حکمت آمیز باتیں-حصہ نہم

(Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi)
یہ تحریر فیس بک کے آفیشل پیج www.facebook.com/ZulfiqarAliBokhari
پر میری کہی گئی باتوں کا مجموعہ ہے، میری سوچ سے سب کو اختلاف کا حق حاصل ہے،میری بات کو گستاخی سمجھنے والے میرے لئے ہدایت کی دعا کر سکتے ہیں۔
ہم نفرت کے معاملے میں بے حس واقع ہوئے ہیں جی کھول کر ظاہر کرتے ہیں،مگر محبت سے دنیا کو فتح کرنے کا نہیں سوچتے ہیں ہر معاملے کا حل زور زبردستی سے کرنا چاہتے ہیں پیار سے تبدیلی کی طرف نہیں آنا چاہتے ہیں۔

یہ منفی طرز عمل ہے کہ جب ہم یہ سوچنے لگ جاتے ہیں کہ ایسا ہوا تو کیا ہوگا، ویسا ہوگا تو کیا ہوگا،ہم سے کچھ غلط ہی نہ ہو جائے، ہم کسی کو دیکھ لیں گے تو کچھ ہو جائے گا، وہ ایسا سوچ رہا ہے تو وہ غلط ہے،جب تک ہم منفی سوچ رکھیں گے ہم اپنے آپ کو ہی تباہ کرتے رہیں گے،اورقصوروار دوسروں کو گرانتے رہیں گے کہ انکی وجہ سے سب ہو رہا ہے؟؟؟

جت تک ہمیں یہ معلوم نہ ہو کہ ہمارے اندر کیا قابلیت موجود ہے ہم کسی بھی طور اچھی جگہ نوکری نہیں کر سکتے ہیں لہذا اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر اوراسکو متخلف تکنیکی کورسوں کی مدد سے جلا بخش کر ہی آپ کسی بھی ادارے کے بہترین خدمات سرانجام دے سکتے ہیں اور اسکا اثاثہ بن سکتے ہیں۔

محض ایک دھوکے باز کی خاطر ہم کئی مخلص لوگوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ کسی نےدھوکا دے دیا ہے تو خود کو سزا دینی ہے،بھئی ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی کرنا بے وقوفی ہوتی ہے،دوسرا شخص تو پرسکون رہے گا مگر آپ ساری عمر کسی کے گناہ کی سزا دے کر اپنی زندگی عذاب کیوں کرتےہیں،آپ کو کسی کی وجہ سے خود کو ذہنی اذیت میں مبتلا نہیں کرنا چاہے؟؟؟

بچوں کے بگڑنے پر خیال آتا ہے کہ ہم سے کیا کوتاہی ہوئی ہے، ہم کبھی یہ نہیں سوچتے ہیں کہ ہم اپنی ذات کو کس طرح سے انکے سامنے پیش کر رہے ہیں جس کے اثرات اُن پر مرتب ہو رہے ہیں اور وہ بگاڑ کی جانب گئے ہیں۔

سیاست کرنے والے کس قدر قابل احترام ہیں آپ انکی آج کل کے بیانات سن کر اور کارنامے پڑھ کر بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں،مگر ہم پھر بھی اپنے مفادات کی خاطر انہی پر تکیہ کئے ہوئے ہیں۔

جن کو کامیابی حاصل کرنی ہوتی ہے، وہ ہر ناکامی کے بعد غلطیوں سے سیکھ کر منزل کی جانب پھر سے چلنا شروع کر دیتے ہیں۔

ہم اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے میں بڑا فخر تو محسوس کرتے ہیں یقیناً کرنا بھی چاہیے ہمیں رمضان میں اپنے کاروباری بھائیوں کی طرف جو عمدہ نمونہ مہنگائی کی صورت میں جو دیکھنا پڑ رہا ہے۔ بجلی، آٹا اور چینی کی گرانی میں اضافہ کیوں اچانک کر دیا گیا ہے اس کی وجہ کچھ اور نہیں محض روپیہ کمانا تھا یہ سیاسی اور چند ناعاقبت اندیش لوگوں کا کارنامہ ہے کہ لوگ قطاروں میں کھڑے ہوگئے ہیں؟ کہاں چلے ہیں وہ سیاسیت دان جو قوم کو خوشحالی کی طرف لے جا رہے تھے

