محبت اک سلسلہ تشنگی(قسط ٦)

(kanwalnaveed, Karachi)

غزالہ نے اس کی طرف مایوسی سے دیکھا۔ کچھ کہا تم نے شارب۔
شارب نے واش روم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا امی وہ مجھے ۔ غزالہ سمجھ گئی ، اچھا میں عارف کو بھیجتی ہوں ۔ غزالہ کمرے سے جا چکی تھی۔ شارب سوچنے لگا۔ یہ قوت ارادی کہاں سے ملتی ہے جس سے میں دوبارہ پہلے جیسا ہو جاوں ۔ اس نے اپنے بستر پر پیچھے کی طرف خود کو گھسیٹا تا کہ اپنا لیب ٹاپ اُٹھا سکے ۔ جو اون ہوتے ہی بیٹری ختم ہونے کا سگنل دے کر بند ہو چکا تھا۔ اس کی بیٹری کافی دور پڑی تھی۔ وہ بے بسی سے دور پڑی بیٹری کو دیکھ رہا تھا۔ اسے اب پیٹ میں درد ہو رہی تھی۔ واش روم لے کر جانے کے لیے عارف نہیں آ یا تھا۔ اس نے ذور سے آواز دی ۔ امی۔اسی کی آواز کا کوئی رسپانس نہیں آیا تھا۔ اس نے خود کو گھسیٹ کر اُٹھنے کی کوشش میں خود کو بستر سے نیچے گِرا دیا۔ پہلی دفعہ اسے محسوس ہوا کہ اس کا وزن کافی ذیادہ ہے۔ انسان کا بوجھ انسان خود کہاں اُٹھاتا ہے ۔ کوئی ہے جو پرندوں کو ہوا میں گِرنے نہیں دیتا اور انسان کو زمین پر چلنے کی آسانی دیتا ہے۔اس کی ساری قوت ارادی جھاگ کی طرح بیٹھنے لگی۔ اس کے کپڑے پیشاب سے گندے ہو چکے تھے۔ وہ واش روم کے دروازے تک تو پہنچ چکا تھا۔ لیکن گھسیٹ گیٹ کر اس کے ہاتھ میں شدید درد ہو رہا تھا۔ واش روم کے دروازے کے آ گے اس کی ہمت نے دم توڑ دیا۔
غزالہ عارف کے کمرے میں بیٹھی تھی۔ یہ لڑکا بھی نا پورا کمرہ پھیلا کر رکھتا ہے۔ وہ بڑبڑ ھاتے ہوئے کمرے میں پھیلی ہوئی چیزیں سمیٹ رہی تھیں ۔ پھر انہوں نے ذور سے عارف کو آواز دی۔ عارف کتنی دیر ہے بیٹا ۔ بھائی کے پاس جاو ْ ۔شارب تمہیں بلا رہا تھا۔ کافی دیر ہو رہی ہے۔ اسے واش روم جانا ہے ۔
عارف واش روم میں سے ہی چلایا۔ امی میں نہا رہا ہوں ۔آپ جائیں۔ غزالہ نے غصے سے کہا آدھےگھنٹے سے تم یہ ہی کہہ رہے ہو ۔ کتنی دیر لگتی ہے نہانے میں ۔ عارف نے کوئی جواب نہ دیا۔ غزالہ پریشانی کے عالم میں باہر آتے ہوئے سوچ رہی تھیں ۔ کیا میں لے جاوں شارب کو واش روم ۔ میرا بیٹا ہے ۔ لیکن وہ ۔ پتہ نہیں اس کا وزن سہار پاوں کی یا نہیں ۔ یہ نہ ہو دونوں ہی گِر جائیں ۔ وہ رونے لگیں ۔ دروزاے پر دستک ہوئی۔ وقار بھائی۔ غزالہ نے دیکھتے ہی کہا۔
وقار بھائی غزالہ کے جیٹھ اور حسن کے سگے بھائی تھے۔ انہوں نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ فاخرہ کہہ رہی تھی کہ شارب کو دیکھ کر آ تے ہیں تو۔ غزالہ نے وقار بھائی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ فاخرہ کہاں ہیں ۔ وقار بھائی نے گھر میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔ وہ تو گاڑی پارک کر رہی ہے۔ میری کمر میں درد تھا اس لیے میں نے کہا تمہیں جانا ہے تم ہی گاڑی چلاو۔
