر انہوں نے اس کھیل میں اپنی فتح کی ابتدا ءکی۔ پاکستان بننے کے بعد پاک فضائیہ نے ان کا یہ عہدہ برقرار رکھا۔1949ء میں ان کی کوششوں کی وجہ سے پاکستان میں پہلی مرتبہ اسکواش چیمپئن شپ کا انعقاد ہوااویہ پہلا ملکی ٹورنامنٹ انہوں نے ہی جیتا۔ ہاشم خان کے ایک رشتے دار،عبدالباری خان ، جوبھارت میںمقیم تھے اوران کا شمار اسکواش کے اچھے کھلاڑیوں میں ہوتا تھا،ہاشم خان کے ہاتھوں کئی مقابلوں میںشکست سے دوچار ہوئے۔1950ء میں بھارتی اسکواش فیڈیشن کی طرف سے انہیں ’’برٹش اوپن چیمپئن شپ‘‘ کے مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے برطانیہ بھیجا گیا۔عبدالباری نے وہاں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی نام ور کھلاڑیوں کو شکست دی اور فائنل میں پہنچ گئے۔فائنل میںوہ مصر کے مشہور کھلاڑی،محمود الکریم سے ہار گئے۔ عالمی ٹورنامنٹ میں ان کا کھیل دیکھ کر ہاشم خان کے دل میں بھی اسکواش کےکھیل میں اپنی مہارت اور تجربہ بیرون ملک جا کر آزمانے کا جذبہ پیدا ہوا۔ ان کی یہ خواہش پاکستانی حکومت نے پوری کردی اور انہیں 1951ء کے برٹش اوپن اسکواش چیمپئن شپ کے مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے برطانیہ بھیجا گیا، اس وقت ان کی عمر35سال تھی اور اسکواش کے کھیل میں یہ ریٹائرمنٹ کی عمر ہوتی ہے۔مگر ہاشم خان اس کھیل میں نمایاں مقام حاصل کرنے کا جوش اور ولولہ لے کر برطانیہ آئے تھے۔ کئی غیرملکی کھلاڑیوں کو شکست دینے کے بعد فائنل میںان کا مقابلہ برٹش اوپن چیمپئن ،محمود الکریم سے ہوااور ہاشم خان انہیں شکت دے کربرٹش اوپن کے چیمپئن بن گئے۔یہ کسی پاکستانی کھلاڑی کی پہلی عالمی فتح تھی۔

اس فتح کے ساتھ ہی عالمی اسکواش پر پاکستان کی حکم رانی کا دور شروع ہوا، جو 1964ء تا 1981ء کا کچھ عرصہ چھوڑ کر 1997ء تک جاری رہا۔ ہاشم خان نے سات بار برٹش اوپن چیمپئن شپ جیتی اورطویل عرصے تک عالمی اسکواش کے نمبرون کھلاڑی رہے۔ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس کھیل کے اسرارورموزانہوں نےصرف اپنی ذات تک محدود نہ رکھےبلکہ ان کے بارے میں دوسرے کھلاڑیوں کو بھی آگہی دیتے تھے۔1962ء میں انہوں نے اس کھیل سے ریٹائرمنٹ لے کر امریکی شہر ڈینور میں سکونت اختیار کر لی اور وہاں’’ ڈینور ایتھلیٹکس کلب ‘‘ میںبہ طور اسکواش کوچ کے کام کرنے لگے۔ ان کے سات بیٹے اسکواش کےبہترین کھلاڑی رہے۔سب سے بڑے بیٹے،شریف خان نے ’’نارتھ امریکن اسکواش چیمپئن شپ‘‘بارہ مرتبہ جیتی جو ایک ریکارڈ ہے۔پاکستان کے بابائے اسکواش،ہاشم خان 18 اگست 2014ءکوانتقال کرگئے۔

