معروف داعی ومبلغ فضیلۃ الشیخ مقبول احمد سلفی سے اردو مجلس فورم انتظامیہ کا انٹرویو(دوسری قسط)

(Maqubool Ahmad, Suadi Arab)

امید ہے کہ اراکین اردو مجلس فورم خیریت سے ہوں گے۔ اﷲ عزوجل سب کو عافیت سے رکھے۔ سوشل میڈیا پر دعوت دین قرآن وحدیث کا فریضہ مستقل مزاجی سے انجام دینے والوں میں شیخ مقبول احمد بن عبد الخالق سلفی حفظ اﷲ کا معروف نام ہیں۔ بطور داعی جالیات برائے دعوت و ارشاد شمال طائف مسرہ سعودیہ سے وابستہ ہیں، آپ کا تعلق بہار،انڈیا سے ہے۔ علم و فہم دین کے ساتھ ساتھ وسیع مطالعہ اور تحقیقی مزاج بھی رکھتے ہیں۔لوگوں کی کثیر تعداد ان سے استفادہ کرتی ہے۔
شیخ اردو مجلس فورم پر رکن مجلس علماء میں شامل ہیں۔ ان کی شخصیت اور علمی کاوشوں کے حوالے سے جاننے کے لئے گفتگو کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا،شیخ محترم نے پہلے مرحلے میں اکتیس سوالات کے جواب دے چکے تھے،آپ سے دوسرے مرحلے کا انٹرویو پیش خدمت ہے ۔اﷲ عزوجل سے دعا ہے کہ شیخ کی دینی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین (ابوعکاشہ: منتظم اردو مجلس فورم)

(1)مذہبی تعلیم کی طرف کیسے آئے ذاتی انتخاب تھا؟
جواب: پورا گھرانہ مذہبی ہے، والد محترم مولانا عبدالخالق فیضی حفظہ اﷲ قدیم ومشہور سلفی ادارہ جامعہ فیض عام مؤ،یوپی سے فارغ ہیں اور اپنے علاقے میں معروف ومعتبر علمائے دین میں شمار ہوتا ہے،وہاں والد صاحب کی بڑ ی خدمات ہیں۔ جامعہ سلفیہ بنارس کے استاد مولانا محمد حنیف مدنی رحمہ اﷲ کے ہم سبق ہیں۔ والدمحترم نے گھر میں سختی سے دینی ماحول قائم کیا ہوا تھا، ہم لوگوں کو پنٹ شرٹ تک پہننے کی اجازت نہیں تھی۔ اپنے پاس بٹھاکر دینی کتب پڑھاتے، یہی وجہ ہے کہ میں نے آپ سے ہی مکتب کی تعلیم لی، پھر1996 میں بڑے بھائی منظورالرب اسلامی جامعہ سلفیہ بنارس لے کر گئے، داخلہ کی امید تو نہیں تھی بس اﷲ کی ذات پر بھروسہ تھا۔ پہلی جماعت میں داخلہ کے لئے رجسٹریشن کروایا۔ شیخ علی حسین سلفی نے میرا انٹرویو لیا، پہلے کتابوں کا نام پوچھا پھر شیخ نے کہا کہ بیٹا تمہارا داخلہ تیسری جماعت میں ہونا چاہئے اس لئے تیسری میں داخلہ لے لو۔ میں تو ٹھہرا بچہ،میں نے کہا نہیں مجھے پہلی میں داخلہ لینا ہے۔ پھر شیخ نے کہا جاؤ اپنے ذمہ دار کو بلاؤ، بڑے بھائی کو بلایا،شیخ بضد تھے کہ تیسری میں میرا داخلہ دلائیں، بھائی نے کہا کہ اس کی بنیاد مضبوط کرنی ہے اس لحاظ سے پہلی جماعت ہی صحیح ہے۔ بالآخر بات ہوتے ہوتے، طے پایا کہ نہ پہلی، نہ تیسری بلکہ دوسری جماعت میں داخلہ ہو۔ اس طرح دوسری جماعت میں داخلہ ہوا۔ یہ صرف اور صرف والد محترم کی مہربانی اور آپ کی تعلیم وتربیت کا ثمرہ تھا۔
(2) دوران تعلیم کبھی فیلڈ بدلنے کا خیال آیا؟
جواب: گھر کا جو دینی ماحول تھا بھلااس ماحول میں جینے والا بھی کبھی دوسرا میدان اختیار کرسکتا ہے؟۔ تجربے کی بات ہے کہ جس کے گھر میں تربیت کا بہترین نمونہ ہواس کا اثر بچوں پر بہت گہرا پڑتا ہے۔
(3)خاندان، دوست احباب مذہبی ہیں یا نہیں اور آپ کے دینی مشاغل پر انکا کیا ردعمل ہوتا ہے؟
