کشمیری بیٹی کا خراجِ تحسین آج بھی برقرار ہے!

(Shafqat Ullah, )

پانچ سالہ معصوم بچے سے لے کر 80سال کے بزرگ تک بھارتی عسکریت اور بھارتی حکمرانوں کے خلاف مظاہروں میں شریک ہیں ۔بھارتی قیادت اور بھارتی ایجنسیاں اس انتفادہ کو کمزور کرنے کیلئے ہر حربہ آزما رہی ہیں ۔ان حربوں میں جموں و کشمیر کی مزاحمتی قیادت کی کردار کشی ،ککہ پرے اور نبہ آزاد کی اخوان اور مسلم مجاہدین کی طر ز پر تحریک طالبان ،القاعدہ اور آئی ایس آئی ایس کے ناموں پر بھگوڑوں اور زیر حراست عسکریت پسندوں کی تنظیم سازی کرنا شامل ہے ،ایک سول وار کی طرف کشمیریوں کو دھکیلنا چاہتے ہیں جس طرح لیبیا میں ہوا تھا ۔اس خوفناک سازش کی طرف حزب سربراہ اور متحدہ جہاد کونسل کے چئیرمین سید صلاح الدین نے کئی مرتبہ کشمیری عوام اور قائدین کو متوجہ کیا ۔12مئی2017 کو انہوں نے پریس کے نام جاری پیغام میں واضح کر دیا کہ بھارتی قابض فوج ایک گھناؤنا کھیل کھیلنے کی کوششوں میں سرگرم ہے انہوں نے کہا کہ ہماری تحریک بھارتی فوجی قبضے سے مکمل آزادی اور سربلندیٔ اسلام کیلئے خالصتاََ ریاستی عوام نے برپا کی ہے اس کا کوئی عالمی ایجنڈا ہے نہ ہی کوئی بیرونی قوت اس میں سرگرم عمل ہے ۔رواں مسلح جدو جہد میں کوئی القاعدہ ،طالبان یا داعش ملوث ہے نہ اس کی گنجائش کی کوئی ضرورت ہے مصدقہ معلومات کے مطابق بھارتی ایجنسیاں تحریک آزادی ٔ کشمیر توڑنے کیلئے داعش جیسی دہشت گرد تنظیم لانچ کرنے کا منصوبہ بنا چکی ہے سید صلاح الدین نے کہا کہ یہ حقیقت ثابت ہو چکی ہے کہ داعش کو مغربی استعماری قوتوں نے عالم اسلام کو غیر مستحکم کرنے اور بر سرپیکار جہادی تنظیموں کو توڑنے کیلئے وجود میں لایا ہے اس تنظیم نے شام ،عراق،یمن ، ترکی اور افغانستان میں نہتے مسلمانوں کا بہت خون بہایا ہے لہٰذا وطن عزیز کا کوئی بھی نوجوان اسلام اور جہاد کے نام پر اس ملت دشمن تنظیم کے ہتھے نہ چڑھ جائے۔اس تمام صورتحال پر جموں و کشمیر کی مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ،مولوی عمر فاروق اور یٰسین ملک نے بھی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور قوم کو بھارتی سازشوں سے با خبر کیا ہے ۔حال ہی میں ایک مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ کشمیری عوام اور مجاہدین ِکشمیر بصیرت و حکمت کے ساتھ جدوجہدِ آزادی کے ساتھ پیوستہ رہیں ۔انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ کشمیری قوم کی حق خود ارادیت کیلئے جاری جدو جہد پوری یکسوئی اور اتحاد و اتفاق کے ساتھ جاری رہے گی اور اس کو کسی بھی انتشار اور افتراق کے حوالے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اگرچہ بھارت آج بھی کشمیریوں کی آواز دبانے کی ہر سطح پر کوشش کر رہا ہے ،وہ اپنی فوجی طاقت کا بھی بے تحاشہ استعمال کر رہا ہے اور درپردہ سازشیں رچانے میں بھی مصروف ہے ،لیکن بھارتی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ اے ایس دلت جو کہ واجپائی دور حکومت میں کشمیر افئیرز کے سربراہ کے طور پر بھی کام کرتے رہے ہیں ،اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں اس بات کا برملا اعتراف کرتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے ،کیونکہ وہ پہلی بار کشمیری طلبا ء اور طالبات کو سڑکوں پر نکل کر بھارت کے خلاف نفرت اور غم و غصے کا اظہار کرتے دیکھ رہا ہے ، یہ بچے اور بچیاں بے قابو ہیں ، بھارتی فوج ان کے سامنے بے بس دکھائی دے رہی ہے ۔