روشن خان
اسکواش کے سابق عالمی چیمپئن ، ورلڈ سکواش فیڈریشن کے سابق صدر اوراس کھیل میں کئی مرتبہ عالمی چیمپئن شپ جیتنے والےجہانگیر خان کے والد1927ء میں پشاور میں پیدا ہوئے۔روشن خان کے والدبرٹش آرمی میں ملازم تھے لیکن تقسیم ہند کے بعد انہوں نے پاکستان نیوی میں ملازمت اختیارکرلی۔اسکواش کورٹ میںروشن خان بال بوائے تھے اور نیوی کے افسران جب اسکواش کھیلتے تو وہ ان کو بال اٹھا کر دیا کرتے تھے۔ یہیں سے ہی ان میں اسکواش کھیلنے کا شوق پیدا ہوا۔اور انہوں نے اسے بغیر کسی استاد کی مدد کے سیکھ کر اتنی مہارت حاصل کرلی کہ بعد میں انہیں پاکستان نیوی کی جانب سے اسکواش کے مقابلوں میں شرکت کا موقع فراہم کیا گیا۔روشن خان نے پہلی مرتبہ پہلی مرتبہ1957ء میں برٹش اوپن اسکواش چیمپئن شپ جیتی تھی۔ وہ تین مرتبہ یو ایس اوپن چیمپئن شپ کے بھی فاتح رہے۔روشن خان کو کئی ممالک نےاسکواش کوچ کی حیثیت سے ملازمت کی پیشکش کی لیکن انہوں نےاسے ٹھکرادیا اوراپنے ملک میں خدمات انجام دینے کو ترجیح دی۔1906ء میں دل کا دورہ پڑنے سےان کا کراچی میں انتقال ہوا۔ان کے تین بیٹوں طورسم خان، حسن خان اور جہانگیر خان نے اسکواش میں پاکستان کو عالمی مقام دلایا۔

اعظم خان
ہاشم خان کے چھوٹے بھائی اعظم خان کا شمار بھی دنیائے اسکواش کے نام ور کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ کھیل اپنے بھائی ہاشم خان سے سیکھا۔ 1954ء میں انہوں نے اپنے بھائی کے مقابل برٹش اوپن چیمپئن شپ میں حصہ لیا لیکن یہ مقابلہ ہاشم خان نے جیتا جب کہ اعظم خان رنر اپ رہے۔ 1955ءسے 1958ء تک بدستور وہ اپنے بھائی کے مقابلے میں فائنل ہارتے رہے۔1959ء میں انہوں نے اس مقابلے میں پہلی مرتبہ کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد 1962ء تک وہ یہ مقابلہ جیتتے رہے۔23 مارچ 1961ء کو حکومت پاکستان کی طرف سے اعظم خان کواعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔1962ء میں انہوں نے یوایس اسکواش اوپن چیمپئن کا ٹائٹل بھی حاصل کیا۔ 1963ء میں وہ برٹش اوپن اسکواش چیمپئن شپ کے مقابلے میں آخری مرتبہ شریک ہوئے، جس میں ان کا مقابلہ ہم وطن کھلاڑی ، محب اللہ سینئر سے ہوا ، جنہوں نے اس چیمپئن شپ میں ان کی چار سالہ سبقت کا خاتمہ کردیا۔ اسی سال طبی وجوہات کی بناء پر وہ اس کھیل سے ریٹائرمنٹ لے کر برطانیہ میں مقیم ہوگئے جہاں انہوں نے لندن میں ’’نیوگرافین اسکواش کلب‘‘ قائم کیا۔ ان کی پوتی کلارا خان اس وقت اسکواش کی بین الاقوامی کھلاڑی کی حیثیت سے معروف ہیں۔

گوگی علاؤالدین
اسکواش کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی، گوگی علاؤالدین 1950ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ 1970میں انہوں نے برٹش ایمیچر چیمپئن شپ جیتی۔ 1972ء اور 1973ء میں پاکستان اوپن اسکواش چیمپئن شپ کے مقابلوں میں شریک ہوئے اور دونوں مرتبہ انہوں نے اسے جیت کرقومی اعزاز حاصل کیا۔ 1973ء اور 1975ء میں انہوں نے برٹش اوپن اسکواش چیمپئن شپ کے مقابلوں میں حصہ لیا اور دونوں مرتبہ وہ رنر اپ رہے۔ 1975ء میں انہوں نے اسکواش کے عالمی نمبر دو کے کھلاڑی کا درجہ حاصل کیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ پاکستان اسکواش میں کوچ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل انہوں نے ایشین اسکواش چیمپئن شپ کا ٹائٹل جیت کر سونے کا تمغہ حاصل کیا۔