غزالہ انہیں گیسٹ روم میں لے آئیں ۔آپ بیٹھیں بھائی ۔ میں ابھی آتی ہوں ۔ وہ عارف کے کمرے میں آ ئیں جو ابھی تک واش روم میں ہی نہا رہا تھا۔ وہ شارب کے کمرے میں گئی۔ شارب انہیں اپنی آ واز اندر تک خود کو کاٹتی ہوئی محسوس ہوئی ۔ شارب رو رہا تھا۔ وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھا۔ اس کےسارے کپڑے گندے تھے۔ وہ دروازے کو پکڑ کر گھڑی دم بخود اسے دیکھ رہی تھیں کہ عارف پیچھے سے آیا ۔ امی ہٹیں ۔
عارف شارب کے قریب پہنچا تو کراہت سے ذرا ہٹ کر کھڑا ہو گیا۔ امی مجھے جمعہ پڑھنے جانا ہے۔ بھائی تو ۔ میں کیا کروں۔غزالہ نے غصے سے عارف کی طرف دیکھا۔ وہ دونوں ہی شارب سے کچھ دور فاصلے پر کھڑے تھے۔غزالہ نے دانت پیستے ہوئےعارف سے کہا۔ میں اس کے کپڑے کیسے بدلوں گی ۔ تم کیسے بھائی ہو۔
عارف بھرم ہو گیا۔ امی بھائی تو اب یوں ہی رہنے والا ہے۔ آپ مجھ سے کیا امید کرتی ہیں ۔ میں اس کی آیا بن جاوں ۔ سوری مجھ سے پوٹیاں صاف نہیں ہوتیں ۔ بھائی کو آپ پمپر پہنائیں یا پھر کوئی میل نرس رکھ لیں ۔ میں نماز کے لیے جا رہا ہوں ۔میرے کپڑے ناپاک ہو جائیں گئے۔ مجھے ویسے بھی جمعہ کے لیے دیر ہو رہی ہے ۔ عارف کمرے سے نکلا تو خوشبو بدبو میں بدل چکی تھی۔ غزالہ ماں تھی ۔ وہ اس طرح کمرے سے نہیں جا سکتی تھی۔ اس نے شارب کو گلے سے لگا لیا جو رو رو کر تھک چکا تھا۔ اسے اپنا وجود کسی بے کار پتھر کا سا محسوس ہو رہا تھا۔ غزالہ نے اس کی واش روم کے اندر جانے میں مدد کی پھر اس کے کپڑے تبدیل کیے۔ شارب دل ہی دل میں سوچ رہا تھا۔ کاش کہ میں مر جاتا ۔ اسے اپنے اندر کسی کا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا۔ اس کی ماں جب اس پر پانی ڈال رہی تھی ۔ اس کی گندگی صاف کرنے کے لیے اسے ہاتھ لگا رہی تھی۔ وہ دونوں ہی رو رہے تھے ۔شارب سوچ رہا تھا۔ روز مرنے سے ایک دن کا مر جانا کناق اچھا ہے۔ کاش کہ رب کو میں قوکل ہوتا لنک میری ضرورت شاہد اسے بیا نہیں تھی۔ وہ اپنے ہاتھ سے اپنی ماں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مائیں اپنے بچوں کے لیے قدرت کا انمول تحہے ہوتی ہیں جو مر بھی رہی ہوں تو اولاد سے منہ نںیو پریےتی ۔شارب غزالہ کے منہ کی طرف بار بار دیکھ رہا تھا۔ اس نے کیوں اپنی ماں کے بارے میں نہیں سوچا ۔ اسے ایک لڑکی نے ایسا اندھا کر دیا تھا۔ وہ سوچتا جارہا تھااور غزالہ کی طرف دیکتا جا رہا تھا۔
کمرے میں نازیہ آئی تو شارب اور غزالہ واش روم میں تھے ۔ اس نے آواز دی ۔ امی فاخرہ آنٹی آپ کا پوچھ رہی ہیں غزالہ نے نازیہ سے بھری ہوئی آ واز میں کہا نازیہ بیٹا بھائی کے الماری سے کپڑے نکال دو ۔ بیڈ پر رکھ دو۔ نازیہ کو عجیب سا محسوس ہوا ۔ امی عارف کہاں ہے۔ غزالہ نے افسردگی سے کہا جتنا کہا ہے اُتنا کرو ۔ نازیہ نے کافی عرصہ بعد شارب کی الماری کھولی تھی۔ کھولتے ہی خوشبو کا جھونکا باہر آتا ہوا محسوس ہوا۔ شارب کو پرفیوم جمع کرنے کا شوق تھا۔ اس کے پاس مختلف قسم کی خوسبووں کی کولیکشن تھی۔
