پیکر عدل و انصاف۔۔۔۔۔امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب حصہ دوم

(Tanveer Awan, Islamabad)

خلیفہ ثانی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کو اتہائی قرب حاصل رہا ، تمام صفات وکمالات کو صحبت نبوی ﷺ کی وجہ سے جلا ملی او رتزکیہ نفس سے اخلاص و للہیت کی معراج نصیب ہوئی ،یہی وجہ تھی کہ خلیفہ الرسول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے وقت وصال امت کی زمام آپ ہی کے سپرد کی تھی ،22جمادی الثانی 13 ھجری کو آپ مسند نشین خلافت ہوئے ،آپ نے نہ صرف خلیفہ الرسول سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے جاری کردہ تمام امور کے تسلسل کو جاری رکھا بلکہ خلافت اسلامیہ کی حدود کو محیر العقول توسیع دی،نظم خلافت کو مضبوط ومربوط کرنے کے ساتھ ساتھ تمام سازشوں اور شورشوں کا مکمل خاتمہ کردیا تھا،یہاں تک کہ اسلامی خلافت ناقابل تسخیر ریاست کی صورت اختیار کرچکی تھی یہی وجہ ہے کہ ایران و روم جیسی بڑی قوتوں کے پارہ پارہ ہونے کے ساتھ اسلام کے آفاقی پیغام کو پوری دنیا میں پہنچایا ،اور وسیع رقبہ پر پھیلی خلافت کے معاملات پر خلیفہ المسلمین نے کمال ِ قوت ، حسن سیاست،مثالی عدل و انصاف اور اصلاحات سے قابو پایا کر نظم حکومت کو چلایا وہ اپنی مثال آپ ہے ۔
خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میںمفتوحہ علاقے کا رقبہ 2251030 مربع میل تھا،جن میں شام،مصر،جزیرہ، خوزستان،عراق ،عراق عجم ،آرمینیہ ، آذر بائیجان ،فارس ،کرمان ،خراسان ،بلوچستان اوربیت القدس سمیت کئی اہم علاقے شامل تھے ۔

دور فاروقی میں نظام حکومت کو چلانے اور فیصلہ سازی کے حوالے سے حضرت عثمان ،حضرت علی ،حضرت عبدالرحمن بن عوف ،حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنھم اور انصار کے نمائندوں پر مشتمل مجلس شورٰی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا ،جب کہ تمام مقبوضہ ممالک کو 8 صوبوں مکہ ،مدینہ ،شام ، جزیرہ ،بصرہ ،کوفہ ،مصر اور فلسطین میں تقسیم کرکے گورنروں کی تقرری کے علاوہ کاتب(میر منشی )،صاحب الخراج (کلکٹر )،احداث (پولیس افسر)،صاحب بیت المال اور منصف (قاضی) کو بھی متعین کیا گیا ،اسی طرح عوام کے مسائل کے بروقت حل کے لیے اضلاع اور تحصیلوں میں بھی مزید تقسیم عمل میں لائی گئی تھی ،جن کے عہدیداران کا انتخاب مجلس شوریٰ کے اجلاس عام میں ہوتا تھا،ان کے اثاثہ جات کی تفصیل لینے کے بعد عہد لیا جاتا تھا ،جب کہ ان عاملوں کے باقاعدہ وظائف مقررکئے جاتے تھے،امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے دور خلافت میں سوائے پہلے سال کے ہر سال امارت حج خود فرمایا کرتے تھے ،ان ایام حج میں تمام عمال مکہ میں حاضر ہوتے تھے ،اس موقع پر امیرالمومنین کھلی کچہری لگاتے اور عوام کی شکایات کو سن کر اس کے ازالہ کے فرامین جاری فرماتے تھے۔خراج کے نظم و نسق کے حوالے سے صیغہ خراج ،محکمہ قضاء ،محکمہ افتاء ،پولیس ،صیغہ فوج ،جیل خانہ جات ،بیت المال ،صیغہ تعلیم ،صیغہ امور دینیہ جس کے ذریعے مکاتب کاقیام ،علماء و فقہاء کا تقرر اور ان کی تنخواہوں سمیت دیگر ضروریات کا انتظام ،ائمہ کاتقرر اور درس و تدریس کا انتظام کیا جاتا تھا ، نظارت نافعہ یعنی محکمہ برائے مفاد عامہ کے قیام کے ساتھ نئے شہر بصرہ ،کوفہ ،فسطاط ،موصل اور جیزہ کی آباد کاری امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ہوئی ،آپ نے تقویم اسلامی کی ابتداءہجرت مدینہ کی بنیاد پر یکم محرم الحرام سے کروائی،جب کہ مفتوحہ علاقوں میں900 جامع مساجد اور 4000 عام مساجد تعمیر کروا کر اس میں تعلیم و تدریس کا انتظام کروایا جب کہ حرمین شریفین کی توسیع بھی آپ کے دور خلافت میں ہوئی ۔تاریخ کی سب سے پہلی مردم شماری ،کرنسی سکہ کا اجراء ،مہمان خانوں(سرائے) کی تعمیر،لاوارث بچوں کی خوراک ،تعلیم و تربیت کا انتظام اور وطائف کا اجراء دور فاروقی میں کیا گیا ۔اسی طرح خلیفہ دوم حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ذمی اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل تھی ،مفتوحہ قوموں کو جان ،مال ،مذہب کی امان دی جاتی تھی ،ان کی عزت وآبرو مسلمان کی عزت و آبرو کی طرح محفوظ تھی ۔

