لازوال قسط نمبر 4

(Muhammad Shoaib, Faisalabad)

دھیمے قدموں کے ساتھ ضرغام گھر میں داخل ہوا۔دروازے کو آہستہ سے بند کیا اور پھر خراماں خراماں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے ٹی وی لاؤنج میں گیا۔ وہاں کوئی نہیں تھا۔
’’ لگتا ہے امی سو گئیں۔۔‘‘اس نے سوچا اور ایک سکھ کا سانس لیا۔ کچن میں جا کر اس نے ایک گلاس پانی پیا اور پھر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ وہاں ہر طرف اندھیرا تھا۔اس نے لائیٹ آن کی تو شگفتہ بی بی کرسی پر بیٹھی اسی کا انتظار کر رہی تھی
’’مل گیا وقت گھر آنے کا؟ وقت دیکھا ہے تم نے؟‘‘اس کو دیکھتے ہی وہ اپنی نشست سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ اس نے بھی اپنا منہ بگاڑ لیا۔ اور جو احتیاط وہ پہلے برت رہا تھا۔ شگفتہ کو سامنے دیکھ کر بے باک ہوگیا
’’امی۔۔۔ آپ ابھی تک نہیں سوئیں۔ میں تو سمجھا تھا کہ آپ۔۔۔‘‘اس نے بات بدلنے کی کوشش کی
’’سو گئیں ہونگی۔۔۔ یہی کہنا چاہتے تھے ناں تم۔۔۔ بیٹا ماں اس وقت تک نہیں سوتی جب تک اس کے بچے گھر لوٹ نہ آئیں۔اگر ایک ماں کو ساری رات بھی جاگنا پڑے نا ں اپنے بیٹے کے انتظار میں تو وہ یہ بھی کر گزرتی ہے۔۔‘‘
’’ تو آپ کو کون کہتا ہے امی کہ آپ میرا انتظار کریں۔۔۔ آپ سو جایاکریں۔۔‘‘اس نے کندھے سے پکڑ کر ان کا غصہ کم کرنا چاہا
’’تو تم جلدی آجایا کرو۔۔ ناں اتنی دیر کیا کرو۔۔‘‘ انہوں نے اس کے ہاتھ جھٹک دیئے
’’دیر ؟؟؟؟؟ امی ابھی تو صرف بارہ بجے ہیں۔۔‘‘اس نے ایسے کہا جیسے صرف شام کے چھے بجے ہوں
’’بارہ کو تم ابھی کہہ رہے ہو۔ بیٹا یہ شریف لوگوں کے لئے آدھی رات ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے لفظ ابھی پر زور دیتے ہوئے کہا
’’آدھی رات ہے تو پھر یہی صحیح۔۔لیکن میرے لئے تو یہ صرف شام ہے۔۔‘‘اس نے بے نیازی سے اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے کہا
’’بیٹا! نہ رہا کرو، رات گئے تک یوں دوستوں کے ساتھ۔۔ جلدی لوٹ آیا کرو۔۔‘‘وہ بٹن کھول چکا تھا۔ اس نے شرٹ اتار کر بیڈ پر پھینکی
’’بیٹا!رات گئے تک گھر سے باہر رہنا اچھی بات نہیں ہوتی۔‘‘ انہوں نے پیار سے اس کے رخسار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تو اسے غصہ آگیا
’’ امی پلز۔۔۔ میں تھک چکا ہوں آپ کی نصیحتیں سن سن کر ۔۔ اب نہیں سنی جاتی مجھ سے آپ کی نصیحتیں۔۔‘‘وہ زور دار لات کرسی پر مارکر واش روم میں گھس گیا اور ایک جھٹکے سے دروازہ بند کیا
’’آج تمہیں میری باتیں بری لگ رہی ہیں مگر ایک وقت آئے گا جب تمہیں میری باتیں یاد آئیں گی۔۔‘‘
’’ جب وہ وقت آئے گا۔۔ تب کی تب دیکھی جائے گی۔۔‘‘ اس نے واش روم کے اندر سے ہی جواب دیا
