ٹیچنگ ایڈس استعمال کرنے کے کارگرطریقے

(Farooq Tahir, Hyderabad)

کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے کمرۂ جماعت سے وابستہ ہوتا ہے۔تعلیم سے مراد صرف الفاظ و معلومات کو حافظے میں محفوظ کر دینا نہیں ہے ۔تعلیم ایک ایسا لفظ ہے جو بولنے، سننے اور لکھنے میں یک و تنہا ضرور نظر آتا ہے لیکن درحقیقت تعلیم دو اعمال و افعال کی یکجائی کا نام ہیــــ ـ’’ علم اور تربیت‘‘۔ترسیل علم کے لئے زبان اور تحریر سے کماحقہ کام لیاجاتا ہے لیکن جب بات تاثیر اور تربیت کی آتی ہے تب عملی مظاہرہ و عملی افعال تربیت کے لئے ضروری تصور کیئے جاتے ہیں۔موثر تدریس کی انجام دہی میں ٹیچنگ ایڈس (معاون تدریسی اشیاء ) کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔گھنٹوں بچوں کو بوریت کا شکار کردینے والا استاد کا درس و ہ کام نہیں کرپاتا ہے جو ایک معمولی سا ٹیچنگ ایڈ (تدریس معاون شئے ) انجام دیتا ہے۔بیس پچیس سال پہلے کا استاد سائنس کے عقدے لاینحل ، عمرانیات کے گنجلگ اصول، ، جغرافیائی نشیب و فراز ، دیگر مضامین کے حقائق ،ادق مسائل اورتصورات کو اپنی تقریر ی مہارت،منظر کشی ، مصوری ،بے جان نقشوں ،زائچوں اور خاکوں کی مدد سے حل کرنے کی کوشش کرتا نظر آتا ہے ۔آج کا نظام درس و تدریس سائنس و ٹکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے اپنے عروج کو پہنچ گیا ہے۔ وہ زمانہ جہاں ساکت و جامد نقشوں،خاکوں اور زائچوں کی مدد سے مختلف مشکل موضوعات کی تفسیریں و تعبریں طلبہ کوبتائی جاتی تھیں وہیں آج بے جان ساکت و جامد نقشوں ،خاکوں اور زائچوں کی جگہ چلتی پھرتی بولتی سمجھانے والی ڈاکیومنٹری اور تعلیمی ویڈیوز نے لے لیں ہیں ۔ ان وسائل کی مدد سے طلبہ بیزارگی اور عدم دلچسپی کا شکار ہوئے بغیر آج اپنے مضامین میں گہرائی،گیرائی اور درک پیدا کر رہے ہیں۔ یہ کام تب ہی ممکن ہے جب ایک استاد اپنی روایتی تدریس سے انحراف کرتے ہوئے درس و تدریس کو موجودہ زمانے کے تقاضوں اور ٹکنالوجی سے ہم آہنگ بنائے۔ درس و تدریس کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ استاد نہ صرف جدید تعلیمی تجربات،نظریات اورخود کے مشاہدات کو بروئے کار لائے بلکہ درس وتدریس میں دلچسپی اور زندگی بھرنے کے لئے تدریسی معاون اشیاء کے موثر استعمال سے بھی گوناں گوں آگہی حاصل کرے۔وسائل کی کمی کا بہانہ کرتے ہوئے اساتذہ اپنی تدریسی کوتاہیوں پرپردہ ڈالنے کی کو شش نہ کریں۔ جو بھی وسائل جس قدر دستیاب ہوں انھیں معلمانہ مہارت سے بروئے کار لاتے ہوئے موثر تدریس کو ممکن بنائیں۔تدریسی معاون اشیاء (ٹیچنگ ایڈس ) درس و تدریس کو معنویت عطاکرنے کے ساتھ تاثیر بھی عطا کرتے ہیں۔درس و تدریس کو کامیابی سے انجام دینے کے لئے اساتذہ کے لئے تدریسی معاون اشیاء(ٹیچنگ ایڈس ) کے موثراستعمال کا علم و ادراک لازمی ہے ۔بین السطور مختلف ٹیچنگ ایڈس کے موثراستعمال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
