امتِ مسلمہ کے مسائل اور حل

(Roshan Khattak, Peshawar)

 اگر اس وقت ہم عالمِ اسلام پر ایک نظر ڈالیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے،بہت ہی پریشان کن صورتِ حال ہے ماضی کے مقابلے میں آج ملتِ اسلامیہ کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں ،اگر آج اس کا تدارک نہ کیا گیا تو پھر ’’ تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں ‘‘ والی صورتِ حال درپیش ہو جائیگی،احساسِ زیاں بھی باقی نہیں رہا ،مگر اب بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنی بساط کے مطابق مسلمانوں کو بیدار کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔گزشتہ روز ایک مقامی ہو ٹل میں ایسے ہی ایک شخص’مقصود احمد سلفی ‘ جو پیس فاونڈیشن کے چئیرمین ہیں ، انہوں نے کالم ہذا کے عنوان پر ایک محفل کا اہتمام کیا اور اس مو ضوع پر مختلف جماعتوں کے قائدین اور اہلِ فکر حضرات کو اظہارِ خیال کی دعوت دی۔مقررین نے نہایت ایمان افروز ،ہوش رباء اور قابلِ توجہ خیالات کا اظہار فرمایا۔الگ الگ ان کے خیالات کو قارئین تک پہنچانا تو ممکن نہیں ،البتہ ان کے خیالات کو ئکجا کرکے پیش کیا جا سکتا ہے۔

امتِ مسلمہ کی موجودہ پریشان کن صورتِ حال کی سب سے بڑی وجہ اتحاد کی کمی ہے۔مسلمانوں نے خود کو کئی فرقوں اور گروہوں میں تقسیم کر لیا ہے یہ تفرقہ بندی مذہبی، سیاسی، لسانی اور سیاسی بنیادوں پر کی گئی اور آگے پھر ان درجہ بندیوں کے مذید درجے ہیں ،جس کی وجہ سے پوری امتِ مسلمہ مختلف گروہوں میں بٹ گئی ہے اور اس نا اتفاقی کی وجہ سے آج دنیا کے ہر کونے میں صرف مسلمان مختلف قسم کے مسائل و مشکلات کا شکار ہیں۔مسلمان حکمران غیر مسلموں کے ہاتھ کا کھلونا بنے ہو ئے ہیں۔مسلمان حکومتیں اپنے چھپے ہو ئے دشمنوں کے ساتھ مل کر اپنے ہی بھا ئیوں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔دشمن نے ’’لڑاؤ اور حکومت کرو ‘‘پالیسی کے تحت ہمیں یوں دست و گریباں کر لیا ہیکہ ہمارے مابین دوریوں کی خلیج حائل ہو گئی ہیاور امّت کا شیرازہ بری طرح بکھر گیا ہے۔آج ایک مسلمان ملک امریکہ کے صدر ٹرمپ کے کہنے پر ایک مسلمان ملک پر حملہ کرنے کی بات کرتا ہے۔ان سے اربوں ڈالر کے معاہدے کرتا ہے، ان سے اسلحہ خریدتا ہے ۔ہم 58مسلم ممالک ہیں ، دو ارب مسلمان ہیں ہم بہت طاقتور ہو سکتے ہیں بشرطیکہ ہم اختلاف کے ناسور سے باہر نکل آئیں۔ ایک نقطے پر متفق ہو جائیں۔مسلمانوں کے لئے اس وقت سب سے اہم اور مشترکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ سب مل کر وقت کے طاغوت سے نجات حاصل کرنے کی بھر پور کو شش کریں۔ماضی میں روس اپنے آپ کو نا قابلِ تسخیر قوت سمجھتا تھا اسی لئے وہ کئی ریاستوں پر قابض ہو چکا تھا مگر افغان سر زمین پر جب اس کا پالا قوتِ ایمانی سے پڑا تو اس کا غرور خاک میں ملا اور تمام مقبوضہ ریاستیں اس کے خونی پنجے سے آزاد ہو گئیں۔اسی طرح جب تک موجودہ وقت کے طاغوت کے لئے کو ئی غیر معمولی صورتِ ھال پیدا نہیں کی جاتی اس وقت تک مسلم ممالک پر اس کا تسلط قائم رہے گا اور مسلمان پستے رہیں گے۔

ایک مقرر نے او آئی سی (اسلامی سربراہ کانفرنس) کے کارکردگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ جب او آئی سی بنی تو اس سے کچھ امیدیں پیدا ہو گئی تھیں مگر افسوس صد افسوس کہ اس کی کا کردگی بالکل زیرو رہی۔اور کئی اسلامی ممالک کے سر براہان وقت کا طا غوت کو ناراض کرنے کی جرات نہیں رکھتے۔آج اگر یورپی یونین کی شکل میں یورپی ممالک کا بلاک موجود ہے،افریقی ممالک آپس میں معاہدہ کرکے ایک قوت بن سکتے ہیں،سارک ممالک اکھٹے ہو سکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ او آئی سی ایک موثر اور طاقتور تنظیم کا روپ نہیں دھار سکتی؟

امتِ مسلمہ کے زوال کی ایک بڑی وجہ با مقصد تعلیم کی کمی بھی ہے۔اس وقت دنیا کے پانچ سو ٹاپ یو نیو رسٹیوں میں ایک یونیورسٹی بھی کسی مسلمان ملک میں نہیں ہے۔ایک ایسی امّت جس کی پہلی وحی کا آغاز ’’اقراء ‘‘ سے ہوا تھا،ایک ایسی امت جس کے نبیﷺ کو ’’ قل ربِ زدنی علما ‘‘ کا حکم ہو تا ہے،ایک ایسی امت جس کی پہچان اور شناخت ہی تعلیم و تعلّم ہے ،وہ اگر تعلیم کے میدان میں دنیا سے پیچھے رہ جائے تو اس پر افسوس کے اظہار کے سوا کیا کیا جاسکتا ہے۔ہم اپنے شاندار اور تابناک ماضی کے حوالے تو دیتے ہیں،مسلمان سائنسدانوں کا تذکرہ تو کرتے ہیں۔لیکن یہ نہیں سوچتے کہ آج ہم ایسے سائینسدان کیوں پیدا نہیں کرتے، آج ہر میدان میں غیروں کے محتاج کیوں ہیں ؟ہمیں اس معاملے پر خوب سوچ بچار کرکے حکمتِ عملی تیار کرنی چا ہئیے ورنہ مسلمانوں کا مستقبل تاریک سے تاریک تر ہو تا چلا جائے گا۔پروگرام کے اختتام پر صدرِمحفل مقصوداحمد سلفی صاحب نے کہا ۔مسلم ممالک کے درمیان اتحاد و اتفاق وقت کی اہم ترین ضرورت ہے،اگر مسلم ممالک آپس میں لڑیں گے تو امتِ مسلمہ کمزور ہو گی ،جس دن امتِ مسلمہ حقیقی معنوں میں ایک ہو گئی اسی دن امتِ مسلمہ کی خو شحالی اور ترقی کا دور شروع ہو جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الراقم : روشن خٹک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: roshan khattak

Read More Articles by roshan khattak: 271 Articles with 159526 views »
I was born in distt Karak KPk village Deli Mela on 05 Apr 1949.Passed Matric from GHS Sabirabad Karak.then passed M A (Urdu) and B.Ed from University.. View More
24 Jun, 2017 Views: 639

Comments

آپ کی رائے