اللہ سے توبہ کرنے پر کچھ خرچ نہیں ہوتا ہے،مگر ہم توبہ کرنے میں بھی بخیل ثابت ہوتے ہیں،اس پر بھی وقت ضائع نہیں کرتے ہیں کہ ہمارے دل دنیا میں لگ چکے ہیں ،توبہ بھی یوں اکثر کرتے ہیں جیسے جان چھڑوائی جا رہی ہوکہ بلا سر سے ٹل جائے۔

جب تک ہمارے اندر اتنا حوصلہ نہیں ہوگا کہ اپنے جرم کو تسلیم کر سکیں،اسوقت تک ہماری اصلاح کا عمل شروع نہیں ہو سکتا ہے۔

محض دوسروں کو یہ بتانے کے لئے کہ ہم کتنے اچھے ہیں ہم اپنی نیکیاں گنواتے ہیں مگر اپنی بُرائی کو چھپاتےہیں کہ کہیں شرمساری سے سر جھک نہ جائے۔

اگر آپ بہک کر واپس اصل راستے پر واپس آجاتے ہیں،تو سمجھ لیں آپ تھوڑی سی مستقل مزاجی سے حق کے راستے پر چل سکتے ہیں۔

خاموشی اکثر نیم رضا مندی ہوتی ہے کہ کہنے والے کی ہر بات درست ہو سکتی ہے۔

اگر رمضان المبارک میں بھی ہم اپنے نفس سے جیت نہیں پا رہے ہیں تو سمجھ لیں ہمارے اندر کا شیطان ابھی تک آزاد ہے۔

شرافت دکھانے والے کو پتا نہیں لوگ کیوں بے وقوف سمجھتے ہیں اور اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں

درد کو سمجھنے والے ہی درد کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

موجودہ دور میں والدین کا شمار سب سے زیادہ پریشان ہونے والوں میں ہوتا ہے جو کہ اپنی اولاد کی وجہ سے ہر پل رنج و اہم میں مبتلا رہتے ہیں اور ان میں سے بیشتر اس بات سے بھی غافل ہوتے ہیں کہ اولاد کے بگاڑ میں سب سے اہم کردار خود ان کا ہوتا ہے لیکن انکو قصور وار نظر نہیں آتا ہے؟ اگر وہ شروع سے ہی بچوں کی تعلیم وتربیت کا خیال رکھیں اور صحیح دینی تعلیم فراہم کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ انکی راحت کا سبب بنیں۔ لیکن جب پانی سر سے گزرتا ہے تب ہی ان کو ہوش آتا ہے لیکن بعض اوقات بروقت رہنمائی سے وہ مستقبل میں بہت سی پریشانیوں اور مسائل سے بچ سکتے ہیں۔

رمضان المبارک میں کھاتے پیتے افراد کو افطاری کرانے سے بہتر عمل یہ ہوگا کہ ہم مسکین اور غربا کو اس موقع پر یاد رکھیں تاکہ ہمارے اندر اور ہمارے بچوں کے اندر بھی یہ جذبہ اُجاگر ہو سکے۔

کبھی کبھی طنز اور تنقید ہمارے اندر اتنا حوصلہ بھر دیتی ہے کہ ہم وہ سب کر لیتے ہیں جس کا نہ صرف ہمارے بلکہ کسی کے بھی وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا ہے۔مگر ایسا تب ہی ہوتا ہے جب ہم اس کو مثبت طور پر لیتے ہیں۔