جواب: پورا گھرانہ مذہبی ہے، ہاں دوست واحباب میں دیوبندی خیال والے بھی تھے جو وقت کے ساتھ ساتھ چھوٹتے چلے گئے، اس کی ایک وجہ جامعہ سلفیہ بنارس سے سلفی تعلیم حاصل کرنا اور دوسری وجہ مسلسل گھر سے باہر رہنا ہے۔ دوران تعلیم چھٹیوں میں جب گھر آتا تو دیوبندیوں سے نوک جھوک ہوتی بلکہ اکثر مجھے مسائل پہ چھیڑا کرتے۔ اس وقت میرے اندر بھی مذھبی سختی کافی تھی جس کی بناپر سخت قسم کا جواب بھی دیا کرتا۔نتیجے میں پورے دیوبندی حلقے میں مجھے کٹر قسم کا وہابی سمجھا جانے لگااور اب تک یہی حال ہے،کم ہی دیوبندی مجھ سے بات کرتے ہیں،اکثر مجھ سے جلنیوالے، حسد وکینہ رکھنے والے ہیں۔ وجہ صرف اور صرف اہل حدیث ہونا ہے، جھگڑا لڑائی کوئی نہیں۔ دوستوں کو بھی بدظن کرنے میں ان حاسدین کا ہاتھ ہے۔ یہاں کسی کا گلہ شکوہ مقصود نہیں ہے بلکہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ میرے گاؤں میں ہندؤں کی اچھی خاصی تعداد ہے، ان کافروں سے ان دیوبندیوں کو کوئی نفرت نہیں مگر وہابی سے سخت نفرت ہے۔ الحمد ﷲ جماعت اہل حدیث کی اپنی مسجد ہے جس میں بچپن سے خطبہ دیتا آرہاہوں، دیوبندی کی تین مساجد ہیں، کبھی کبھار ان مسجدوں میں نماز پڑھنے کا موقع ملا،ایک مسجد سسرال کے پاس ہے،سسرال میں ہوتے ہوئے اکثر اسی مسجد میں نماز پڑھتا تاکہ ان کے دماغ میں کوئی فتور نہ آئے مگر کبھی انہوں نے امامت کے لئے آگے نہیں بڑھایا۔ جاہل سے جاہل آدمی امامت کراتا،ایک دوچلہ لگاکر خود کو فقیہ وامام سمجھنے لگتا اور دوسرے مسلک کے علماء کو حقارت بھری نظر وں سے دیکھتا ہے۔ ایک صاحب سامنے بہت اچھا بنتے ہیں مگر پکے تبلیغی ہیں انہوں نے اپنی جامع مسجد میں خطبہ جمعہ کے لئے مجھ سے گزارش کی، میں نے حامی بھر لی،جب یہ بات کانوں کان دیوبندیوں میں پھیلی تو پھر جمعہ کے دن خبر ملی خطبہ جمعہ کنسل جبکہ کیسے کیسے لوگ ان کے یہاں خطبہ دیتے ہیں اسے بیان کرکے اس جماعت کو بدنام کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔
(4)مذہب پر عمل کرنے میں قرینی لوگوں میں سب سے زیادہ حمایت اور مدد کس سے ملی ؟
جواب: الحمد ﷲ مذہب پر عمل کرنے میں کبھی کوئی دشواری نہیں رہی، سلفی ہونے کے سبب احناف کی نظروں میں اچھا نہیں ہوں بس۔
(5)دوران تعلیم اور فراغت کے بعد قریبی رشتوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے مذہبی مخالفت برداشتکرنی پڑی ، کس موقع پر دلبرداشتہ ہوئے؟
جواب: دوران تعلیم دیوبندیوں سیہلکی نوک جھوک رہی مگر مخالفت شدید نہیں رہی،منجملہ یہ لوگ سلفیوں کے خلاف سخت رہے اور یہ سخت رویہ میرے پڑھنے کے بعد سے شروع ہوا۔ پہلے نہیں تھا،والد محترم بلاتفریق سب کے یہاں اجلاس میں وعظ کرنے جاتے بلکہ ہرمجلس میں آپ کا وعظ ہوا کرتا۔ چونکہ ان کی تعداد بہت ہے اور ہم لوگ دس بارہ گھر کے قریب ہوں گے۔پہلے پانچ گھر تھے تو پنچ گھریا کہہ کر طعنہ دیا جاتا۔ دل برداشتہ اس دن زیادہ ہوئے جب خطبہ جمعہ کے لئے کہا اور پھر انکار کردیا۔
(6) مطالعے کا کتنا شوق ہے؟
جواب: مطالعہ تو میری غذا ہے۔کسی ادارے سے فارغ ہوجانا یا کہیں سے علمی اسناد لے لیناہی کافی نہیں ہے، علم اسی کا ٹھوس ومعیاری ہوتا ہے جوہمیشہ علم سیکھنا جاری رکھتا ہے اور جس نے سمجھا میں نے جامعہ سے فراغت حاصل کرلی،مجھیکتابیں پڑھنے کی ضرورت نہیں ایسے شخص کے علم کو گھن لگ جاتا ہے۔