طورسم خان
27 ستمبر 1951ء کوپشاور میں پیدا ہوئے، وہ اسکواش کے معروف کھلاڑی روشن خان کے بڑے صاحب زادے تھے۔اسکواش کا کھیل انہوں نے اپنے والد سے سیکھا، 967ء میںانہوں نے قومی اسکواش چیمپئن شپ میں حصہ لیا، جس کے وہ فاتح رہے ۔1971ء میں انہوں نے عالمی ایمیچر اسکواش چیمپئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ 1972ء میں انہوں نے برٹش اوپن چیمپئن شپ جیتی، اس میں ان کا کوارٹر فائنل میں ہم وطن کھلاڑی قمر زمان سے مقابلہ ہوا، 1974ء میں شمالی انگلستان اوپن چیمپئن شپ، یو ایس اوپن چیمپئن شپ اور ویلش اوپن اسکواش چیمپئن شپ کے ٹائٹل جیتے۔ان کی دلی خواہش تھی کہ ان کا چھوٹا بھائی جہانگیر خان ، اسکواش کی عالمی چیمپئن شپ کا اعزاز حاصل کرے۔مگران کا یہ سپنا ان کی موت کے بعد پورا ہو ا۔28نومبر 1979ء کووہ آسٹریلیا کے شہر ایڈی لیڈ میں آسٹریلین اوپن اسکواش ٹورنامنٹ کا میچ کھیلتے ہوئے دل کادورہ پڑنے کی وجہ سےاسکواش کورٹ میں گرگئے، اس سے قبل کہ انہیں طبی امداد کے لیے اسپتال لے جایا جاتا،انتقال کرگئے۔ یہ اسکواش کی تاریخ کا پہلا دردناک واقعہ تھا جب کوئی کھلاڑی کھیل کے دوران اسکواش کورٹ میں فوت ہوا تھا۔ا ن کے جسد خاکی کو کراچی لایا گیا جہاں گورا قبرستان سے ملحق فوجی قبرستان میں ان کی تدفین کی گئی۔ طورسم خان 1979ء میں اسکواش کی عالمی رینکنگ میں 13ویںنمبر پر تھے، اور اسی سال وہ عالمی اسکواش پلیئرز ایسوسی ایشن کے صدر بھی منتخب ہوئے تھے۔

قمر زماں
1952ء میں کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔بچپن سے ہی اسکواش کے کھیل میں دل چسپی رکھتے تھے، اسکواش کے کئی معروف کھلاڑیوں سے انہوں نے تربیت حاصل کی۔ 1970سے 1980ء تک قومی اسکواش ٹیم کے صف اول کے کھلاڑی رہے۔ 1968ء میں پاکستان جونیئر اسکواش چیمپئن شپ جیتی، 1973ء میں برٹش ایمیچر اسکواش چیمپئن شپ کے مقابلے میں شریک ہوئے لیکن سیمی فائنل میں شکست کھاگئے۔ 1974ء میں برٹش اوپن چیمپئن شپ میں حصہ لیا لیکن اس کے بھی سیمی فائنل تک پہنچ سکے۔ اسی سال انہوں نے آسٹریلن اوپن اسکواش چیمپئن شپ کا ٹائٹل حاصل کیا۔ 1975ء میں انہوں نے برٹش اوپن کےسیمی فائنل میں جیف ہنٹ اور فائنل میں علاؤالدین گوگی کو شکست دے کر برطانیہ کا معتبر ترین اعزاز حاصل کیا۔ اس کے بعد وہ 1978ء سے 1984ء تک چار مرتبہ رنر اپ کھلاڑی رہے۔

