حقیقت یا وہم

(Rafi Abbasi, Karachi)
’’بھوت‘‘،رہنے کے لیے انہیں بھی ٹھکانہ چاہیے
کراچی کےایک علاقے کے دس مکانات ان کے اثرات کا شکار ہیں
اٹلی میں لوبیری اور امریکا میں ’’نیو انگلینڈ‘‘ نامی قصبہ میں بھی یہ رہتے ہیں

بھوت گھر

دنیاسائنس اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی وساطت سے ترقی کے اس دور میں داخل ہوگئی ہے ، جہاں انسان، موبائل فون اورانٹرنیٹ کے ذریعےہزاروں میل کے فاصلے پر بیٹھے ہوئے افراد سے نہ صرف باتیں کرسکتا ہے بلکہ ویڈیوفون کے ذریعے براہ راست انہیں دیکھ بھی سکتا ہے۔اس کی رسائی کرہ ارض سے نکل کرخلاء میں موجود دوسرے سیاروں تک ہوچکی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ توہمات کا شکار ہے۔ان میں کچھ حقیقی اور ڈراؤنے واقعات کا سراغ بھی ملتا ہے ، مشرق ہو یا مغرب بھوت پریت کے تصور سے دنیا کے نڈر سے نڈر انسان بھی کانپتے ہیں ۔ ہر شہراورقصبے میں آباد علاقوں کے ساتھ ایسے ویران مقامات بھی ہوتے ہیں جن کے ساتھ کوئی نہ کوئی داستان وابستہ ہوتی ہے جس کی وجہ سےڈراؤنے پن میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ ہم یہاں بعض ایسے مقامات کا تذکرہ کررہے ہیں ، جونہ صرف ڈراؤنی کہانیوں کی وجہ سے مشہورہیںبلکہ دیو مالائی داستانوں کی وجہ سے سیاحوں کے لیے بھی پرکشش بن گئے ہیں۔

کراچی کے شمال میں شاہ نواز بھٹو کالونی ہے ۔ اس کی مرکزی سڑک پر بابا موڑ سے 4-Jچوک تک دس مکانات ایسے ہیں جنہیں ’’بھوت بنگلے ‘‘کا نام دیا گیا ہے۔ کچھ عرصے قبل تک ان میں لوگوں کی رہائش تھی لیکن آج کل بیشتر ویران ہیں۔ان مکانات کے مالکان نے مذکورہ گھرتعمیرکراکے کرائے داروں کو دیئے لیکن اب دوسرے گھروں کی بہ نسبت سستے کرائے کے باوجودیہاں کوئی رہنے کو تیار نہیں اور جو رہائش اختیار کرلیتے ہیں انہیں کچھ عرصے بعد گھرکو چھوڑنا پڑتا ہے۔ بابا موڑ کا نام بھی ایک روحانی عامل سے موسوم ہے،جن کا دس سال قبل ایک ٹریفک حادثے میں انتقال ہوگیا تھا۔ ان کا آستانہ یا دربار حب ڈیم کی طرف جانے والی شاہ راہ پرہے، یہ ایک ایکڑ رقبے کے پلاٹ پر کیکر کی جھاڑیوں کے درمیان چند کچے کمروں میں بنا ہوا تھا جہاں ان کے مریدین قیام کرتے تھے۔روڈ کی دوسری جانب سرجانی ٹاؤن کا علاقہ تھا جہاں حد نگاہ تک کیکر کا جنگل دکھائی دیتا تھا اور لوگوں کو رات کے اوقات میں یہاں گھنگھروؤں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں لیکن کوئی نظر نہیں آتا تھاجب کہ اجمیر نگری کی سڑک پر دو فرلانگ تک انتہائی ڈراؤنا ماحول طاری رہتا تھا۔ شاہ بابا کے انتقال کے بعد مشہور ہوگیا کہ بابا موڑ پر ان کی روح گھومتی ہے۔اب توجنگل صاف کر کے فلیٹس اور مکانات بن گئے ہیں جب کہ شاہ بابا کے آستانے کو ختم کرکے وہاں ہوٹل، مکانات اور دکانیں بنا دی گئی ہیں۔