(7)کس چیز کا مطالعہ زیادہ کرنا پسند ہے ، اخبار، رسالہ ، ڈائجسٹ،فیشن میگزین ،کھانے کی ترکیبوں کی کتابیں ، مہندی کے ڈیزائن کی کتابیں ، ناول ،جاسوسی ناول ، رومانوی ناول ، افسانے ، سستی کتاب یا موضوعاتی منتخب کتابیں ؟
جواب: اخبار، دینی رسائل اور دینی کتابوں کا مطالعہ کرتا ہو ں،بروقت موضوعاتی کتابوں کا مطالعہ زیادہ ہے۔
(8) کتنی کتابیں پڑھ جاتے ہیں ؟ روزانہ ایک، ہفتے میں ایک، مہینے میں ایک ، تین ماہ میں ایک ، چھ ماہ میں ایک ؟
جواب: دوران تعلیم مطالعہ پرزیادہ وقت صرف ہواکرتا،کتابیں ہی اوڑھنا بچھونا ہواکرتیں۔عموما تکیہ کے نیچے کوئی نہ کوئی کتاب ہوتی۔ اب مشاغل اور ذمہ داریاں بڑھنے سے جس موضوع کی ضرورت پڑتی اس سے متعلق کتابیں پڑھتا ہوں جس کی کوئی حد متعین نہیں کرسکتا۔
(9)کتابیں خریدنا پسند ہے ، ذاتی کتب خانہ میں اکثر کتب کس موضوع پر ہیں؟
جواب:گاؤں میں اپناایک چھوٹا مکتبہ ہے،شاید گاؤں میں اتنی کتابیں کسی کے گھر نہ ہوسب تقریبا قرآن وحدیث سے متعلق ہیں ،ان میں اکثر انعامات کی ہیں جو جامعہ سلفیہ میں کلاس، تقریروتحریر اور دیگر عملی مسابقوں کے تحت ملیں۔ کچھ خریدی بھی ہیں۔
(10) کتابیں مستعار دینا پسند ہے یا ناپسند، لوگ واپس کرتے ہیں یا بھول جاتے ہیں ؟
جواب: گھر پہ کم رہنے کا اتفاق ہوا اور گاؤں میں اپنی جماعت کے لوگ کم ہیں دیوبندی لوگ وہابی کی کتاب پڑھیں گے نہیں انہیں خداواسطے کا بیر ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں 2003 میں طلباء کے سالانہ میگزین
’’ المنار‘‘ کا ایڈیٹرتھا،ایڈیٹرہونے کی وجہ سے ہمیں المنار کے کافی نسخے ملے جنہیں اپنے متعارفین میں تقسیم کیا۔ دیوبندیوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ اتفاق سے دہلی کے ایک دیوبندی مدرسیمیں بچوں کو ناظرہ تعلیم دیتا تھا،ساتھ میں المنار کا ایک نسخہ بھی تھا مجھے بچوں کے ذریعہ پتہ چلا کہ مدرسہ کے ایک دیوبندی عالم نے سارے بچوں کو اس کتاب کو چھونے سے منع کررکھاہے۔
(11)کوئی تاریخی کیابیاتی صدمہ ،جس میں کسی نے کتاب لی اور ضائع کردی؟
جواب: ایسا کوئی صدقہ نہیں ہوا، کتابیں تو کچھ لوگوں کو دی، کچھ نے لوٹائی اور کچھ نے نہیں۔یہ تو سدا سے دستور ہے،کتاب لینے والا ہرکوئی لوٹاتا ہی نہیں۔
(12) مطالعہ کے دوران کتاب پر حاشیہ لکھتے ہیں یا اہم معلومات کے الگ نوٹس لیتے ہیں ، نوٹس کی اردو یادداشت ہوگی؟
جواب: اگر ذاتی کتابیں ہوں تومطالعہ کے دوران پنسل سے اہم نکات پر نشان زد کیا کرتا اور اگر دوسروں کی کتاب ہوتو قابل توجہ پوائنٹ لکھ لیا کرتا۔
(13) پسندیدہ موضوع جس پر مطالعہ پسند ہے ؟
جواب: مذہب ہی موضوع اور میدان ہے۔
(14) کچھ کتابیں جو باربار پڑھی ہوں ؟
جواب: تفسیر وکتب احادیث باربار پڑھتا رہا اور آج بھی یہی زیادہ تر الٹ کر دیکھتا ہوں۔تاریخ سے کچھ اور اردو ادب سے کچھ سے زیادہ ربط رہا جس کے سبب جامعہ ملیہ اسلامیہ نیودہلی سے بی اے اردو آنرس کیا۔
(15) پسندیدہ کتب ، مذہب اور ادب میں خاص طور پر ؟
جواب: مذہب میں تفسیروکتب احادیث اور سیرت کی اہم کتابیں پسند کرتا ہوں۔ادب میں طالب علمی کے زمانے میں تاریخی ناول، تاریخی افسانے،تنقید اور انشائیہ پڑھا کرتا،شروع میں شاعری بھی کیا کرتا تو شعراء اور دیوان سخن سے بھی دلچسپی رہی۔ شعروادب کے حوالے سے جو نام معروف ومستند ہیں ان سب کو پڑھا ہوں۔