رحمت خان
رحمت خان ،پشاور کے اسی گھرانے میں پیدا ہوئے ، جس کے زیادہ تر افراداسکواش کے نام ور کھلاڑی تھے۔ ان کے والد نصراللہ خان، جواس کھیل کے عالمی چیمپئن جونابرنگٹن کے کوچ تھے، چاچا روشن خان اور چاچا زاد بھائی طورسم خان اور جہانگیر خان نے طویل عرصے تک اسکواش کے کھیل پر اپنی حکم رانی قائم رکھی۔ وہ 1972میں اسکواش کی عالمی درجہ بندی میں 12ویں نمبر پر تھے۔ طورسم خان ان کے چہیتے دوست تھے جن کی خواہش اپنے چھوٹے بھائی جہانگیر خان کو اسکواش کا عالمی چیمپئن بنانے کی تھی، اس مقصد کے لیے ان دونوں نے’’ سسیکس اسکواش کلب ‘‘ کے پچاس فیصد حصص خرید ے اور نو عمر جہانگیر خان کو لندن لے کر آئے جہاں انہوں نے اس کی تربیت کا آغاز کیا۔ اسی دوران طورسم خان کا انتقال ہوگیا اور یہ ذمہ داری رحمت خان نے تنہا اٹھائی۔ اس کے لیے انہیں کھیل سے کنارہ کشی اختیار کرنا پڑی۔ انہوں نے اپنا سارا تجربہ اور مہارت جہانگیر خان کو عظیم کھلاڑی بنانے پر صرف کردی۔ ان کی محنت رنگ لائی اور چند سال بعد ہی جہانگیر خان نے نہ صرف عالمی چیمپئن کا اعزاز حاصل کیا، بلکہ برٹش اوپن چیمپئن شپ اور عالمی اسکواش پر طویل عرصے تک اپنی حکم رانی قائم رکھی۔ 2006ء میں وہ کویت کی قومی اسکواش ٹیم کے آفیشل کوچ مقرر ہوئے۔ ہ آج کل سان فرانسسکو میں مقیم ہیں اور لاس گاٹس کیلی فورنیا کے وایواسکواش کلب میں کوچ کی چیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے اسکواش کے کھیل کو عروج پر پہنچانے کےلیے کئی کارہائے نمایاں انجام دیئےجنہیں سراہتے ہوئےحکومت پاکستان نے 2005ء میں انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا۔

جہانگیر خان
10دسمبر 1963ء کو کراچی میں پیدا ہونے والے جہانگیر خان نے عالمی اسکواش پر طویل عرصے تک حکومت کی۔ وہ چھ مرتبہ عالمی چیمپئن اور 10مرتبہ برٹش اسکواش چیمپئن شپ کے فاتح رہے ۔ اپنے کیرئیر کے دوران وہ 555میچز میں ناقابل شکست رہے۔ 1993ء میں کھیل سے ریٹائر ہوگئے۔ 2002سے 2008ء تک عالمی اسکواش فیڈریشن کے صدر کے فرائض انجام دیتے رہے، 2016ء میں انہیں دوسری مرتبہ یہ ذمہ داری سونپی گئ۔ جہانگیر خان جب 14 سال کی عمرکے تھے توسخت بیمار ہوگئے جس کی وجہ سے جسمانی طور سے بہت کمزور ہوگئے۔ جب وہ صحت یاب ہوئے تو ان کےوالد روشن خان نے انہیں ، ان کی صحت کی وجہ سے اس کھیل سے دور رہنے کی ہدایت کی، لیکن ان کے بڑے بھائی طورسم خان نے، جو خود بھی اس کھیل کےنام ور کھلاڑی تھے ،اپنے چچا زاد بھائی اور اسکواش کے ساتھی کھلاڑی، رحمت خان سے کہا کہ اُن کی دِلی خواہش ہے کہ اُن کا چھوٹا بھائی عالمی چیمپئن بنے۔اپنے اس مشن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے، رحمت خان اور طورسم خان نے ’’ سسیکس اسکواش کلب ‘‘ کے پچاس فیصد حصص خرید ے اور نو عمر جہانگیر خان کو لندن لے کر آگئے، اور ان کی تربیت کا آغار کیا ۔ لیکن کچھ ہی دنوں بعد آسٹریلیا میں ایک میچ کھیلتے ہوئےطورسم کو دل کا دورہ پڑا اور وہ وہیں اسکواش کورٹ میں گِر کر جاں بحق ہوگئے۔اپنے بھائی کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے جہا نگیر نے اس کھیل پر توجہ مرکوز کردی، ان کے استاد رحمت خان نے ان کی بھرپور رہنمائی کی۔