نازیہ نے کپرے نکال کر الماری بند کر دی۔اسےاپنی ماں کی بے بس اور اپنے بھائی کی لاچاری کا شدت سے احساس ہو رہا تھا۔ زندگی پل میں کس طرح بدل جاتی ہے۔ شارب کا کیا ہو گا ۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی ۔ اس کے آنسو انکھوں سے چھلکنے لگے ۔ ہم جس قدر موت کو آسان سمجھتے ہیں ۔ اس قدر آسانی سے میسر نہیں ہوتی۔ بھائی نے خود کے ساتھ کیسا ظلم کر لیا۔ پھےل سے فاخرہ کمرے میں داخل ہوئی تو نازیہ چونک گئی اسے عجیب شرمندگی محسوس ہوئی۔ جو اب ان کی زندگیوں کا حصہ بننے والی تھی۔ فاخرہ نے سب کچھ سمجےتا ہوئے بھی انجان بتے ہوئے کہا۔ شارب کہاں ہے ۔ تمہاری امی کہاں ہیں ۔ہمیں بیاھ کر تو وہ غائب ہی ہو گئی۔
نازیہ نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا۔ آپ گٹسو روم میں جا کر بھیں ہم آتے ہیں۔ غزالہ نے نازیہ کو آواز دی۔ نازی تم یہاں ہی ہو یا چلی گئی۔ نازیہ نے افسردگی سے کہا ۔ یہاں ہی ہوں امی۔ غزالہ نے کہا ۔ تم چلی جاو یہاں سے۔ نازیہ اور فاخرہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ نازیہ کمرے سے نکل گئی فاخرہ اس کے پھےا پیےھ تھی۔
سبین نے شارب کو فون کیا۔ شارب کا فون اس کے سٹڈی ٹیبل پر پڑا تھا ۔ جو نازیہ نے کمرہ ٹھیک کرتے ہوئے رکھ دیا تھا۔ گھنٹی بج رہی تھی۔شارب فون کو دیکھ رہا تھا۔ کون فون کر رہا ہے مجھے ۔ مجھے کوئی کیوں فون کرئے گا۔ ایک اپائیج اور بیکار انسان کو ایک ایسے انسان کو جو خود اپنے کپڑے تک نہیں بدل سکتا ۔ وہ چھوٹے بچے کی طرح رونے لگا۔ ڈاکٹر کا دیا جانے والا لیکچر اس کے دل و دماغ سے محو ہو چکا تھا۔ اس کی ماں پچھلے ایک ہفتہ سے اس کی دیکھ بھال کر رہی تھی۔ وہ دن رات مرنے کی دُعا کر رہا تھا۔ اس کے اندر موت کا خوف اس قدر بڑھ چکا تھاکہ اب وہ مرنے کے لیے خود کچھ کرنے کو تیار نہ تھا سوائے دعا کرنے کے۔ وہ ان دنوں کو یاد کرکر کے دن گزارتا جب وہ ٹھیک ہوتا تھا۔
گھنٹی مسلسل جاری تھی ۔ نازیہ کمرے میں آئی ۔ اس نے شارب کی طرف دیکھا۔ اس کی نظر موبائل پر پڑی اس نے موبائل اُٹھا کر شارب کو دیا ۔ بھائی آپ کا فون ۔شارب نے فون کو دیکھا۔جس کی بیٹری ختم ہونے والی تھی۔ اس نے نازیہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ کیا تم مجھے موبائل کا چارجر اور ایکسٹینشن دے سکتی ہو۔ فون کی بیل بج رہی تھی۔ نازیہ نے جی کہا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔ شارب نے سبین کی ہلکی سی آواز سنی۔ شارب کیسے ہو؟