(16) پسندیدہ مصنفین؟
جواب: ہرفن سے متعلق اہم کتابیں اور ان کے مصنفین میرے پسندیدہ ہیں۔
(17)اپنے معاشرہ کی علمی حالت کے متعلق ٓپ کا کیا خیال ہے ؟
جواب: اوپر میں نے اپنے سماج کی عکاسی کی ہے کہ میں نے تبلیغی سماج میں آنکھیں کھولی۔چاروں طرف حضرت جی والا ماحول ہے،خواتین کو مسجدوعیدگاہ میں آنے کی ممانعت ہے مگر تبلیغی دوروں کی مکمل اجازت ہے۔ اس وقت گاؤں گاؤں میں خواتین کا تبلیغی گشت ہوتا ہے اور عورتوں کو ساڑی پہننا ناجائز کہہ کر قمیص وشلوار پہنایاجارہاہے۔ چلاکش مولوی کہلاتاہے اور محفل وعظ وممبر اسی کے حوالے ہوتا ہے۔ حقیقت میں دینی تعلیم معمولی ہے اور خواتین میں تو جہالت کی انتہا ہے۔ وہاں کچھ کرنے کو سوچتا ہوں مگر مسلکی مخالفت کا شدید خطرہ ہے۔
(18) ہم (مسلم امہ)علم وتحقیق میں واقعی پسماندہ ہیں یا یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی؟
جواب: میری معلومات کی حد تک مسلمان اپنی تعداد کے حساب سے نہ دینی علوم میں پیچھے ہیں اور نہ ہی عصری علوم میں۔ ہمارے یہاں سائنس داں، سیاست داں، اطباء، فلسفی، محقق اور اکالروں کی کوئی کمی نہیں۔ انہیں ہائی لائٹ نہیں کیا گیاجس کی وجہ سیشبہ ہوتا ہے کہ مسلمان علم وتحقیق کے میدان میں پیچھے ہیں۔
(19) مستقبل کی منصوبہ سازی کرنا پسند ہے ،ہاں تو کیوں اور کتنی؟ اگلا دن ،اگلا ہفتہ،اگلا مہینہ ، اگلا سال یا اگلے پانچ سال وغیرہ ؟ نہیں تو کیوں نہیں ؟
جواب: کسی بھی لائحہ عمل کے لئے منصوبہ بندی ضروری ہے،اس کے بغیر کامیابی مشکل ہے۔ منصوبہ بندی کے متعلق میرا یہ نظریہ ہے کہ وہ ٹھوس ہو اور قلیل المدت ہو یعنی طویل المدت نہ ہوکیونکہ زندگی اور حالات کا کوئی پتہ نہیں اور منصوبہ کو اولوالعزمی کے نافذ کیا جائے۔
(20) حالات حاضرہ اورسیاسیات سے کتنی دلچسپی ہے ؟
جواب: حالات حاضرہ سے واقفیت کی فکر رہتی ہے مگر اس کے لئے الگ سے وقت نہیں دے پاتاکیونکہ مذہبی کازمیں زیادہ مصروف ہونے کی وجہ سے عدیم الفرصت ہوگیا ہوں لیکن ایسا بھی نہیں کہ ماحول ومعاشرہ سے بے خبررہتاہوں۔ سوشل میڈیا نے حالات سے آگاہی کو بہت ہی آسان بنادیا ہے۔
(21) مذہبی لوگ سیاسیات ، مزاح اور شعروادب سے بھاگتے ہیں کیا یہ تاثر درست ہے ؟
جواب: ایسا تاثر صحیح نہیں ہے۔ بہت سے مذہبی لوگ بڑے بڑے سیاستداں اور شعراء گزرے ہیں اور مزاح کی صفت تو سبھی میں عام ہے،یہ کسی قوم وطبقہ سے وابستہ نہیں۔
(22) کیا آپ کو کبھی مسلم امہ کا فرد ہونے پر فخر ہوا ، کن مواقع پر؟
جواب: جب سے مسلمان ہونے کا احساس ہوا تب سے ہی مسلم امہ کا فرد ہونے پر مجھے فخر ہے،کسی ایک موقع سے خاص نہیں کیاجاسکتا،ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
(23)کبھی مسلم امہ کا حصہ ہونے پر افسوس ہوا ، کن مواقع پر؟
جواب: مسلم امہ کا فرد ہونا افسوس کا باعث نہیں،اس لئے کبھی اس پر افسوس نہیں ہوا۔ ہاں جو لوگ مسلم ہوکر ڈھٹائی سے شرک وبدعت کررہے اور صحیح اسلام کو اپنوں اور غیروں پر مشکل بنارکھے ہیں ایسے لوگوں پر بیحد افسوس ہے اور افسوس کے مارے زبان حال سے کہتا ہوں:اے کاش! یہ لوگ مسلم امہ کا حصہ نہ ہوتے یا ہوتے تو صحیح دین پر عمل پیرا ہوتے تاکہ جہاں عام مسلمانوں کو دین سمجھنا اوراس پر عمل کرنا آسان ہوتا وہیں کافروں کے لئے بھی دین اسلام میں داخل ہوناکوئی مشکل نہیں ہوتی۔