’’سنبھل جاؤ بیٹا۔۔۔ سنبھل جاؤ۔۔‘‘وہ اب نائیٹ سوٹ پہن کر باہر آچکا تھا۔ وائیٹ کرتا پاجامہ اس کی شخصیت کو بھا رہا تھا۔پیشانی پر ہلکی ہلکی جنبش کرتے بالوں میں وہ بہت وجیہہ لگ رہا تھا۔
’’اگر آپ کی باتیں پوری ہوگئی ہوں تو کیا میں اب سو سکتا ہوں۔۔؟‘‘اس نے ہاتھ جوڑ کی منتوں بھرے لہجے میں استفسار کیا تو شگفتہ اس کے رخسار پر ہاتھ پھیر کر باہر چلی گئیں۔ ان کے جانے کے بعد اس نے دروازہ لاک کر دیا۔ اور ایک لمبا سانس لیا۔
* * * *
علی عظمت ڈائننگ ٹیبل پر اخبار پڑھ رہے تھے۔ رضیہ بیگم کچن سے ناشتہ لا کر ان کے سامنے رکھ رہی تھی۔ انہوں نے مسکراہٹ کے ساتھ کن انکھیوں سے ان کی طرف دیکھا اور دوبارہ کچن میں چلی گئیں۔انہوں نے اخبار کی تہہ لگا کر کچن میں دیکھا پھر ادھر ٹی وی لاؤنج کی طرف نگاہ دوڑائی۔پھر تہہ لگا اخبار ٹیبل پر ایک طرف رکھا
’’یہ وجیہہ نظر نہیں آرہی؟ کہاں ہے؟ ‘‘ رضیہ بیگم چائے کے کپ ٹیبل پر رکھ رہی تھیں
’’وہ تو صبح ہی کالج چلی گئی۔۔‘‘ پلیٹ میں قورمہ ڈال کر علی عظمت کی طرف بڑھایا
’’ اوہ۔۔ میں تو بھول ہی گیا تھا۔۔‘‘ انہوں نے مسکراتے ہوئے روٹی کا نوالہ بنایا
’’ اس نے بتایا بھی تھا سب کو۔۔ ویسے کافی خوش دیکھائی دے رہی تھی آج وہ۔۔‘‘ خود بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگیں
’’خوش کیوں ناں ہو۔۔آخر اس کی ماں بھی تو خوش ہے ۔۔‘‘ چہرے پر ہلکی سی تبسم تھی
’’ یہ تو آپ نے سچ کہا کہ میں بہت خوش ہوں۔ آخر وہ اکیسویں صدی کی لڑکی ہے۔اسے کچھ تو معلوم ہونا چاہئے آج کے طور طریقے۔۔‘‘
’’ٹھیک ۔۔۔ لیکن یہ آپ کا لاڈلہ بیٹا کہاں ہے؟‘‘انہوں نے ادھر ادھر دیکھ کر استفسار کیا
’’وہ تو ابھی تک سو رہا ہے۔۔۔‘‘ انہوں نے بے نیازی سے جواب دیا تھا
’’نواب ذادے ۔۔ ابھی تک سو رہے ہیں۔۔‘‘انہوں نے طنز کیا
’’ ارے ! اس میں طنز کرنے کی کیا بات ہے؟ آخر رات کو ایک بجے تو سویا تھا۔ اب نیند بھی تو پوری کرنی ہے۔‘‘ علی عظمت نے جواباً گردن ہلائی۔ کچھ دیر خاموشی دونوں کے درمیان رہی
’’ویسے ایک کام کریں گے آپ؟‘‘ اچانک انہیں کچھ یاد آیاتھا۔
ؔ ’’ حکم کریں بیگم۔۔‘‘ انہوں نے چائے کا کپ ہاتھ میں تھاما اور ان کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
’’آپ جلدی سے وجیہہ کے لئے کوئی رشتہ ڈھونڈ لیں۔ ‘‘ وہ ان کی بات پر شش و پنج کا شکار ہوگئے تھے
’’ رشتہ؟ ‘‘استفہامیہ انداز میں اُن کی طرف دیکھا
’’ جی رشتہ۔۔۔ابھی تو وہ جاب کر رہی ہے۔ لیکن اس کا کچھ پتا نہیں۔۔ آپ تو جانتے ہیں اس کی عادات کو ۔۔ اگر کوئی ایسی ویسی بات ہوگئی تو کہیں وہ جاب ہی نہ چھوڑ دے۔اس سے پہلے کہ وہ جاب چھوڑے ، اس کے رشتے کا بندو بست کریں۔۔‘‘
