بیس رکعات نماز ترایح سنت موکّدہ!

(Inayat Kabalgraami, )

 بردران اسلام کے لئے رمضان شریف کا مبارک مہینہ عالم روحانیت کا موسم بہار ہے ۔ اس مبارک مہینہ میں دن کو فرض روزہ رکھنا اور رات کو سنت تراویح پڑھنا مخصوص عبادت ہے ۔ اس ماہ مبارک کے برکات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس میں ایک رکعات نفل کا ثواب فرض کے برابر جبکہ فرض کا ثواب ستر فرائض کے برابر کردیا جاتا ہیں ۔

حضرت عبدالرحمن بن خوف رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا : بے شک اﷲ تعالیٰ نے تم پر رمضان کے روزے فرض کئے ہیں اور میں نے تمہارے لئے اس میں رات کو قیام سنت قرار دیا ہے سو جس نے رمضان کے روزے رکھے اور رات کو قیام (تراویح )کیا ایمان کی حالات میں وہ ایساپاک ہواگناہ سے جیسے اس کو ابھی اس کی ماں نے جنا ہو، (لنسائی جلد ایک صفحہ ۲۳۹)

آج میں ترایح کی اہمیت بتانے کی کوشش کرونگا ،کیونکہ رمضان المبارک آتے ہی بعض لوگ بیس رکعات تراویح کو خلاف سنت اور بدعت قرار دیتے ہیں ، تراویح کی جماعت کے ساتھ باقاعدگی سے آغاز حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے دور سے کیا گیا ہے ۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ ان خلفاء راشدین میں سے ہیں، جن کی بابت رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت پر عمل کرو اور اسی کو ڈاڑھوں سے مضبوطی سے پکڑے رکھو۔ علامہ ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ نے ڈاڑھوں کا ذکر اس لیے کیا کہ ڈاڑھوں کی گرفت مضبوط ہوتی ہے، لہٰذا حضرت عمر فاروقؓکا یہ اقدام عینِ سنت ہے۔ (فتاوی ابن تیمیہ ج ۲ ص ۱۰۴،)

اس ہی حوالے سے چند احادیث کا تبصرہ کرتا چلوں ۔ دور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اجمعین ترایح کی تعداد کیا تھی ، حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت کہ رسول خدا ﷺ رمضان المبارک میں بیس رکعتیں اور تین وتر پڑھاکرتے تھے ، (مصنف ابن ابی شیبہ جلد ۲)حضرت جابر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ رمضان المبارک میں ایک رات رسول خدا ﷺ باہر تشریف لائیں اور صحابہ کرام ؓ کو27 رکعتیں (چار فرض بیس ترایح اور تین وتر پڑھائیں (تاریخ جرجان صفحہ 28)

حضرت ثابت بن یزید ؓ فرماتے ہیں کہ لوگ (صحابہ کرامؓ)حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کت دور خلافت میں تراویح کی بیس رکعتیں پڑھا کرتے تھے جبکہ عہد عثمانی میں لوگ شدت قیام سے لاٹیوں کا سہارہ لیا کرتے تھے ۔ (سنن کیدیٰ جلد ۲ص ۴۹۲)

امام اعظم ابو حنیفہ ؒ فرماتے ہے کہ نماز ترایح سنت موکیدہ ہے یہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اپنی طرف سے مقرر نہیں کی ،کیوں کے حضرت عمر ؓ بدعت کے ایجاد کرنے والے نہیں تھے ۔ تراویح کی اصل یقیناََ ان کے پاس رسول خداﷺ سے ثابت تھی (مراقی الفلاح ص۳۳۴)

حضرت علی المرتضی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے بدعتی کو مدینہ میں پناہ دی اس کا کوئی فرض و نفل قبول نہیں اس لئے آپ ؓ نماز عید سے قبل نفل پڑھنے والوں کو سختی سے منع کیا کرتے تھے اور رمضان المبارک آتے ہی آپ قاریوں کو یہ حکم صادر کرتے کہ وہ بیس رکعات تراویح پڑھائیں ، ( بیہقی جلد ۲ صفحہ نمبر ۴۹۶) ،

مدینہ منورہ میں حضرات صحابہ کرام رضوان اﷲ اجمعین کے دور سے ہی بیس رکعات تراویح پڑھی جاتی ہے اور آج بھی بیس ہی رکعات تراویح پڑھی جاتی ہیں مدینہ منورہ میں۔ رسول خدا ﷺ کی دنیا سے رخصتی کے بعد حضرت اماں عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا مدینہ منورہ میں ہی قیام پزیر تھی ، حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے رسول خدا ﷺ کا یہ ارشاد نقل فرمایا کہ جس نے ہمارے اس امر(دین) میں بدعت نکالی وہ مردود ہے ، اگر بیس رکعات تراویح بدعت ہوتی یا ناجائز تو اماں عایشہ رضی اﷲ عنہا سالہاسال اس پر کبھی بھی خاموش نہیں رہتی ۔

حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس حدیث پاک کے راوی ہے جس میں رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی جہنم میں لے جانے والی چیز ہے ، آپ ؓ کے سامنے تقرباََ نصف صدی تک مدینہ منورہ میں بیس رکعات تراویح باجماعت پڑھی جاتی رہی لیکن آپ ؓ نے ان کے خلاف بدعت کا حکم نہیں دیا ۔