(24) آپ مسلم امہ کے افراد سے کس چیز میں منفرد یا الگ آنا چاہیں تو وہ کون سی چیزیں ہوں گی؟
جواب: کتاب اﷲ اور سنت رسول کی سچی تصویر بننے میں مسلم قوم کی امتیازی شان ہے، اپنی اسی صفت سے یہ قوم نہ صرف منفرد ہوگی بلکہ سارے مسلمان بلااختلاف ایک جگہ جمع بھی ہوسکتے ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب تک امت میں علماء پرستی، اندھی تقلید اور اقوال رجال کو سرآنکھوں پر بٹھایا جاتا رہے گا کبھی یہ قوم ایک نہیں ہوسکتی۔ دور حاضر کی ہماری ذلت وخواری اسی کا خمیازہ ہے۔
(25) زندگی میں کیا نہ ہو تو موت کو ترجیح دیں گے ؟
جواب: موت تو اﷲ کی طرف سے متعین ہے جو وقت مقرر پر آکر رہے گی، اس سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں،اس وجہ سے جو لوگ کبھی کبھی دنیاوی غرض وغایت کے بدلے موت کو ترجیح دے دیتے اور ہلاکت کا راستہ اختیار کرلیتے ہیں،سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔موت کو ترجیح دینا اورموت وہلاکت کا راستہ اختیار کرنا گناہ ہے،اسلام نے ہلاکت میں ہاتھ ڈالنے سے منع کیا ہے۔ صرف ایک موڑ ہے کہ زمانے میں فتنہ شدیدہوجائے،اس کی تاب لانا مشکل ہو تو صرف اﷲ سے یہ دعا کرسکتے ہیں: اے اﷲ اگر تو قوم کو فتنہ میں مبتلا کرے تو مجھے بغیر آزمائے ہوئے وفات دیدے۔
(26) انتہائی مایوسی میں کیا بات حوصلہ دیتی ہے ؟
جواب: انتہائی مایوسی میں اﷲ کا کلام مجھے حوصلہ دیتا ہے۔
قُلْ یٰعِبٰدِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ اِِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا اِِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (الزمر:53)
ترجمہ:۔ (میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اﷲ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ بالیقین اﷲ تعالٰی سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے واقعی وہ بڑی، بخشش بڑی رحمت والا ہے۔
اس لئے میں دوسروں کو بھی اﷲ کی رحمت سے مایوس نہ ہونے کی نصیحت کرتاہوں۔ کبھی کبھی انسان کو لگتا ہے کہ اس کے چاروں طرف مصیبت ہی مصیبت ہے، نجات کا کوئی راستہ نہیں ملتا۔ ایسا ممکن ہے لیکن یہ بھی سوچیں کہ یہ سب اﷲ کی طرف سے ہے، ممکن ہے کہ پرورگار امتحان لے رہاہو تو اس پر صبر کرنا چاہئے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ہمارے کسی گناہ کی وجہ سے اﷲ نے ناراض ہوکر مصیبت نازل کردی ہو تو ایسے میں ہمیں اﷲ تعالی سے سچی توبہ کرنی چاہئے،اﷲ تو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔
(27) زندگی میں کن مواقع پر شدید افسردہ ہوئے یا پھوٹ پھوٹ کر روئے (بچپن کے علاوہ)؟
