ذِمہ دار کو’ن؟

(Amna Faheem, Karachi)

ماہِ رمضان کا مہینہ اور جوُن کی تپتیِ ہوئی گرمی اس عالم میں بھی تمام ُمسلمان شہری اس گرمی میں اﷲ کی رضا کی خاطر روزے رکھنے کے لیے تیار ہیں لیکن یہ شدید گرمی اور اس کی تپش جسکو ہم آج ہیٹ اسڑوک کا نام دے چکے ہیں․ ہیٹ اسڑوک جو اب ایک موسم کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے․ اب یہ نہیں کہا جاتا کہ موسم گرما آرہا ہے بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ ہیٹ اسڑوک آرہا ہے ، جو گشتہ دو سالوں سے آتا ہے اور کئی لوگوں کو نگل جاتا ہے اور تمام لوگوں پر خوف طاری ہوجاتا ہے خاص کر اس غریب طبقے پر جو خواب میں بھی ایر کنڈیشنر جیسی سہولت سے لطف اندوز نہیں ہوسکتے اور ہوں بھی تو کیسے ایرکنڈیشنر نہ ہونے کے باوجود ہزاروں کا بل اس گریب عوام کو ایسی کسی سہولت کے بارے میں سوچنے کی اجازت نہیں دیتا․ ہر مہینے کا وہ بل جو کسی بھیانک خواب سے کم نہیں ہوتا اس بل کی اتنی دہشت ہوتی ہے کہ عوام کو ایک مہینے کا ادا کرتے ہی دوسرے مہینے کے بل کی فکر لاحق ہوجاتی ہے کہ اب کیا قیامت ڈھائیگا یہ بل،یہ وہ بل ہے جو عوام چند پنکھوں اور لائٹوں کے عوظ ادا کرتی جو کہ زیادہ تر بجلی معطل رہنے کی وجہ سے چلتے ہی نہیں․ کے الیکڑک نام تو سنا ہوگا ! یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ایک ایسا ادارہ ہے جو کہ بجلی کی سہولت دینے کے بجاے نہ دینے کے مد میں زیادہ مشہور ہے․ یہ وہ نامور ادارہ ہے جو ملک کی عوام کو بجلی جیسی بنیادی سہولت دینے کے لیئے۱۹۳۱ ستمبر میں بنایا گیا اور آج ۸۵ سال بعد بھی عوام کو بجلی دینے سے قا صر ہے․ہیٹ اسڑوک جیسے جان لیوا موسم میں ایک غریب آدمی اگر اپنے گھر میں ایرکنڈیشنر لگانے کی اسطاعت نہیں رکھتا تو کیا وہ یو پی ایس اور جنریڑ جیسی آسانیوں سے دل فریب ہوسکتا ہے؟ ہر گز نہیں ایک غریب صرف اور صرف گھر میں لگے اس سیلنگ فین کی ہوا کا منتضرہوسکتا ہے جو سارا دن نہ چلنے کے باوجوداپنا معاوضہ طلب کرتا ہے وہ بھی کے ای کی مہربانی کی بدولت․حکومت اوران کے وعدوں پر تو کیا ہی بات کریں جو کہ محض اس موضوع کی صورت اختیار کر گیا ہے جو لوگاپنے فارغ اوقات میں تبصرہ کرنے کے لیے چنتے ہیں․ جب حکومت ہی آپنے فرائض منظم طریقے سے سرانجام نہیں دیگی تو ان اداروں کا کوئی پرسان حال کیا ہوگا ؟وہ کہتے ہیں نا کہ جب جڑیں کمزور ہونگی تو پودہ پروان کیسے چڑھے گا․ہم تو اس دور میں رہ رہے ہیں جہاں غریب، غریب سے غریب تر ہوتا جارہا ہے اور امیر،امیر سے امیر تر یہاں تک کہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا انسان بھی اپنے بچوں کو حلال روٹی کھلانے کے لیے روز محنت مشقت کرتا ہے․عوام کی اس بے سکونی کا ذمہدار کون ؟ کوئی ہے جو اس سوال کا جواب دے سکے ؟ نہیں کوئی نہیں کیونکہ جب ملک کے حکمران ہی اپنی ذمہ داری کو نہیں پہچانتے تو عوام کی بے سکونی اور تکلیف کا کس کو احساس ہوگا ․ جہاں کے حکمران ہی عوام کی تکلیف سے بری ذمہ ہوجائیں وہاں کے ادارے جن کو عوام کی زندگیوں کو آسان بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا ان کو تو کرپشن کی دیمک لگ گیٔ ہے جو اندر ہی اندر اداروں کو کھوکلا کردینگی اور عوام کی زندگی عذاب کا شکار ہوجائیگی․حکومتیں تو آتی ہیں اورآتی رہینگی ان اداروں کوچاہیے کہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور جس کام کو سرانجام دینے کے لیے ان کو تشکیل دیا گیا ہے ان کو بخوبی ادا کریں اور تزکرہ اگر یہاں یہ کیا جایٔے کے ذمہ دار کون ؟ تو عمومی طور پر ملک اور اسکی معیشیت کا سکہ صرف اداروں یا حکمرانوں کی نااہلی کی داستان نہیں عیاں کررہا بلکہ یہ اہم اور ضروری بات کی نوید نے رہا ہے اور وہ محض یہ کہ آسایٔشوں سے تنزلی کے ڈھیر تک ذمہدار خود عوام بھی ہے جو اپنے منزل و مقصود کی بقأ کی خاطر اپنی شناخت کھورہی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amna Faheem

Read More Articles by Amna Faheem: 2 Articles with 887 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Jun, 2017 Views: 418

Comments

آپ کی رائے