شارب نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔ کاش کہ مر جاتا یا جی جاتا۔ سبین نے افسردہ لہجے میں کہا۔ اب کیسے ہو۔ شارب نے خاموشی سے فون بند کر کے چارجر لگا دیا۔ اس نے اپنا لیب ٹاپ کھولا اور اس میں سبین کی تصویروں والے فولڈر کو ڈلیٹ کر دیا۔ اس کے لیب ٹاپ پر جو کچھ بھی سبین سے متعلقہ تھا۔ اس نے ایک ایک چیز کو ڈلیٹ کر دیا۔ اس نے اپنا نوٹ پیڈ نکالا اور ایک ایک لفظ بہت دیر دیر تک دیکھنے کے بعد لکھا۔
ہم کاش کہ اپنے وجود سے ناپسندیدہ یادوں کو ڈلیٹ کر پاتے ۔ کاش کہ انسان اپنی دوبارہ پروگریمنگ کر سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبین نے کافی دفعہ فون کیا ۔ شارب نے فون نہیں اُٹھایا ۔ اسے عجیب بے چینی محسوس ہو رہی تھی۔ شارب نے کچھ کہا کیوں نہیں ۔ وہ کیسا ہو گا۔ کیا وہ بلکل ٹھیک ہے ۔ کیا وہ ٹھیک نہیں ۔ میرے اللہ میں کیا کروں ۔ کافی دیر گارڈن میں چلنے کے بعد بھی بے چینی تھی کہ اس کے وجود سے جانے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ وہ اپنے آپ سے بڑبڑھائی شارب میرا فون کیوں نہیں لیتا ۔ اب کیا کروں۔
وہ کمرے میں آ چکی تھی ۔ شارب نے اسے جو کتاب دی تھی وہ اسے گھور گھور کر دیکھنے لگی ۔ جیسے وہ شارب کی طرح اس سے ہمکلام ہو جائے گی۔ اس نے پھر ورق گردانی کرنی شروع کی۔ ایک غزل کا شعر اسے پسند آیا۔
مجھے بھی ڈھونڈ کبھی محو آئینہ داری
میں تیرا عکس ہوں لیکن تجھے دیکھائی نہ دوں
اسے غزل کا شعر اچھا لگا ۔ اس نے اپنے آپ سے کہا۔ کہیں مجھے بھی تو شارب سے محبت نہیں ہو گی۔ یہ کیا ہے۔ میری سوچ اس سے جدا ہی نہیں ہو رہی۔ میں کیوں یہ کتاب پڑھ رہی ہوں مجھے تو اس میں کوئی دلچسپی ہی نہ تھی۔ وہ اپنے پڑھے ہوئے شعر کو دُہرا رہی تھی ۔ پھر اس نے غزل کو
مطلع سے شروع کی ۔
تڑپ اُٹھوں بھی تو ظالم تیری دُہائی نہ دوں۔
میں زخم زخم ہوں پھر بھی تجھے دکھائی نہ دوں۔
تیرے دل میں دھڑکنے لگا ہوں دل کی طرح۔
یہ اور بات ہے کہ اب بھی تجھے سنائی نہ دوں۔
اس نے چھ دفعہ یہ شعر دُہرایا۔پھر اس نے غزل کو مذید پڑھنے کے لیے نظر نیچے کی۔
خود اپنے آپ کو پرکھا تو یہ ندامت ہے۔
کہ اب کبھی اسے الزام بے وفائی نہ دوں۔
میری بقا ہی مری خواہش گناہ میں ہے۔
میں زندگی کو کبھی زہر پارسائی نہ دوں۔
سبین کے موبائل پر رینگ ہوئی تو اس نے کتاب رکھ کر فوراً فون اُٹھا لیا۔ شارب تم نے فون کیوں کاٹ دیا تھا میرا ۔ بولو نا تم ٹھیک تو ہو۔
شارب نے اس کی بات مکمل سننے کے بعد کہا۔ کوئی بات کرنے کو رہی ہی نہیں تو کیا کروں ۔ تمہارا نکاح ہو گیا۔ سبین نے شرمندگی سے اپنا ہونٹ کاٹا ۔ نکاح ۔ وہ ۔ وہ ۔ میں نے تو یوں ہی مذاق کیا تھا۔ شارپ کو اپنے پورے جسم میں جلن اُترتی محسوس ہوئی ۔ تمہارے ایک مذاق نے میری پوری زندگی بدل دی سبین۔دونوں طرف کچھ دیر کی خاموشی رہی ۔ پھر سبین نے کہا ۔ تمہاری اس حرکت نے میری بھی زندگی بدل دی۔ میں سوچتی تھی کہ آج کہ دور میں محبت صرف کتابی ہی ہے ۔ کوئی کسی کی خاطر کچھ نہیں کرتا ۔ تمہاری روح شاہد اس دور کی نہیں ۔ اس کا لہجہ تمسخر خیز تھا۔