جواب: جب جامعہ سلفیہ سے فارغ ہوئے اور دہلی کا سفرکیا کچھ کرنے کی نیت سے، بہت ساری جگہیں تلاش کی مگر اس وقت لگتا تھا کہ کچھ نہیں جانتے ہیں کیونکہ کہیں کوئی کام نہیں مل رہاتھا۔ دینی تعلیم کی پڑھائی پر تھوڑی دیر کے لئے افسردہ ہوا مگر یہ شیطانی وسوسہ تھا۔ بہت سے طالب علم نوکری کی تلاش کے وقت افسرہ ہوجاتے ہیں۔مجھے اﷲ کی ذات پرمکمل بھروسہ تھا۔ تلاش میں لگارہا، اﷲ سے دعائیں کرتا رہا اورخود کو اہمیت دے کر باہمت طریقے سے تگ ودوکیابالآخراﷲ نے راستہ ہموار کردیا، کئی کئی اور اہم جگہوں سے آپ خود طلب ہوئی اور الحمدﷲ سیٹ ہوگیا۔ یہاں میں قارئین کو خصوصا طالبان علوم نبوت کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ آپ فراغت کے بعد بھی دینی تعلیم کو اہمیت دیں اور اپنی صلاحیت کے مطابق دینی شعبے سے جڑنے کی کوشش کریں،دیرسویر آپ کا پسندیدہ وظیفہ مل جائے گا۔ ان شاء اﷲ۔ مدارس کے فارغین تجارت بھی کرسکتے ہیں اس طرف بھی آنا چاہئے مگردیکھا جاتا ہے کہ جو لوگ مدرسے سے یونیورسٹی گئے یا تجارت یا غیردینی اداروں سے منسلک ہوئے ان میں سے اکثر دین سے بیحد دور ہوگئے،یہ افسوسناک پہلو ہے۔
(28) موت سے ڈر لگتا ہے؟
جواب: موت کو یا د کرنے کا مومن کو حکم ہوا ہے، اس کی یاد سے آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے اور مومن کو اس بات سے خوف کھانا چاہئے کہ کہیں اس کی موت کفر پر نہ ہواس لئے ہمیشہ اچھا کام کرتا رہے اور اﷲ سے ڈرتا رہے۔ جو لوگ موت کو نہیں یاد کرتے وہ آخرت سے بے خبر دنیا میں مست ہوجاتے ہیں ایسے لوگوں کی موت کس حال میں ہو کوئی پتہ نہیں چہ جائیکہ مسلمان ہو۔
(29) آخرت کے بارے میں کوئی منصوبہ سازی ہے ؟ کوئی ایسا خاص عمل جو آپ مغفرت کی امید پر ہمیشہ جاری رکھنا چاہیں ؟
جواب: اﷲ کی عبادت کے بعد دعوت وتبلیغ کو اس نیت سے جاری رکھا ہوں کہ یہ میرا فریضہ ہے،اس فریضے کی انجام دہی پر اﷲ اپنے فضل سے ضرور بہتر بدلہ دے گا، اﷲ سے دعا ہے کہ قول وعمل میں اخلاص دے۔
(30)کوئی صدقہ جاریہ چھوڑکر جانے کا ارادہ ہے کیا(اولاد کے علاوہ)؟
جواب: تحریر وبیانات، ان شاء اﷲ صدقہ جاریہ ہوں گے۔ رب ذوالجلال سے دعاکرتاہوں کہ وہ مجھے حق کی طرف رہنمائی کرتا رہے۔
(31) عام طور پر دھیمی آواز میں بات کرنا پسند ہے یا بلند آواز میں ؟
جواب: گفتگو کی شیرینی نرمی میں ہے،یہ مؤثروزوداثرہے اس لئے نرمی سے ہی ہمکلام ہوتا ہوں۔
(32) اپنے ارد گرد امن کی کمی محسوس کرتے ہیں؟
جواب: کئی سالوں سے سعودی عرب میں ہوں،یہاں تو امن ہی امن ہے مگر سوچتا ہوں کہ اے کاش مادر وطن ہندوستان میں بھی ایسا ہی امن ہوتا تو کیا اچھا ہوتا۔سعودی عرب کو دیکھ کرہرکسی کویہ احساس ہوتاہیکہ واقعی الہی قانون نافذ کرنے میں ہی امن وسکون ہے۔
(33) عام طور پر طاقتور اور خوشحال لوگوں کی مجلس اچھی لگتی ہے یا غریب اور کمزور لوگوں کی ؟
جواب: جو بھی قدر کرنے والے ہوں ان کی محفل اچھی لگتی ہے، خواہ طاقتور ہوں، خوشحال ہوں یا غریب وکمزور لوگ۔
(34) تحریر لکھ کر شائع کرنے کا شغل کس عمر سے ہے ؟
جواب: تحریر شائع کرانے کا شوق عموما لوگوں میں پایا جاتا ہے، میرے اندر بھی طالب علمی کے زمانے سے تھا۔جامعہ سلفیہ میں ثانویہ تک کے بچوں کے لئے حائطیہ کا انتظام ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ بچے چھوٹے چھوٹے مضامین دیتے ہیں اور قابل اشاعت چند مضامین ایک بڑے سائز پیپرپر کتابت کرکے دیوار پر آویزاں کیا جاتا ہے۔ثانویہ کے آخری سال میں اس کا نائب مدیر تھا۔ عالمیت اور فضیلت والوں کے لئے پندرہ روزہ حائطیہ کے ساتھ ایک سالانہ میگزین بھی نکلتا ہے، عالمیت کے دوسرے سال میں اس کی مجلس مشاورت میں رہا، آخری سال نائب مدیر اور فضیلت کے پہلے مرحلے میں 2003 میں مدیراعلی بنا۔