اے خدا ! تو نے عطا پھر کر دیار مضان ہے

(Tariq Noman, )

مسلمانوں کواﷲ پاک نے ایک ایسامہینہ عطافرمایاجس میں عبادت کالطف وسروراور رب کی رحمت کی برسات بیمثال ہوتی ہے لاتعدادرب ذوالجلال کے احسانات وانعامات ہیں لیکن ایک مہینہ ایساہے جس میں انعامات کی بارش کی کوئی انتہانہیں ہوتی وہ مبارک مہینہ رمضان المبارک کاہے اس مبارک مہینہ میں مسلمان اپنے رب کوراضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور رب بھی اس مبارک ماہ کی وجہ سے اپنے گناہگاربندوں پہ رحمت کی چادر تان لیتاہے ویسے تو تمام زمانے ، سال ، مہینے ، دن رات اچھی ساعتیں اور صدیاں سب اﷲ تعالی کی ہیں ۔ تاہم رمضان المبارک کو اﷲ تعالی نے خاص اعزاز اور فضیلت سے نوازا ہے ۔
دل میں پھر سے خوشیوں کاپیغام آرہاہے
مبارک ہومومنو!پھرسے رمضان آرہاہے

رمضان میں ایک خاص روحانی اور جسمانی سر شاری اور کیفیت ہوتی ہے اس مبارک ماہ کو قرآن مجید کے نزول اور روزے کا مہینہ قرار دے کر باقی مہینوں سے اعلی اور ممتاز مقام عطا کر دیا ہے ۔ نبی پاکﷺ نے شعبان کے آخری جمعہ کے موقع پر خطبہ دیا وہ استقبال رمضان کے حوالے سے تھا ۔ رحمتِ دو عالم ﷺ نے فرمایا اے لوگوں تم پر ایک ایسا مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے

اولہ رحمۃ ،واوسطہ مغفرۃ ،واٰخرہ عتق من النار جس کا اول حصہ رحمت اور درمیانہ مغفرت اور آخری حصہ جہنم سے آزادی کا ہے ۔ اور فرمایاکہ اِس مہینہ میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اﷲ نے اِ س مہینہ میں روزہ فرض کر دیا ہے جو شخص اِس مہینہ میں کوئی نیکی کر ے تو وہ دوسرے مہینہ میں فرض ادا کرنے کی مثل ہے اور جو شخص اِس مہینہ میں فرض ادا کرے تو وہ ایسا ہے جیسے دوسرے مہینہ میں ستر فرض ادا کیے یہ صبر کا مہینہ ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں مومن کے رزق میں زیادتی کی جاتی ہے
اس ماہ مبارک کی فضیلت وشان آمنہ کے لال عبداﷲ کے دریتیم محبوب کبریاﷺ نے امت مسلمہ کوبتادی

جبرائیل ؑ کی تین دعائیں
ایک مرتبہ نبی پاک ﷺ مسجدتشریف لائے اور خطبہ دینے کے لیے منبرمبارک کی سیڑھیوں پہ چڑھنے لگے ۔پہلی سیڑھی پر قدم مبارک رکھا تو باآواز فرمایا آمین پھر جب دوسری سیڑھی پر قدم مبارک رکھا تو فرمایا آمین پھر جب منبرِ رسول ﷺ کی تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو پھر فرمایا آمین ۔ صحابہ کرام ؓ آپ ﷺ کے باآواز آمین کہنے پر تھوڑے حیران تھے کہ آج رحمت عالم ﷺعام حالت سے ہٹ کر باآواز آمین کیوں کہہ رہے ہیں تورحمت دوجہاں ﷺ نے فرمایا جب میں نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو میرے پاس فرشتوں کے سردار جبرائیل امین ؑ آئے اورتین دعائیں کیں جس کے جواب میں میں نے آمین کہا

