پہلی بغاوت خود سے ہونی چاہیے

(Kashif Butt, )

رمضان کیا شروع ہوا سورج مہاراج نے بھی آگ برسانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ انسان کے لیے مملکتِ خداداد میں قرار پانے کو مصنوعی ہوا کا اہتمام کیا ہو کہ ہمارا برقی نظام ہمیشہ ہی بوقتِ ضرورت معذرت کر لیتا ہے۔ کئی کئی گھنٹوں کی تاریکی اور گرمی نے عوام الناس کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ حکومت کی نااہلی تو اپنی جگہ حزبِ اختلاف بھی کچھ کم نہیں ہے۔ روزہ داروں کو لے کر مختلف شہروں میں برقی تنصیبات پہ حملہ کیا جا رہا ہے۔ ملکی املاک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور اپنا اپنا سیاسی منجن بیچنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ الگ بات کہ کس جماعت یا کس سیاسی شخصیت کو کہاں کیا موقع ملا اور اس نے کیا ٹھیک کیا اور کیا خراب۔ کتابِ سیاست کھنگالی جائے تو یہاں سب کے دامن ہی سیاہ نظر آئیں گئے۔ خواہ وہ دائیں قطار میں کھڑا ہو یا بائیں قطار میں۔ کرسی پہ ہو یا دروازے پہ یا پھر قطار میں۔ کہیں نہ کہیں ہر دامن ہی سیاہی سے اٹا پڑا ہے۔ اس ملک کے مسائل چاہے جیسے بھی ہوں جو بھی حالت ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ میدانِ سیاست میں موجود لوگوں کو اپنی باری یا موقع کا انتظار رہتا ہے اور اپنے مفادات کا تحفظ ہی ان کی اولین ترجیح رہی ہے۔ اسی دیس میں ایک ڈیم پہ سیاست نے کئی عشرے نگل لیے لیکن کوئی ختمی فیصلہ نہ ہو پایا۔

اگر ایوان میں بیٹھنے والے لوگ اس ملک اور اس کی عوام کے ساتھ اتنے ہی مخلص ہوتے تو عوام کے بنیادی حقوق بہت پہلے پورے ہو چکے ہوتے۔ اس ملک کی عوام کو بجلی گیس جیسی بنیادی سہولیات سے محرومی کا ماتم نہ کرنا پڑتا کہ ہم سے کئی درجہ غریب ملکوں میں بھی عوام کو اس حوالے سے کسی قسم کا احساسِ محرومی نہیں ہے۔ لیکن ہمارے صاحبانِ اقتدار خواہ وہ انتخابی طریقے سے منتخب ہوئے ہوں یا اپنی طاقت کے زور پہ مسلط ہوئے ہوں…… سب نے برابر ہی اپنا اور اپنے خواص کا خیال رکھنے پہ ہی آمین کی ہے لیکن ذرا ٹھہریے! صرف صاحبانِ اقتدار پہ ہی سب الزام کیوں؟ آج سحر و افطار میں حکومت کو بددعا دینے والے عوام بھی کچھ کم شریکِ جرم نہیں ہیں۔ عوام بھی اسی تھالی سے کھا رہے ہیں جس میں سے ایوانِ اقتدار کے مکین کھا رہے ہیں۔