’’ کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو۔۔۔‘‘وہ چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے ایک سوچ میں ڈوب گئے
’’ تو پھر کب سے تلاش کر رہے ہیں؟‘‘ انہوں نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھ کر ان کی طرف دیکھا تھا
’’ کیا تلاش کرنا ہے؟‘‘ وہ اپنے خیالوں میں اس قدر محو تھے کہ کچھ پل کے لئے سب کچھ بھول گئے تھے
’’ارے۔۔ وجیہہ کے لئے رشتہ ‘‘ انہوں نے جھلاتے ہوئے کہا تھا
’’اوہ۔۔۔ لیکن بیگم صاحبہ یہ کام ہم مردوں کا نہیں بلکہ آپ عورتوں کا ہے۔۔‘‘
’’ آپ تو بس کام سے جی ہی چرانا۔۔۔‘‘انہوں نے جھلاتے ہوئے برتنوں کو سمیٹنا شروع کیا
’’اسے کام چوری نہیں سمجھداری کہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے ایک زور دار قہقہ لگایا
’’دیکھ لی آپ کی سمجھ داری۔۔۔اب تو مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا۔۔‘‘ وہ پاؤں پٹختی ہوئی کچن میں چلی گئیں
ٍ * * * *
کافی شاپ میں عنایہ بیٹھی ضرغام کا انتظار کر رہی تھی۔ اس کی نظر بار بار کافی شاپ کے دروازے کی جانب اٹھ رہی تھیں ۔وہاں ایک خاموشی تھی۔ جو بار باراس کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ٹائٹ جینز پر ٹائیٹ شرٹ میں کھلی زلفیں دوسرے مردوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔چہرے پر ہلکی سی تبسم بھی اس کے حسن میں اضافہ کر رہی تھی۔ وہ ٹیبل پر اپنے دائیں ہاتھ کی انگلی سے کچھ کھرچ رہی تھی۔ دائیں ہاتھ میں باریک سی واچ میں گیارہ بج رہے تھے۔اس نے گردن کو ہلکی سی جنبش دی۔
’’ میڈم ! کچھ چاہئے آپ کو۔۔‘‘ بلیو یونیفورم میں ایک ویٹر نے اس کے پاس آکر پوچھا تھاتو اس نے نفی میں سر ہلادیااور دوبارہ دروازے کی طرف دیکھنے لگی۔ وہ ابھی تک نہیں آیا تھا
’’ہیلو۔۔۔! عنایہ ڈارلنگ ۔۔‘‘ کسی نے اپنے ٹھنڈے رخسار کو اس کے رخسار سے مس کیا تھا۔ وہ بری طرح چونک گئی تھی
’’ تت تم ؟‘‘ اس نے ایک جھٹکے سے پیچھے دیکھا تھا، وہ ہنستا چہرہ لئے اس کے سامنے آبیٹھا۔ ہاف سلیو شرٹ میں وہ بہت وجیہہ لگ رہا تھا۔
’’ جسٹ شیٹ اپ۔۔۔ ٹائم دیکھا ہے تم نے؟ میں پچھلے ایک گھنٹے سے تمہارا انتظار کر رہی تھی۔‘‘ اس نے رسٹ واچ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مصنوعی غصے میں کہا تھا۔ وہ اس کی بات پر مسکرا کر رہ گیا۔ جیسے اسے کوئی فرق ہی نہیں پڑا۔ اس کی مسکراہٹ میں بھی ایک جادو تھا۔ جس نے عنایہ کو خاموش کروادیا ۔ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔جورومانوی انداز میں اس کی طرف دیکھ رہی تھیں۔اس نے پیار سے اس کے ہاتھوں کو تھاما اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اس کے ہاتھوں کو بوسہ دے ڈالا
