ایتھلیٹکس

(Rafi Abbasi, Karachi)
پاکستان نے تین عشرے تک ایشین اور کامن ویلتھ گیمز سمیت دوسرے یورپی مقابلوں میں اپنی برتری قائم کی پاکستان کے مرد ایتھلیٹ عبدالخالق کو ’’فلائنگ برڈ آف ایشیاء‘‘ ،خاتون کھلاڑی نسیم حمید کو ’’ایشین اسپرنٹر کوئین‘‘ کا خطاب ملا

ایتھلیٹکس
پاکستان نے تین عشرے تک ایشین اور کامن ویلتھ گیمز سمیت دوسرے یورپی مقابلوں میں اپنی برتری قائم کی
پاکستان کے مرد ایتھلیٹ عبدالخالق کو ’’فلائنگ برڈ آف ایشیاء‘‘ ،خاتون کھلاڑی نسیم حمید کو ’’ایشین اسپرنٹر کوئین‘‘ کا خطاب ملا

ایتھلیٹکس1300قبل مسیح میں ایجاد ہوا، اس کھیل میں تیز دوڑنا، لمبی، اونچی چھلانگ لگانا اور جویلین تھرو، شاٹ پٹ، ٹریک ریس اور کنٹری کراس ریس جیسے ایونٹ شامل ہوتے ہیں۔ 776ق م میں پہلے اولمپکس مقابلوں میں اسے بھی شامل کیا گیا تھا۔ 1880ء تک یہ کھیل دنیا کے کئی ممالک میں مقبول ہوا، وہاں اس کھیل کے انعقاد کے لیے متعدد ایسوسی ایشنز وجود میں آئیں۔ 1912ء میں انٹرنیشنل ایتھلیکٹکس فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا جو اس کھیل کی نگرانی کرنے والی عالمی تنظیم ہے۔ سویڈن میں ہونے والے اس کے پہلے اجلاس میں 17ممالک نے شرکت کی تھی۔ اکتوبر 1993ء میں اس کا ہیڈکوارٹر مناکو میں قائم کیا گیا، اس وقت تک یہ تنظیم انٹرنیشنل ایمیچرایتھلیٹکس فیڈریشن کے نام سے جانی جاتی تھی۔2001ء میں اس کا نام تبدیل کرکے انٹرنیشنل ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن فیڈریشن کردیا گیا۔ اس کے زیر اہتمام ایتھلیٹک کی عالمی چیمپئن شپ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں ایتھلیکٹک کا کھیل 1948ء سے شروع ہوا،1951ء میں ایتھلیٹک فیڈریشن آف پاکستان کا قیام عمل میں آیا، جسے انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فیڈریشن کی طرف سے منظوری دی گئی۔ 1962ء میں اس کی مجلس منتظمہ کے پہلے انتخابات کا انعقاد ہوا جن میں جسٹس اے آر کارنیلس پہلے صدر اور اے یو ظفر سکریٹری منتخب ہوئے۔ اب موجودہ صدر میجر جنرل محمد اکرم ساہی ہیں۔ مذکورہ تنظیم ایشین ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن اور آئی اے اے ایف سے الحاق شدہ ہے۔ پاکستان ایتھلیٹکس نے 50سے 70کی دہائی میں عالمی سطح پر نمایاں کارنامے انجام دیئے۔1970ء سے 1977ء تک محمد یونس نے جرمنی میں 1500,3000اور 5000میٹر کی دوڑ میں طلائی تمغے اور اعزازات جیتے، وہ ایشین چیمپئن بھی رہے۔ ماضی میں اس کھیل کو سرکاری سرپرستی بھی حاصل رہی لیکن حالیہ برسوں میں اسے نظر انداز کیا گیا، باصلاحیت کھلاڑیوں کو اولمپکس اور عالمی چیمپئن شپ جیسے اہم ٹورنامنٹس کے لیے تیار کرنے کی بجائے ان کی اس حد تک حوصلہ شکنی کی گئی کہ انہوں نے اس کھیل سے ہی کنارہ کشی اختیار کرلی۔ نسیم حمید کو 2010ء ساؤتھ ایشین گیمز میں جنوبی ایشین گیمز میں جنوبی ایشیاء کی تیز دوڑنے والی خاتون ایتھلیٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا، لیکن ملکی سطح پر پذیرائی نہ ہونے کے باعث انہوں نے اس کھیل سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ ماضی میں کئی ایتھلیٹس نے بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں شہرت حاصل کی لیکن گزشتہ ایک عشرے سے یہ کھیل زبوں حالی کا شکار ہے۔ 50,60اور 70 کی دہائیوں میں پاکستان کے ایتھلیٹس کامیابیوں کے باب رقم کرتے رہے جب کہ ایشین ایتھلیٹکس پر پاکستان کی مدتوں حکم رانی قائم رہی۔
1948ء میں پاکستان کی ایتھلیٹکس ٹیم نے لندن میں 14ویں اولمپکس گیمز میں حصہ لے کر اپنے بین الاقومی سفر کا آغاز کیا۔ 1952ء میں برسلز میں ہونے والی کراس کنٹری ملٹری ریس میں پاکستان کے پانچ رکنی دستے نے شرکت کی۔ اس ریس میں 9ممالک کے ایتھلیٹس نے شرکت کی اور پاکستان نے اس میں چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ 1952ء میں ہیلسنکی میں ہونے والے 15ویں اولمپکس گیمز میں پاکستان کے 18رکنی دستے نے شرکت کی جس میں 4آفیشل بھی شامل تھے۔ پاکستانی ایتھلیٹس دوسرے مرحلے سے آگے نہیں جاسکے۔ 1952ء میں لندن میں سہ ملکی مقابلے منعقد ہوئے جن میں پاکستانی کھلاڑیوں نے بھی حصہ لیا اور ان میں ان کی کارکردگی بہتر رہی۔1954ء میں منیلا ، فلپائن میں ہونے والے دوسرے ایشین گیمز میں پاکستانی ایتھلیٹس نے اولمپکس تجربوں کو بروئے کار لاکر کر مہارت کا مظاہرہ کیا۔ 1954ء میں وینکوور میں منعقدہ چیمپئن شپ میں پاکستانی ایتھلیٹس کے 9رکنی دستے نے شرکت کی اور پاکستان نےاس ٹورنامنٹ میں 4تمغے حاصل کیے۔ 1955ء میں انٹرنیشنل ملٹری ایتھلیٹ چیمپئن شپ مقابلوں میں پاکستان آرمی کے ایتھلیٹس نے شرکت کی۔ ان مقابلوں میں پاکستان نے کئی تمغے اور اعزازات حاصل کیے۔ پاکستان کے کئی کھلاڑیوں نے ایتھلیٹک کے کھیل میں عالمی شہرت حاصل کی، ان میں سے چند کا تذکرہ نذر قارئین ہے۔