چاک بورڈ(بلیک بورڈ/گلاس بورڈ/سبز بورڈ)وائٹ بورڈ؛۔دوران تدریس طلبہ کی توجہ کو فوری مبذول کرنے میں بورڈبشمول چاک بورڈ ( بلیک بورڈ گلاس بورڈ سبز بورڈ ) اور وائٹ بورڈ ،کار گر وسیلہ تصور کیئے جاتے ہیں۔سبق کی تدریس کے دوران اہم نکات کو بورڈ پر تحریر کرتے ہوئے استاد طلبہ کی توجہ کو نہ صرف برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کرتا ہے بلکہ سبق کے اشکالات کو بھی دور کرتا ہے۔اس تدریس کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہیجس میں ایک ماہر لائق استاد بورڈکے مناسب و صحیح استعمال سے اپنے درس کو دلچسپ اور بامعنی بنادیتا ہے۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی تجربہ کاراستاد اپنے دیرینہ تدریسی تجربے کے باوجود بغیر بورڈکے اپنی تدریسی فرائض احسن طریقے سے انجام نہیں دے سکتا ہے۔ فی زمانہ چاک بورڈ صرف سیا ہ رنگ میں ہی نہیں بلکہ سبز،اور مختلف رنگوں میں دستیاب ہیں۔آج کل اکثرمدارس میں چاک کے ذرات سے پیدا ہونے والے تنفسی امراض کے پیش نظر وائٹ بورڈ(مارکر بورڈ) کا چلن عام ہوچکا ہے۔دیگر تدریسی وسائل کے عدم استعمال کے باوجود اگربورڈ کو مناسب ،محتاط اور منظم طریقے سے استعمال کیا جائے تب بھی یہ درس و تدریس کو دلچسپ ،پرکشش اور بامعنی بنانے میں معاون و مددگار ہوتا ہے۔ذیل میں بورڈ(چاک بورڈ و وائٹ بورڈ)استعمال کرنے کے چند رہنمایانہ اصول بیان کیئے جارہے ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے بوڑد کے استعمال کو موثر اور دلکش بنایا جاسکتا ہے۔
(1)جماعت میں درس وتدریس کے آغاز سے قبل استاد بورڈ کے استعمال میں معاون درکار تمام اشیاء کا جائزہ لیں۔
(2)سبق شروع کرنے سے پہلے پورے بورڈ کو صاف کر لیں۔ایسا نہ کرنے کی صورت میں دوران تدریس بورڈ پر پہلے سے تحریر شدہ معلومات طلبہ کی توجہ کے انتشار کا باعث بنتے ہیں۔
(3)بورڈ پر انگریزی،ہندی،تلگو اوپر ی بائیں جانب اوراردو عربی فارسی اوپری دائیں جانب سے لکھنا چاہیئے۔اگر ضرورت محسوس کریں تو بورڈ کو عمودی خط(اوپر سے نیچے تک لکیر کھینچتے ہوئے) کھینچتے ہوئے دو یا تین حصوں میں بانٹ دیں۔اگر بورڈ چھوٹا ہوتو بورڈ کوحسب ضرورت حصوں میں بانٹ لیں۔
(4)استاد اپنے مشاہدات و افادات کو مخفف یا مختصرالفاظ میں تحریر کرنے سے گریز کریں کیونکہ معیاری تدریس ایسی سرگرمیوں سے باز رکھتی ہے۔شاذ و نادر اس کو قبول بھی کیا جاسکتا ہے لیکن باربار اس عمل کو دہرانے سے سبق کی پیش کش اور موضوع کی تفہیم پر بہت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں اورطلبہ کور فہمی کا گلہ کرنے لگتے ہیں۔
(5)اساتذہ اس بات کا خیال رکھیں کہ بورڈ پر لکھی ہوئی تحریر تمام طلبہ کو واضح ،صاف اور نمایا ں نظر آئے۔تحریر منحنی نہ ہو بلکہ سیدھی ہو اور قطار در قطار ہو۔الفاظ کی جسامت پر اساتذہ خاص توجہ دیں تاکہ جماعت کے ہر بچے کو تحریر سمجھنے میں کوئی الجھن اور پریشانی نہ ہو۔