’’مائے ڈارلنگ۔۔۔ اتنا غصہ صحت کے لئے اچھا نہیں ہوتا۔۔۔۔ چِل کرو۔۔‘‘وہ اپنا ہاتھ جھٹکے سے اپنی طرف کرنا چاہتی تھی مگر اس کی پرکشش آنکھوں نے اسے اپنا ارادہ ترک کرنے پر مجبور کردیا۔وہ یک ٹک اسے دیکھتا ہی جا رہا تھا۔لہراتی زلفیں۔ پنک کلر کی ٹائٹ شرٹ سے عیاں ہوتے اس کے جسم کے خدوخال ضرغام کو اپنی آنکھیں ہٹانے ہی نہیں دے رہے تھے
’’ اب اس طرح کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘ اس نے اپنے دوسرے ہاتھ سے آنکھوں کے سامنے آتی بالوں کی لٹوں کو کانوں کے پیچھے اڑیستے ہوئے استفسار کیا
’’تمہیں دیکھ رہا ہوں۔۔ڈارلنگ۔۔‘‘اس کے الفاظ میں انتہا کی مٹھاس تھی
’’ اب بس کرو۔۔۔‘‘ اس نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ پیچھے کیا۔ اور ادھر ادھر دیکھنے لگی
’’ واہ بھئی۔۔۔ تمہارے سامنے اتنا خوبصورت نوجوان بیٹھا ہے اور تم ادھر ادھر دیکھ رہی ہو۔ یہ اچھی بات نہیں ہے۔۔‘‘ اس نے اپنے ہاتھوں کو ٹیبل پر ایک انداز سے رکھے ہوئے تھے۔ چہرے پر مصنوعی غصہ عیاں تھا
’’میں ویٹر کو ڈھونڈ رہی ہوں۔۔ اب کچھ کھانے کا ارادہ نہیں ہے کیا؟ ‘‘ اس نے وضاحت پیش کی
’’ تو ایسا بولنا تھا ناں۔۔ ‘‘وہ اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلی پر ٹھوڑی جمائے بیٹھا اس کی لہراتی زلفوں کو دیکھتا رہا۔ وہ واقعی ایک حسین لڑکی تھی۔ چاند سا چمکتا چہرہ۔جھیل سی آنکھیں۔ شرابی ہونٹ۔مسکراتے ہوئے چہرے کے دونوں جانب پڑنے والے ڈمپل۔
’’اب کھاؤ بھی۔۔‘‘ وہ اس کو دیکھنے میں اتنا محو تھا کہ ویٹر کب ان کے سامنے بریڈ جیم اور جوس رکھ کر چلا گیا اسے بھنک تک نہیں ہوئی
’’اوہ۔۔ اچھا۔۔‘‘ وہ اس کو اپنے ہاتھ سے بریڈ کھلانے لگا۔ خود تو وہ گھر سے ناشتہ کر کے آیا تھا لیکن عنایہ کا دل رکھنے کے لئے اسے کچھ نہ کچھ کھانا ضرور پڑا
’’ ویسے تمہیں معلوم ہے۔ تمہاری ریکارڈنگ سب کو پسند آئی۔اور تمہارے لئے ایک نیوز بھی ہے میرے پاس۔۔‘‘ جوس کا ایک گھونٹ بھر کر اس نے کہا تھا
’’ نیوز۔۔ ؟ تم کیا نیوز چینل پر کام کرنے لگ گئی جو بریکنگ نیوز سنانے لگی ہو۔۔‘‘ اس نے ایک چٹکلہ چھوڑا
’’ ویری فنی۔۔۔‘‘ اس نے منہ بگاڑ کر کہا
’’ اچھا اب سناؤ بھی۔۔‘‘ جوس کا گلاس ٹیبل پر رکھا اور پھر اس کی طرف دیکھا
’’جس شو کے بارے میں تمہیں سیلکٹ کیا گیا تھا ، اس کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے۔‘‘
’’ کیا؟؟‘‘ اس کے چہرے پر ناگواری نے جنم لیا