صوبیدار عبدالخالق
پاکستان کے برق رفتار ایتھلیٹ عبدالخالق کا تعلق پاکستان آرمی کی ایتھلیٹک ٹیم سے تھا، جنہوں نے اپنے ایتھلیٹک کیرئیر کے دوران 36طلائی،15نقرئی اور 12کانسی کے تمغے جیتے۔ انہوں نے 1956س میں میلبورن اولمپکس،1960ء میں روم اولمپکس اور 1954ء کے ایشین گیمز میں شرکت کی اور اپنی کارکردگی سے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی۔ ان کا شمار اولمپکس کے ایتھلیٹک کھلاڑیوں میں ساتویں نمبر میں ہوتا تھا۔ 1954ء میں دہلی میں منعقد ہونے والے ایشین گیمز میں انہوں نے 100میٹر کی دوڑ میں بھارت کے لیوی پنٹو کا ریکارڈ توڑا، جس پر انہیں’’ دنیا کے تیز رفتار انسان‘‘ کا خطاب دیا گیا، جب کہ بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو، جو اس کھیل کی اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی تھے،انہوں نے ان کے دوڑنے کا انداز دیکھ کر، انہیں ’’ایشیاء کے اڑنے والے پرندے‘‘ کا خطاب دیا، اس وقت ان کی عمر صرف 21برس تھی۔ انہوں نے ان مقابلوں میں 13تمغے حاصل کیے۔ 1955ء میں انہوں نے ایتھنز میں ورلڈ ملٹری گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ 1956ء میں انہوں نے دہلی میں منعقد ہونے والے ایتھلیٹکس مقابلوں میں 100اور 200میٹر کے ایونٹس میں ایشیاء کا نیا ریکارڈ قائم کیا، انہوں نے اس موقع پر دو طلائی تمغے جیتے۔ برلن میں ورلڈ ملٹری گیمز میں حصہ لے کر تین کانسی کے تمغے حاصل کیے۔ 1956ء میں میلبورن میں منعقد ہونے والے اولمپکس گیمز کے موقع پر ان کا کھیل عروج پر تھا۔ وہ ان مقابلوں میں 100اور 200میٹر کی دوڑ میں سیمی فائنل مرحلے تک پہنچ گئے تھے لیکن فائنل میں پہنچنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے چوتھی پوزیشن حاصل کی اور تمغے کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔ 1958ء میں ٹوکیو میں ایشین گیمز کے موقع پر انہوں نے ایک طلائی، ایک چاندی اور ایک کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ ڈبل ایمپائر گیمز میں وہ تیسرے نمبر پر رہے اور انہوں نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ قاہرہ میں ہونے والے ایتھلیٹ مقابلوں میں بھی ان کی کارکردگی بے مثال رہی اور انہوں نے ان مقابلوں میں دو طلائی تمغے حاصل کیے۔ 1962ء میں ہالینڈ میں منعقد ہونے ولے ورلڈ ملٹری گیمز میں انہوں نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ اپوہ ملائشیا میں بین الاقوامی ایتھلیٹک چیمپئن شپ میں انہوں نے ایک کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ 1962ء میں جکارتہ میں منعقد ہونے والے ایشین گیمز میں عبدالخالق سیمی فائنل مرحلے میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے لیکن فائنل میں ہار گئے۔ ان کا شمار پاکستان کے ان کھلاڑیوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے یتھلیٹکس کے کھیل میں پاکستان کو نمایاں مقام دلوایا۔

لیاقت علی
لیاقت علی کا شمار بھی پاکستان کے با صلاحیت ایتھلیٹس میں ہوتا ہے۔ وہ پاکستان آرمی کی جانب سے ایتھلیٹک مقابلوں میں شرکت کرتے رہے اور اپنے ملک کو اس کھیل میںعالمی مقام دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کی ابتداء قومی ایتھلیٹک چیمپئن شپ کے مقابلوں سے کی اور2009ء میں قومی چیمپئن کا اعزاز حاصل کیا۔2010ء میں ساؤتھ ایشین گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ 2012ء میں لندن میں سمر اولمپکس کے مقابلوں میں انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کی اور انہیں ’’وائلڈکارڈ‘‘ کا اعزاز ملا۔ انہوں نے اس ٹورنامنٹ میں مردوں کی 100میٹر کی دوڑ میں چوتھی پوزیشن حاصل کی۔وہ 2009اور 2013میں عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ 2013ء کے سیف گیمز میں انہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

