جنگِ بدر (عربستان کی حربی تاریخ کا ایک انوکھا باب)

(Faisal Javed, )

تحریر: اصغر علی جاوید
صدارتی ایوارڈ یافتہ سیرت نگار

17 رمضان المبارک 2 ہجری کو بدر کے مقام پر حق و باطل کے درمیان پہلی اعصاب شکن اور ناقابلِ فراموش جنگ لڑی گئی۔یہ جنگ عربستان کی حربی تاریخ کا ایک انوکھا باب ہے۔ 624 ء سے قبل عربستان ہی کیا پوری دُنیا میں جنگ جیتنے کا صرف ایک ہی معیار تھا اور وہ تھا افواج اور ہتھیاروں کی بہتات۔ بدر کے میدان میں اگر اسی روایتی اور فرسودہ ضابطے کو حرفِ آخر سمجھا جاتا تو ریاستِ مدینہ کے صدر اور سپریم کمانڈر ؐ اپنی فوج کو مدینہ سے باہر نکلنے کا حکم ہی نہ دیتے اور یوں آج ، شاید ، اﷲ کی زمین پہ اﷲ کا کوئی نام لیوا ہی نہ ہوتا۔ لیکن ہوا اِس کے برعکس، اور 313 مجاہدین پر مشتمل چھوٹی سی سپاہ حربی قوت کی کفایت کے ساتھ لشکرِ خدا وندی بن کر پورے اعتماد کے ساتھ میدانِ جنگ میں اُتری اور مؤرخین کو ایک انوکھا باب رقم کرنے کے لیے دے دیا۔

بدر کی فتح کوئی اتفاق نہیں تھابلکہ اِس کے پیچھے نصرتِ خداوندی کے ساتھ ساتھ پیغمبری دانائی اور دانش نکتۂ کمال کو چھوتی نظر آتی ہے۔ جو اصول اور ضابطے 17 رمضان 2 ہجری کو مسلم لشکر کے کمانڈر انچیفؐ نے اپنائے انھیں فنِ حرب کا پہلا درس کہا جاسکتا ہے اور یہ تقریباََ وہی ہیں جنھیں جنگِ عظیم دوم سے پہلے دُنیا بھر کی فوجی تربیت گاہوں میں پڑھایا جاتا رہا ہے۔ یہ 8 ضابطے تھے جن کا 1923 ء میں ایک برطانوی جرنیل جے، ایف ، سی فلر(J. F. C. Fuller) نے بھی تذکرہ کیا تھا۔ ازاں بعد کی پیش رفت میں Morale , Lagistics اور National efforts نام کے تین اور اصول جنگ جیتنے کے لیے ضروری سمجھے گئے۔

اگر ہم اِن گیارہ اصولوں یا طریقوں کو ایک نظر سے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ تقریباََ تمام اصول جناب محمد رسول اﷲ ﷺ کی حکمتِ عملی میں نظر آتے تھے۔

انٹیلی جنس کے شعبہ میں مثال دیکھیے کہ آپؐ نے جاسوسی کے لیے حضرات علیؓ، زبیرؓ اور سعدؓ بن ابی وقاص جیسے دانشور بندوں کو کفّار کے لشکر کی طرف بھیجا۔ یہ جاسوسی دستہ بدر کے چشمے سے پانی بھرنے والے دو مکّی غلاموں کو پکڑ لایا۔ آپؐ نے ان قیدیوں سے پوچھا کہ کفّار کتنے اونٹ روزانہ ذبح کرتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ ایک دن 9 اور ایک دن 10 ۔ اِس پر اس صاحبِ فراست کمانڈرانچیفؐ نے اپنے اصحاب سے کہا کہ خبر دار رہولشکرِ کفار کی تعداد 900 سے 1000 کے درمیان ہے۔ ازاں بعد آپؐ نے آج کے جدید جنگی ہتھیار مورال کو بلند کرنے کے لیے ایک زبردست خطاب فرمایا جس کا آغاز اِس جملے سے کیاکہ ’’ دوستو ! آج آپ لوگ منازلِ حق میں سے ایک منزل پہ کھڑے ہو‘‘۔ آپؐ نے اپنی تقریر میں مجاہدین کو یاد دِہانی کرادی کہ جنگ میں حوصلہ اور صبر روزِ محشر نجات کا ذریعہ بنیں گے اور یہ بھی کہ بالآخر اُسی کے پاس جانا ہے ۔ آج نہیں تو کل۔

