’حجرے‘ میں یونیورسٹی

(Tanvir Sadiq, Lahore)

کوزے میں دریا بند کرنا تو سنتے آئے تھے اور آج بھی دنیا میں بہت سے ایسے باکمال لوگ پائے جاتے ہیں جو گفتگو کی حد تک تو بہت سے معاملات میں کوزے میں دریاکو بند کر دیتے ہیں مگر موجودہ حکومت اس سے بھی بڑھ کرکمال کرنے جا رہی ہے کہ حجر ے میں یونیورسٹی اور وہ بھی پنجاب یونیورسٹی کو بند کرنے جا رہی ہے۔ یہ بات کوئی دو چارصدیوں پہلے کہتا تو بات سمجھ آتی تھی اس لئے کہ ان دنوں ساری یونیورسٹیاں ہی حجروں میں تھیں۔کیونکہ ان حجروں کے مکین اپنی ذات میں ایک مکمل یونیورسٹی ہوتے تھے ۔ حضرت داتا گنج بخش، حضرت نظام الدین اولیا، حضرت بابا فرید گنج شکر اور ان جیسے ہزاروں درویش جن کا مسکن فقط اک حجرہ ہوتا تھارشد و ہدایت کا منبع تھے۔ اس وقت کے علوم ، قرآن، تفسیر، حدیث، منطق، فقہ، تاریخ، طب وغیرہ سب ایک ہی شخص کو آتے تھے اوراس ایک شخص کو ان علوم پر پورا عبور ہوتا تھا۔بہت دور دور سے لوگ علم حاصل کرنے ان کے پاس آتے تھے اور بہت کچھ حاصل کرکے جاتے تھے۔اب وقت بدل گیا ہے۔ تعلیم اور طالب علم دونوں وسعت اختیار کر گئے ہیں۔ نہ وہ حجرے رہے نہ ہی ویسے باصلاحیت لوگ ۔ نہ ہی وہ طالب علم اور نہ ہی علم کے حصول کی وہ تڑپ اور لگن ۔ اب ہم پی ایچ ڈی پروڈیوس کر رہے ہیں۔جن میں چند ایک کے علاوہ سارے ایسے ہیں جنہیں مخصوص موضوع سے ہٹ کر اپنے ہی مضمون کے بارے کچھ پوچھ لیا جائے تو انہیں کچھ نہیں آتا اور وہ شرمندہ بھی نہیں ہوتے۔
پندرہویں صدی حجرہ یونیورسٹیوں کا دور تھاان دنوں ایران کے صوبے گیلان کے ایک بزرگ محمود الدین گیلانی اپنے خاندان کے ہمراہ ہندستان منتقل ہوئے۔ان کا انتقال بدایوں میں ہوا۔ ان کے بیٹے حضرت بہاؤالدین گیلانی جو بہاول شیر قلندر کے نام سے مشہور ہوئے، دیپال پور ضلع اوکاڑہ کے قریب ایک گاؤں پتھر وال ،جو دیپال پور سے تقریباً 20 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، تشریف لائے اور وہاں اس گاؤں کے باہر ایک حجرہ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی ۔ وہ اس حجرہ یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر تھے۔ روائت ہے کہ حضرت بہاول شیر قلندر نے بہت لمبی عمر پائی اور 1565 ؁ میں 240 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ا ن کے بعد ان کے بیٹوں سید نور محمد، سید جلال الدین (معصوم پاک)، محمد شاہ اور سید خلیل محمد نے ان کے کام کو مزید وسعت دی اور پھر ان کے پوتے حضرت سید مقیم الدین شاہ مقیم اس یونیورسٹی سے لوگوں کو فیض یاب کرتے رہے۔ آج وہ گاؤں ایک بڑا قصبہ ہے اور سید شاہ مقیم سے منسوب ہو کر حجرہ شاہ مقیم کہلاتا ہے۔حجرہ یونیورسٹی کا وجود اب پوری طرح ختم ہو چکا۔ یہ تمام حضرات اور خاندان کے دیگر لوگ یہیں مدفون ہیں اور ان بزرگوں کا روحانی فیض جاری و ساری ہے۔

