ماہ رمضان کی فضیلت

(Dr B.A Khurram, Karachi)

تحریر۔۔۔ ڈاکٹرعبدالمجید چوہدری
رمضا ن ا لمبا ر ک ا ﷲ کر یم کی طر ف سے ا پنے نیک بندوں کے لئے بڑ ی خیر و بر کت کا مہینہ ہے ۔ عظیم ا لشا ن کتا ب قر آ ن پا ک جس کی بدولت سا ری دنیا میں ہد ا یت کی رو شنی پھیلی۔ گمر ا ہی اور جہا لت کی تا ر یکی دور ہوئی، اسی ماہ مبا رک میں نا زل ہو ئی ۔ رمضا ن شر یف کی بنیا دی اور اسلا می عبا دت کا ا ہم رکن روزہ ہے قر آ ن پا ک کے دوسرے پا رے میں اﷲ رب ا لعزت نے روزہ کا مقصد اور روزے کی فر ضیت اس طورپر بیا ن کی ہے ۔

اے ا یماں والو! جس طر ح ان لو گو ں پر جو تم سے پہلے گز ر چکے ہیں روزے فر ض کیے گئے تھے ۔ اسی طر ح تم پر بھی کیے گئے ہیں ۔ تا کہ تم تقو ی والے بن جاؤ۔

تقوی یہ ہے کہ آدمی دنیا میں اﷲ کی منع کی ہو ئی چیزوں سے با لکل بچ کر ز ند گی گذارے ۔ان چیزوں سے رکا رہے جن سے اﷲ نے رو کا ہے ۔ و ہی کر ے جس کے کر نے کی ا ﷲ رب ا لعزت نے اجا زت دی ہے ۔ روزہ کی ظا ہر ی صورت کھا نا پینا چھوڑ دینا ہے ۔ یہ چھوڑنا اس با ت کی پہچا ن ہے کہ بند ہ اپنے رب کا فرما نبر دار ہے ۔وہ ہر اس کا م کو چھو ڑ نے کے لئے تیا ہو جا تا ہے جس کو چھو ڑنے کا اسے ا ﷲ نے حکم دیا ۔یہا ں تک کہ و ہ کھا نے پینے جیسی ضر وری چیزوں کو بھی تعمیل حکم میں چھو ڑ دے ۔ روزہ کا ا ہم مقصد یہ صلا حیت پید ا کر نا ہے ۔ کہ آدمی کی زند گی پا بند زند گی ہو نہ کہ آزاد ہے روزہ کی حا لت میں چند چیزوں کو چھڑا کر پر یکٹس کر ا ئی جا تی ہے کہ وہ سا ری عمر اپنے رب سے ڈر کر اور اس کے حکم کے مطا بق زند گی بسر کر ے گا ۔ وہان چیزوں کو چھو ڑ دے گا ،جو اس کے رب کو نا پسند ہیں ۔ اسی لئے روزہ دار اﷲ اور اس کے رسو ل ؐ کی نظر میں محبو ب و مقبو ل ہو تے ہیں ۔رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ار شا د ہے ۔ اگر لو گو ں کو یہ معلو م ہو جا ئے کہ رمضا ن کر یم کی حقیقت کیا ہے ۔تو میر ی امت یہ تمنا کر ے کہ سا را سا ل ہی رمضا ن ہو جا ئے ۔

ا ﷲ رب ا لعزت کا فر ما ن عا لی شا ن ہے ’’روزہ خا ص میر ے لئے ہے اور روزہ کا بد لہ میں خو د ہی دوں گا ‘‘۔