ائمہ اربعہ یعنی چاروائمہ کرام سب کے سب بیس رکعت تراویح کے قائل تھے ، امام اعظم ابو حنیفہ ؒ بیس رکعت نماز تراویح کے قائل تھے (قاضی خان جلد۱ص۱۱۲) امام شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شہر مکہ مکرمہ کے لوگوں کو بیس رکعت تراویح پڑھتے پایا ( ترمذی جلد ۱صفحہ ۱۴۴)امام مالک ؒ کے ایک قول بیس رکعت کا ہے جبکہ ایک چھتیس کا ہے جس میں سولہ نوافل شامل ہے (ہدیۃالمجتہہ ج ۱ ص۱۶۷)امام احمد بن حنبل ؒ کامختار قول بھی بیس رکعت کا ہے (الختی جلد ۲ ص ۱۶۷)

’’قابل غور بات ‘‘
احادیث کی کتابوں میں بسا اوقات رسول خدا ﷺ کی ایک بات کا ثبوت ملتا ہے تو دوسری روایت میں اس بات کی ممانعت ہوتی ہے ، احادیث کو ظاہری اور سرسری دیکھ نے والے پریشا ن ہوجاتے ہے کہ کس حدیث پر عمل کیا جائے آج بھی یہی صورت حال ہے کہ اگر کسی کو کہا جائے کہ سنت پر عمل کر و تووہ بھی یہی جواب دیتا ہے کہ اس سنت کی روایت میں اختلاف ہے کس روایت پر عمل کیا جائیں۔

رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ میرے بعددمیری امت کے لوگ بہت سا اختلاف دیکھے گی جس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کی تکمیل آہستہ آہستہ ۲۳ سال میں ہوئی بعض امور شروع اسلام سے جائز تھے اور آخر میں ناجائز قرار دئے گئے ، جیسے کہ نماز میں باتیں کرنا، شراب کا استعمال، جوا یہ پہلے اسلام میں منع نہیں تھی آخری حصے میں حرام قرار دی گئی، عاشورہ کا روزہ رکھنا ،تہجد کی نماز ، وغیرہ ان ۲۳ سالوں میں لوگ مسلمان ہوتے رہے پھر بعض ہجرت کرکے دوسرے ممالک چلے گئے اور ان ہی باتوں پر عمل کرتے رہے جو پہلے سے ان کو معلوم تھیں آگر چہ بعد میں ان کی جگہ دوسری چیزیں شروع ہوچکی ہو ۔ بعض صحابہ کرام رضوان اﷲ اجمعین دور دراز کے رہنے والے تھے وہ چند دن رسول خداﷺکی دربار میں رہتے جو سیکھتے اپنے وطن میں جاکے اس پر ہی عمل پیرا رہتے اور اسی کی روایت کرتے رہتے۔ کچھ صحابہؓ رسول خدا ﷺکے دور میں ہی جہاد اور تبلیغ کے سلسلے دور دراز علاقوں میں چلے گئے اس لیئے ضروری تھا کہ اختلاف ہو کیونکہ بعد میں آنے والے لوگوں کہ سامنے تمام صحابہ کرام رضوان اﷲ اجمعین کی روایات ہونگی وہ دیکھیں گے ایک صحابی ایک روایت کرتا ہے تو دوسرا اس کے بر عکس ہو تا ہے -

اب اس کا حل کیا ہے کس روایت پر عمل کیا جائیں ؟ اس کا حل خود آپ ﷺ ارشاد فرمایا ہے ، خلفائے راشدین ، عبداﷲ بن مسعود اور ان جیسے کئی صحابہ کرام رضوان اﷲ اجمعین جو ہما وقت دربار رسالت ﷺ میں حاضر رہتے تھے ، دن و رات کے ساتھی تھے ، جنہونے آپ ﷺ کی پوری زندگی کو قریب سے دیکھا اور صحیح مطلب تک رسائی بھی رکھتے تھے ان کی اتباع کا حکم دیا کیونکہ کے یہی صحابہ کرام تکمیل دین تک اور رسول خدا ﷺ کی دنیا سے رخصتی تک آپ ﷺ کے ساتھ تھے ۔ اس لئے ان ہی روایات پر عمل کیا جائے جو خلفائے راشدین یا ان جیسے بڑے صحابہ ؓ کا عمل ثابت ہو ۔ اﷲ ہم کو صحیح مانے پر دین اسلام پر عمل پیرا فرمائے (آمین)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Inayat Kabalgraami

Read More Articles by Inayat Kabalgraami: 94 Articles with 52316 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 May, 2017 Views: 1470

Comments

آپ کی رائے
بیس رکعت تراویح کے دلائل کا جائزہ

اب ہم ان لوگوں کے دلائل کا علمی وتحقیقی ، مختصر، مگر جامع جائزہ پیش کرتے ہیں جو بیس رکعت نمازِ تراویح کو “سنتِ مؤکدہ” کہتے ہیں ۔
دلیل نمبر: 1

سید نا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبار ک میں بیس رکعتیں اور وتر پڑ ھا کرتے تھے ۔

(مصنف ابن بی شیبۃ: ۲۹۴/۲، السنن الکبری للبیھقی: ۴۹۶/۲، المعجم الکبیر للطبرانی: ۳۹۳/۱۱ ، وغیرہ ہم)
تبصرہ:

یہ جھوٹی روایت ہے، اس کی سند میں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان راوی “متروک الحدیث” اور “کذاب” ہے، جمہورنے اس کی ” تضعیف” کر رکھی ہے۔

امام زیلعی حنفی لکھتے ہیں:

وھو معلو ل بأبی شیبۃ ابراہیم بن عثمان ، جدّ الامام أبی بکر بن أبی شیبۃ، وھو متّفق علیٰ ضعفۃ، الیّنۃ ابن عدیّ فی الکامل ، ثمّ مخالف للحدیث الصّحیح عن أبی سلمۃ بن عبد الرّحمٰن أنّہ سأل عائشۃ: کیف کانت صلاٰ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فی رمضان ؟ قالت : ماکان یزید فی رمضان ولا فی غیرہ علی ٰ احدیٰ عشرۃ رکعۃ۔۔۔۔۔

” یہ روایت ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان راوی کی وجہ سے معلول (ضعیف) ہے ، جو کہ امام ابوبکر بن ابی شیبہ کے دادا ہیں ، ان کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے، امام ابن عدی نے بھی الکامل میں ان کو کمزور قرار دیا ہے ، پھر یہ اس صحیح حدیث کے مخالف بھی ہے، جس میں ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان میں نماز کے بارے میں سوال کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان یا غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ۔۔۔۔۔”

(نصب الرایۃ للزیلعی: ۱۵۳/۲)

ا)جناب انور شاہ کشمیری دیو بندی لکھتے ہیں:

أما النّبیّ صلی اللہ علیہ وسلم فصحّ عنہ ثمان رکعات وأ مّا عشرون رکعۃ فھو عنہ علیہ السّلام بسند ضعیف وعلی ضعفہ اتّفاق۔

” آٹھ رکعات نمازِ تراویح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت ہیں اور جو بیس رکعت کی روایت ہے ، وہ ضعیف ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔ “(العرف الشذی: ۱۶۶/۱)

بالا تفاق” ضعیف ” راوی کی روایت وہی پیش کرسکتا ہے جو خود اس کی طرح بالا تفاق ” ضعیف ” ہو۔

ب) جناب عبد الشکور فاروقی دیوبندی نے بھی اس کو ” ضعیف ” قرار دیا ہے۔ ( علم الفقۃ : ص ۱۹۸)

ج)ابن ِ عابدین شامی حنفی (م ۱۲۵۲) لکھتے ہیں:

فضعیف بأبی شیبۃ، متّفق علی ضعفہ مع مخالفۃ للصّحیح۔ ”

یہ حدیث ضعیف ہے، کیونکہ اس میں راوی ابو شیبہ (ابراہیم بن عثمان) بالاتفاق ضعیف ہے ، ساتھ ساتھ یہ حدیث ( صحیح بخاری و صحیح مسلم کی) صحیح (حدیث ِ عائشہ رضی اللہ عنہا) کے بھی خلاف ہے۔ “(منحۃ الخالق: ۶۶/۲)

یہی بات امام ابنِ ہمام حنفی(فتح القدیر : ۴۶۸/۱) امام عینی حنفی (عمدۃ القاری : ۱۲۸/۱۱) نے بھی کہی ہے۔ علامہ سیوطی (۹۱۱-۸۴۹ھ)لکھتے ہیں : ھذا الحدیث ضعیف جدّ ا، لاتقوم بہ حجّۃ۔ ” یہ حدیث سخت ترین ضعیف ہے، اس سے حجت ودلیل قائم نہیں ہوسکتی ۔” (المصابیح فی صلاۃ التراویح : ۱۷)

تنبیہ: امام بریلویت احمد یار رخان گجراتی ( ۱۳۹۱-۱۳۲۴ھ)اپنی کتاب ” جاء الحق (۲۴۳/۲)” میں ” نمازِ جنازہ میں الحمد شریف تلاوت نہ کرو” کی بحث میں امامِ ترمذی ؒ سے نقل کرتے ہیں:

” ابراہیم بن عثمان ابو شیبہ منکر ِ حدیث ہے۔”

لیکن اپنی اسی کتاب ( ۴۴۷/۱) کے ضمیمہ میں مندرج رسالہ لمعات المصابیح علی رکعات التراویح میں اس کی حدیث کو بطور ِ حجت پیش کرتے ہیں ، دراصل انصاف کو ان سے شکایت ہے کہ وہ اس کا ساتھ نہیں دیتے ، ایسے بدیانت اور جاہل ، بلکہ اجہل لوگوں سے خیر کی کیا توقع رکھی جاسکتی ہے جو اس طرح کی واہی تباہی مچاتے ہیں ؟

قارئین کرام! بعض الناس کی یہ کل کائنا ت تھی جس کا حشر آپ نے دیکھ لیا ہے، نہ معلوم اس کے باوجود ان لوگو ں کو بیس رکعات نمازِ تراویح کو” سنتِ مؤ کدہ” کہتے ہوئے شرم کیوں نہیں آتی؟
دلیل نمبر: 2

سید نا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رمضان المبار ک میں ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور صحابہ کرام کو چوبیس رکعتیں پڑھائیں اور تین رکعات وتر پڑھے۔ ( تاریخ جر جان لابی قاسم حمزۃ بن یوسف السھی المتوفی۷۶۷، من الھجریۃ: ص ۲۷۵)
تبصرہ:

یہ روایت جھوٹ کا پلندا ہے، اس میں دوراوی عمر بن یارون البلخی اور محمد بن حمید الرازی ” متروک وکذاب” ، نیز ایک غیر معروف راوی بھی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ بیس تراویح کے سنتِ مؤ کدہ ہونے کا راگ الا پنے والے اس چوبیس والی حدیث کو کس منہ سے پیش کرتے ہیں ؟
دلیل نمبر: 3