(6)بورڈ کے اوپری دوتہائی حصے کو ہی تحریری کام کے لئے استعمال کریں کیونکہ بعض مرتبہ طلبہ کو بورڈ کے نچلے حصہ کو دیکھنے( نیچے کے حصے میں لکھی ہوئی تحریر دیکھنے) میں دقت و پریشانی ہوتی ہے۔
(7)رنگین چاک اور رنگین مارک پین کو محتاط اور مناسب انداز میں استعمال کرتے ہوئے بورڈ کے کام کو مزید جاذب، دلچسپ اور بامعنی بنا یا جا سکتا ہے۔
(8)لکھنے کے لئے نیا چاک استعمال کرتے وقت چاک کے لکھنے والے کنارے کو تھوڑا سا توڑ دیں یا چاک کے کنار ے کو گھس دیں تاکہ بورڈ پر چاک پھسل نہ پائے اور تحریر بھی صاف ، واضح اور نمایا ں نظر آسکے۔ مارکر پین روشنائی کی بھی جانچ کر لیں۔ تحریر اگر مدھم ہوتو مارکر پین میں روشنائی بھر لیں ۔ بعض مرتبہ پین کی نب (نوک) کھس جانے کی وجہ سے
تحریر مجروح ہوجاتی ہے۔ اگر پین کی نب خراب ہوچکی ہوتو اس سے مزید لکھنے سے پہلے نب کو تبدیل کر لیں۔
(9)بورڈ کی جانب رخ رکھ کر بات کرتے ہوئے لکھنے سے اجتناب کریں۔سبق کے اہم نکات بورڈ پر تحریر کرنے سے پہلے طلبہ سے بیان کریں ان کے چہروں سے ان کی تفہیم و تعبیر کا اندازہ قائم کریں پھر ایک مختصر سے توقف کے بعد سبق کا خلاصہ ،اہم نکات، افادات یا جو بھی متعلقہ معلومات ہوں تحریر کریں۔بورڈ پر لکھتے وقت طلبہ کی جانب پوری پشت نہ کریں کسی قدر ترچھے ہو کر بورڈ پر تحریری کام انجام دیں تاکہ طلبہ پر بھی نظر رکھی جا سکے اور جماعت کے نظم و ضبط میں بھی کوئی خلل واقع نہ ہو۔
(10) وقت (تفویض شدہ وقت (پیریڈ) ) کی بچت کے لئے خاکے ،نقشے اور دیگر جدولوں کو جماعت شروع ہونے سے پہلے بھی اتار لیا جاسکتا ہے۔ لیکن بہتر یہ ہوتا ہے کہ خاکے، نقشے اور جدول وغیرہ طلبہ کے سامنے ہی اتارے جائیں تاکہ طلبہ کو خاکے نقشے اور جدول وغیرہ اتارنے میں مدد و رہنمائی حاصل ہوسکے۔نقاشی اور مصوری کی مہارتیں طلبہ میں فروغ پا سکیں۔
(11)بورڈ کی صفائی میں خاص احتیاط سے کام لیں۔ بورڈ کو اوپر کی جانب سے (یعنی جو مواد پہلے لکھا گیا اسے صاف کریں) صاف کریں۔نیچے سے یا درمیان سے یا کسی پیراگراف یا لائین کو صاف کرتے وقت نہ چھوڑیں ۔ اس طرح کی بے احتیاطی سے استاد کے تدریسی نظم و ضبط اور معیار کا پتا چلتا ہے۔
(12)طلبہ کے انہماک کو مہمیز کرنے ،محرکہ پیدا کرنے اور دلچسپی کی برقراری کے لئے طلبہ کی دوران سبق شرکت کو یقینی بنائیں اور کبھی کبھار طلبہ کو سبق سے متعلق امور کو تحریر کرنے (اہم ضابطے، نکات تحریر کرنے ) خاکے ، نقشے اور جدول وغیرہ اتار نے کے لئے بورڈ پر بلائیں تاکہ بچوں کی توجہ بٹنے نہ پائے اور وہ انہماک و توجہ سے سبق پر دھیان دے سکے۔
(13)بورڈ پر بچوں سے پوچھے گئے سوالات کے درست جوابات کو تحریر کریں اور ان کو بورڈ پر پورے سبق کی تدریستک رہنے دیں تاکہ طلبہ کو ان کے درست جواب دینے سے اطمینان ،خوشی اور فخر وانبساط کا احساس ہوسکے اور وہ اپنے آپ کو اہم اور خاص خیال کر سکیں۔
