عید منائیں اور ضرور منائیں مگر اس طرح جیسے صحابۂ کرام نے منائی تھی

(Ata Ur Rehman Noori, India)

عید کی خوشیاں اسی وقت حاصل ہوگی جب ہم پیغمبر اسلام صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعلیمات اورطریقے کے مطابق عید منائیں گے ۔

رفتارِ زمانہ کے ساتھ ساتھ اسلام کی حقیقی روح قومِ مسلم میں ناپید ہوتی جا رہی ہے۔بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر اسلامی تہذیب وتمدن بھی امتدادِ زمانہ کا شکارہو رہی ہے۔مغربی تصورات نے ہماری سوچ وفکرکو احساس ومروّت،اخلاص و اخلاق اورانسانیت و یک جہتی جیسے عظیم اوصافِ حمیدہ سے عاری کر دیاہے۔اسی وجہ سے عید کا اسلامی تصور ہم میں فنا ہو کر رہ گیا۔عمدہ سے عمدہ نئے ملبوسات زیب تن کرنا،خریدوفرخت میں اسراف کرنا،بے جا مقامات پرسیرو تفریح کرنا،فلمیں دیکھنا،ہنسی مذاق کرنا اور پارٹیوں کا نظم کرنا وغیرہ جیسی چیزوں کو ہم نے عید سمجھ رکھا ہے۔جب کہ عید کا دن تو حسنِ سلوک کی تعلیم،غریبوں و مسکینوں سے ہمدردی،یتیموں ومفلسوں کی کفالت کا جذبہ عطا کرتا ہے۔اسی لیے تو مذہبِ اسلام نے عید کے دن نمازِعیدالفطر سے پہلے صدقۂ فطر کا نظام قائم فرمایا۔صدقۂ فطر ایک بہترین ذریعہ ہے غریبوں،مسکینوں اور یتیموں کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنے کا۔مگر افسوس!ہم عید کے اسلامی تصور سے غافل ہوگئے ہیں۔

کہتے ہیں کہ سال بھر انتظار اور ایک مہینے رمضان المبارک کی رونقوں کے بعدعید آتی ہے توخوشیوں کا پیغام لے کر آتی ہے۔یہ بھی کہاجاتا ہے کہ اگلی عید کا انتظار عید کے دوسرے دن سے ہی شروع ہوجاتا ہے ۔ لیکن شاید اب ایسی بات نہیں رہی کیوں کہ عالم اسلام میں ہر طرف انتشار و بد امنی کا دوردورہ ہے۔اس لیے اب عید اس طرح سے منائی نہیں جاتی کیوں کہ عید کی خوشیاں اسی وقت میسر آتی ہے جب ہر طرف امن وامان ،خوشحالی وفارغ البالی اور مسرت وشادمانی کا عالم ہو۔لیبیا،مصر،شام،عراق،بحرین ،افغانستان اور ایتھوپیا ایسے ممالک ہیں جہاں کے باشندے عید گاہ جاتے ہوئے بھی ایک عجیب سا خوف محسوس کرتے ہے کہ کہیں کوئی حادثہ یا دھماکہ نہ ہوجائے۔برما اور آسام میں رونما ہونے والے واقعات ہمارے سامنے ہیں۔اسی کے ساتھ اسلامی ممالک کے حالات انتہائی تشویشناک ہیں۔قبلۂ اول بیت المقدس کے حا لات بھی کسی سے مخفی نہیں ہے۔مزارات ِصحابہ کی مسماری بھی اُمت مسلمہ کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ایسے ماحول میں عید کی خوشیوں کا تصور کرنابے سود ہے۔