اتنا ہی نہیں اے ایس دلت اپنے اسی انٹرویو میں اس بات کا بھی اعتراف کرتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بہت کشیدہ اور پیچیدہ ہے اور بقول دلت کے اس نے ایسی صورتحال اپنی سروس میں کبھی نہیں دیکھی ۔یہ بچے اور بچیاں اس بات سے بے پرواہ ہیں کہ ان کے سڑکوں پر نکلنے سے ان کے والدین ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور جب یہ صورتحال ہو تو کسی قوم کو زیادہ دیر تک غلام بنائے رکھنا ممکن نہیں ۔کیا ان واقعات کے بعد بھی کوئی عقل کا اندھا یہ کہہ کر اپنے آپ کو مذاق بنائے کہ کشمیری نوجوانوں میں بے روزگاری کے باعث غم و غصہ پایا جاتا ہے بھارت اور اس کے ریاستی حواری جتنا جلد ہو سکے کشمیری عوام کی آواز پر کان دھریں کہ فیس سیونگ کے مصداق شائد بھارت کی ساکھ بچ جائے ورنہ بھارتی فوج کے سابق جرنیل اور سابق را ء سربراہ اے ایس دلت نے جن چیزوں کی نشاندہی کی ہے اس کے بعد بھارت اور اس کے حواریوں کے پلے ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں پڑے گا۔کشمیری کبھی بھی بکے اور جھکے نہیں، پیسوں اور کرسی کی لالچ بھی کشمیری کے ضمیر کا سودا نہ کر سکی، کشمیری خواتین کا تحریک آزادی میں نمایاں کردار ہے، ان کی قربانیاں لازوال ہیں، ان عزت مآب ماؤں ،بہنوں اور بیٹیوں نے بارہا میدان میں نکل کر آزادی کیلئے مارچ کئے ۔گزشتہ تیس سالوں سے کشمیری خواتین پیش پیش رہیں ہیں ہر احتجاج میں کشمیری خواتین اور بچے شامل رہے پہلی بار کشمیری طلباء و طالبات گزشتہ کئی دنوں سے سڑکوں پر ہیں ،کشمیر یونیورسٹی کی دلیر طالبات پہلے بھی میدان میں نکل چکی ہیں ،سکولوں اور کالجوں کی طالبات بھارتی فوجیوں کو للکار رہیں ہیں ان پر پتھر اور جوتے برسا رہی ہیں، پہلے بزرگ خواتین قابض بھارتی فوج پر کانگڑیاں برساتیں تھیں ،آج سکولوں کالجوں کی بچیاں بھارتی فوجیوں پر جوتے اور پتھربرساتی ہیں بھارت اسی رجحان سے خوفزدہ ہے کہ دودھ پیتے بچے بھی فوجیوں پر پتھر پھینک کر ان کی تذلیل کرتے ہیں ،یعنی آئندہ سوسال تک کشمیری خاموش نہیں بیٹھیں گے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک اور فریڈم فائٹرز نسل پیدا ہو گی جس کی رگ و پے میں آزادی ہو گی۔بھارت سے نفرت اور انتقام کا جذبہ کشمیر پر بھارت کے جابرانہ قبضے کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ بھارت کشمیریوں کی گولی ، پتھر پر بھی پاکستانی کا الزام لگاتا ہے مگر وہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق آزادی کی جنگ کو ختم نہ کر سکا ۔سرینگر کی ماؤں ،بہنوں اور بیٹیوں کو سلام ، جو ایک ہاتھ میں قلم اور دوسرے ہاتھ میں پتھر اٹھا کر بھارت کو للکار رہیں ہیں وہ دنیا کو بتا رہیں ہیں کہ کشمیری بھارت سے آزادی چھین لیں گے کیونکہ کشمیر کا بچہ بچہ بھارت کی غلامی سے چھٹکارہ اور آزادی چاہتا ہے کشمیری بیٹی کا خراج تحسین آج بھی برقرار ہے ،وہ اپنے بھائیوں اور بیٹوں کے شانہ بشانہ آج بھی جابر اور قابض بھارت کے خلاف صف آراء ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 209 Articles with 87851 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
15 Jun, 2017 Views: 518

Comments

آپ کی رائے