سید نا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سید نا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رمضان میں رات کو لوگوں کو نماز پڑ ھا یا کریں ، آپ نے فرما یا ، لوگ دن میں روزہ رکھتے ہیں ، لیکن اچھی طرح قراء ت نہیں کرسکتے، اگر تم رات کو ان پر قرآن پڑ ھا کرو تو اچھا ہو، سید نا ابی بن کعب نے عرض کی ، اے امیر المؤمین ! پہلے ایسا نہیں ہوا تو آپ نے فرما یا، مجھے بھی معلوم ہے، تاہم یہ ایک اچھی چیز ہے، چنا نچہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بیس رکعات پڑ ھائیں ۔ (کنز العمال : ۴۰۹۸)
تبصرہ:

” کنز العمال” میں اس کی سند مذکور نہیں ، دین سند کا نام ہے ، بے سند روایات وہی پیش کرتے ہیں ، جن کی اپنی کوئی” سند ” نہ ہو۔
دلیل نمبر: 4

عن الحسن أنّ عمر بن الخطّاب رضی اللہ عنہ جمع النّاس علی أبیّبن کعب، فکان یصلّی لھم عشر ین رکعۃ“

حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سید نا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو سید نا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ پر اکٹھا کیا ، وہ انہیں بیس رکعات پڑ ھاتے تھے ۔”

(سنن ابی داؤد ، سیر اعلام النبلاء: ۴۰۰/۱۰، جامع المسانید والسنن للحافظ ابن کثیر : ۵۵/۱)
تبصرہ:

عشر ین رکعۃ کے الفاظ دیو بندی تحریف ہے، محمود الحسن دیوبندی(۱۲۶۸-۱۳۳۹ھ) نے یہ تحریف کی ہے، عشر ین لیلۃ” بیس راتیں ” کی بجائے عشر ین رکعۃ ” بیس رکعتیں ” کر دیا ہے۔ جبکہ سنن ابی داؤد کے کسی نسخہ میں عشرین رکعۃ نہیں ہے، تمام نسخوں میں عشرین لیلۃ ہی ہے، حال ہی میں محمد عوامہ کی تحقیق سے جو سنن ابی داؤد کا نسخہ چھپا ہے، جس میں سات آٹھ نسخوں کو سامنے رکھا گیا ہے، اس میں بھی عشر ین لیلۃ ہی ہے، محمد عوامہ لکھتے ہیں : من الأ صول کلّھا۔

” سارے کے سارے بنیادی نسخوں میں یہی الفاظ ہیں ۔” (سنن ابی داؤد بتحقیق محمد عوامہ : (۲۵۶/۲)

عشر ین رکعۃ کے الفاظ محرف ہونے پر ایک زبردست دلیل یہ بھی ہے کہ امام بیہقی رحمہ اللہ (السنن الکبری: ۴۹۸/۶)نے یہی روایت امام ابوداؤد رحمہ اللہ کی سند سے ذکر کی ہے اور اس میں عشر ین لیلۃ کے الفاظ ہیں ۔ یہی الفاظ حنفی فقہا ء اپنی اپنی کتابوں میں ذکر کرتے رہے ہیں ۔ رہا مسئلہ” سیر اعلام النبلاء” اور ” جامع المسانیدو والسنن” میں عشر ین رکعۃ کے الفاظ کا پا یا جا نا تو یہ ناسخین کی غلطی ہے، کیونکہ سنن ابی داؤد کے کسی نسخے میں یہ الفاظ نہیں ہیں ، یہاں تک کہ امام عینی حنفی (۸۵۵ھ) نے ” شرح أبی داؤد (۳۴۳/۵) میں عشرین لیلۃ کے الفاظ ذکر کر کیے ہیں ، نسخوں کا اختلا ف ذکر نہیں کیا ،ا گر رکعۃ کے الفاظ کسی نسخے میں ہوتے تو امام عینی حنفی ضرور بالضر ور نقل کرتے ، اسی لیے غالی حنفی نیموی (م۱۳۲۲ھ) نے بھی اس کو بیس رکعت تراویح کی دلیلوں میں ذکر نہیں کیا ہے۔

۲۔ اگر مقلدین کی بات کو صحیح تسلیم کر بھی لیا جائے تو پھر بھی یہ روایت ان کی دلیل نہیں بن سکتی ، جیسا کہ خلیل احمد سہار نپوری دیوبندی صاحب (۱۳۴۶-۱۲۶۹ھ) لکھتے ہیں کہ ایک عبارت بعض نسخوں میں ہوا اور بعض میں نہ ہو تو وہ مشکوک ہوتی ہے۔ ( بزل المجھود : ۴۷۱/۴، بیروت)

لہذا اس دیو بندی اصول سے بھی یہ روایت مشکوک ہوئی۔
تنبیہ:

امام بریلوت احمد یار خان نعیمی گجراتی (۱۳۹۱-۱۳۲۴ھ) نے عشر ین لیلۃ کے الفاظ ذکر کیے ہیں ۔ ( جاء الحق” : ۹۵/۶ بحث” قنوتِ نازلہ پڑھنا منع ہے”)

جناب سر فراز خان صفدر دیوبندی ایک دوسری روایت کے بارے میں لکھتے ہیں : ” جب عام اور متداول نسخوں میں یہ عبارت نہیں تو شاذ اور غیر مطبوعہ نسخوں کا کیا اعتبار ہوسکتا ہے؟” ( خزائن السنن : ۹۷/۲)

مقلدین کے اصول کے مطابق اس روایت کا کوئی اعتبار نہیں ۔

۔ امام زیلعی حنفی ( م ۷۶۲ھ) اور امام عینی حنفی لکھتے ہیں:

لم ید رک عمر بن الخطّاب ۔ ”

اس روایت کے راوی امام حسن بصری رحمہ اللہ نے سیدنا عمر بن خطاب کا زمانہ نہیں پا یا”