چارٹس اور پوسٹرس؛۔چارٹس کا استعمال درس و تدریس میں بہت عام ہے۔چارٹس ،پوسٹرس بصری تدریسی معاون اشیاء کے زمرے میں آتے ہیں۔یہ زبان ،تاریخ ،ریاضی کی تدریس اور سائنس کے بعض خاکوں کو پیش کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔رنگین چارٹس آسانی سے طلبہ کی توجہ درس و تدریس کی جانب مبذول کرتے ہیں۔کمرۂ جماعت میں مصورانہ(باتصویرPictorial)،ترسیمیGraphical(سائنس و ریاضی کی معلومات ترسیمی طور پر شرح و بسط سے وضاحت کرنا)،عددیNumericalتحریری Writtenمعلومات کے ذریعہ درس و تدریس کو جاذب نظر بنایا جاسکتا ہے۔مذکورہ اشیاء کا استعمال اکتساب کو دلچسپ بنانے اور فروغ دینے میں کلیدی کردار انجام دیتا ہے۔چارٹس پوسٹرس سبق کے تجریدی نظریات و خیالات(abstract Ideas)کوبصری ہیت فارم(visual form)میں پیش کرنے میں نہایت مفید ہوتے ہیں۔چند بنیادی (اہم)سطح کے چارٹس جنہیں مختلف تدریسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ان میں قابل ذکر
(1) ہلکے رنگ کی شیٹ پر مشتمل چارٹ پر سادہ خاکے اور نقشوں کو اتار کر مناسب رنگ اندوزی کے ذریعہ انہیں معیاری اور جاذب نظر بنایا جاتا ہے۔دوران تدریس ان چارٹوں اور پوسٹرس کو کمرۂ جماعت میں موضوعاتی نظریات و تصورات کی تفہیم کے دوران دکھایا (display)جاتا ہے۔
(2)فلپ چارٹس(Flip Charts) ،چارٹس کا ترتیب شدہ ایک متواتر سلسلہ وار منظم مجموعہ ہوتا ہے ۔فلپ چارٹس کے ذریعیمعلومات کو ترتیب وار اور جامع انداز میں پیش کیا جاتا ہے یا پھر شئے کی ہیت و شکل کی ماہیت ،نظریات و تصورات کی سلسلہ وار نمو و ترقی کو دکھانے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
(3)عددی ڈاٹا(Numerical Data)کو ترتیب وار جدول کی شکل میں پیش کرنے میں چارٹس و پوسٹرس بہت معاون ہوتے ہیں۔اس طرح کے اقدام سے موازنے اور خلاصہ پیش کرنے میں سہولت پیدا ہوتی ہے۔
(4) کسی بھی نظریات کے ارتقاء کو ترتیب وار، منزل بہ منزل اور تسلسل کے ساتھ بیان کرنے میں چارٹس اہم کردار انجام دیتے ہیں۔
(5)ترتیبی چارٹ(flow chart) کے ذریعہ حقائق کی درجہ بندی اورتنظیم کومختلف معنی خیز انداز میں پیش کیا جاسکتا ہے۔
(6)تعین قدر (evaluation chart)چارٹس کے زریعہ اکتسابی نتائج کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ان چارٹوں میں مختلف تفصیلات کے اندر اج ،مختلف حصوں کو سایہ دار کرنے(shading the area) اور حصوں کی نشاندہی کرنے اور ان کو نامزد (labeling)کر نے کی جگہ فراہم کی جاتی ہے۔
نمائشی چارٹس(display chart)کو درس و تدریس میں معلومات کی موثر نمائش کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔برموقعہ ،بروقت چارٹس کا استعمال نہ صرف معلومات کو موثر انداز میں پیشکرتا ہے بلکہ احتیاط اور حکمت سے پر چارٹس کے استعمال سے تدریسی مقاصد کا حصول بھی آسان ہوجاتا ہے۔مندرجہ ذیل تجاویز پر عمل کرتے ہوئے اساتذہ نمائشی چارٹس کو نہ صرف تیار کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں بلکہ ان کی موثرنمائش کے گر سے بھی آگہی حاصل کر لیتے ہیں۔