جہانگیرخان نے پہلی مرتبہ 17سال کی عمر میں کینیڈا میں ہونے والے اسکواش کے عالمی چیمپئن شپ کے مقابلے میں حصہ لیا۔وہ اس ٹورنامنٹ کےسارے میچ پراعتماد طریقے سے جیت کر فائنل میں پہنچ گئے جہاں اُن کا مقابلہ آسٹریلیا کے تجربہ کار کھلاڑی جیف ہنٹ سے ہوا۔ پہلا گیم وہ 9-7سے ہار گئے۔، لیکن اُنہوں نے اولوالعزمی کا مظاہرہ کیا اور تیز کھیل کر اپنے حریف کو تھکادیا اور وہ اگلےتین گیمز 9-1,7-9, 2-9 ،2 -9 سے جیت کر، وہ پاکستان کی تاریخ میں اسکواش کے پہلے سب سے کم سن عالمی چیمپئن بنے۔انہوں نے ہر کھیل میں تیز کھیلنے کی حکمت عملی اختیار کی اوراگلے پانچ سال تک وہ ناقابل شکست رہے۔انہوں نے 555میچزجیتے۔ مجموعی طور پر اُنھوں نے دس مرتبہ برٹش اوپن چیمپئن شپ اور چھ مرتبہ عالمی چیمپئین بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

جان شیر خان
15 جون 1969ء کو پشاور میں پیدا ہونے والے جان شیر خان کے دو بھائی محب اللہ اور اطلس خان اسکواش کے معروف کھلاڑی تھے، جنہوں نے جان شیر کو اس کھیل میں تربیت دی۔ 1986ء میں انہوں نے آسٹریلیا میں عالمی جونئیر اسکواش چیمپئن شپ کے مقابلے میں شرکت کی اور مذکورہ ٹائٹل جیتا جب کہ 1987ء میں سینئر عالمی چیمپئن شپ میں کرس ڈٹمار کو شکست دی۔ 1988ء میں اسکاٹ لینڈ میں ہونے والے مقابلے میں بھی عالمی جونئیر اسکواش چیمپئن کا اعزاز انہی کے پاس رہا۔ 1992 ءمیں انہوں نےاپنے ہم وطن لیجنڈ کھلاڑی کو برٹش اوپن اسکواش چیمپئن شپ میںشکست سے دوچار کرکے مذکورہ اعزاز حاصل کیا، 1993ء میں جہانگیر خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد 1997 تک لگاتار 6 برس تک جان شیرخان نے یہ اعزاز اپنے پاس رکھا اور ہاشم خان کاچھ مرتبہ کے برٹش اوپن چیمپئن رہنے کا ریکارڈ برابر کردیا، جب کہ آٹھ مرتبہ ورلڈ اوپن اسکواش چیمپئن شپ کے فاتح رہے۔ انہوں نے اپنے اسکواش کیریئر میں99میچز میں فتح حاصل کی،آخری مرتبہ 1997ء میں برٹش اوپن کا مقابلہ جیت کر برطانیہ میں سبز ہلالی پرچم لہرایا۔ 6 اپریل 1998 کووہ اس ٹورنامنٹ کے فائنل میں اسکاٹ لینڈ کے کھلاڑی پیٹر نکول سےہارگئے۔جس کے بعد انہوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کا اسکواش کے کھیل میں زوال شروع ہوا اور اس کی ساٹھ سالہ اجارہ داری ختم ہوگئی۔جہانگیر خان اور جان شیر خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی پاکستانی کھلاڑی ٹاپ ٹین تک کے مرحلے میں بھی نہیں پہنچ پایا