حیدر علی شاہ
پاکستان کے مایہ ناز ایتھلیٹ ہیں جنہوں نے 2016ء کے ریو اولمپکس میں پاکستان کے لیے واحد جب کہ کسی بھی اولمپک مقابلے کا پہلا تمغہ حاصل کیا۔ انہوں نے 2008ء بیجنگ میں پیرا لمپکس کے موقع پر ایتھلیٹک کی نئی تاریخ مرتب کی۔ انہوں نے ان مقابلوں میں نہ صرف چاندی کا تمغہ جیتا بلکہ 6.44میٹر طویل چھلانگ لگا کر ایک نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا۔ 2010ءمیں کوانگزہو، چین میں منعقد ہونے والے ایشین گیمز کے مقابلوں میں انہوں نے لانگ جمپ میں طلائی اور 100میٹر کی دوڑ میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ 2006میں انہوں نے کوالالمپور میں منعقد ہونے والے FESPICگیمز میں لانگ جمپ ایونٹ میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔ 2016ء کے ریو اولمپکس میں حیدر علی نے لانگ جمپ کیٹیگری میں کانسی کا تمغہ جیتا اور یہ واحد تمغہ تھا جو اس عالمی ٹورنامنٹ میںجیتا گیاتھا۔

صدف صدیقی
صدف صدیقی نے پاکستان کی جانب سے کئی بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں حصہ لیا۔2008ء کے بیجنگ اولمپکس کے موقع پر انہوں نے خواتین ایتھلیٹکس ٹیم میں پاکستان کی نمائندگی کی اور 100میٹر کی دوڑ میں ساتویں پوزیشن حاصل کی۔2008ء میں قومی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں حصہ لیا اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ 2010ء میںساؤتھ ایشین گیمز میں انہوں نےنسیم حمید، جویریہ حسن اور نادیہ نذیر کے ساتھ حصہ لیا اور بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔ 2010ء میں ان پر چند دیگر خاتون کھلاڑیوں کے ساتھ ڈوپنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے کی وجہ سے پابندی عائد کردی گئی۔