حق سے وہی لوگ ہی خوف زدہ ہوتے ہیں جن کے دلوں میں چور ہوتا ہے

ہم میں سے اکثر لوگ ہر پل کچھ نہ کچھ سوچتے رہتے ہیں اور یہی سوچنے کا عمل ہی ہے جو انسان سے محتلف نوعیت کے کارہائے نمایاں سرانجام دینے ،انواع و اقسام کے مسائل سے نجات بھی دلاتا ہے۔ اس بات سے سب ہی واقف ہیں کہ عملوں کا دار و مدار نیت پر ہے ۔اور انسان کے اجرو ثواب کا تعین بھی اس کی نیت پر منحصر ہے۔اسی طرح اپنے آپ کو سدھارنے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے اچھی سوچ کا ہونا ضروری ہے۔ یوں کہیے کہ سوچ جب اچھی اور مثبت طرز عمل پر مبنی ہوگی تو اس کے مطابق اپ اپنے کاموں کو سر انجام دیں گے اور اسی کے مطابق آپ کی زندگی کا سفر جاری و ساری رہے گا۔ ہر انسان کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار کسی حد تک اس کی سوچنے کے عمل یا اس کے سوچ کے دائرہ پر بھی ہوتا ہے۔

محبت کے نام پر محبت کی توہین کرنے والے محبت کے دشمن ہوتے ہیں اور دشمن کو کبھی کبھی معاف کرنا بڑا جرم بن جاتا ہے

محبت کرنے والے کبھی بھی پیار کو تماشہ نہیں بنواتے ہیں مگر محبت کرنے والوں کو بُری نگاہ سے دیکھنے والے ہی اکثر اس کو تماشہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ نامراد محبت ہے ہی توہین کردینے والا عمل ہے۔محبت کے بعد شادی کا سوچنے والوں کو جس طرح سے دنیا والے تماشہ بنواتے ہیں وہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم لوگ برائی کے عمل کے بعد اچھائی کرنے والوں کو کوئی رعایت دینے سے یکسر انکاری ہو چکے ہیں۔محبت میں مبتلا ہونے والے اپنے ہی پیاروں کو اپنی ناک کٹوانے کا ذمہ دارسمجھتے ہیں اور خاندان بھر کی رسوائی بھی انہی محبت کرنے والوں کے طفیل ہوتی ہے۔حالانکہ محبت کے بعد شادی کرنے والوں کی راہ میں رکاوٹ دل کر ایسے لوگ خود اللہ کے حکم کے برعکس چل رہے ہیں کہ قرآن میں واضح حکم ہے کہ بے نکاح افراد کا نکاح کرا دینا چاہیے۔

سچ کہوں گا کہ والدین کی دوا کی پرچی ہم سے اکثر کھو جاتی ہے مگر انکی جائیدا پر پورا حق جتانا ہمیں بہت پسند ہے،ہمیں اس کے لئے دوسرے کو بھی حق سے محروم کرنا بھی پسند ہے مگر اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا گواراہ نہیں ہوتا ہے نہ ہی انکی جائز خواہشات اورضرورتوں کا احترام کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

جس قدر ہماری اُردو زبان کو ریڈیوآر۔جے تباہ و برباد کر رہے ہیں اُس سے زیادہ کسی کا ہاتھ نہیں ہے۔حیرت تو اس بات پر ہے کہ انگریزی بولنے والے آر۔جے بھی اس طرح سے بولتےہیں جیسے کسی سے مذاق کیا جا رہا ہو،اگرچہ سب ایسا نہیں کر رہے ہیں مگر جو کر رہے ہیں انکو اپنا آپ سدھرنا چاہیے،مقبولیت حاصل کرنے کا یہ بے ڈھنگ طریقہ کار ہے کہ آپ انفرایت کے چکر میں لوگوں کے تلفظ الفاظ خراب کردیں۔

چاندی سی بہو کے آنچل کو آگ لگ جاتی ہے،وہی ایک بلا نظر آنے لگتی ہے،افسوس کی بات ہے کہ اپنی بیٹی جب بہو بن جائے تو ایسی باتیں سن کر برداشت نہیں ہوتا ہے۔