23 ہجری حج سے واپسی ایک متعصب ایرانی مجوسی غلام ابولؤلؤ "جو نہاوند سے قید ہو کر مغیرہ بن شعبہ کی ملکیت ہوا تھا " نے اپنے مالک کی آپ سے شکایت کی، کہ میرے مالک مغیرہ نے مجھ پر اتنی رقم عائد کررکھی ہے جسے میں نہیں ادا کرسکتا ہوں" آپ کے پوچھنے پر غلام نے کہا کہ میں بڑھئی ،لوہاری کے کام کےعلاوہ نقاش بھی ہوں۔یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ تمھارا محصول زیادہ نہیں ہے۔غلام غصہ میں چلا گیا ،اسی طرح ایک دفعہ ابولؤلؤ نے امیر المؤمنین سے کہا کہ " میں تمھارے لیے ایسی چکی بناؤں گا جس کا ذکر تمام صوبوں تک ہو گا"۔ آپ نے مسکر ا کر حاضرین مجلس کو ارشاد فرمایا " ا س لڑکے نے مجھے دھمکی دی ہے۔"

28 ذی الحجہ کی فجر کی نماز میں اسی مجوسی نے دوران نماز جب آپ امامت کروا رہے تھے ،ایک زہریلے خنجر سے آپ پر وار کیا ،آپ نے پکار کرکہا "پکڑ لو اس کتے کو ،جس نے مجھے مار دیا "،یہ کہہ کر حضرت عبدالرحمن بن عوف کو مصلی کی طرف بڑھا اور خود زمین پر گر پڑے اور آپ کے جسم سے خون کے فوارے چھوٹنے لگے ،اس ملعون مجوسی نے مسجد میں بارہ آدمیوں کو زخمی کرکے وہیں خودکشی کرلی۔

علاج کے باوجود افاقہ نہیں ہو رہا تھا ،اس دوران اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اماں عائشہ رضی اللہ عنھا کے پاس جاکر کہیں کہ عمر کی خواہش ہے کہ انہیں اپنے رفقا ء کے جوار میں دفن ہونے کی اجازت دے دی جائے ۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا پیغام سننے کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا کہ "بخدا یہ جگہ میں نے اپنے لیے منتخب کرلی تھی ،لیکن آج کے دن میں یہ قربان کئے دیتی ہوں۔"جب کہ امر خلافت کے حوالے سے امیر المؤمنین نےحضرت عثمان ،حضرت علی ، حضرت عبدالرحمن ،حضرت سعد بن وقاص ، حضرت زبیر بن عوام ،اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ پر مشتمل چھ رکنی کونسل تشکیل دی ،اورضروری ہدایات کے ساتھ آپ نے فیصلہ ان کے سپرد کردیا تھا ، اسی طرح بیت المال سے اپنی اورا ہل و عیال کی ضروریات کے لی گئی رقوم جو چھیاسی ہزار بنتی تھی عبداللہ کو وصیت کی کہ میرے بعد واپس کر دینا ۔

یکم محرم الحرام 24 ہجری کو آپکی شہادت ہو ئی اور روضۃ رسول اللہ ﷺ میں آپ کی تدفین ہوئی ، اور یوں عدل و انصاف کا آفتاب ومہتاب غروب ہو گیا ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 140847 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
08 Jun, 2017 Views: 549

Comments

آپ کی رائے