فراغت کے بعد ایک سال دہلی رہا، اسی اثنا ایک دیوبندی مدرسہ میں پڑھا یا اس مدرسے کے مہتمم کے چھوٹے بھائی پندرہ روزہ اخبار آئینہ حق نکالاکرتے، جب میرے متعلق خبر ہوئی تو انہوں نے یہ اخبار مجھے سونپ دیا۔ دہلی کے بعد پھرمرکزی جمعیت اہل حدیث کاٹھمانڈونیپال چلا آیا، یہاں تن تنہا پندرہ روزہ اردو اخبار شائع کیا، اس اخبار کا سب کچھ میں ہی تھا،جب شروع کیا اس وقت وہاں سے کوئی اردو اخبار نہیں نکلتا تھا، سال بھر تک اخبار نکالاپھر اچانک جالیات القصیم سے ویزہ گیا تو اسے چھوڑ کر سعودی عرب آنا پڑا۔جیساکہ سبھی کو معلوم ہے اس وقت سوشل میڈیا کافی پاورفل ہے، یہاں پہ جب میری تحریریں کثرت سے گردش میں آئیں تو اکثر لوگوں نے خود ہی میرے بلاگ سے مضامین لیکرچھانپا شروع کیا۔ پھر بہت سارے لوگوں نے اس سلسلے میں مجھ سے رابطہ کیا جنہیں میں اپنے مضامین بھیجتا ہوں۔ الحمد ﷲ سوشل میڈیا کے علاوہ اخباراور رسائل وجرائد میں مضامین کی اشاعت سے تقریبا آدھی فیصد سے زیادہ لوگوں تک بات پہنچ جاتی ہے۔ یہاں پر دوتین اخبارکا شکریہ ادا نہ کروں تو مجھ سے احسان فراموشی سرزد ہوجائے گی۔ روزنامہ پیغام مادر وطن دہلی، سہ روزہ میدان صحافت مالیگاؤں اور صدائے عام جنک پورنیپال۔ برادرعزیزمطیع الرحمن عزیزایڈیٹرپیغام مادر وطن کا تہ دل سے مشکور ہوں جو میرے مضامین کو اولیت دیتے ہیں اور بلاجھجھک ہمیشہ اپنے اخبار کی زینت بناتے ہیں۔ اﷲ تعالی سے ان کے لئے سلامتی اور اس اخبار کے ذریعہ قوم ومذہب کی مزید خدمت کی دعا کرتا ہوں۔
(35) تحریر لکھنے سے پہلے اس سے متعلق قواعد وضوابط جاننااور ان کا خیال رکھنا پسند کرتے ہیں یا جو جی میں آئے ؟
جواب: موضوع سے متعلق میرا یہ نقطہ نظر ہے کہ جو حالات کے مطابق ہو اوراس پر اردو میں کم یا نہیں لکھا گیا ہوایسے موضوع کو منتحب کرتا ہوں، ساتھ ہی اسلامیات کے جدیدتر مسائل کا تجزیہ پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ جہاں تک مضمون کے قواعد وضوابط کی بات ہے تو میں پہلے موضوع سے متعلق ہرپہلو کو جاننے کی کوشش کرتا ہوں، کوئی اشکال یا اعتراض وارد ہوسکتا ہے اسے بھی بنظر غائز دیکھتا ہوں پھر ذہن میں ایک خاکہ تیار ہوتا ہے اسے کے حساب سے مضمون مرتب کرتاہوں۔
(36) تصانیف جو اب تک شائع ہوچکیں ؟
جواب: نیپالی میں دو کتابیں شائع ہوئی تھیں، معاشیات پر ایک مبسوط کتاب جو دراصل جامعہ کا مقالہ تھا، اس طویل مقالیکے میرے مشرف ومربی شیخ محمدابوالقاسم فاروقی حفظہ اﷲ رئیس الاحرار کہاکرتے۔ یہ کتاب مکتبہ فہیم مؤ سے چھپنے والی تھی، بک لیٹ میں بھی نام درج ہوگیا، کمپوزنگ بھی ہوگئی مگر نہ جانے کیا ہوگیا؟ ابھی ایک کتاب لاالہ الااﷲ اور اس کے مقتضیات پر میرے سنٹر سیچھپنے کے لئے پریس میں گئی ہے۔ ایک دوسری اردو کتاب رمضان المبارک کے فضائل ومسائل رمضان تک شائع ہوجائے گی۔تبلیغی جماعت کا تعارف وتجزیہ اور قرآن وسنت کا باہمی ربط کے عنوان پر دوکتابیں اردو میں اور فضائل اسلام پر ایک کتاب نیپالی میں غیرمطبوع ہیں۔ باقی متعدد مقالات ومضامین ہیں جنہیں ان شاء اﷲ کتابی شکل میں شائع کرنے کا ارادہ ہے۔