’’اتنا حیران ہونے کی کوئی بات نہیں ہے، صرف نام ہی چینج ہوا ہے ہوسٹ چینج نہیں ہوا۔اس کو ہوسٹ تم ہی کرو گے۔۔‘‘ یہ سن کر اسے کچھ حوصلہ ملا
’’اچھا ۔۔۔‘‘ اس نے اپنے آپ کو سنبھالا
’’ویسے اس شو کا نیا نام پوچھو گے نہیں؟‘‘
’’ ہاں۔۔ بتاؤ۔۔‘‘ اس نے بے نیازی سے پوچھا تھا۔ دیکھنے سے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اسے کوئی دلچسپی ہی نہیں
’’لازوال۔۔‘‘ اس نے مسکرا کر بتایا
’’ وٹ۔۔ لازوال۔۔ ‘‘ اس کے خزاں رسیدہ چہرے پر بہار آگئی۔ وہ ہمیشہ سے اپنے شو کا یہی نام رکھنا چاہتا تھا لیکن پروڈیسرنے یہ نام رکھنے سے انکار کر دیا اور ’’ ہماری باتیں‘‘ سیلکٹ کیا۔اسے یہ نام بالکل پسند نہ آیا لیکن یہ فرسٹ چانس تھا ۔ اس لئے وہ زیادہ احتجاج نہیں کر سکتا تھا۔ بس اس نے عنایہ سے سفارش کرنے کو کہا۔ لیکن ایک ڈر تھا جو اس کے ذہن میں کھٹک رہا تھا۔ پروڈیوسر نے اس سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ اگر اس نے اپنی من مانی کی تو وہ اسے شو سے نکال دیں گے۔ اس لئے وہ مزید کچھ نہ کہہ سکا۔ عنایہ کے نام بدلنے کی بات سن کر اسے ایک جھٹکا لگا۔ اسے ایسا لگا جیسے انہوں نے نام کے ساتھ ساتھ کہیں ہوسٹ بھی تو تبدیل کرنے کا نہیں سوچ لیا۔ مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔
’’یہ نام انہوں نے تمہاری ریکارڈنگ سن کر کیا تھا۔ اور تم جانتے ہو وہ ریکارڈنگ آج ٹیلی کاسٹ ہورہی ہے۔‘‘
’’ واؤ۔۔۔ اس کا مطلب کہ آج تمہارا شو دیکھنا پڑے گا۔۔‘‘ اس نے پرجوش انداز میں کہا تھا۔ عنایہ پرائیویٹ نیوز چینل میں ایک ٹاک شو کی ہوسٹ تھی۔ وہ پچھلے تین سال سے وہ ٹاک شو رن کر رہی تھی۔پبلک میں بھی اس کے شو کو کافی سراہا جا رہا تھا ۔ اسے لئے وہ شو بنا کسی بریک کے چلتا رہا ، ضرغام کو بھی اس نے ہی انٹرڈیوس کروایا۔ اور اپنے ہی شو میں اس کے ساتھ ایک ریکارڈنگ کی مگر نیو ہونے کے باعث پروڈیوسر نے پہلے صرف خود دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ اور بعد میں آن ائیر ۔اتنے میں اس نے ایک دوسرے انٹر ٹینمنٹ چینل پر ضرغام کے لئے ایک میوزک شو کی بات کی۔ اپنی شہر ت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے کئی دوسرے پروڈیوسرز سے بھی سفارش کروا کے ضرغام کو اس شو کا ہوسٹ بنا دیا۔لیکن بعد میں پروڈیوسر اور ضرغام کا اکثر نام کے سلسلے میں جھگڑا رہتا۔اس شو کے پروڈیوسر شہزاد صاحب تھے۔انہیں ہمیشہ ہی ایک ڈر رہتا تھا کہ کہیں ضرغام نیا ہونے کے باعث ان کے شو کو فلاپ نہ کردے لیکن جب عنایہ نے انہیں اس کی ریکارڈنگ سنائی تو وہ کافی امپریس ہوئے اور جو ڈر ان کے دل میں کھٹک رہا تھا ، اسے نکال باہر پھینکا۔ اور ساتھ ساتھ نام بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا
’’ ویسے تمہارے لئے ایک اور نیوز ہے۔‘‘اس نے ایک اندا ز سے کہا تھا
’’ ایک اور نیوز۔۔۔ مائی گاڈ۔۔‘‘ اس نے پیشانی پر آتے بالوں کو بائیں ہاتھ سے پیچھے کیا تھا
’’لازوال اس سنڈے سے سٹارٹ ہو رہا ہے۔۔‘‘
’’ وٹ۔۔۔ اس سنڈے سے۔۔۔ یعنی صرف دو دن بعد؟‘‘وہ واقعی شاک ہوا تھا۔ شہزاد صاحب نے اسے ایک ماہ کے بعد کا کہا تھا لیکن اچانک یہ بات سن کر اسے شاک لگا۔ وہ خوشی میں صحیح طریقے سے ہنس بھی نہیں پا رہا تھا۔
’’ عنایہ۔۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں۔۔۔‘‘ وہ خوشی میں ادھر ادھر دیکھ کر لفظ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا
’’بس بس۔۔۔اپنے آپ کو کنٹرول کرو۔۔۔ ‘‘ وہ اس کی خوشی کو سمجھ سکتی تھی ۔اس نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھوں پر رکھا تو ایک احساس اس کے جسم میں سرایت کر گیا۔اور ٹکٹکی باندھے اس کے چہرے کو دیکھنے لگا۔
* * * *
چاند کی مدھم روشنی اس کے کمرے میں داخل ہورہی تھی۔ہلکی ہلکی ہوا سے کھڑکی کا پردہ جھوم رہا تھا۔کمرے میں تمام لائٹیں آف تھیں ۔ صرف چاند کی روشنی ہی وہاں ڈیرہ جمائے ہوئے تھی۔اس خاموشی میں دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور پھر قدموں کی آواز نے کمرے کی خاموشی کو ختم کردیا۔ اندھیرے میں اس کا چہرہ مبہم تھا۔ اس نے دو قدم ڈریسنگ کی طرف بڑھائے اور پھر ایک بٹن دبایا تو پورا کمرہ روشن ہوگیا۔اس کا چہرہ واضح ہوگیا۔ وہ انمول تھا۔وارڈ روب سے نائیٹ سوٹ نکالا اور پھر واش روم میں جا کر چینج کیا۔کمرے میں واپس آنے پر اس نے اپنے موبائل کو بجتا ہوا پایا۔موبائل بیڈ پر پڑا ہوا تھا۔اس نے دو قدم بڑھا کر موبائل اٹھایا۔
’’عندلیب۔۔۔کا اس وقت فون؟‘‘ وہ کافی حیران تھا۔ ابھی بھی وہ اس کے پاس سے ہی آیا تھا
’’ ہاں عندلیب۔۔۔ اس وقت فون کیا خیریت تو ہے۔۔‘‘ایک پل کے لئے خاموشی کمرے میں راج کرتی رہی۔وہ چلتا ہوا کھڑکی کی طرف بڑھا۔ سفید پردہ اس کے چہرے کو چھونے لگا۔ہواؤں نے بھی اس کے چہرے کو بوسہ دیا
’’لیکن۔۔ اتنی جلدی تمہیں کیا ہوگیا۔۔ کل صبح سکون سے بات کریں گے۔۔‘‘ماتھے پر ایک دو شکن ابھر آئے تھے
’’دیکھو۔۔ ابھی وقت نہیں ہے یہ بات کرنے کا۔۔ جب وقت آئے گا میں خود ان کو سب کچھ سچ سچ بتا دوں گا۔۔تم بات سمجھنے کی کوشش کرو۔۔‘‘ وہ یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اس کے چہرے کے ابھار بتا رہے تھے کہ فون کرنے والے کو اس کی باتوں کا یقین نہیں ہے۔
’’تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں ہے؟ اپنے انمول پر۔۔‘‘اس کے چہرے پر ایک طمانیت تھی۔وہ یک ٹک لان میں کھلتے گلابوں کو دیکھ رہا تھا ۔ جو رات کے اندھیرے میں بھی اپنی رعنائیاں بکھیر رہے تھے۔
