یہ بدلاؤ کے دن ہیں

(Sana Ghori, Karachi)

 ماہ صیام رحمتوں اور برکتوں کے نورانی روزوشب کا نام ہے۔ رمضان کا مہینہ محض ثواب کمانے کا ذریعہ نہیں بل کہ اس مقدس ماہ کے ذریعے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے انتیس یا تیس دنوں پر مشتمل ایک تربیت گاہ کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ماہ رمضان ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم دوڑتی بھاگتی زندگی کا یہ تیزرفتار سفر کچھ دیر کو روک کر ٹھہریں، سکون کا سانس لیں، اپنے آپ پر اور اپنے اردگرد نظر ڈالیں اور اپنے اندر وہ تبدیلیاں لے کر آئیں جو ہمارا دین ہم سے چاہتا ہے اور جو ہمارے اپنی بہتری کے لیے ناگزیر ہیں۔

ماہ رمضان میں، اگر ہم روزہ رکھنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں تو، ہماری روزمرہ زندگی میں بہت کچھ بدل جاتا ہے، بل کہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہمارے روزوشب میں ایک انقلاب رونما ہوجاتا ہے، ہمارے سونے اور اٹھنے کے اوقات مکمل طور پر تبدیل ہو کر رہ جاتے ہیں، کھانے کا وقت کچھ کا کچھ ہوجاتا ہے، ہماری بہت سی عادتیں اور لَتیں پورے رمضان نہ سہی کم ازکم روزے کے اوقات کے دوران چھوٹ جاتی ہیں، ہم بہت سی ایسی چیزوں سے گریزاں رہتے ہیں جن سے عام زندگی میں دور نہیں رہ پاتے۔ انتیس تیس دنوں کے دوران آنے والی یہ تبدیلیاں کوشش کے ذریعے مستقل کی جاسکتی ہیں، ان دنوں میں اپنی شخصیت، کردار اور نفسیات کو نکھارا اور سنوارا جاسکتا ہے، یوں ذاتی کردار کو سنوار کر اجتماعی بہتری اور معاشرے کو اخلاقی طور پر بہتر سے بہتر بنانے کا سامان کیا جاسکتا ہے، لیکن ہوتا کیا ہے، ہو کیا رہا ہے؟

ہو یہ رہا ہے کہ روزے رکھنے اور عبادتیں کرنے کے ساتھ ساتھ ہم سب بداعمالیوں میں بھی مصروف ہیں۔ تاجر دل بھر کے منافع خوری کر رہے ہیں، پھلوں کے ٹھیلوں اور دودھ کی دکانوں سے لے کر شاپنگ مالز تک جہاں جہاں بھی کوئی شے فروخت ہورہی ہے وہاں منافع خوری، ریاکاری، جھوٹ اور مکر کا جادو سرچڑھ کر بول رہا ہے۔ اشیاء دُگنی تگنی قیمتوں پر فروخت کی جارہی ہیں اور ان دعوؤں اور قسموں کے ساتھ فروخت کی جارہی ہیں کہ ’’ہم تو بس معمولی سا منافع کمارہے ہیں، قسم سے۔‘‘ کیا یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ ماہ صیام میں اہل تجارت وصنعت عبادت سمجھتے ہوئے اپنا منافع کم کردیتے، مگر صاحب عبادت اپنی جگہ تجارت اپنی جگہ۔

یہی صورت حال سیاست کے میدان میں نظر آتی ہے، جھوٹے دعوے، پُرفریب وعدے، ایک دوسرے پر الزامات، گالیاں، طنز، طعنے، اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یا سازش کا بہانہ ہاتھ آئے تو صحیح یا غلط جو بھی ہو کر گزرنا۔ یوں بھی تو ہوسکتا تھا کہ ان محترم ایام میں سیاسی جماعتوں کے قائدین کم ازکم زبان کی حد تک اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اقدار کا پاس رکھ لیتے، صرف تین عشروں کے لیے ایک دوسرے کے خلاف ہرزہ سرائی، الزام تراشی، بدزبانی کرنے اور قوم کو تقسیم کرنے کے عمل سے باز آجاتے، لیکن روزوں کے ساتھ یہ سب کارستانیاں بھی چل رہی ہیں۔

اگر میڈیا کی بات کریں تو عجیب منظر دکھائی دیتا ہے۔ جو مہینہ سادگی سے عبارت ہے، جس میں نفس کشی کی کوشش ہونی چاہیے، جس میں خود کو اور دوسروں کو لالچ، ہوس اور مادہ پرستی سے گریزاں رہنے کی تربیت دینی چاہیے، اسی مقدس مہینے کے دوران گیم شوز کے نام پر لالچ، ہوس اور مادہ پرستی کو دل بھر کے فروغ دیا جارہا ہے۔ ایسے میں ٹی وی چینلوں پر دکھائی دینے والی علماء کرام کی جانب سے اسلامی تعلیمات کے مطابق سادہ زندگی گزارنے کی نصیحتیں کون سنے گا، جب لوگوں کے لیے تحائف اور انعامات کی ایک رنگارنگ دنیا آباد ہے، جہاں بعض اوقات افراد کو کوئی انعام حاصل کرنے کے لیے عجیب وغریب حرکتیں کرنی ہوتی ہیں۔

جہاں تک تعلق ہے میرے اور آپ جیسے عام شہریوں کا تو جناب! اگر ہم اپنا جائزہ لیں تو یہ جان کر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ ماہ رمضان کے دوران عمومی طور پر سونے جاگنے اور کھانے پینے کے اوقات کی تبدیلی کے علاوہ ہم میں کوئی بدلاؤ نہیں آیا، بل کہ الٹا ہوا یہ کہ روزہ دار ہونے کے نام پر ہم خود کو مراعات یافتہ سمجھنے لگتے ہیں۔ ہم اگر کسی سرکاری یا نجی ادارے میں ملازم ہیں تو ماہ مقدس کے دوران کام چوری کو بہ طور روزہ دار اپنا حق تصور کرتے ہیں، افطار کے لیے جلدازجلد پہنچنے کی دُھن میں گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں یہ دیکھے بغیر بھگاتے ہیں کہ ہماری یہ جلدبازی کسی کے لیے یا خود ہمارے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ ذرا سی بات ہوجائے تو ہم غصے میں آپے سے باہر ہوجاتے ہیں، اور غصے جیسے حرام فعل کا جواز بھی روزے جیسی پاکیزہ عبادت قرار پاتی ہے۔ سحری اور افطار کے نام پر جس طرح بسیار خوری ہوتی ہے اور اﷲ تعالیٰ کی طرف سے عطا کیا جانے والا رزق جس بے دردی کے ساتھ ضایع کیا جاتا ہے، وہ ایک الگ المیہ ہے۔

کاش ہم سب، چاہے عام شہری ہوں، حکم راں اور سیاست داں، تاجر یا صنعت کار یا زندگی کے کسی بھی شعبے سے متعلق افراد، ماہ صیام کے رحمتوں بھرے ایام کی غرض وغایت سمجھیں اور ان دنوں کو صحیح معنی میں اپنے اندر تبدیلی لانے کا ذریعہ بنالیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sana Ghori

Read More Articles by Sana Ghori: 305 Articles with 178067 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Jun, 2017 Views: 540

Comments

آپ کی رائے