لیبیااور غزہ جہاں کئی مہینوں سے لوگ گولیوں اور بموں کی آواز سن کر دہشت کے سائے میں زندگی گذاررہے ہیں ۔ جنگ اور تصادم کے سبب روزمرہ کی زندگی کی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں،وہاں کیسی عید؟اور کیسی عید کی خوشی؟اسی طرح شام کی گلیوں میں جہاں ہر طرف احتجاجیوں کے ہنگامے اور پولس کی گولیاں گونج رہی ہوں،جہاں عید کی نماز کے بعداحتجاج اور گولیاں چل رہی ہوں، وہاں عید کی کیا خوشیاں منائی جا سکتی ہیں؟اسی طرح عراق وافغانستان جہاں ہر دم خود کش حملے کا خدشہ لگا رہتا ہے، وہاں بازار اور چوراہے کیسے عید کی رونقوں سے پُرنور نظر آئیں گے؟لوگ نماز عید پڑھنے کے لیے جاتے ہیں اور آنِ واحد میں ایساکچھ ہوجاتا ہے کہ لوگ ان کی نماز جنازہ ادا کرتے ہیں۔برما و آسام میں ایسی کتنی ہی سہاگنیں ہوگی جن کے سر کا سہاگ عید کی آمد سے پہلے ہی اُجاڑ دیا گیاہے،عید کے دن ان کے ہاتھوں میں مہندی نہیں بلکہ اقربا کے خون کی سرخی نظر آئے گی۔ایسے ہزاروں بچے ہیں جن کے سر سے شفقت پدری کا سایہ اُٹھالیاگیاہے،کون انہیں نئے کپڑے دلائے گا؟کون انہیں عیدگاہ لے جائے گا؟ اور کون انھیں عیدی دے گا؟ایسے ہزاروں مسلمان ہے جن کی میت پر کوئی نماز جنازہ پڑھنے والا بھی نہیں ہے ، کوئی کفن پہنا کر دفن کرنے والا بھی موجود نہ رہا،ان کی لاشیں یونہی بے گور وکفن کیڑے مکوڑوں کی غذا بن رہی ہیں۔

ان حقائق سے آگاہی کے بعد کیا کوئی عید کی خوشیاں منائے گا؟کیا کوئی اپنے مومن بھائی کی تڑپتی لاش دیکھنے کے بعد بھی سیروتفریح کے مقامات جا کر پارٹیوں کا نظم کرے گا؟ نہیں اوریقینا نہیں۔اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ راقم عید منانے سے منع کر ر ہا ہے ،ایسا نہیں ہے،جنگ بدر ۱۷؍رمضان المبارک کو ہوئی تھی، جس میں کئی صحابۂ کرام نے جامِ شہادت نوش فرمایا تھا ، اس کے باجود آقاصلی اﷲ علیہ وسلم نے مع اپنے اصحاب کے عید منائی تھی۔آج ہمیں اپنا بھولا ہوا سبق یاد کرنا ہوگا،عید منائیں اور ضرور منائیں مگر اس طرح جیسے صحابۂ کرام نے منائی تھی۔اسلامی احکام کی پاسداری کرتے ہوئے،فرمان خدا پر عمل کرتے ہوئے اور رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت واتباع کرتے ہوئے۔عید کے دن ایسے کاموں میں مشغول نہ ہوجانا جن سے اﷲ اور رسول صلی اﷲ علیہ وسلم ناراض ہوجائے۔