پنجاب کی تین مشہور عشقیہ لوک داستانیں ہیں جن سب کا انجام المیہ ہے۔ہیر رانجھا، سوہنی مہینوال اور مرزا صاحباں۔ یہ منظوم داستانیں پنجاب کے ہر گاؤں میں لوگ بڑے ذوق شوق سے پڑھتے اور سنتے ہیں۔کہتے ہیں کہ وارث شاہ کی ہیر رانجھا قرآن حکیم کے بعدپنجاب میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔سکھوں کے پانچویں گروارجن دیوکے ساتھی پیلو کی مرزا صاحباں میں حجرہ شاہ مقیم کا ذکر آیا ہے۔ گو صاحبہ کا وہاں جانا کسی طرح ثابت نہیں ہوتا۔ پیلو کہتا ہے
حجرے شاہ مقیم دے اک جٹی عرض کرے
میں بکرا د یواں پیر دا جے سر دا سائیں مرے
پنج ست مرن گوانڈناں،رہندیاں نوں تاپ چڑھے
ہٹی سڑے کرار دی ، جتھے دیوا نت بلے
کتی مرے فقیر دی جیڑی چوں چوں نت کرے
سنجیاں ہو جان گلیاں ، وچ مرزا یار پھرے

شنید ہے کہ حکومت نے حجرہ شاہ مقیم میں پنجاب یونیورسٹی کا کیمپس کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بہت عجیب اور جلد بازی کا فیصلہ ہے۔ آج سے دس بارہ سال پہلے تک صورت حال بڑی عجیب تھی۔ دیپال پور کالج میں جو قریبی بڑا قصبہ ہے، کبھی اساتذہ پورے نہیں ہوتے تھے۔پرنسپل کے طور پر کوئی جانا پسند نہیں کرتا تھا۔ جو لیکچرار وہاں کام کر رہے ہوتے ان میں سے کسی کو قائم مقام پرنسپل مقرر کر دیا جاتا ۔ دس ٹیچر اگر کام کر رہے ہوتے تو انہوں نے دن بانٹے ہوتے تھے۔ ہر استاد فقط دو دن کے لئے کالج جاتا ۔ ہر مضمون کے لمبے لمبے پیریڈ لیتے اور ایک ہفتے کا تمام کام دو دن میں کرا دیا جاتا۔قائم مقام پرنسپلی بھی آپس میں بانٹ لی جاتی۔یوں باہمی تعاون سے کالج چلتا۔بہت دفعہ شکایت بھی ہوئی مگر مسئلہ کبھی حل نہ ہو سکا۔ چند مقامی لوگ جو وہاں تعینات تھے ان کی بھی کوشش یہی تھی کہ کسی طرح ان کی تبدیلی لاہور جیسے بڑے شہر میں ہو جائے۔ چھوٹے علاقے کے چھوٹے کالجوں میں کوئی رہنا پسند نہیں کرتا۔

اپنے آبائی علاقے کو ترقی دینا ہر شخص کا خواب ہوتا ہے اور ہر منتخب نمائندہ اس کی سعی بھی کرتا ہے مگر اس کے لئے زمینی حقائق سے واقفیت بہت ضروری ہوتی ہے۔ ایک ایسا قصبہ جس کی آبادی ایک لاکھ نفوس سے بھی کم ہو،وہاں ایک یونیورسٹی کی تعمیر قدرے مشکل کام ہے۔طلبا تو شاید مل ہی جائیں مگر پڑھانے والے کہاں سے آئیں گے۔بہتر ہے کہ فوری طور پر وہاں ایک ماڈل کالج بنایا جائے جس کو بتدریج یونیورسٹی میں تبدیل کیا جائے۔۔ اس کالج میں اقامتی سہولتیں بہت زیادہ فراہم کی جائیں۔ کیونکہ یہاں 90 فیصد طلبا لوکل نہیں بلکہ دور دراز کے علاقوں سے ہوں گے۔وہاں کام کرنے کے لئے جو اساتذہ آئیں گے انہیں بھی اقامتی سہولتیں اور کچھ مزید مراعات دی جائیں گی تو کام چل سکے گا۔ طلباکے لئے بہت زیادہ وظائف بھی درکار ہونگے۔ GIK)) غلام اسحاق انسٹیٹیوٹ اور اس طرح کے دوسرے اداروں کو رول ماڈل جان کر اس یونیورسٹی کے لئے کام کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ بات یقینی ہے کہ یہ ایک اقامتی یونیورسٹی ہو گی۔اقامتی سہولتیں اگر پوری طرح فراہم نہ کی گئیں تو اس مجوزہ یونیورسٹی کو نہ ہی طلبا اور نہ ہی اساتذمیسر آ سکیں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 440 Articles with 227080 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
31 May, 2017 Views: 741

Comments

آپ کی رائے