درد کا احساس

(Rao Anil Ur Rehman, Lahore)
دیکھیں نا بابا! اب میں اپنے آنگن میں بھی اکیلی نہیں جاتی،
بابا! جب غیر مرد مجھ کو نظروں سے زخمی کرتے ہیں نا، تو مجھے آپکا پردہ بہت یاد آتا ہے،
دیکھیں نا بابا آپکی شہزادی کا جوتا 3 دن سے ٹوٹ گیا ہے،
بابا! آپکو پتا ہے نا مجھ سے ننگے پاوں نہیں چلا جاتا،
بابا! آپ ہمیں چھوڑ کر کیوں چلے گے؟

نظر

رات کا پچھلا پہر تھا اور میں رو رہا تھا،
اچانک میں نے سنا کسی کی سِسکیوں کی تیغ رات کے سکوت کا گلا کاٹ رہی ہے،
مجھے کچھ دیر پہلے لگ رہا تھا دنیا بھر کا دکھ میرے کندھوں پہ ایسے پڑ چکا ہے کہ اس کے بھار سے میری گردن ایسے جھک گئی کہ سر گھٹنوں پہ آگیا،
میرے بہتے ہوئے آنسوؤں میں ٹھہراؤ آیا سِسکیوں اور آہوں کے کوڑے مسلسل میری سماعت کی پیٹھ زخمی کر رہے تھے،
میں فرش کا سہارا لے کر اٹھا اور ہچکیوں کا تعاقب کیا،
کچھ آگے قبرستان میں ایک سفید لباس پہنے لڑکی جو قریب 22، 24 برس کی تھی
ایک قبر کو قلاوے میں لیے ہوئے تھی اسکے الفاظوں پہ اسکی ہچکیاں حاوی تھی،
بابا! جب سے آپ گئے ہو نا کسی نے میرے سر پہ ہاتھ رکھ کر یہ نہیں کہا بیٹا کچھ چاہیے تو شام کو لیتے آؤں گا،
بابا! اماں بیمار رہتی ہیں میں ان سے کیا مانگوں بیٹیوں کی آس تو باپ کے ساتھ ہوتی ہے ناں،
بابا! اب میں گھر پر بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتی،
بابا! آپ اکثر کہا کرتے تھے نا تم بڑی ہو گئی ہو بے فکری نہ رہا کرو کہیں آنے جانے کے وقت کسی کو ساتھ لے جایا کرو،
دیکھیں نا بابا! اب میں اپنے آنگن میں بھی اکیلی نہیں جاتی،
بابا! جب غیر مرد مجھ کو نظروں سے زخمی کرتے ہیں نا، تو مجھے آپکا پردہ بہت یاد آتا ہے،
دیکھیں نا بابا آپکی شہزادی کا جوتا 3 دن سے ٹوٹ گیا ہے،
بابا! آپکو پتا ہے نا مجھ سے ننگے پاؤں نہیں چلا جاتا،
بابا! آپ ہمیں چھوڑ کر کیوں چلے گئے؟
بابا! آپکو پتا ہے اب میں نوکری کرتی ہوں، میرا مینجر بار بار مجھے دفتر بلاتا ہے اور کاغذات، پینسل کے بہانے میرے ہاتھوں کو چھوتا ہے، اگر میں کچھ کہتی ہوں تو اس کے بعد وہ کام بھی مجھ سے کرواتا ہے جو کل کا ہوتا ہے،
بابا! مجھے نوکری نہیں کرنی، مجھے ان حریص لوگوں کے سامنے اپنی غیرت کو پامال نہیں کرنا،
آپ اللہ پاک جی کے پاس ہیں نا، ان سے کہیں کہ میری بیٹی اکیلی ہے
وہ مردوں کی ہوس بھری نظروں سے زخمی ہوتی ہے
وہ انکی زبردستیوں سے ختم ہو رہی ہے
بابا! مجھے آپکا پردہ محفوظ رکھتا تھا،
اب میرا پردہ چھن چکا ہے اب میں کسی کی نظروں سے محفوظ نہیں رہتی،
میں درخت کا سہارا لیے خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا،
ایک بیٹی اپنے بابا سے معاشرے کی شکایت کر رہی تھی،
بابا یہ دنیا اچھی نہیں ہے....
ایسی ہی کہانیوں سے ہمارا معاشرہ بھرا ہوا ہے... عورت کہیں بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتی چاہے وہ آفس ہو یا سکول, گھر ہو یا کالج, سفر ہو یا مارکیٹ..... اسلام نے تو عورت کو مکمل تحفظ دیا ہے تو پھر ہم کہاں کے مسلمان ہیں کہ ہمارے معاشرے میں عورت خود کو محفوظ نہیں سمجھتی.....قرآن مجید میں بھی اللہ مسلمان مردوں کو نظریں نیچی رکھنے کا حکم دیتا ہے . خدارا خود پر اور دوسروں پر رحم کریں-

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
10 Jun, 2017 Views: 4245

Comments

آپ کی رائے
Beti tum fikar kion karti hou ? Mein tumharay paas hi hota hoon,Ab tum bari hougayee hou,Ab tumhein khud ko eik lioness ki tareh zindagi guzarna hei,Yaqeen mano,Yeh saaray marad jo tumhari taraf khabees nazron say dekhtay hein na,Yeh sab tumsay dartay hein....Always aankhein utha kay chalo,Yaqeen mano,Yeh tumhara kuch bhi bigaar nahin saktay agar tum bibi Fatima ki tareh apnay dilmein Allah subhana wa taala say hamesha darti rahou.
By: Manzoor Ahmad Chohan, Lahore on May, 17 2018
Reply Reply
0 Like