شارب نے اس کی بات کو اپنے ذہین میں دُہرایا۔ کچھ مایوسی کے ساتھ بولا ۔ تم یہ کہنا چاہ رہی ہو کہ تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی ہے ۔ سبین نے کچھ دیر کے تحمل کے بعد کہا۔ لگتا تو کچھ ایسا ہی ہے۔پتہ نہیں شاہد ہاں شاہد نہیں ۔
شارب نے فون پھر سے بند کر دیا۔ کچھ دیر فون کو دیکھنے کے بعد اس نے فون پاورڈ آف کر دیا۔ وہ سوچنے لگا ۔کاش کہ وہ خود کشی کرنے کی بجائے سبین کو پانے کی کوشش کرتا ۔ اگر وہ نہ بھی ملتی تو دنیا ختم تھوڑی ہو گی تھی۔ کیسی حماقت کی اس نے۔ اللہ کی دی ہوئی سب سے خوبصورت نعمت کو ٹھکرا دیا۔اسے ڈاکٹر کا دیا ہوا لیکچر یاد آنے لگا۔
وہ انکھیں بند کر کے اس کی اس بات کو دُہرانے لگا ۔ جس نے اسے سب سے ذیادہ متاثر کیا تھا۔
ارادہ ایک لوہے کی مانند ہوتا ہے۔جس کے چاروں طرف خواہش کا مقناطیس ہوتا ہے۔جس مقناطیس میں زیادہ قوت ہو گی،وہ ہی اس لوہے کو کھینچے گا۔آپ اپنے ارادے سے کچھ بھی حاصل کر سکتے ہیں ۔کچھ بھی۔
جن لوگوں کی قوت ارادی مضبوط ہوتی ہے ۔اُنہیں اپنے آپ پر قابو ہوتا ہے۔وہ بہت سنجیدہ ہوتے ہیں ۔وہ پرسکون اور مطمین ہوتے ہیں۔ سچے دل سے انسان جب کسی خواہش کو پانے کے لیے ارادہ کرتا ہے ۔ اس کی کوشش میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہوتا ہے تو وہ اپنے مقصد کو ضرور پا لیتا ہے۔ شارب نے اپنی انکھیں کھول لیں ۔ اسے اپنے دل کی دھرکن تیز ہوتی ہوئی محسوس ہوئی ۔ وہ اپنے مفلوج جسم کو دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے انٹرنیٹ سے ایسے بہت سے لوگوں کی آٹو بائیو گرافی ڈون لوڈ کیں جو کسی حادثہ کی وجہ سے مفلوج ہو نے کے بعد زندگی کی طرف لوٹ آئے تھے ۔ اس نے دوبارہ جینے کا فیصلہ کیا۔ وہ ضرور کچھ ایسا کرئے گا ،جس سے وہ دوسروں پر بوجھ نہ رہے ۔ اس کے پاس ویل چیر نہ تھی ۔وہ نکولس کی زندگی پر مبنی ویڈیو دیکھ رہا تھا۔ جو آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والا بغیر ہاتھ اور پیر کے پیدا ہونے والا آدمی تھا۔ جس نے اپنی محنت سے اپنی زندگی بدل دی تھی۔شارب سوچ رہا تھا۔ کیا وہ کچھ ایساکر پائے گا۔ کاش وہ جو کر چکا ہے وہ نہ کرتا۔ اس کا کاش ختم ہونے کا نام نہیں لیتا تھا۔
وہ محبت سے متعلق سوچتا بھی نہیں تھا۔ ہر وقت جو سبین نام کی گھنٹی اس کے دماغ میں بجتی تھی ، جسے وہ محبت کا نام دیتا تھا بند ہو چکی تھی۔ اس کی جگہ کاش نے لے لی تھی۔ زندگی کس قدر قیمتی ہے ۔ رب کی نعمتیں کس قدر قیمتی ہیں اسے اس کا شدت سے احساس ہو رہا تھا۔
اس نے بی اے کے امتحان دینے کی ٹھانی ۔ اس کا تذکرہ اس نے غزالہ سے کیا۔ جو کچھ پریشان سی لگ رہی تھیں ۔شارب جاننا چاہتا تھامسلہ کیا ہےلیکن غزالہ کی خاموشی نے اسے کچھ بھی سمجھنے کا موقع نہ دیا۔