یہ عوام جو دودھ میں پانی ملاتی ہے، مال بیچتے وقت ترازو میں ہیر پھیر کرنا اور اچھا مال دکھا کر برا بیچنا معمول کی کارروائی سمجھتی ہے، دروازے کے باہر گلی میں بلب یہ سوچ کر نہیں لگاتی کہ وہ حکومت کی ذمہ داری ہے، گھر کا کوڑا محلے کے خالی پلاٹ میں پھینک کر صفائی نصف ایمان ہے کا نعرہ لگاتی ہے، ملازمت میں کام کی بجائے وقت پورا کرنا ہی اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ اور اکثر تو وقت بھی پورا نہیں کیا جاتا گھر سے ہی حاضری لگا دینے کا اتم حل موجود ہے۔ کیا ایسی قوم کی بددعا اثر رکھتی ہے؟؟ ہم تو مجموعی طور ہی گندگی میں ڈوبے پڑے ہیں۔ ایسے میں کسے اچھا کہا جائے اور کسے برا کہا جائے۔ مسجد سے جوتے چوری کرنے والے صاحبان اب ایوان میں سے تو آتے نہیں ہیں۔ یا پھر وہ جو اندھیری رات میں بازاروں میں کھڑی ریڑھیوں میں سے مال نکال کر لے جاتے ہیں۔ کیا وہ سینٹ کے ارکان ہیں؟ یہ وہ ملک ہے جہاں تین مرلے کے مکان کا تعمیراتی کام ہو رہا ہو تو رات جاتے وقت مالک سریے کو تالا لگا کر جاتا ہے کہ کوئی اٹھا کر نہ لے جائے اور دن میں سارا سارا دن مزدوروں کے سر پہ کھڑا ہوتا ہے کہ کہیں کوئی ڈنڈی نہ مار دیں اور پھر بھی اسے سمجھ نہیں آتی کہ کہاں کس مہارت سے اسے نقصان پہنچا دیا گیا ہے۔

بجلی تو بجلی کہ سرکاری محکمہ ہے یہاں تو کیبل آپریٹرز پریشان رہتے ہیں کہ ان کی گہری نگرانی کے باوجود لوگ کیبل میں ٹانکہ لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ جہاں نجی ادارے کے لوگ روز کی مستقل نگہداشت کے باوجود چوری پہ قابو نہ کر پائیں وہاں ایسے سرکاری ادارے کیا کریں گئے جن کے اہلکار کام پہ ہی شہنشاہوں کی طرح آتے ہوں۔ اسی دیس میں لوگ ٹرین میں بنا ٹکٹ سفر کرتے ہیں اور پھر ریلوے کو ہی گالی دیتے ہیں۔ شاید انھیں ریل کا سفر بنا ٹکٹ کرنا تو اپنا حق لگتا ہے لیکن اس بنا ٹکٹ کے سفر سے ریلوے پہ بڑنے والا بوجھ اور اس کا نقصان ان کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ ریلوے سے ہی یاد آیا کہ ریلوے کی کتنی ہی اراضی ہے جس پہ عوام ناجائز قبضہ کیے ہوئے ہے۔ کہیں مارکیٹیں بنی ہیں اور کہیں مساجد بھی کیونکہ عوام اسے اپنا حق سمجھتی ہے۔ جب سے لوگوں سے یہ اراضی واپس لینی شروع ہوئی ہے اور بلڈوزر مہم شروع ہوئی تو کیا مذہبی اور کیا سیکولر سارے صاحبان کو دشنام طرازی کرتے ہوئے بھی دیکھا جا رہا ہے۔
یہ دور سخت کٹھن ہے مگر ضرور کہیں
ہے دوش اس میں برابر ہماری بستی کا

سوچیے تو! کہیں تو بھول ہم سے بھی ہوئی ہے۔ ہم جو عوام ہیں اور ہم جنھیں طاقت اور اختیار کے شاطر اپنے اشاروں پہ نچواتے ہیں۔ کہیں تو ہم بھی قصووار ہیں۔ اس خرابے میں ہم نے بھی برابر حصہ ڈالا ہے یا شاید زیادہ حصہ ڈالا ہے۔ اب اگر احتجاج کے لیے ہاتھ بلند کیے جا رہے ہیں تو پہلی آواز اپنے خلاف اٹھنی چاہیے۔ پہلی بغاوت خود سے ہونی چاہیے۔ اپنے رویے اپنے طریقہ کار اور اپنے عمل سے۔ اور اگر ہم سے یہ نہیں ہو سکتا تو دوسرے سے سوال کی جرات بھی ہم میں نہیں پیدا ہو سکتی۔ ہاں اگر انسان خود ڈھیٹ ہو جائے تو اس پہ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kashif Butt

Read More Articles by Kashif Butt: 25 Articles with 10446 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Jun, 2017 Views: 533

Comments

آپ کی رائے