16 رمضان کو جب اسلامی لشکر میدانِ بدر میں اُترا تو عشاء کا وقت ہو چکا تھا۔ اس وقت خبابؓ نے مشورہ دیا کہ یا رسول اﷲ ﷺ : اگلے چشمے پر چلیں ۔ اس سے ہمیں ایک بڑا چشمہ بھی دستیاب ہوگا اور باقی چشمے بھی ہمارے پیچھے اور کفّار کی دسترس سے باہر ہو جائیں گے۔ اس وقت سارے دن کی مسافت ، عشاء کی نماز کا وقت، رات کا اندھیرا اور زبردست بھوک لشکرِ اسلام اور اس کے کمانڈرانچیفؐ کی راہ میں مزاحم نہیں ہوئے اور آپؐ نے فوراََ Mobility کا حکم صادر فرمادیا ( یہ Mobility آج کا ایک بڑا جنگی اصول ہے)۔وہاں فوری طور پر کمانڈ ہیڈکوارٹر تعمیر کیا گیا۔ جناب سعدؓ بن معاذ کو اسلامی تاریخ کے اس پہلے کمانڈ ہیڈ کوارٹر کا چیف سیکیورٹی آفیسر مقرر کیا گیا۔ باہر کچھ طاقت ور اونٹ تیار رکھے گئے اور سعد ؓ تلوار لے کر اس چھپر کے باہر کھڑے ہوگئے۔یہ سارا انتظام و انصرام اس کمانڈر کی طرف سے کیا جارہا تھا، جسے اپنے رب کی ذات پر کامل بھروسہ تھا اور نصرتِ خداوندی کا پورا یقین تھا، لیکن جنگ کے لیے یہ سب کچھ ضروری تھا۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ عربی زبان میں چھپّر یا سائبان کو عریش کہتے ہیں۔بدر کے مقام پر آج کل جو مسجدِ عریش نظر آتی ہے یہ عین اُسی جگہ پر تعمیر کی گئی ہے جہاں رسولِ خدا ﷺ کا ہیڈ کوارٹر تعمیر کیا گیا تھا۔

عربستان کی حربی تاریخ میں میدانِ بدر پہلا میدانِ جنگ تھا جس میں کلمہ ٔ تعارف (Code Word) متعارف کرایا گیااور یہ کوڈ ورڈ ’’اَحَدْ‘‘ تھا ۔ یوں مجاہدینِ اسلام گرد ، دھویں، پگڑیوں ، خون اور لوہے کے ٹوپوں کے باوجود بڑی آسانی سے یہ جان لیتے تھے کہ سامنے کھڑا شخص دشمنِ اسلام نہیں بلکہ حبیبِ مصطفےٰ ہے۔

اس عہد کی جنگوں میں مبارزت کا اصول تھالیکن صف بندی یا تیکنیکی بنیادوں پر فوج کی تقسیم کا تصور کم ہی تھا۔ میدانِ بدر میں مسلمانوں میں کمال کا نظم و ضبط پایا گیا۔ مسلم مجاہدین کی اگلی صف میں تلوار بند اورنیزہ بردار مجاہد اور پچھلی صف میں تیر انداز متعین تھے۔چھوٹے دستوں (Platoons ) کے کماندار مقرر کیے گئے اور انھیں مرکزی لشکر سے تِرچھی ترتیب کے ساتھ پچھلی جانب جھکاؤ دیا گیاتاکہ مکّی لشکر کی Cavlry کا حملہ آسانی سے روکا جاسکے۔

صف بندی ایسی جگہ پر کی گئی کہ سورج اسلامی لشکر کی پشت پر اور کفّار کے سامنے تھا۔مدنی کمانڈرانچیفؐ نے اس بات کو بھی پیشِ نظر رکھا کہ بارش ہونے کی صورت میں کوئی نقصان نہ ہو۔ پھر وہی ہوا، اُس رات یعنی 16 اور 17 رمضان کی درمیانی رات خوب بارش ہوئی۔مسلمانوں کو بارش کا یہ فائدہ ہوا کہ اُن کے پاؤں تلے موجود ریت دب گئی اور کفّار کے لشکر کے پاؤں تلے ، جہاں مٹی تھی ، کیچڑ بن گیا اور یوں وہ پھسل پھسل کر گرتے رہے۔