ہماری زندگی پر ہمارا حق سب سے زیادہ ہونا چاہیے، دوسروں کی باتوں کی پروا نہیں کرنی چاہیے، جہاں آپ مطمن ہو جائیں تو اُسی کے لحاظ سے گذاریں،اگر آپ اللہ کے احکامات کے برعکس جا رہے ہیں اورآپ کو اندازہ ہو جائے تو پھر آپ کو اس پر سوچنا ضرور چاہیے۔

ہمیں لباس بہترین چاہیے،موبائل فون اعلی چاہیے،گاڑی خوب صورت اور مہنگی چاہیے،تعلیم کے لئے ادارہ بھی اچھا چاہیے مگر جب بات ہوتی ہے کہ حکمران کیسے چاہیے تو پھر ہم بد ترین و بدعنوان سیاستدانوں کو ووٹ دے کر حکمران منتخب کرلیتے ہیں؟

دوسروں کے سامنے بے مثال بننے والوں میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں جو کہیں نہ کہیں کسی کے ساتھ ذیادی کرنے والوں میں شامل ہوتے ہیں۔

ہمارا دین تو کہتا ہے کہ جہاں بھی کچھ برائی ہوتے دیکھو اُس کو روکنے کی کوشش کرو، مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ اگرہم سے کوئی چھوٹا ایسا کرے تو ہم فورا سے اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے سمجھاتے ہیں،مگر جہاں ہمارے بڑے جن میں قابل احترام رشتے شامل ہیں وہاں ایسا کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ ایسا کرنا گستاخی، بدتمیزی اور نافرمانی کے زمرے میں آتی ہے۔ہم خود تو سچائی بڑوں سے بیان کرنے سے ڈرتے ہیں اور اگر کوئی اور بتادے تو بھی ہمیں برا لگتا ہےکہ کسی نے ہمارے بڑے کو ایسا کہنے کی جرات کیسے کرلی ہے۔ہم نہ تو غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ خود رکھتے ہیں اور نہ کسی اور کو اس کی اجازت کچھ معاملات میں دیتے ہیں ۔ہمیں اس حوالے سے اپنی سوچ کا زاویہ بدلنے کی ضرورت ہے کہ جہاں کوئی دلائل اور منطق سے بات کرے تو ہم بھی اسکی تائید کریں۔ایسا نہ ہونے سے کبھی بھی ہمارے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں اور اکثر ایک دن وہ ہو جاتا ہے جس کی ہم توقع نہیں کر رہے ہوتے ہیں

جب ہم اللہ سے نہیں ڈریں گے اورلوگوں کا خوف خود پر طاری کرلیں گے تو پھر ہمارے دل بھی کمزور ہو جائیں گے اور ہم ہر آہٹ پر ڈر جائیں گے۔

ہم اکثر اپنا جینا حرام کرلیتے ہیں کہ ہم دوسروں کے فیصلے تسلیم کرتے نہیں ہیں اور باغی بھی نہیں بننا چاہتے ہیں۔

ہمیں یہ کیسے اندازہ ہو سکتا ہے کہ کوئی ہمارے ساتھ غلط کر گیا ہے۔کچھ لوگ سالوں ساتھ رہتے ہیں اور جب کوئی ایک ہونا چاہتا ہے تو وہ چپکے سے الگ ہو جاتا ہے اور اگر کوئی اسکو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو بھی وہ چپ رہتا ہے تو ایسے میں خاموش رہنا انتقام ہوگا اوردرست عمل ہوگا یہ تو سوچنا ہی کم عقلی ہے۔کبھی کبھی خاموشی اس لئے بھی ہوتی ہے کہ کسی کے پاس اپنے اس عمل کا کوئی جواب نہیں ہوتا ہے کہ وہ کیوں دور ہو رہا ہے اور دوسرے پر اس کا کیا اثر ہوگا۔یہ خاموشی اپنی محبت کے اظہار کرکے دور ہونے والے کےلئے بھی ایک عذاب ہو سکتی ہے کہ وہ جان بوجھ کر کسی کو دکھ دے کر خود پر خاموشی مسلط کرلیتا ہے۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 308 Articles with 263862 views »
I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More
09 Jun, 2017 Views: 839

Comments

آپ کی رائے