(1)تیار کردہ یا منتخب چارٹس کو وقت سے پہلے ہرگز پیش نہیں کر چاہیئے۔جب پیش کش و نمائش کا وقت آئے تب ہی ان کو پیش کرنا چاہیئے۔مناسب وقت و مناسب موقع پر چارٹس کو پیش کرتے ہوئینمائش کو کامیاب اور بامقصد بنایا جاسکتا ہے۔ تجریدی و گنجلگ نظریات کو سمجھانے میں چارٹس کی مناسب وقت و موقع پر پیش کش نہایت مددگار ثابت ہوتی ہے۔
(2)اگر ایک سے زیادہ چارٹس ہوں تو ان کو ضرورت و استعمال کے مطابق سلسلہ وار ترتیب دینا ضروری ہوتا ہے۔
(3)اگر عددی تفصیلات(numerical data)پیش کر رہے ہوں تو ان کو منظم جدولوں کی شکل میں ترتیب دینا ضروری ہوتا ہے تاکہ تفہیم و تشریح میں آسانی ہو۔گرافس (ترسیمات) کے ذریعہ باہمی ربط و ضبط کے اظہار میں مدد ملتی ہے۔
(4)پیچیدہ خاکو ں کو پہلے ہی نقطہ وار طریقہ سے اتارلینا بہتر ہوتا ہے۔ کمرۂ جماعت میں تدریس کے دوران نقا ط پر ٹریس(خط کھینچتے ہوئے) کرتے ہوئے (نقاط کوجوڑتے ہوئے) خاکہ اتارکربچوں کو خاکہ نویسی کی تربیت کے ساتھ پیچیدہ اصولوں کو باآسانی بیان کیا جاسکتا ہے۔
(5)چارٹ کو کمر ۂ جماعت میں ایک نمایاں اور موزوں مقام پر ٹانگنا(ہیانگ) ضروری ہوتا ہے تاکہ تمام طلبہ چارٹ کا آسانی سے مشاہدہ کر سکیں۔خاکے کے حصوں کی نشاندہی اور اہم نکات و حقائق کو بتانے کے لئے ہمیشہ پوائنٹر کا استعمال کریں۔
(6)کسی بھی نمائشی مواد خواہ منتخب یا ہاتھ سے تیار کردہ چارٹ ہو ان کے الفاظ وخاکے کی ہیت و جسامت اتنی ضرور ہوکہ تمام جماعت اس کو آسانی سے دیکھ اور پڑھ سکے۔چارٹ کی دلکشی کو بڑھانے کے لئے مختلف رنگوں کا مناسب استعمال کیا جاسکتاہے ۔
(7)چارٹ میں خاکوں اور معلومات کی بھر مار نہ کریں ۔چارٹ کی وضع قطع اور معلومات کی مقدار کو متوازن رکھیں۔
(8)معلومات کو ایک بہ دیگرے پیش کرنے کے لئے تمام چارٹ کو اوپر سے نیچے تک کاغذ کی پرچیوں سے ڈھانک دیں ۔ترتیب وارکاغذکی ایک ایک پرچی کو نکالتے ہوئے پیش کش کو منظم اور موثر بنایا جاسکتا ہے۔
(9)تیار شدہ بازاری چارٹس کے انتخاب کے وقت یادرکھیں کہ معلومات آسان اور طلبہ کی ذہنی صلاحیت کے مطابق ہو۔
(10)تدریس کے دوران مختلف اوقات میں طلبہ کو چارٹ پر پیش کردہ حقائق و نکات کو بتانے کی دعوت دیں۔
(11)تیارکردہ تمام چارٹس کو مناسب طریقے سے نشا ن لگاکر،محتاط و محفوظ انداز میں رکھیں تاکہ مستقبل میں بھی ان کو استعمال کیا جاسکے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: farooq tahir

Read More Articles by farooq tahir: 114 Articles with 102081 views »
I am an educator lives in Hyderabad and a government teacher in Hyderabad Deccan,telangana State of India.. View More
08 Jun, 2017 Views: 1507

Comments

آپ کی رائے