قیا مت کے دن جب لو گو ں کے حقو ق کا فیصلہ کیا جا ئے گا ،اگر کسی کے ذمہ کچھ حقو ق ا لعبا د ہو ں کئے تو ان کے بد لہ میں اس کی نیکیاں اہل حقو ق کو دید ی جائیں گی ۔یہاں تک کہاس کا کو ئی نیک عمل با قی نہیں رہے گا ۔مگر جب نو بت روز ہ کی آئے گی تو اﷲ رب العزت اس کے روزہ کو حقو ق اور جر م کے بد لہ میں نہ دیں گے اور یہی فر ما ئیں گے ۔اسے رہنے دو یہ تو خا لص میر ا تھا ۔اس شخص کے دوسرے بقیہ مظا لم کو خو د رکھ لین گے اور ا ہل حقو ق کو اپنے پا س سے ثواب دے کر راضی فر ما دیں گے ۔ چنا نچہ روزہ اس کے سا تھ ہو کر اس کو جنت میں لے جا ئے گا ۔ سر ور کا ئنا ت ؐ نے فر ما یا ۔ یہ غم خو ا ری کا مہینہ ہے ، خو د بھو ک پیا سے رہ کر غر یب اور لا چا ر انسا نو ں کی تکلیف کا ا ندازہ کرانا ہے ، جس سے معا سر ہ کے اندار ہمدری،غم خواری ،بھا ئی چا ر گی اور بر دا شت کی صفت پید ا کر ا کر ایک صا ف ستھرا اور پا ک معا شر ہ کو تر قی دینا اور بھو کا پیا سا رکھ کر جسم و روح کی اصلا ح کر ا نا ہے اور یہ صلا حیت بھی پیدا کر نا ہے کہ انسا ن کی پا بند زندگی ہو زند گی ہو نہ کہ بے مہا ر زند گی ۔ اﷲ نے اس ما ہ مقد س کو بڑا قیمتی بنا یا ہے ۔اس ما ہ مبا رک کے ہر لمحہ کی قدر کر نا ہما ری خو ش نصیبی ہے ۔اﷲ کے انعا ما ت کو د یکھئے وہ اس ما ہ مبا رک میں نیکیو ں کے بھا ؤ کو بڑ ھا دیتا ہے ۔ چھو ٹا سا نیک کام کیجئے اور بڑی نیکی کما ئے ۔

حد یث شر یف میں ہے’’ کہ اس مبا رک مہینہ میں نفل کا ثو اب فر ض کے بر ا بر اور فر ض کا ثو اب ستر سے سا ت سو گنا تک بڑھا دیا جا تا ہے‘‘ ۔

بد قسمت ا ﷲ کے مجر م اور رسو ل اﷲ صلی ا ﷲ علیہ و سلم کی نا را ضگی و بد عا کے مستحق ہیں وہ لو گ جو روزہ نہیں ر کھتے ۔ زمین و آسما ن بھی ایسے لو گو ں کے لئے بد عا کر تے ہیں ۔ یہا ں تک کہ جس جگہ کھا یا پیا ہو گا وہ بھی قیا مت کے دن گو ا ہی دے گی ۔

فر ما ن رسو ل صلی ا ﷲ علیہ وسلم ہے ’’جو شخص روزہ کی حا لت میں کھا نا پینا تو چھو ڑ دے مگر ا ﷲ کی دوسر ی منع چیزوں ۔ مثلا جھو ٹ ، فر یب ، ظلم ، فسا د ،بد کا ری اور چغل خو ری کر تا ر ہے تو اس نے بھو کے رہنے کے سو ا اپنے لئے کچھ نہیں پا یا ‘‘۔

درا ا صل رمضا ن ٹر یننگ کا ما ہ مبا رک ہے اور روزہ تما م بر ا ئی چھو ڑ نے کا دوسرا نا م ہے ۔ اسی کا روزہ ۔۔۔ روزہ ہے اس کے لئے ز ند گی کے تما م معا ملا ت میں بر ا ئی چھو ڑ نے کا ہم معنی بن جا ئے ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr B.A Khurram

Read More Articles by Dr B.A Khurram: 550 Articles with 233198 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 May, 2017 Views: 561

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