’’میری بات سنو۔۔۔سنو تو۔۔۔‘‘وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر وہ سننے کو تیار نہیں تھی
’’میری فرسٹ اینڈ لاسٹ چوائس صرف اور صرف تم ہو۔۔ اور تمہارے علاوہ میری زندگی میں نہ تو پہلے کوئی تھا اور نہ ہی بعد میں کوئی آئے گا۔ تمہاری جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ کوئی تمہیں مجھ سے علیحدہ نہیں کر سکتا۔کوئی کا مطلب ہے کوئی نہیں۔۔ حالات بھی نہیں۔۔‘‘اس کے چہرے پر ہلکی سی تبسم ابھری تھی۔ ایسا معلوم ہوا تھا جیسے سامنے والے کو یقین آگیا ہو۔پھول بھی ہوا کے جھونکے سے لہرانے لگے۔جیسے انہیں بھی اس کے دل کی بات سن گئی ہو اور جھوم کر اس کی خوشی میں شریک ہو رہے ہوں
’’بہت جلد۔۔۔ او کے۔۔ اچھا اب فون بند کرتا کل بات کریں گے۔آئی لو یو ٹو مائے سویٹ ہارٹ۔۔۔‘‘اس نے موبائل کو کِس کیا تو ایک مسکراہٹ تھی جو اسکے چہرے سے چھلک رہی تھی۔وہ کمر ے میں اکیلا ہوتے ہوئے بھی اکیلا نہیں تھا، کوئی ہمزاد کی طرح اس کے دل کے پاس تھا۔ وہ محسوس کر سکتا تھا۔اس نے اپنا چہرہ چاند کی طرف کیا تو اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر چاند بھی شرما گیا اور بادلوں کے پیچھے جا چھپا۔ اس نے ہلکی سی گردن کو جنبش دی اور بیڈ پر آکر لیٹ گیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Shoaib

Read More Articles by Muhammad Shoaib: 64 Articles with 65087 views »
I'm a student of Software Engineering but i also like to write something new. You can give me your precious feedback at my fb page www.facebook.com/Mu.. View More
26 May, 2017 Views: 699

Comments

آپ کی رائے
poora novel complete honay kay baad parhoongi .... as usual doosray novels ki terha apkay yai bhi behtareen hi hoga ..... Allah aap ko kamiyabi ata fermai ameen
By: farah ejaz, Karachi on Jun, 14 2017
Reply Reply
0 Like
جزاک اللہ خیرا
By: Muhammad Shoaib, Faisalabad on Jun, 14 2017
0 Like
Very nice topic,,,,
By: Mini, mandi bhauddin on Jun, 14 2017
Reply Reply
1 Like
Thank you so much for like the theme of this novel
By: Muhammad Shoaib, Faisalabad on Jun, 14 2017
0 Like
Nice,
bhai ap dusra noval mukamil kren plz requst
Is pyar ko kia name dun
By: pasha, lahore on Jun, 05 2017
Reply Reply
1 Like
شکریہ
وہ بھی انشاء اللہ عنقریب کروں گا
By: Muhammad Shoaib, Faisalabad on Jun, 13 2017
0 Like