ایک کتاب کا معاملہ

(Shoukat Ullah, Banu)

آج کل تعلیم سے متعلق خبریں کچھ زیادہ ہیپرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ خیبر پختون خوا اسمبلی نے صوبے بھر کے تیس ہزار نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کی من مانیوں اور اجارہ داری کو ختم کرنے کے لئے چار سال کی طویل مدت کے بعدنجی تعلیمی اداروں کے لئے ریگولیٹری اتھارٹی2017 ء بل منظور کروالیا ہے۔ اتھارٹی کے قیام پر حکومتی مؤقفیہہے کہ نجی تعلیمی ادارے اساتذہ اور بچوں کا استحصال کے ساتھ ساتھ طبقاتی نظام ِ تعلیم کو بھی فروغ پا رہے ہیں۔ حقائق بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان اداروں میں اساتذہ کو محض تین سے دس ہزار روپے ماہانہ پر بھرتی کیا جاتا ہے اور کام اُن سے دو اساتذہ کے برابر لیا جاتا ہے۔ستم ظریفی یہ بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ موسم ِ گرما کی چھٹیوں میں اکثر اساتذہ کو فارغ کردیا جاتا ہے یا پھر تنخواہوں سے محروم رکھا جاتا ہے۔اس کے علاوہ عوام سے فیسیں بٹورنے کی خاطر تعطیلات کے معاملے میں حکومتی شیڈول کو بالکل نظر انداز کیا جاتا ہے۔ جس کی حالیہ مثال موسم گرما کی تعطیلات ہیں۔ خیبرپختون خوا حکومت نے گرمی ، روزوں اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے باعث تعطیلات کا اعلان27 مئی سے کیا تھالیکن نجی تعلیمی اداروں نے ایڈوانس فیسوں کی وصولی کی خاطر چھٹیوں کا اعلان 5 جون سے کیا۔اخباری اطلاعات کے مطابق پشاور کے نجی تعلیمی ادارے تاحال کھلے ہیں۔ اَب یہ دیکھنا ہے کہ کیا واقعی نجی تعلیمی اداروں میں لاکھوں اور کروڑوں روپے کی انویسٹمنٹ کرنے والے مالکان کی اجارہ داری ختم ہوجائے گی؟اورکیا اس سے یکساں نظام ِ تعلیم اور یکساں نصاب کا تصور شرمندہ تعبیر ہوگا ؟اور کیا صوبائی سطح پرایک اتھارٹی ہزاروں تعلیمی اداروں کو ریگولیٹ کرنے میں کامیاب ہو جائے گی ؟ جس کا چیئرمین سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والا وزیر تعلیم ہو گا۔ اساتذہ کی تعیناتی اور ماہانہ تنخواہ کے معاملات کے علاوہ یہ اتھارٹی یکساں نظام ِ تعلیم ، فیسوں کے ڈھانچے کا تعین ، اداروں کی رجسٹریشن ، معیاری تعلیم کی فراہمی ، اساتذہ کی تربیتی پروگراموں ، ہم نصابی سرگرمیوں وغیرہ کے معاملات کو بھی دیکھے گی۔ ریگولیٹری اتھارٹی پر نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کے حد سے زیادہ تحفظات پائے جاتے ہیں جن میں ایک کتاب کا معاملہ بھی ہے۔حکومت یکساں نظام ِ تعلیم اور یکساں نصاب کے لئے ایک کتاب کا فارمولہ بنارہی ہے۔ جو انتہائی نقصان دہ اقدام ہو گا کیوں دنیا میں کہیں بھی ایک کتاب (یا یکساں کتاب) کا فارمولہ رائج نہیں ہے۔ ذرا تفصیل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نصاب اور کتاب کا معاملہ کیا ہے۔نصاب ایک وسیع مضمون ہیجو کئی مدارج پر مشتمل ہوتا ہے۔یہ معاشرتی ضروریات کے تجزیے اور مقاصد کے مدارج سیشروع ہو کرتدریسی مواد (کتاب) ،طریقہ ہائے تدریس اور جائزہ کے عمل تک پہنچتا ہے۔نصاب کی تیاری کوئی ساکن و جامد عمل نہیں ہے بلکہ معاشرے کی ضروریات میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ اس میں بھی تبدیلیاں ناگزیر ہوتی ہیں۔آخری مدارج میں اس کاجائزہ پہلے سے منتخب شدہ مقاصد کے ساتھ کرنا ہوتا ہے۔ اگر مقاصد کا حصول نہیں ہو رہا تو پھر نئے سرے سے یہ عمل شروع کرنا ہوتا ہے۔ طلباء کے نزدیک نصاب سے مراد وہ اسباق ہیں جو ایک استاد کمرۂ جماعت میں متعین مقاصد کے حصول کے لئے پڑھتا ہے۔تعلیمی مفکرین نے مختلف انداز میں اپنا اپنا مفہوم بیان کرتے ہیں۔ بعض نے اس کو وسیع معنوں میں استعمال کیاہے، یعنی نصاب ایک ایسی جدو جہد کا نام ہے جو تعلیمی مقاصد کے حصول کے لئے مدرسہ ، کمرۂ جماعت ، لائبریری ، لیبارٹری یا کھیل کود کے میدان میں کی جاتی ہے۔ اور جب کہ بعض مفکرین نے اس کو محدود انداز میں استعمال کیا ہے، یعنی وہ تعلیمی مواد جس کو ہفتہ وار یا ٹرم وائز تقسیم کیا جائے۔نصاب کے بارے میں مفکرین کے خیالات و نظریات بالکل مختلف ہیں۔ لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ نصاب میں تعلیمی مقاصد بیان کیے گئے ہوتے ہیں جن کا حصول ایک استاد تدریسی مواد ( کتاب) اور طریقہ ہائے تدریس سے کرتا ہے۔ یعنی کتاب درحقیقت نصاب کا ایک حصہ ہے۔مثال کے طور پر نرسری کے بچوں کو ہَرارنگ سمجھنا ایک مقصد تعین کیا گیا ہے۔ اَب اس مقصد کے حصول کے لئے ضروری نہیں ہے کہ ایک کتاب کا سہارا لیا جائے۔ استاد اپنے مقصد کا حصول کسی بھی طریقے اور کسی بھی تدریسی مواد (کتاب )سے کرواسکتا ہے۔یعنی اپنے مقصد کو طوطا دکھا کر بھی پورا کرسکتا ہے اور ہَرے بھرے درخت کے ذریعے بھی۔ پس اس مثال سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یکساں نصاب کے لئے ایک کتاب کا ہونا ضروری نہیں ہے اور اس غلط فہمی کی بنیاد پر ایک کتاب کا فارمولہ نہیں بنانا چاہیئے بلکہ مسئلہ مقاصد کا حصول ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 129177 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Jun, 2017 Views: 548

Comments

آپ کی رائے