غزالہ بہت پریشان تھی۔ اس کے لیے گھر کے کاموں کے ساتھ ساتھ شارب کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔ اس نے جب حسن سے اپنی مشکل بانٹی تو اسے مذید باتیں ہی سننے کو ملی ۔حسن نے چیختے ہوئے کہا۔ میری مالی حیثیت ایسی نہیں ہے کہ میں تمہارے بیٹے کے لیے میل نرس کا انتظام کروں ۔ گھر میں جوان لڑکی ہے۔ سارا دن کسی غیر مرد کا گھر میں ہونا درست بھی نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نازیہ کے دل پر توقیر کی بے وفائی نے گہرا اثر کیا تھا۔اس کی زندگی میں بہت تبدیلی آ چکی تھی۔ اس نے فوزیہ سے دوستی چھوڑ دی تھی۔ اس نے توقیر سے متعلقہ ہر چیز کو خود سے دور کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ وہ ہر جمعہ کو درس پر جانے لگی تھی۔ اسے اپنے کیے پر بہت افسوس تھا۔ وہ ہ رات سوچتی جو دھوکا اس نے اپنے والدین کے ساتھ کیا ہے اسے نہیں کرنا چاہیے تھامگر اب کیا ہو سکتا تھا۔ زندگی اپنے آپ میں ایک امتحان ہے۔ انسان کبھی کبھی وہ کچھ بھی کر جاتا ہے جو وہ نہیں کر نا چاہتا۔ وہ خود ہی خود کو تسلیاں دیتی ۔ آج درس دینے کے لیے سیدہ سعدیہ آ ئیں ہوئی تھیں ۔ جمعہ کا دن بہت مبارک دن ہوتا ہے ۔ انہوں نے درس کی شروعات کی تو نازیہ ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہو رہی تھی۔ وہ توبہ سے متعلق درس دے رہی تھیں ۔ نازیہ کو بار بار اپنے گناہ یاد آ رہے تھے۔
سعیدہ کہہ رہی تھیں ۔ قرآن صاف صاف بتاتا ہے ۔ اللہ کی حدوں کے بارے میں ۔ خاص تنبیہ کرتا ہے کہ ان حدوں کے پاس بھی نہ پھٹکو۔ لیکن انسان چونکہ خطا کا پتلا ہے ۔ خطا تو لازم ہے ۔ یہ تو حضرت آدم سے ہو گئی تو ہم تو انہی کی نسل ہیں ۔ توبہ لازمی ہے ۔ اللہ کو توبہ پسند ہے۔ نازیہ نے افسردگی سے پوچھا۔توبہ قبول ہو گئی ہے یہ کیسے پتہ چلے گا۔ درس میں موجود سب خواتین نے اسے غور سے دیکھا۔ وہ دوبارہ زمین پر بیٹھ گئی۔ سیدہ سعدیہ مسکرائی۔
یہ بہت اہم سوال ہے جو ایک انسان کو شدید پچھتانے کے بعد دل میں چھبتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ پتہ نہیں اس کی توبہ قبول بھی ہوئی یا نہیں ۔ کسی نے رابعہ بصری ؒسے بھی یہی سوال پوچھا تھا۔ گہنگار کی توبہ قبول ہوتی ہے کیا؟تو انہوں نے کہا تھا۔ کہ توبہ کی توفیق ہی اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ انسان اس وقت تک توبہ کر ہی نہیں سکتا جب تک اللہ (توفیق ) موقع نہ دے۔ جب اللہ کی طرف سے توفیق مل گئی تو پھر قبولیت میں شک ہی نہیں رہتا۔
