ماہ رمضان کی فضیلت او اہمیت

(Shoukat Ullah, Banu)

یہ خدائے برتر کا کروڑ ہا کروڑ احسان ہے کہ اس نے ہمیں ماہ رمضان جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرمایا۔یہ مہینہ سال کے بارہ مہینوں میں ایک منفرد شان وشوکت رکھتا ہے۔ دن ورات وہی ہوتے ہیں ،کام وہی ہوتے ہیں اور وقت وہی ہوتا ہے لیکن پھر بھی کچھ ہوتاہے جس سے ساری فضا بدلی بدلی محسوس ہوتی ہے ، ہر سو رونقیں ہوتی ہیں ، روزمرہ کے معمولات یکسر بدل جاتے ہیں ، مسجدوں کی صفیں کم پڑ جاتی ہیں ، ذکر و اذکار میں اضافہ ہوجاتا ہے اور جو لوگ سارا سال مصروفیات یا اپنی کمزوری کی بناء پر قرآن پاک کی تلاوت نہیں کرپاتے وہ بھی تراویح میں حالت قیام میں قرآن سننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔ غرض سارا ماحول بدلا بدلا اور اجلا اجلا دکھائی دیتا ہے۔

یہ تقویٰ اور پرہیز گاری کا مہینہ ہے۔ جیسا کہ فرمان ایزدی ہے ۔ ’’ اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی ( پرہیزگار ) بن جاؤ ‘‘۔ تقویٰ کا مطلب ہے کہ اپنے نفس کو ان چیزوں سے بچانا جس سے نقصان کا اندیشہ ہو یعنی جو گناہ کا موجب ہوں۔ ذرا غور کریں کہ ایک شخص چھپ کر کھانا پینا کر سکتا ہے لیکن پھر بھی وہ اس طرح نہیں کرتا۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔ پس یہ مبارک دن ہمیں اس بات کا درس دیتے ہیں کہ ہمیں اپنے تمام معاملات ، خیالات اور نشست وبرخاست کو اسی سوچ کے تحت لے آئیں اور ان تمام امور میں رب کی رضا اور ناراضگی کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی رضامندی کو اختیار کرلے تو وہ تقویٰ کی راہ چل پڑتا ہے اور روزہ اس کے لئے ڈھال بن جاتا ہے۔ جیسا کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ تمہارا پروردگار فرماتا ہے کہ ہر نیک کام کا اجر دس سے سات سو گنا تک دیا جاتا ہے مگر روزہ صرف میرے لئے ہے اور میں ہی اسی کا بدلہ دوں گا۔ روزہ آگ کے لئے ڈھال ہے۔ بے شک روز ہ دار کے منہ کی بُو اﷲ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پسند ہے اور اگر کوئی جاہل کسی روزہ دار سے جھگڑا کرے تو اس کو چاہیئے کہ کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں۔ (صحیح بخاری ، ترمذی)

یہ زبان کی حفاظت کا مہینہ ہے۔زبان اﷲ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اس کے پاکیزہ اور شیرین استعمال سے دشمن دوست بن جاتے ہیں۔ اسلام نے اس کی حفاظت پر بہت زور دیا ہے اور روزہ دار کو آپ ﷺ نے فحش کلامی اور جھوٹ سے باز رہنے کی واضح نصیحت فرمائی ہے۔ ’’ جس شخص نے جھوٹ بولنے اور جھوٹی بات پر عمل کرنے کو ترک نہ کیا تو اس کا کھانا پینا چھوڑنے کی اﷲ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں‘‘۔

یہ صبر و تحمل کا مہینہ ہے۔زندگی درحقیقت حادثات ، نقصانات ، مشکلات اور تکالیف کو صبر و تحمل اور جوان مردی کے ساتھ مقابلہ کرنے کا نام ہے اور یہ مہینہ صبر و برداشت کا درس دیتا ہے۔ حدیث شریف ہے ۔ ’’ روزہ آدھا صبر ہے ‘‘۔ایک اور روایت میں آتا ہے کہ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے۔

یہ جسمانی تربیت کا مہینہ ہے۔روزہ بندہ مومن کی روحانی اور جسمانی دونوں طرح کی ٹریننگ کرتا ہے۔ حکیم سعید شہید ’’ مقالات سعید ‘‘ میں لکھتے ہیں۔’’ روزہ اگرچہ فاقہ نہیں ہے لیکن کھانے پینے میں ایک وقفہ ہے جو جسم کو فضلات سے پاک اور خون کو صاف کرتا ہے اور روزے دار میں مرض کے مقابلے میں قوت پیدا کرتا ہے ‘‘۔

یہ ہمدردی اور غم گساری کا مہینہ ہے۔ماہ صیام میں ایثار و ہمدردی کے جذبات فروغ پاتے ہیں ۔ سحری سے افطار تک بھوک کی یہ کیفیت ہمیں یہ بات سمجھاتی ہے کہ باقی گیارہ ماہ میں مساکینوں اور فاقہ کشوں پر کیا گزرتی ہوگی۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اس ماہ میں روزہ دار کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے اور جو کوئی اس میں روزہ دار کا روزہ افطار کرائے ، وہ اس کے لئے مغفرت کا سبب اور دوزخ سے نجات کا ذریعہ ہے۔

یہ دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے۔اﷲ تعالیٰ ہر رات یہ اعلان کرتا ہے کہ ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا ، کوئی ہے مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ، کوئی ہے آہ وبکا کرنے والا اور گڑگڑانے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ اس ماہ مبارک میں بہت کچھ ہے لیکن کمی طلب کرنے والوں کی ہے۔ ( زہے قسمت ، زہے نصیب )

یہ نظم و ضبط کا مہینہ ہے۔ذرا سوچیئے کہ ماہ رمضان میں ہمارے 24 گھنٹوں میں کس قدر نظم وضبط پیدا ہوجاتا ہے۔ سحری و افطار میں ، کھانے پینے کے اوقات میں ، ریاضت اور عبادت میں ، سونے اور جاگنے میں اور روزمرہ کے مشاغل و مصروفیات میں ایسا توازن پیدا ہوجاتا ہے کہ ہماری زندگی بامقصد نظر آنے لگتی ہے اور کامیاب زندگی اسے کہتے ہیں جو منظم و مرتب ہو۔یہ ٹھیک ہے کہ یہ مہینہ نیکیوں کا موسم بہار ہے لیکن ان نیکیوں کے حصول کے لئے محنت بھی کرنا پڑتی ہے۔ پس ہمیں محنت ، خلوص ، جذبے اور ڈسپلن کے اس درس پرباقی گیارہ ماہ میں بھی عمل کرنا چاہیئے تاکہ روزوں کا اصل مقصد ضائع نہ جائے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 125369 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Jun, 2017 Views: 379

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