افسوس !اُمت مسلمہ لاپرواہی اور غفلت کاشکارہوکر خواہشات نفسانی میں ڈوب چکی ہے، جس کی وجہ سے قوم مسلم میں بے ہودہ رسم ورواج عام ہوچکا ہے۔ ایسے موقعوں پر خواتین کا باریک لباس زیب تن کرنا،بے حجاب بر سرعام بازاروں میں گھومنایا فیشن ایبل برقعہ پہن کر اوباش نوجوانوں کو دعوت ِ نظارہ دیناوغیرہ اور مرد حضرات کا چوک چوراہوں پر کھڑے ہوکر خواتین اسلام کو پریشان کرنا،نازیبا جملے کسنا،تانک جھانک کرنا وغیرہ۔یہ تمام ایسے افعال ہیں جن سے اسلام نے منع فرمایاہے۔بے پردہ عورتوں کا حشر بڑا ہی درد ناک ہوگا، ایسی لڑکیوں پر لعنت برستی ہے اور بدمعاشی کرنے والے نوجوان قیامت کے دن عذاب الٰہی کی حق دار ہوں گے۔ اس کے علاوہ والدین اپنے بچوں پر خوشی میں حد سے زیادہ تجاوز کرتے ہیں، مغرب کی اندھادُھند تقلید میں کچھ والدین اپنے بچوں کو عریاں اور فیشن ا یبل لباس میں دیکھنا پسند کرتے ہیں توکچھ والدین بچوں کو سنیماگھروں تک لے جاتے ہیں۔ آج معاشرہ کی بے ہودگی اس قدر عروج پر ہے کہ نوجوان اس دن فلم دیکھنا ،ناچ گانے کی محفل میں شرکت کرنا، مردوزَن کے مخلوط مقامات پر حاضری وغیرہ کو ضروری سمجھتے ہیں۔ عیدِ سعید در حقیقت عمدہ کپڑاپہن لینے یا عمدہ کھانا کھالینے یا دنیاوی خواہشات میں ڈوب جانے کا نام نہیں ہے بلکہ عیدِ سعید تو اطا عت و فرمانبرداری اورعبادت وریاضت میں کثرت لانے کانام ہے۔ گناہوں سے توبہ کرنے اور عذاب الٰہی سے خوف کھا کر تو بہ و استغفار کا نام ہے۔ لیکن آج ہمارا حال اتنا خراب ہوگیا ہے کہ ایک ماہ کی عبادت کو عید کے دن خرافات میں مبتلاہو کر ضائع کردیاجاتاہے۔ ہم ذکر واذکار،تلاوتِ قرآن اور ناموسِ رسالت کے نام پر کرنے والے اَحسن اور مستحب اعمال پر تو سوال قائم کرتے ہیں کہ ’’کیا یہ سب صحابۂ کرام نے کیا تھا؟‘‘مگر ہم خرافات وبدعات میں مبتلا ہوتے وقت شاید یہ سوال بھول جاتے ہیں،بات بات پر صحابۂ کرام کے اعمال وافعال سے موازنہ کرنے والے کیوں نہیں اس دن قوم مسلم کی ذہن سازی کی کوشش کرتے ہیں؟کیاصحابۂ کرام نے اسی طرح عید منائی تھی جس طرح آج ہماری قوم مناتی ہے؟

اسی طرح ہم عیدپر سب سے ملاقات کے متمنی رہتے ہیں بلکہ خود پیر صاحب ،عالم صاحب اور دوست واحباب کے گھر جاتے ہیں مگر ایسے کتنے لوگ ہیں جو خود اپنے ہی گھر جاکر والدین کے قدموں کا بوسہ لیتے ہیں،ہاتھ چومتے ہیں،معانقہ کرتے ہیں اور تحفہ پیش کرتے ہیں؟ہم دوست واحباب کو خوش کرنے کی ہمیشہ کوشش کرتے ہیں مگر بوڑھے ماں باپ کے حقوق ادا کرنا شاید ہم بھول جاتے ہیں۔بچوں اور بیوی کی ہر خواہش پوری کرنے میں ہمیں اپنے خاندان میں موجود بیوہ اور یتیم بچوں کا بھی خیال نہیں رہتا۔ ایسے کتنے افراد ہیں جو نماز عید کے بعدیتیموں کے سر پردست ِ شفقت پھیر کر انھیں عیدی دیتے ہیں اور دستر خوان پر اپنے ساتھ بٹھاتے ہیں؟اصل میں ہمیں دوسروں کی آنکھ کا کنکر تو نظر آجاتا ہے مگر اپنی بداعمالیوں کا شہیتر نظر نہیں آتا۔اﷲ ہدایت وتوفیق عطا فرمائے۔آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ataurrahman Noori

Read More Articles by Ataurrahman Noori: 535 Articles with 413813 views »
M.A.,B.Ed.,MH-SET,Journalist & Pharmacist .. View More
20 Jun, 2017 Views: 612

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