جبرائیل امین نے کہا:اے سیدنا محمد ﷺ جس نے رمضان کو پایا اور اس کی بخشش نہیں کی گئی اﷲ اس کو اپنی رحمت سے دور کر دے میں نے کہا آمین

پھر جبرائیل نے کہا جس نے اپنے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کو پایا اِس کے با وجود وہ دوزخ میں داخل ہو گیا یعنی ماں باپ کی خدمت کر کے جنت حاصل نہ کی اﷲ اس کو اپنی رحمت سے دور کر دے۔ میں نے کہا آمین ۔

پھر جبرائیل بولے جس کے سامنے محبوب خدا ( ﷺ )کا ذکر کیا جائے اور وہ آپ (ﷺ ) پر درود شریف نہ پڑھے اﷲ اس کو اپنی رحمت سے دور کر دے تو میں نے کہا آمین ۔

جنت کے دروازے اور روزہ دار
حضرت سہل بن سعدؓ راوی ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایاجنت میں آٹھ دروازے ہیں ان میں ایک دروازے کانام ریان ہے اس دروازے سے وہی جائیں گے جوروزہ رکھتے ہیں (بخاری ،مسلم ،ترمذی)

تین آدمیوں کی دعارد نہیں ہوتی
نبی پاک ﷺ نے فرمایاکہ تین آدمیوں کی دعاردنہیں کی جاتی (1)عادل حکمران(2)روزہ دارحتیٰ کہ روزہ افطار کرلے(3)مظلوم(ترمذی،حدیث حسن)

فرشتوں کے سردارجبرائیل ؑ کامصافحہ
نبی پاک ﷺنے فرمایا کہ جس شخص نے رمضان کے مہینہ میں اپنی حلال کمائی سے کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرایا تو رمضان کی تمام راتوں میں فرشتے اس کے لیے استغفار کر تے ہیں اور لیلۃالقدر میں فرشتوں کے سردار جبرائیل امین اس سے مصافحہ کر تے ہیں اورجس سے جبرائیل مصافحہ کر تے ہیں اس کے دل میں رقت پیدا ہو تی ہے اوراس کے آنسو نکلتے ہیں حضرت سلیمانؓ نے عرض کی یا رسول اﷲ ﷺ یہ فرمائیے کہ کسی شخص کے پاس افطار کرا نے کے لیے کچھ نہ ہو تو رحمت ِ دو جہاں ﷺ نے فرمایا ایسا شخص ایک مٹھی کھانا دے دے میں نے کہا یہ فرما ئیے اگر اس کے پاس روٹی کا ایک لقمہ بھی نہ ہو تو شافع محشر ﷺ نے فرمایا وہ ایک گھونٹ دودھ دے دے میں عرض کیا اگر اس کے پاس وہ بھی نہ ہو تو فرمایا وہ ایک گھونٹ پانی دے دے ۔

روزہ دار کی افطاری بخشش کی سواری
رمضان المبارک کے مہینہ میں جو کسی روزہ دار کو افطار کرائے اس کے لیے گناہوں کی مغفرت ہے اور اس کی گردن کے لیے دوزخ سے آزادی ہے اور اس کو بھی روزہ دار کے مثل اجر ملے گا اور روزہ دار کے اجر میں کو ئی کمی نہیں ہو گی صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اﷲ! ﷺ ہم میں سے ہر شخص کی یہ استطاعت نہیں ہے کہ وہ روزہ دار کو افطار کر اسکے تو رحمتِ دو عالم ﷺ نے فرمایا اﷲ تعالی یہ ثواب اس شخص کو بھی عطا فرما ئے گا جو روزہ دار کو ایک کجھور یا ایک گھونٹ پانی یا ایک گھونٹ دودھ سے روزہ افطار کرائے یہ وہ مہینہ ہے جس کا اول رحمت ہے جس کا درمیان مغفرت ہے اور جس کا آخر جہنم سے آزادی ہے ۔ جس شخص نے اِس مہینہ میں اپنے خادم سے کام لینے میں کمی کی اﷲ اس کی مغفرت کر دے گا اور اس کو دوزخ سے آزاد کر دے گا