( نصب الرایۃ : ۱۲۶/۲، شرح ابی داؤد از عینی حنفی: ۳۴۳/۵)

لہذا یہ روایت ” منقطع” ہوئی ، کیا شریعت ” منقطع” روایات کا نام ہے؟

۴۔ امام عینی حنفی نے اس کو ” ضعیف ” قرار دیا ہے۔ ( شرح سنن ابی داؤد از عینی حنفی : ۳۴۳/۵)

۵۔ اس روایت کو حافظ رحمہ اللہ نے بھی ” ضعیف ” کہا ہے۔ ( خلاصۃ الا حکام للنووی: ۵۶۵/۱)

۶۔ سید نا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا گیارہ رکعت تراویح بمع وتر کا حکم دینا ثابت ہے۔

( موطا امام مالک : ۱۳۸، السنن الکبری للبھقی: ۴۹۶/۲، شرح معانی الآثار للطحاوی : ۲۹۳/۱، معرفۃ السنن والآ ثار للبیھقی : ۴۲/۴ ،فضائل الاوقات للبیھقی: ۲۷۴: قیام اللیل للمروزی : ۲۲۰، مشکاۃ المصابیح : ۴۰۷ وسندہ صحیح)

امام طحاوی حنفی (۳۲۱-۲۳۹ھ) نے اس حدیث سے حجت پکڑی ہے۔
دلیل نمبر 4

یزید بن رومان کہتے ہیں کہ لوگ سید نا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں رمضان میں تیس رکعات پڑ ھا کرتے تھے۔( موطا امام مالک: ۹۷/۱، السنن الکبر ی للبیھقی: ۴۹۴/۲) ۔
تبصرہ:

یہ روایت ” انقطاع” کی وجہ سے ” ضعیف” ہے، کیونکہ راوی یزید بن رومان نے سید نا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زمانہ ہی نہیں پایا ، امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یزید بن رومان لم ید رک عمر بن الخطّاب۔ ” یزید بن رومان نے سید نا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پا یا۔” نصب الرایۃ للز یلعی: (۱۶۳/۲) لہذا یہ روایت ” منقطع” ہوئی ، جبکہ مؤ طا امام مالک میں اس اس “منقطع” روایت سے متصل پہلے ہی”صحیح ومتصل ” سند کے ساتھ ثابت ہے کہ امیر المؤمنین سید نا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے گیارہ رکعت کا حکم دیا تھا۔ جناب انور شاہ کشمیری دیوبندی لکھتے ہیں : ترجیح المسّصل علی المنقطع.

” ضابطہ یہ ہے کہ متصل کو منقظع پر ترجیح حاصل ہوتی ہے۔” (العرف الشذی: ۱۱) ہم کہتے ہیں کہ یہاں بے ضابطگیاں کیوں ؟ جناب اشرف علی تھانوی دیوبندی اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں : ” روایتِ مؤ طا مالک منقظع ہے۔”(اشرف الجواب:۱۸۲)

صحیح احادیث کے مقابلہ میں ” منقطع ” روایت سے حجت پکڑنا انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہے۔
دلیل نمبر: 5

یحیٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سید نا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعات پڑحائے۔(مصنف ابن ابی شیبۃ: ۳۹۳/۲)
تبصرہ:

یہ روایت ” منقطع” ہونے کی وجہ سے ” ضعیف ” ہے، نیموی حنفی لکھتے ہیں : یحیی بن سعید لم یدرک عمر۔ ” یحیٰ بن سید الانصاری نے سید نا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔ “) التعلیق الحسن از نیموی حنفی: ۲۵۳) ۔
دلیل نمبر: 6

عبد العزیز بن رفیع فرماتے ہیں کہ سید نا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رمضان میں لوگوں کو مدینہ میں بیس رکعات پڑ ھاتے تھے اور وتر تین رکعات۔ ( مصنف ابن ابی شیبۃ: ۳۹۳/۲)
تبصرہ:

یہ رویات بھی ” انقطاع” کی وجہ سے ” ضعیف” ہے، نیموی حنفی لکھتے ہیں:

عبد العزیز بن رفیع لم ید رک أ بیّ بن کعب۔ ” عبد العزیز بن رفیع نے سید نا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو نہیں پا یا۔ ” (التعلیق الحسن : ۲۵۳)
دلیل نمبر: 7

سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ سید نا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں رمضان میں بیس رکعتیں پڑ ھتے تھے۔( مسند علی بن الجعد : ۲۷۲۵، السنن الکبری للبیھقی: ۴۹۶/۲، وسندہ صحیح)
تبصرہ:

یہ بیس رکعتیں پڑھنے والے لوگ صحابہ کرام کے علاوہ اور لوگ تھے ، کیونکہ صحابی رسول سید نا سائب بن یزید خود فرما تے ہیں : کنا (أی الصّحابۃ) نقوم فی عھد عمر بن الخظّاب با حدٰ ی عشرۃ رکعۃ۔۔۔” ہم (صحابہ) سید نا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں گیارہ رکعات (نمازِ تراویح بمع وتر) پڑھتے ۔” (حاشیۃ آثار السنن : ۲۵، وسندہ صحیح)

صحابہ کرام کے علاوہ دوسرے لوگوں کا عمل حجت نہیں ، یہ کہا ں ہے کہ یہ نامعلوم لوگ بیس کو سنت مؤکدہ سمجھ کر پڑ ھتے تھے ، اگر کوئی آٹھ کو سنت، رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور بارہ کو زائد نفل سمجھ کر پڑ ھے تو صحیح ہے، یہ لوگ بھی ایسا ہی کرتے ہوں گے۔

