میزبان رسول ﷺ

(Shoukat Ullah, Banu)

آپ ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے تین دن تک غار ثورمیں رہے اور پھر نامانوس راستوں سے ہوتے ہوئے آٹھ ربیع الاول 14 نبوی ﷺ کو دوپہر کے وقت مدینہ منورہ سے چند میل کے فاصلے پر واقع قباء نامی بستی پہنچے۔ اہل ِ مدینہ کو پہلے ہی آپ ﷺ کی مکہ سے روانگی کی اطلاع مل چکی تھی۔ جب آپ ﷺ قباء پہنچے تو انہوں نے والہانہ جوش و جذبے اور عقیدت و احترام کے ساتھ آپ ﷺ کا شاندار استقبال کیا۔ قباء میں قیام کے دوران آپ ﷺ نے ایک چھوٹی سی مسجد بھی تعمیر کرائی جو مسجد قباء کے نام سے آج بھی موسوم ہے۔ یہ اسلام کی تاریخ میں سب سے پہلی مسجد ہے۔ یہاں چند روز قیام کرنے کے بعد آپ ﷺ اونٹنی پر سوار ہوکر مدینہ شہر کی طرف روانہ ہوگئے۔مدینہ شہر میں آپ ﷺ کی آمد کے وقت لوگوں کی خوشی اپنی انتہا پر تھی۔عورتیں مکانوں کی چھتوں پر چڑھ آئی تھیں۔ سب لوگوں کی خواہش تھی کہ آپ ﷺ ان کے گھر آکر ٹھہریں۔ ہر کوئی یہ درخواست لیے کھڑا تھا کہ آپ ﷺ ہمارے مہمان بنیں۔ مدینہ کے بڑے بڑے سردار باری باری اونٹنی کے آگے کھڑے ہوجاتے اور عرض کرتے۔ ’’اے اﷲ کے رسول ؐ! آپ ہمارے ہاں قیام فرمائیں۔ ہمارے جان و مال سب کچھ حاضر ہیں ‘‘۔ لیکن آپ ﷺ ہر ایک کو یہ جواب دیتے کہ میری اونٹنی کو چھوڑ دو، یہ اﷲ کے حکم سے جہاں کہیں ٹھہرے گی وہیں میرا قیام ہوگا۔

اونٹنی اپنی متعین منزل کی طرف بڑھتی رہی۔ جب وہ کسی مکان کے سامنے سے گزر جاتی تو اس گھر کے مکینوں پر حزن و ملال طاری ہوجاتا اور آگے آنے والے گھروں کے مکینوں کے دلوں میں اُمید کی کرنیں روشن ہو جاتیں۔ اونٹنی ایک ایک کرکے مختلف گھروں کے سامنے سے گزرتی رہی۔ لوگ اس خوش بخت میزبان رسول ﷺ کو جاننے کے لئے اونٹنی کے پیچھے پیچھے چلتے رہے۔ حتیٰ کہ اونٹنی ایک انصاری کے مکان کے سامنے خالی پڑے ہوئے میدان میں پہنچ کر بیٹھ گئی۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اس کی پیٹھ پر بیٹھے رہے۔ تھوڑی دیر بعد اونٹنی ایک جھٹکے کے ساتھ اُٹھی۔ آپ ﷺ نے اس کی نکیل ڈھیلی چھوڑ دی۔ چند قدم چل کر اونٹنی واپس اسی مکان کے سامنے خالی میدان میں بیٹھ گئی۔خزرج کے خاندان بنو نجار سے تعلق رکھنے والے اس خوش قسمت انصاری کا نام حضرت خالد بن زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تھا۔جس کی کنیت ’ابو ایوب ‘ مشہور تھی اور بہت کم لوگ ان کا اصل نام جانتے تھے۔حضرت ابو ایوب انصاری ؓ نے تیزی سے لپک کر آپ ﷺ کا سامان اٹھا لیا اور اپنے میزبان کو خوشی خوشی اس طرح گھر لائے جیسے ساری دنیا کا خزانہ ان کے ہاتھ آگیا ہو۔

حضرت ابوایوب انصاری ؓ کا مکان دو منزلہ تھا ۔ آپﷺ نے قیام کے لئے نچلی منزل کو بالائی منزل پر ترجیح دی۔ جب رات کو آپﷺ اپنی خواب گاہ میں تشریف لے گئے تو آپ ؓ اور اہلیہ بالائی منزل میں چلے گئے لیکن انہوں نے ساری رات اس کش مکش اور بے چینی میں بسر کی کہ آپ ﷺ نیچے سو ئیں اور ہم ان سے اوپر رہیں۔صبح ہوتے ہی بارگاہ رسالت میں سارا ماجرا بیان کیا۔ آپ ﷺ نے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا ۔ ’’ ابوایوب ؓ اس کی فکر مت کرو۔ میرا نیچے رہنا اس لئے مناسب ہے کہ بکثرت لو گ مجھ سے ملنے کے لئے آتے رہتے ہیں ‘‘۔آپﷺ تقریباً سات ماہ تک آپ ؓ کے مکان میں قیام پذیر رہے ۔ یہاں تک کہ جب مسجد نبویؐ کی تعمیر مکمل ہوئی تو آپ ﷺ ان حجروں میں منتقل ہوگئے جو مسجد کے ارد گرد آپ ﷺ اور ازواج مطہرات کے لئے بنائے گئے تھے۔

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ غزوہ بدر سے بیعت رضوان اور بیعت رضوان سے حنین تکتمام معرکوں میں شریک ہوئے اور کوئی ایسامعرکہ نہ تھا کہ جس میں آپ ؓ حضورؐ کے ہم رکاب نہ رہے ہوں۔ آپ ؓ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپؓ نے آپ ﷺ کے وقت سے لے کر حضرت معاویہ ؓ کے دور تک مسلسل جنگوں میں حصہ لیا۔جب حضرت امیر معاویہؓ کے دور میں مسلمان فوج نیقسطنطنیہ کا محاصرہ کیا تو آپؓ ضعیف العمری کے باوجود اس میں شامل ہوئے تھے۔جنگ کے دوران آپ ؓ کی طبیعت بہت خراب ہوئی تو مسلمان فوج کے سربراہ یزید بن معاویہ نے آپ ؓ کی خواہش پوچھی تو آپ ؓ نے جواب دیا۔ ’’ مجھے دشمن کی زمین میں جہاں تک ہوسکے اندر لے جا کر دفنا دینا ‘‘۔مسلمان فوج نے رومیوں پر تابڑ توڑ حملے کئے اور اُن کو پیچھے دھکیل کر شہر کی فصیل تک لے گئے۔ اور آپؓ کو وہیں مدفون کیا۔آج بھی ترک حکومت ان کے مزار کی نگران ہے اور وہاں عقیدت مندوں کا ہجوم رہتا ہے۔آپ ؓ کی ساری زندگی بے شمار فضائل سے بھری پڑی ہے ۔ شجاعت و بہادری ، جذبہ جہاد اور قران و حدیث سے بے انتہا شغف آپ ؓ کی سیرت کے نمایاں پہلو ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 129264 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jun, 2017 Views: 440

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