چار کام اور انعام میں کوثر کاجام
نبی پاک ﷺ نے فرمایاکہ اِس مہینہ میں چار خصلتوں کو جمع کر و دو خصلتوں سے تم اپنے رب کو راضی کرو اور دو خصلتوں کے بغیر تمھارے لیے کوئی چارہ کار نہیں ہے ۔ جن دو خصلتوں سے تم اپنے رب کو راضی کرو گے وہ کلمہ شہادت پڑھنا اور اﷲ تعالی سے استغفار کر نا ہے اور جن دو خصلتوں کے بغیر کو ئی چارہ نہیں ہے وہ یہ ہیں کہ تم اﷲ سے جنت کا سوال کرو اور اس کی دوزخ سے پناہ طلب کرو اور جو شخص روز دار کو پانی پلائے گا اﷲ تعالی اس کو میرے حوض سے پانی پلائے گا اسے پھر کبھی پیا س نہیں لگے گی حتی کہ وہ جنت چلا جائے گا ۔

اﷲ کی رحمت سے محرومی ہی بدبختی ہے
حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں کہ جب رمضان آیا تو سرور کائنات ﷺ نے فرمایا ۔ تمھارے پاس رمضان آگیا ہے یہ برکت کا مہینہ ہے اﷲ تعالی تم کو اِس میں ڈھانپ لیتا ہے اِس میں رحمت نازل ہو تی ہے اور گناہ جھڑ جاتے ہیں اور اِس میں دعا قبول ہو تی ہے اﷲ تعالی اِس مہینہ میں تمھار ی ر غبت کو دیکھتا ہے سو تم اﷲ کو اس مہینہ میں نیک کام کرتے دکھا ؤ کیونکہ وہ شخص بد بخت ہے جو اس مہینہ میں اﷲ کی رحمت سے محروم رہا ۔

آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا
حضرت عبدالرحمان بن عوف بیان کر تے ہیں کہ نبی پاک ﷺ نے رمضان المبارک کا ذکر فرمایااور تمام مہینوں پر اِس کی فضیلت بیان کی پس فرمایا جس نے رمضان کی حالت میں ثواب کی نیت قیام کیا نفلی نمازیں ادا کیں وہ گناہوں سے اِس طرح پاک ہو جائے گا جس طرح آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ۔

مسلمانو!اﷲ پاک ایک اور موقع زندگی میں عطا فرمارہے ہیں خوشنصیب ہیں وہ لوگ جواس مبارک ماہ سے ملاقات کر رہے ہیں نبی پاک ﷺ اس ماہ تک پہنچنے کی دعافرماکرتے تھے ۔مبارک گھڑیاں مبارک لمحات ہیں ان میں اپنے رب کوراضی کرنے کی بھرپوھ کوشش کریں کتنے ہی لوگ تھے جنہوں نے گزشتہ سال رمضان کے روزے تراویح افطار وسحر آپ کے ساتھ کیے لیکن آج وہ نظر نہیں آتے منوں مٹی کے تلے چلے گئے ،اب بھی وقت ہے خداکوراضی کرنے کا۔اﷲ پاک ہمیں رمضان المبار ک میں عبادت وریاضت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور بناحساب کتاب کے جنت میں پہنچائے (آمین یارب العالمین بحرمۃ سیدالانبیاء والمرسلین )
مرحباصدمرحباپھرآمدِرمضان ہے
کِھل اٹھے مرجھائے دل تازہ ہواایمان ہے
ہم گنہگاروں پہ یہ کتنابڑااحسان ہے
اے خداتونے عطاپھرکردیارمضان ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tariq Noman

Read More Articles by Tariq Noman: 69 Articles with 47678 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 May, 2017 Views: 469

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