چند سال قبل 4-J کی طرف جانے والی سڑک کے مکانات میں پراسرار واقعات کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایک محل نما گھر جو عرصے سے کرائےکے لیے خالی پڑا تھا، اسے دیکھنے کے لیے لوگ آتے تھے لیکن اسے دیکھ کر واپس چلے جاتے تھے۔ بالآخر ایک خاندان نے کم کرائے اور خوب صورت مکانیت دیکھتے ہوئے اسے کرائے پر لے لیا لیکن پہلی ہی رات گھر میں سے عجیب و غریب آوازیں آنے لگیں۔ گھر میں مقیم ایک لڑکی ہمت کرکے جب اس کمرے میں پہنچی جہاں سے آوازیں آرہی تھیں تو اسے کسی ان دیکھی قوت نے اچھال کر دور پھینک دیا اور اس کا گلا دبانے لگی، لڑکی کی چیخ و پکارسن کر گھر کے تمام لوگ بیدار ہوگئےاور لڑکی کو اٹھایا، لیکن اس وقت ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب 14سال کی نو عمر بچی دو قوی ہیکل مردوں سے بھی نہیں اٹھ رہی تھی بڑی مشکل سے اسے اٹھا کر دوسرے کمرے میں لایا گیا، اور لڑکی کو ہوش میں لانے کی کوشش کی گئی جس کا چہرہ انتہائی ڈراؤنا لگ رہا تھا، اس کی آواز بدل چکی تھی ، بال بکھرے ہوئے تھے اور گلے پر خراشیں پڑی ہوئی تھیں۔ رات بھر گھر کے مکینوں نےجاگ کر گزاری، صبح سویرے بچی کوایک عامل کے پاس لے کر گئے، جنہوں نے بتایا کہ اس گھر پر ایک چڑیل کا قبضہ ہے اور اسے وہاں کسی کا رہنا گوارہ نہیں ہے، آپ فوری طور سے وہ مکان چھوڑ دیں۔ میںنے وقتی طور پر لڑکی کو اس سے چھٹکارا دلا دیا ہے لیکن آپ رہے تو دوبارہ حملہ ہوجائے گا۔ ۔ دوسرے روز ہی انہوں نے مکان خالی کردیا، اس کے بعد وہاں دو تین اور کرایہ داروں نے رہنے کی ہمت کی لیکن انہیں بھی اسی قسم کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ اس گھر کی شہرت ’’چڑیل والی کوٹھی‘‘ کے نام سے سارے علاقے میں پھیل گئی، کئی سال تک وہ مکان خالی پڑا رہا، مجبور ہوکر مالک مکان نے خود ہی رہنا شروع کیا لیکن اسے بھی آئےدن عجیب و غریب واقعات کا سامنا رہتا ہے۔ اسی گھر سے ذرا آگے مین روڈ پر ایک اورخوب صورت گھر بنا ہوا ہے۔ لوگ اس میں رہائش کی تمنا کرتے ہیں، لیکن جب وہ گھر کے اندر داخل ہوتے ہیں توعجیب سی وحشت محسوس ہوتی ہے۔ چند سال قبل یہ گھر بھی آباد تھا اور اس کے اوپر نیچے کے پورشن میں ایک ہی خاندان رہتا تھا۔ اسے وہاں رہتے ہوئے دو سال ہوئے تھے کہ عجیب و غریب واقعات پیش آنے لگے۔ ایک دن نیچے والے پورشن کی فیملی کا سربراہ رات کو گھرواپس آکر جوتے اتار رہا تھا تو اس نے دیکھا کے برآمدے کی کھڑکی میں کوئی شخص کھڑا ہے، اس نے اپنی اہلیہ سے پوچھا کہ یہ کون کھڑا ہے اس نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا، وہ فوری طور سے برآمدے میں آیا،لیکن اسی وقت سیڑھیوں پر کسی کے بھاگنے کی آوازیں آئیں، اس نے اوپر کے پورشن کا دروازہ دیکھا وہ اندر سے مقفل کیا گیا تھا۔ چند روز بعد اس کی اہلیہ اپنے بچوں کے ساتھ ٹی وی دیکھ رہی تھی کہ اسے دوسرے کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا ،اس نے لائٹ جلا کر جب کمرے پر نظر ڈالی تو وہاں صوفے پرعروسی لباس میں ملبوس دوشیزہ اور مرد بیٹھاہوا تھا، وہ اپنے بیٹے کو لے کرجب کمرے میں گئی تو وہ جوڑا غائب تھا، سارے گھر میں انہیں تلاش کیا گیا، اوپر کے پورشن میں رہنے والوں سے معلوم کیا گیا لیکن کچھ پتا نہ چلا۔ اسی دوران اوپر کے گھر میں بھی اسی طرح کے واقعات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور وہاںرہنے والی ایک بوڑھی خاتون کو ایک ہیبت ناک شخص سیڑھیاں چڑھ کر چھت پر جاتا ہوا نظر آتا تھا۔ ایک دن گرمی کی شدت کی وجہ سے وہ سیڑھیوں کے ساتھ پلنگ بچھا کر لیٹی ہوئی تھی کہ اچانک اسے کسی نے پلنگ سے اٹھاکردور پھینک دیا، اس کا سر زینے کی ریلنگ سے ٹکراکر پھٹ گیا۔ کچھ عرصے بعدنیچے کے پورشن میں رہنےوالی فیملی کی بچی عجیب و غریب کیفیات کا شکار ہوگئی، اسے متعدد روحانی عاملوں کو دکھایا گیا جنہوں نے بتایا کہ اس گھر میں بدارواح کابسیرا ہوگیا ہے،جس کے بعد مذکورہ فیملی نے وہ گھر خالی کردیا۔ اس کے بعد اس میں کئی لوگوں نے رہائش اختیار کی لیکن انہیں بھی مختلف النوع واقعات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد یہ گھر تا حال خالی ہے اور لوگ اس کے قریب سے گزرتے ہوئے بھی خائف رہتے ہیں۔اسی طرح کے واقعات اس سڑک پر واقع دوسرے مکانات میں مقیم لوگوں کے ساتھ بھی پیش آچکے ہیں جس کی وجہ سے ان گھروں میں بھی بہ مشکل چند ماہ کرائے دار رہ پاتے ہیں۔ علاقے کے مکینوں نے ہمیں بتایا کہ، یہاں پر اس قسم کے واقعات کا سلسلہ شاہ بابا کی مو ت کے بعد اس وقت سے شروع ہوا جب ان کے آستانے کو ختم کرنے کے بعد کمروں کو توڑا گیا، ان میں سے ایک کمرے میں بابا نے بدروحوںاور ماورائی قوتوں کو قید کیاہوا تھا جوآستانہ ٹوٹنے کے بعد آزاد ہوکر آس پاس کے مکانوں میں مقیم ہوگئیں اور اس پٹی کے تقریباً دس مکانات ان کا مسکن بن چکے ہیں، جو ان میں رہنے والوں کو مختلف طریقے سے پریشان کرکے مکانات خالی کرالیتے ہیں لیکن اب تک انہوں نے کوئی جانی نقصان نہیں پہنچایا ہے۔ کراچی کے ایک جدید علاقے میں واقع کئی ایکڑ رقبے پر واقع محل نما عمارت کے بارے میں بھی عجیب و غریب کہانیاں مشہور رہی ہیں۔ یہ عمارت گزشتہ نصف صدی سے ویران پڑی ہے اور یہاں سے گزرنے والوں کو اس عمارت کی کھڑکیوں اور جھروکوں میں لوگ کھڑے نظر آتے تھے جب کہ وہاں سے عجیب و غریب آوازیں بھی سنائی دیتی تھیں۔ اب یہاں ایک آرٹ گیلری بنادی گئ ہے۔