نسیم حمید
نسیم حمید کا شمار پاکستان کی مایہ ناز خاتون ایتھلیٹ میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اس کھیل میں اپنے کیریئر کا آغاز اپنے اسکول کی طرف سے چھٹی کلاس سے کیا، بعد میں علاقے کے اسکول اور کالج کے مقابلوں میں حصہ لے کر مقامی سطح پر کامیابی حاصل کی۔2003ء میںپاکستان ریلویز کی ایتھلیٹک ٹیم میں کھیلنے کا کنٹریکٹ سائن کیا۔ 2004ء میں آرمی کے شعبہ کھیل سے وابستہ ہوگئیں جس کے بعد انہیں کورنگی میں آرمی گراؤنڈ اور کھیلوں کی دیگر سہولتوں سے استفادہ کرنے کے مواقع مل گئے۔ وہ2011تک آرمی کی ایتھلیکٹ ٹیم سے وابستہ رہیں۔ 2004ء میں ہونے والی نیشنل چیمپئن شپ میں آرمی کی طرف سے شرکت کی اور ایک طلائی، دو نقرئی اور دو کانسی کے تمغے حاصل کیے۔ 2005ء میں پاکستان ایتھلیٹک فیڈریشن کی جونیئر چیمپئن شپ جیتی اور جونیئر چیمپئن کا اعزاز حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ 4طلائی تمغے بھی جیتے۔ 2005ء میںساؤتھ ایشین گیمز میں جونیئر ایتھلیٹ کی حیثیت سے شرکت کی۔ 2006ء میں پاکستان اسٹیل ملز میں منعقد ہونے والی ڈے اینڈ نائٹ قومی چیمپئن شپ میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔ 2005ء میں ایران میں ہونے والے اسلامک گیمز میں پاکستان آرمی کی نمائندگی کی اور 60میٹر کی دوڑ میں ریکارڈ قائم کیا جو اب تک برقرار ہے۔ 2012ء میں اپنی ریٹائرمنٹ تک قومی چیمپئن شپ کے مقابلوں میں ہر سال حصہ لیا اور پہلی و دوسری پوزیشن حاصل کرتی رہیں۔ جب پاکستان ایتھلیٹک فیڈریشن نے 2010ء میں ڈھاکا میں ہونے والے سیف گیمز کے لیے خواتین کھلاڑیوں کا انتخاب کیا تو ان کی نظر آرمی کی ایتھلیٹ اور ویمن قومی چیمپئن، نسیم حمید پر بھی پڑی، اور انہیں ساؤتھ ایشین گیمز کے لیے خواتین ایتھلیٹس کے دستے میںشامل کرلیا گیا۔ سیف گیمز میں ان کی کارکردگی بے مثال رہی اور انہوں نے 100میٹر کی دوڑ جیت کر نہ صرف طلائی تمغہ حاصل کیا بلکہ انہیں ایشین ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن کی جانب سے ’’اسپرنٹر کوئین آف ایشیاء‘‘ کا خطاب بھی دیا گیا۔ پاکستان واپسی پر اس وقت کے صدر سید آصف علی زرداری نے ان سے ایوان صدر میں ملاقات کی، اس موقع پر انہوں نے نسیم حمید کو’’ پاکستان کے کھیلوں کی سفیر‘‘ کی حیثیت سے تعیناتی ، دس لاکھ روپے نقد انعام اورکراچی میں ڈیفنس کے علاقے میں ایک فلیٹ دینے کا بھی اعلان کیا جب کہ اس وقت کے وزیر اعظم ، یوسف رضا گیلانی کی طرف سے بھی 10لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا۔ وہ اس پذیرائی سے اتنی متاثر ہوئیں کہ انہوں نے اپنی نگاہیں 2012ء کے اولمپک گیمز کی طرف مرکوزکردیں۔ صدر پاکستان کے اعلانات میں سے انہیں ’’طلائی تمغے ‘‘ کے عوض دس لاکھ روپے تو ادا کردیئے گئے لیکن صدر اور وزیر اعظم کی جانب سے کیے جانے والے دیگر اعلانات بیوروکریسی کی تنگ نظری کا شکار ہوگئے، نہ توان کی کھیلوں کے سفیر کی حیثیت سے تعیناتی کا پروانہ جاری کیا گیااور نہ ہی نقد انعام اور رہائشی فلیٹ ملا۔2012ء میں پشاور میں منعقدہونے والے قومی کھیلوں میں انہوں نے 100میٹر کی دوڑ جیت کر طلائی تمغہ حاصل کیا، اسی سال انہوں نے اپنی مصروفیات کی وجہ سے نہ صرف ایتھلیٹک کے کھیل بلکہ آرمی کی ٹیم سے بھی ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ ایتھلیٹ، اندرون و بیرون ملک بے شمار تمغے اور اعزازات جیتنے والی نسیم حمید کو اسپرنٹر کوئین کی حیثیت سے ملنے والی شہرت کے باعث کھیلوں کی سرپرستی کرنے والی مخیر شخصیات سے اتنا مالی تعاون حاصل ہوگیا کہ انہوں نے اپنے علاقے میں غریب بچوں کی ایتھلیٹک و دیگر کھیلوں میں تربیت کے لیے نسیم حمید اکیڈمی کے نام سے ادارہ قائم کیا ہے اور ایک رفاہی ادارے میں معذوروں کے ایتھلیٹک کوچ کے فرائض انجام دینے کے علاوہ کھیلوں کے ایونٹس بھی آرگنائز کرتی ہیں جب کہ ایک ویلفیئر فاؤنڈیشن کی جانب سے 2018میں ’’اسٹریٹ چلڈرن ورلڈ کپ‘‘ کے لیے کھلاڑیوں کو تربیت دے رہی ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafi Abbasi

Read More Articles by Rafi Abbasi: 13 Articles with 9765 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 May, 2017 Views: 581

Comments

آپ کی رائے