جناب خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی (م ۱۳۴۶ھ) لکھتے ہیں : ” ابنِ ہمام (نے ) آٹھ رکعات کو سنت اور زائد کو مستحب لکھا ہے ، سو یہ قول قابل طعن کے نہیں ۔” ( براھین قاطعۃ : ۱۸)

مزید لکھتے ہیں : ” سنتِ مؤ کدہ ہونا تراویح کا آٹھ رکعت تو باتفاق ہے، اگر خلاف ہے تو بارہ میں ۔” ( براھین قاطعہ: ۱۹۵)
دلیل نمبر: 8

سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ سید نا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بیس رکعات تراویح اور وتر پڑ ھا کرتے تھے۔ ( معرفۃ السفن والآثار للبیھقی: ۴۲/۴)
تبصرہ:

یہ روایت ” شاذ” ہے، امام مالک ،ا امام یحیٰ بن سعید القظان اور امام الدراوردی وغیر ہم رحمہ اللہ کے مخالف ہونے کی وجہ سے اس میں ” شذوذ” ہے ، اگر چہ خالد بن مخلد ” ثقہ” راوی ہے، لیکن کبار ثقات کی مخالفت کرنے کی وجہ سے اس کی روایت قبول نہ ہوگی ، اسی روایت میں کبار ثقافت گیارہ رکعات بیان کررہے ہیں ۔
دلیل نمبر: 9

ابو عبد الرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ سید نا علی رضی اللہ عنہ نے رمضان میں قراء کو بلا یا اور ان کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعات تراویح پڑ ھائیں ، سید نا علی رضی اللہ عنہ انہیں وتر پڑھاتے تھے۔ ( السنن الکبری للبیھقی:۴۹۶/۲)
تبصرہ:

( ا) یہ روایت ” ضعیف” ہے، اس کی سند میں حماد بن شعیب راوی ” ضعیف” ہے، اس کو امام یحیٰ بن معین ، امام ابوززرعہ ، امام نسائی اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ” ضعیف ” کہا ہے۔

ب) دوسری وجہ ضعیف یہ ہے کہ عطاء بن السائب ” مختلط” راوی ہے ، حماد بن شعیب ان لوگوں میں سے نہیں ، جنہوں نے اس سے قبل الا ختالط سنا ہے۔
دلیل نمبر: 10

ابو الحسناء سے رویات ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو پانچ ترایح، یعننی بیس رکعات تراویح پڑ ھا یا کرے۔( مصنف ابن ابی شیبۃ: ۳۹۳/۲)
تبصرہ:

اس روایت کی سند ” ضعیف” ہے، اس کی سند مین ابو الحسنا ء راوی ” مجہول” ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : لایُعرف۔ ” یہ غیر معروف راوی ہے۔” ( میزان الاعتدال : ۵۱۵/۴)۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں غیر معروف راویوں کی روایات کا مکلّف نہیں ٹھہرایا ۔
دلیل نمبر: 11

اعمش کہتے ہیں کہ سید نا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیس رکعات تراویح پڑھا کرتے تھے۔” ( مختصر قیام اللیل للمروزی : ۱۵۷)
تبصرہ

اس کی سند ” ضعیف ” ہے ، عمدۃ القاری( ۱۲۸/۱۱) میں یہ حفص بن غیاث عن الأ عمش کے طریق سے ہے ، جبکہ حفص بن غیاث اور اعمش دونوں زبردست” مدلس” ہیں اور ” عن ” سے بیا ن کررہے ہیں ، لہٰذا سند” ضعیف” ہے۔

باقی امام عطاء امام ابن ابی ملیکہ ، امام سوید بن غفلہ وغیر ہم کا بیس رکعت پڑھنا بعض الناس کو مفید نہیں ، وہ یہ بتائیں کہ وہ امام ابو حنیفہ کے مقلد ہیں یا امام عطاء بن ابی رباح وغیرہ کے ؟ اور اس بات کو کوئی ثبوت نہیں ہے کہ وہ بیس رکعت کو سنتِ مؤکدہ سمجھ کر پڑ ھتے تھے۔

آل تقلید پر لازم ہے کہ وہ باسندِ صحیح اپنےامام ابوحنیفہ سے بیس رکعت تراویح کا جواز یا سنتِ مؤکدہ ہونا ثابت کریں ، ورنہ مانیں کہ وہ اندھی تقلید میں سر گرداں ہیں ۔

الحاصل:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی صحابی سے بیس رکعت نمازِ تراویح پڑ ھنا قطعاًثابت نہیں ہے، سنت صرف آٹھ رکعات ہیں ۔

دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں حق سمجھنے والا اور اس پر ڈٹ جانے والا بنائے۔ آمین!
By: manhaj-as-salaf, Peshawar on May, 29 2017
Reply Reply
0 Like
آٹھ رکعات تراویح اور غیر اہلِ حدیث علماء

از عثمان احمد
25 Nov 2014

تحریر:حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

رمضان میں عشاء کی نمازکے بعد جو نماز بطورِ قیام پڑھی جاتی ہے ، اسے عرفِ عام میں تراویح کہتے ہیں۔ راقم الحروف نے “نور المصابیح فی مسئلۃ التراویح” میں ثابت کردیا ہے کہ گیارہ رکعات قیامِ رمضان (تراویح) سنت ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نمازسے فارغ ہونے کے بعد فجر (کی اذان) تک (عام طور پر) گیارہ رکعات پڑھتے تھے۔ آپ ہر دو رکعتوں پر سلام پھیرتے تھے اور (آخر میں) ایک وتر پڑھتے تھے۔ دیکھئے صحیح مسلم ( ۲۵۴/۱ ح ۷۳۶)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں (صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی جماعت سے) آٹھ رکعتیں پڑھائیں ۔ دیکھئے صحیح ابن خزیمہ (۱۳۸/۲ ح ۱۰۷۰) و صحیح ابن حبان (الاحسان ۶۲/۴ ح ۲۴۰۱، ۶۴/۴ ح ۲۴۰۶) اس روایت کی سند حسن ہے ۔