ماریہ طورپاکئی وزیر
پاکستان کی خواتین بھی کھیلوں میں مرد حضرات سے پیچھے نہیں رہیں اور ان میں سے کئی نے زندگی کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرتے ہوئے عالمی ریکارڈ قائم کیے۔ انہی میں سے ماریہ طور بھی ہیں۔ 22نومبر 1990ء کو جنوبی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں پیدا ہونے والی لڑکی ماریہ طور پاکئی وزیر،پاکستان کے قبائلی علاقے میں پیدا ہونے والی پہلی خاتون کھلاڑی ہیں ، جنہوں نے اسکواش کے کھیل میں عالمی مقام بنایا۔ ان کے علاقے میںخواتین کی کھیلوں میں شرکت ممنوع تھی، جب کہ کسی لڑکی کا برقعے کے بغیر اور کھیل کے مختصر لباس میں ملبوس ہونا ’’کفر‘‘ کے زمرے میں آتا ہے۔ ابتداء میں انہوں نے لڑکوں کی طرح کے لباس اور حلیے کے ساتھ ویٹ لفٹنگ کے مقابلوں میں حصہ لینا شروع کیا اور اپنی عمر کے لڑکوں کو متعدد ٹورنامنٹس میں شکست دی، بعد میں ان کے والد نے انہیں اسکواش کے کھیل سے مربوط کردیا، ابتداء میں وہ ’’گنگش خان‘‘ کے نام سے اسکواش کے کھیل کی تربیت حاصل کرکے، علاقائی سطح کے مقابلوں میں حصہ لیتی رہیں، لیکن جب اسکواش کی قومی ٹیم میں شمولیت کے لیے ان سے پیدائشی سرٹیفکٹ طلب کیا گیا تو ان کی ’’جنس‘‘ کا راز افشاءہوااور پہلی مرتبہ لوگوں کو ان کے خاتون ہونے کا علم ہوا۔ خاتون کھلاڑی ہونا ان کے لیے جرم بن گیا اور انہیں مذہبی انتہا پسندوں کی طرف سے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے لگیں۔ پاکستان اسکواش فیڈریشن کی طرف سے ان کے لیے حفاظتی اقدامات کیے گئےلیکن وہ تین سال تک اپنے گھر کے ایک کمرے میں محبوس رہیں۔ اس دوران وہ گھر کی دیواروں پراسکواش کھیلنے کی مشق کرتی رہیں، اس دوران جب وہ گیند پر ضرب لگا کر دیوار پر مارتیں تو اس کی آواز کی گونج پڑوسیوں کو ناگوار گزرتی تھی ، جس کی شکایت انہوں نے ماریہ کے والدین سے کی۔2007ء میں انہوں نے پاکستان آرڈننس فیکٹری کے زیر اہتما م ، عالمی اسکواش پلیئرز ایسوسی ایشن میں حصہ لیا جس کا انعقاد جہانگیر خان اسکواش کمپلیکس، واہ کینٹ میں کیا گیا تھا۔ وہ اس مقابلے کے سیمی فائنل میں شکست کھاگئیں۔ 2011ء میں انہیں اسکواش کے عالمی چیمپئن جوناتھن پاور نے اپنی شاگردی میں لے لیا ، جس کے بعد ان کے کھیل میں مزید نکھار آیاخ لیکن ان سے کوچنگ لینے کے لیے، انہیں اونٹاریو کینیڈا کا سفر کرنا پڑا۔ 2012ء میں وہ پاکستان کی نمبر ون خواتین اسکواش کی کھلاڑی بن گئیں۔ انہوں نےاسکواش کے 30ملکی و بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیا جن سے 20مقابلوں میں وہ فاتح رہیں۔ 2013ء میں انہوں نے کینیڈامیں ’’ناش کپ‘‘ کا ٹائٹل جیتا، جس کے بعد وہ خواتین کی عالمی درجہ بندی میں تیسرے جب کہ پاکستان میں پہلے نمبر پر آگئیں۔ انھوں نےعالمی نمبر 34جنوبی افریقہ کی سیولی واٹرز کو شکست دی۔ پاکستان میں منعقدہ ورلڈ اسکواش ایسوسی ایشن ورلڈ ٹور کے ایونٹ بحریہ ٹاؤن میں منعقد ہوئے اور انہوں نے عالمی انٹرنیشنل ویمنز اسکواش چیمپئن شپ کی ٹرافی جیت لی۔ ایشین گیمز میں انہیں ہانگ کانگ کی اینی او کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ انہیں 2007کی کمسن کھلاڑخاتون کھلاڑی کے طور پر نامزد کیا گیا۔ اسی سال انہیں صدر پاکستان کی طرف سے ’’سلام پاکستان کے ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ 2012ء میں انہیں کینیڈا کی خاتون اول لورین ہارپر نے ’’وائس آف ہوپ‘‘کا ایوارڈ دیا۔وہ 2016ء کی عالمی درجہ بندی میں 56ویں جب کہ قومی رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafi Abbasi

Read More Articles by Rafi Abbasi: 13 Articles with 9944 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 May, 2017 Views: 683

Comments

آپ کی رائے