(37) مذہبی حلیے سے کئی لوگوں کو خاصی تکلیف ہوتی ہے ، آپ کا ایسے مواقع پر کیا رد عمل ہوتا ہے ، کوئی تجربہ جو ذکر کرنا چاہیں ؟
جواب: الحمد ﷲ ایسی کوئی نوبت نہیں پیش آئی البتہ اس کے برخلاف ایک مرتبہ گھر سے چھٹی گزارکر جامعہ جارہاتھا اس وقت کبھی کبھار کٹکھا کھالیا کرتا تھا،اسٹیشن پر ایک دوکاندار سے کٹکھا مانگااس نے کٹکھا دیتے ہوا کہا بیٹاتم طالب علم لگتے ہو اور کٹکھا کھاتے ہو؟ میں نے کہا آپ بھی تو بیچتے ہیں، اس نے کہا میری تجارتی مجبوری ہے تمہاری کون سی مجبوری ہے؟ میں لاجواب ہوگیا، اسی کٹکھا پھینک دیا اور پھر دوبارہ اسے ہاتھ نہیں لگایا۔
(38) ماشاء اﷲ آپ پہلے ہی اردو مجلس کو بہت وقت دے رہے ہیں لیکن اردو مجلس میں کوئی ایسی کمی جسے پورا کرنے میں آپ مدد کرسکتے ہیں ؟
جواب: کمی سے تو کوئی مبرا نہیں ہے سوائے اﷲ کے، بس ہماری کوشش یہ ہوکہ ہم کتنی کمیوں کو دور کرسکتے ہیں، اس کا اندازہ مجھ سے بہتر انتظامیہ کو ہوگا اور ناچیز کسی خدمت کے لائق ہو تو ضرور موقع عنایت فرمائیں۔
(39) اردو مجلس کی کوئی ایسی خامی جو آپ کو سخت ناپسند ہو یا سب خوبیوں کو ستیاناس کردیتی ہے ؟
جواب: میری نظر میں ایسی کوئی خامی نہیں ہے۔

(40) اردو مجلس کی کوئی ایسی خوبی جو کہیں نہیں ملتی ہے ؟
جواب: یہاں خلوص وپیار ملا اور محبت بھرے ماحول میں کتاب وسنت کے دلائل سے مزین مضامین نشرکرنے اور دوسروں سے استفادہ کرنے کا بہترین موقع ملا۔
(41)اردو مجلس کی انتظامیہ کی سب سے بڑی خامی جو آپ کو بہت محسوس ہوتی ہے؟
جواب: ایسی کوئی خامی مجھے اب تک محسوس نہیں ہوئی، اﷲ کرے محسوس بھی نہ ہو۔
(42) انتظامیہ اردو مجلس کی سب سے بڑی خوبی جسے آپ سراہنا چاہیں؟
جواب: اردو مجلس فورم کا ہونا ہی میری نظر میں بڑی خوبی ہے جہاں ہرفن سے متعلق ماہرین کا اجتماع ہے۔ رنگارنگ مضامین پڑھنے اور ان پرآزادانہ تبصرہ وتنقیدکرنے کو ملتا ہے۔
(43) اراکین کیلئے کچھ ایسی دینی کتب کا مطالعاتی نصاب تجویز کریں جن کا مطالعہ کرنا آپ کی نظر سے گزرنے والی ہماری معلومات کی خامیوں کو دور کرے؟
جواب: میں تو عام لوگوں کو مستند تفاسیر اور کتب احادیث کا مطالعہ کرنے کو کہتا ہوں جس سیصحیح دین کی سمجھ ملے گی اور سماج وسوسائٹی سے اختلاف وانتشار اور شرک وبدعت کا خاتمہ ہوگا۔ جو خاص طبقہ ہے وہ اپنے فن اور دلچسپی کے حساب سے موضوع وکتاب متعین کرتا ہے۔
(44) ماشاء اﷲ آپ دعوت و تبلیغ میں متحرک ہیں ، اپنے تجربات کی روشنی میں ساتھی داعیان وداعیات کو کیا نصیحتیں کرنا چاہیں گے ؟
جواب: دعوت وتبلیغ کرنے والوں کی بہت کمی ہے اور اچھائی کے مقابلے میں شر کا پھیلاؤکئی گنازیادہ ہے اس وجہ سے جو دعوت سے جڑے ہیں انہیں یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ پہلے دعوت کا احساس کریں کہ اس کی کیا اہمیت ہے اور اس پرفتن دور میں دعوت کی کس قدر ضرورت ہے، اس احساس کے تناظر میں جہد مسلسل اور انضباط وقت کے ساتھ فریضہ تبلیغ انجام دیں۔ پھر دیکھیں آپ کی محنت کا ثمرہ کس قدر ظاہر ہوتا ہے؟۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maqubool Ahmad

Read More Articles by Maqubool Ahmad: 303 Articles with 173132 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 May, 2017 Views: 796

Comments

آپ کی رائے