سیدنا امیر المؤمنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (نماز پڑھانے والوں) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو (رمضان میں نمازِ عشاء کے بعد ) گیارہ رکعات پڑھائیں۔ دیکھئے موطأ امام مالک (۱۱۴/۱ ح ۲۴۹) و السنن الکبریٰ للنسائی (۱۱۳/۳ ح ۴۶۸۷)

اس روایت کی سند صحیح ہے اور محمد بن علی النیموی (تقلیدی) نے بھی اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ دیکھئے آثار السنن (ح ۷۷۵، دوسرانسخہ: ۷۷۶)

صحابہ و تابعین اور سلف صالحین کا اس پر عمل رہا ہے ۔

اب اس مضمون میں حنفی و تقلیدی علماء کے حوالے پیشِ خدمت ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے نزدیک بھی آٹھ رکعات تراویح سنت ہے ۔

.
ابن ہمام حنفی (متوفی ۸۶۱/ھ) لکھتے ہیں: “فتحصل من ھذا کلہ أن قیام رمضان سنۃ احدیٰ عشرۃ رکعۃ بالوتر في جماعۃ”اس سب کا حاصل (نتیجہ) یہ ہے کہ قیامِ رمضان (تراویح) گیارہ رکعات مع وتر ، جماعت کے ساتھ سنت ہے.(فتح القدیر شرح الہدایہ ج ۱ ص ۴۰۷ باب النوافل

2.
سید احمد طحطاوی حنفی (متوفی ۱۲۳۳/ھ) نے کہا:

“لأنّ النبي علیہ الصلوۃ و السلام لم یصلھا عشرین، بل ثماني“
کیونکہ بے شک نبی علیہ الصلوٰۃ و السلام نے بیس نہیں پڑھیں بلکہ آٹھ پڑھیں۔(حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختارج ۱ ص ۲۹۵)

3.
ابن نجیم مصری (متوفی ۹۷۰/ھ) نے ابن ہمام حنفی کو بطورِ اقرار نقل کیا کہ:
“فإذن یکون المسنون علی أصول مشایخنا ثمانیۃ منھا والمستحب اثنا عشر“

پس اس طرح ہمارے مشائخ کے اصول پر ان میں سے آٹھ (رکعتیں) مسنون اور بارہ (رکعتیں) مستحب ہوجاتی ہیں۔ (البحرالرائق ج ۲ ص ۶۷)

تنبیہ:ابن ہمام وغیرہ کا آٹھ کے بعد بارہ (۱۲) رکعتوں کو مستحب کہنا حنفیوں و تقلیدیوں کے اس قول کے سراسر خلاف ہے کہ “بیس رکعات تراویح سنت مؤکدہ ہے اور اس سے کم یا زیادہ جائز نہیں ہے “


4.
ملا علی قاری حنفی (متوفی ۱۰۱۴/ھ) نے کہا:

“فتحصل من ھذا کلہ أن قیام رمضان سنۃ إحدیٰ عشرۃ بالوترفي جماعۃ فعلہ علیہ الصلوۃ و السلام“

اس سب کا حاصل (نتیجہ) یہ ہے کہ قیامِ رمضان (تراویح) گیارہ رکعات مع وتر، جماعت کے ساتھ سنت ہے ، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح ۳۸۲/۳ ح ۱۳۰۳)

5.
دیوبندیوں کے منظورِ نظر محمد احسن نانوتوی (متوفی ۱۳۱۲/ھ) فرماتے ہیں:

“لأن النبي صلی اللہ علیہ وسلم لم یصلھا عشرین بل ثمانیاً“

کیونکہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس (۲۰) نہیں پڑھیں بلکہ آٹھ (۸) پڑھیں۔ (حاشیہ کنز الدقائق ص ۳۶ حاشیہ : ۴)

نیز دیکھئے شرح کنز الدقائق لابی السعود الحنفی ص ۲۶۵

6.
دیوبندیوں کے منظورِ خاطر عبدالشکور لکھنوی (متوفی ۱۳۸۱/ھ) لکھتے ہیں کہ:

“اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آٹھ رکعت تراویح مسنون ہے اور ایک ضعیف روایت میں ابن عباس سے بیس رکعت بھی۔ مگر …..” (علم الفقہ ص ۱۹۸، حاشیہ)

7.
دیوبندیوں کے دل پسند عبدالحئی لکھنوی (متوفی ۱۳۰۴/ھ) لکھتے ہیں:

آپ نے تراویح دو طرح ادا کی ہے (۱) بیس رکعتیں بے جماعت…… لیکن اس روایت کی سند ضعیف ہے …. (۲) آٹھ رکعتیں اور تین رکعت وتر باجماعت….” (مجموعہ فتاویٰ عبدالحئی ج ۱ ص ۳۳۱،۳۳۲)

8.
خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی (متوفی ۱۳۴۵/ھ) لکھتے ہیں:

“البتہ بعض علماء نے جیسے ابن ہمام آٹھ کو سنت اور زائد کو مستحب لکھاہے سو یہ قول قابل طعن کے نہیں” (براہین قاطعہ ص ۸) خلیل احمد سہارنپوری مزید لکھتے ہیں کہ “اور سنت مؤکدہ ہونا تراویح کا آٹھ رکعت تو بالاتفاق ہے اگر خلاف ہے تو بارہ میں ہے ” (براہین قاطعہ ص ۱۹۵)

9.
انور شاہ کشمیری دیوبندی (متوفی ۱۳۵۲؁ھ) فرماتے ہیں:

“ولا مناص من تسلیم أن تراویحہ علیہ السلام کانت ثمانیۃ رکعات ولم یثبت في روایۃ من الروایات أنہ علیہ السلام صلی التراویح و التجھد علیحدۃ في رمضان…. وأما النبي صلی اللہ علیہ وسلم فصح عنہ ثمان رکعات و أما عشرون رکعۃ فھو عنہ علیہ السلام بسند ضعیف و علیٰ ضعفہ اتفاق….“

اور اس کے تسلیم کرنے سے کوئی چھٹکارا نہیں ہے کہ آپ علیہ السلام کی تراویح آٹھ رکعات تھی اور روایتوں میں سے کسی ایک روایت میں بھی یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ علیہ السلام نے رمضان میں تراویح اور تہجد علیحدہ پڑھے ہوں…… رہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو آپ سے آٹھ رکعتیں صحیح ثابت ہیں اور رہی بیس رکعتیں تو وہ آپ علیہ السلام سے ضعیف سند کے ساتھ ہیں اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔ (العرف الشذی ص ۱۶۶ ج ۱)

10.
نمازِ تراویح کے بارے میں حسن بن عمار بن علی الشرنبلالی حنفی (متوفی ۱۰۶۹؁ھ) فرماتے ہیں:

“(وصلوتھا بالجماعۃ سنۃ کفایۃ) لما یثبت أنہ صلی اللہ علیہ وسلم صلّی، بالجماعۃ اِحدیٰ عشرۃ رکعۃ بالوتر..“

(اور اس کی باجماعت نماز سنت کفایہ ہے ) کیونکہ یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت کے ساتھ گیارہ رکعتیں مع وتر پڑھی ہیں ۔ (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح ص ۹۸)

محمد یوسف بنوری دیوبندی (متوفی ۱۳۹۷؁ھ) نے کہا:

“فلا بد من تسلیم أنہ صلی اللہ علیہ وسلم صلّی التراویح أیضاً ثماني رکعات“
پس یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعات تراویح بھی پڑھی ہے ۔

(معارف السنن ج ۵ ص ۵۴۳)

تنبیہ (۱): یہ تمام حوالے ان لوگوں پر بطورِ الزام و اتمام حجت پیش کیے گئے ہیں جو ان علماء کو اپنا اکابر مانتے ہیں اور ان کے اقوا ل کو عملاً حجت تسلیم کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان بعض علماء نے بغیر کسی صحیح دلیل کے یہ غلط دعویٰ کر رکھا ہے کہ “مگر حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں بیس رکعت پڑھنے کا حکم فرمایا اور جماعت قائم کردی ” اس قسم کے بے دلیل دعووں کے رد کے لئے یہی کافی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گیارہ رکعات پڑھنے کا حکم دیا تھا۔ (دیکھئے موطأ امام مالک ۱۱۴/۱ و سندہ صحیح)

تنبیہ(۲): امام ابوحنیفہ، قاضی ابو یوسف ، محمد بن الحسن الشیبانی اور امام طحاوی کسی سے بھی بیس رکعات تراویح کا سنت ہونا باسند صحیح ثابت نہیں ہے ۔
وما علینا الا البلاغ

(۱۷ رجب ۱۴۲۷؁ھ)
http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=62416
By: manhaj-as-salaf, Peshawar on May, 27 2017
Reply Reply
2 Like
یہ روایت مصنف ابن ابی شیبہ (7692) میں بایں طور مروی ہے: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ عِشْرِينَ رَكْعَةً وَالْوِتْرَ» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم رمضان میں بیس رکعت اور وتر پڑھتے تھے۔ یہ روایت ابن ابی شیبہ کے علاوہ المعجم الکبیر للطبرانی (۱۲۱۰۲) میں بھی موجود ہے۔ اسکی سند میں موجود راوی ابراہیم بن عثمان ابو شیبہ‘ متروک الحدیث ہے۔ سے امام احمد بن حنبل، امام یحی بن معین، امام ابو حاتم رازی، امام بخاری، امام ابن حبان، امام ابن عدی اور امام دارقطنی رحمہم اللہ وغیرہم نے ضعیف ومتروک کہا ہے۔ علامہ زیلعی حنفی لکھتے ہیں: وَہُوَ مَعْلُولٌ بِأَبِي شَیْبَۃَ إبْرَاہِیمَ بْنِ عُثْمَانَ، جَدِّ الْإِمَامِ أَبِي بَکْرِ ابْنِ أَبِي شَیْبَۃَ، وَہُوَ مُتَّفَقٌ عَلٰی ضَعْفِہٖ، وَلَیَّنَہُ ابْنُ عَدِيٍّ فِي الْکَامِلِ. ''یہ روایت ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان کی وجہ سے معلول (ضعیف)ہے، جو کہ امام ابو بکر بن ابو شیبہ کا دادا ہے۔ اس کے ضعیف ہونے پر اجماعہے۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ نے الکامل میں اسے کمزور قرار دیا ہے۔ '' (نصب الرایۃ في تخریج احادیث الہدایۃ : 153/2)
By: Baber Tanweer, Karachi on May, 27 2017
Reply Reply
1 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