ارواح اور بھوت پریت کا تصور یورپ میں بھی ہے۔اٹلی میں کولو بیری نامی ایک گاؤں ہے ، اس کے بارے میں کئی باتیں مشہور ہیں ،جس کی وجہ سے اٹلی کےدیگر علاقوں میں رہنے والے لوگوںکے دلوں میں اس قدر خوف بیٹھ گیا ہے کہ وہ اس گاؤں کا کا نام لیتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بیسویں صدی میں یہاں رہنے والی ایک جادوگرنی اورایک وکیل اس گاؤں میں رہتے تھے۔ وکیل ، بے انتہا دولت مند تھا اس نے اپنی وکالت کی تاریخ میں کبھی کوئی مقدمہ نہیں ہارا تھا۔ اس کی وجہ سے اس کے کئی حاسد پیدا ہوگئے تھے۔ ایک دن وکیل نے اپنےچند مؤکلوں سےکسی بات پر بحث کرتے ہوئے ازراہ تفنن کہا کہ اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تواسی وقت یہ فانوس گر جائے۔ ان الفاظ کی ادائیگی کے ساتھ ہی چھت پر لٹکا ہوافانوس نیچے گر گیا۔ اگرچہ اس کے گرنے سے وہاں بیٹھا کوئی شخص زخمی نہیں ہوا لیکن واقعے کی ہیبت لوگوں کے دلوں میں اتنی زیادہ بیٹھ گئی کہ اس کے بعد سے لوگ اس وکیل سےخوف کھانے لگے۔یہاں ایک خاتون اپنے پراسرار رہن سہن کی وجہ سے علاقے میں جادوگرنی کی حیثیت سے مشہور تھی۔ اس گاؤں میں کئی ایسےڈراؤنے واقعات رونما ہوئے جنہیں وہاں کے رہائشی مذکورہ جادو گرنی کی کارستانی سمجھتے تھے، جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ گاؤں لوگوں سے خالی ہونا شروع ہوگیا۔ جادوگرنی کی پوتی ایلینا آج بھی مذکورہ قصبےمیں رہتی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس کی دادی کا جادو ٹونے سے کوئی تعلق نہیں تھا، وہ فرسودہ ماحول کے مطابق زندگی گزارتی تھیں، لیکن نہ جانےلوگوں نے انہیں جادوگرنی کی حیثیت سے کیوںمشہور کردیاتھا۔ اس کی پشت پر ان عناصر کا ہاتھ تھا جو اپنے مفادات کے لیے مذکورہ گاؤں خالی کرانا چاہتے تھے۔ گاؤں کو دیکھنے کےلیے ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں اوراس کی شہرت کی مناسبت سے یہاں ہر سال’’ بھوتوںکا تہوار‘‘ بھی منایاجاتا ہے۔