جنگِ رمضان اس لحاظ سے بھی حربی تاریخ کا ایک انوکھا باب ہے کہ وہاں مجاہدین کو ایسی قیادتِ موحدہ نصیب ہوئی جو اُن کا محبوب تھا، روحانی پیشوا تھا ، زبردست خطیب تھا ، واحد کمانڈر تھا اور اور اُس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا تھا۔وہ صرف سچ کہتا تھا اور سچ کے سوا کچھ نہیں کہتا تھااور اب وہ کہہ چکا تھا کہ صبر اور حوصلے کا بدلہ جنت ہے۔مسلم مجاہدین کے اندر یہ بات کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی تھی کہ دُنیا کا کوئی رشتہ یا کوئی ناطہ یا کوئی تعلق عبد اور معبود کے رشتے پر حاوی نہیں ہو سکتا۔لہٰذا اس روز چشمِ فلک نے یہ عجیب نظارہ دیکھا کہ :
ایک طرف سپہ سالارِ اعظم محمد رسول اﷲ ﷺ اور دوسری طرف داماد ابوالعاص ، ایک طرف عمرؓ بن خطاب اور دوسری طرف سگا ماموں عاص بن ہشام ، ایک طرف ابو بکر صدیقؓ اور دوسری طرف بیٹا عبدالرّحمن بن ابوبکر ، ایک طرف عاشقِ رسولؐ ابو حذیفہؓ اور دوسری طرف ابوحذیفہؓ کا باپ عتبہ ، ایک طرف مصعبؓ بن عمیر اور دوسری طرف بھائی ابو عزیر بن عمیر، ایک طرف شیرِ خدا علیؓ بن ابی طالب اور دوسری طرف عقیل بن ابی طالب ، ایک طرف جناب حمزہؓ (عمِ رسولؐ) اور دوسری طرف جناب عباس (عمِ رسول) ۔

دونوں طرف چوٹی کے لوگ تھے جن کو حسب نسب پہ فخر تھا، پھر بدر کا نتیجہ یہ کیوں رہا کہ چھوٹے لشکر میں سے چودہ کو جامِ شہادت نصیب ہوا اور دوسری طرف 70 واصلِ جہنم ہوئے اور اتنے ہی قیدی بنا لیے گئے۔ اس سوال کا جواب اسی سوال میں موجود ہے کہ ایک طرف کے مرنے والے موت کے طلب گار تھے کہ اُنھیں جنت نظر آ رہی تھی اور دوسری طرف کے لوگ موت سے خوف زدہ تھے کہ اُنھیں جہنم نظر آرہی تھی۔

قارئین ! اﷲ کی یہ پالیسی ہے کہ وہ اپنے ساتھ اور اپنے محبوب کے ساتھ محبت کر نے والوں کو اور اﷲ کی راہ میں جان قربان کردینے والوں کو ہمیشہ زندہ رکھتا ہے۔شہدائے بدر کی پُر نور قبریں آج بھی بدر میں موجود ہیں لیکن وہ ستر بدنصیب جو اﷲ کی تلواروں کا نشانہ بنے اُن کا نام و نشان تک مٹ چکا ہے۔

شہدائے بدرحارث بن سراقہ،مہجع (فاروقِ اعظم کے غلام) ، عبیدہ بن حارث، عمیر بن ابی وقاص، عمیر بن حمام، سعد بن خیثمہ، ذوالشمالین بن عبد عمرو، مبشر بن عبدالمتدر، عاقل بن بکیر،صفوان بن بیضاء، یزید بن حارث، رافع بن معلّیٰ، عوف بن عفراء اورمعوّذ بن عفراء! آپ کے بختوں کو سلام۔ آپ کی اس زندگی کو سلام
جس کے بارے میں اﷲ نے ہمیں بتایا ہے کہ ہمیں اس کا شعور نہیں کہ وہ کیسی ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Faisal Javed

Read More Articles by Faisal Javed: 23 Articles with 11028 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Jun, 2017 Views: 684

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