نازیہ نے اپنے دل پر سے بوجھ کو ہلکا ہوتا ہوا محسوس کیا۔ اس کی انکھوں میں آنسو تھے۔ دل میں دُعا ۔ اے اللہ مجھے معاف فرما دے ۔ جو خطا مجھ سے ہو چکی ہے ۔ اس پر میری گرفت نہ کرنا۔ درس کے ختم ہونے کے بعد سیدہ سعدیہ نے نازیہ کو اپنے پاس بلایا۔انہوں نے بہت پیار سے اس کا نام پوچھا اور بولیں ۔ دین کے بارے میں استفسار اور رب کو راضی رکھنے کی سوچ ہی بہت بڑی نیکی ہے ۔ صدا خوش رہو ۔ تم کہا ں رہتی ہو بیٹا ۔نازیہ نے انہیں تفصیل بتائی ۔ انہوں نے اس کی امی کا پوچھا تو اس نے شارب کے متعلق بھی انہیں بتایا۔ انہوں نے افسوس کرتے ہوئے کہا۔ آج کل ہمارے نوجوانوں کو میڈیا اس قدر غلط تعلیم و تربیت دے رہا ہے کہ اللہ کی پناہ ۔ خود کشی جیسا فعل میرے اللہ۔ نازیہ نے افسردگی سے منہ بنایا۔ سیدہ سعدیہ نے پھر نازیہ سے بڑے پیار سے کہا۔اپنے بھائی کا خیال رکھو۔ بندے کا بندے پر بڑا حق ہوتا ہے۔ نازیہ کو سیدہ سعدیہ بہت اچھی لگی ۔ وہ گھر آ کر غزالہ کو ان سے متعلق بتا رہی تھی۔ جو کافی تھکی تھکی لگ رہی تھیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونیورسٹی کے امتحان شروع ہو رہے تھے۔ اس کی خواہش خواہش ہی رہ گئی ۔وہ امتحان میں شرکت نہیں کر پایا تھا۔ سبین کے کے میں شارب سے ملنے کی لگن بڑھ چکی تھی۔ اس نے عنابیہ سے منت سماجت کر کے اسے راضی کر لیا کہ وہ یونیورسٹی امتحان کے ختم ہونے کے بعد شارب سے ملنے جائیں گئیں۔ شارب کی دوستیاں اب انٹر نیٹ تک محدود ہو کر رہ گئی تھیں ۔ اس کے جو یونیورسٹی کے دوست تھے انہوں نے اس سے بات جیت چھوڑ دی تھی۔ اس نے سبین سے بات کرنا بلکل ختم کر دی تھی ۔ سبین نہیں جانتی تھی کہ شارب یونیورسٹی کا امتحان کیوں نہیں دے رہا۔ شارب نے انٹر نیٹ پر کام کرنے کی ٹھانی۔ وہ اب کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہتا تھا۔ اس نے نازیہ سے اس کا تذکرہ کیا۔ نازیہ نے اسے ہر ممکن مدد کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ انہوں نے گھر تبدیل کر لیا۔حسن نے شارب کو ویل چیر لے دی تھی۔ نازیہ گھر کے کاموں میں غزالہ کا مکمل ساتھ دینے لگی تھی۔ جس سے وہ شارب کو دیکھنے میں اب آسانی محسوس کرنے لگی تھی۔ عارف سب سے الگ تھلک رہتا تھا۔ اسے صرف اپنی ذات سے ہی مطلب تھا۔ وہ شارب کے کمرے میں بھی نہیں جاتا تھا۔
عنابیہ اور سبین جب شارب کے گھر اس سے ملنے آئیں تو وہ وہاں سے جا چکا تھا۔انہوں نے جب محلے میں اس سے متعلق پوچھا۔ تو شارب کی حالت سے متعلق سبین کو علم ہوا ۔ وہ حیران رہ گئی ۔شارب نے تو مجھے نہیں بتایا۔ او میرے اللہ ۔ شارب اپائیج ہو گیا۔ اُف اس نے مجھ سے ذکر بھی نہیں کیا۔ وہ میرا فون اسی لیے نہیں لیتا ۔ میری وجہ سے وہ روتے روتے عنابیہ کو کہہ رہی تھی۔ عنابیہ بھی ششدو حیران کھڑی تھی۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 182399 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
17 Jun, 2017 Views: 1793

Comments

آپ کی رائے