امریکی ریاست میساچوسٹس میں ’’نیوانگلینڈ ‘‘ نامی قصبہ ہے ،اس میں کئی تاریخی عمارتیں ہیں۔ ان میں سے ایک عمارت کی شہرت اس کے سات کونے ہیں۔یہ عمارت 1667میں تعمیر ہوئی تھی، بعدازاں اسے کئی بارنئے سرےسے بنانے کی کوشش کی گئی لیکن اس دوران ایسے پراسرار واقعات رونما ہوئے کہ اسے اسی حالت میںرہنے دیا ۔اس عمارت کو ایسے ڈیزائن میں تعمیر کیاگیا کہ اس کے 7کونے نمایاں ہیں۔ان کونوں کی تعداد کو متعدد بار8 یا 6 کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ناکامی ہوئی۔ قدیم حکایات کے مطابق مذکورہ عمارت میںایسی خواتین کو قید کیا جاتا تھاجن کی شہرت جادوگرنی یا چڑیل کی حیثیت سے ہوتی تھی، ان کے خلاف مقدمات چلائے جاتے تھے۔ایسی 20 خواتین کو محض شبہے کی بناء پر پھانسی جب کہ اور کئی خواتین کوسخت تشدد اور جسمانی اذیت دینے کے بعدہلاک کردیا گیا۔ مقامی افراد کی نظر میںیہ نیو انگلینڈ کی سب سے ہیبت ناک عمارت ہے۔گردونواح میں رہنے والے افراد کے مطابق آج بھی اس عمارت کی بند کھڑکیاں اچانک کھل جاتی اور کھلی ہوئی کھڑکیاں بند ہوجاتی ہیں ۔ ان کھڑکیوں میں خواتین کے سائے بھی نظر آتے ہیں۔ بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے اس عمارت کے صحن میں ایک بچےکو بھی کھیلتےدیکھا ہے ۔ پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے ملکوں میں بھوت پریت کے قصے سننے کو ملتے ہیں۔ حقیقت کیا ہے، یہ تو جن پربیتی اور بیت رہی ہے وہ ہی بتا سکتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کچھ گھر اس لیے خالی ہیں کہ وہاں بھوت پریت کا بسیرا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafi Abbasi

Read More Articles by Rafi Abbasi: 109 Articles with 79091 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Jun, 2017 Views: 593

Comments

آپ کی رائے