اوول کا ہیرو

(Shoukat Ullah, Banu)

پاکستانی شاہینوں نے آئی سی سی چیمپیئنزٹرافی کے فائنل میں اپنی آل راؤنڈ پرفارمنس سے اپنے روایتی حریف بھارت کو 180 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دی۔اس طرح پہلی بار پاکستان یہ ایونٹ اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوا۔ اوول کے میدان میں کھیلے گئے اس میچ کے دوران پہلے بلے بازوں فخر زمان (114) ، اظہر علی (59 ) ، محمد حفیظ (57 ناٹ آؤٹ) اور بابر اعظم (46 )نے بھارتی بالروں کی خوب دُرگت بنائی اور جیت کے لئے338 رنز کاپہاڑ جیسا ہدف دیا۔اور پھر محمد عامر ، شاداب خان ، جنید خان اور حسن علی نے اپنی شاندار بولنگ سے مضبوط بھارتی بیٹنگ کو محض 158 رنز پر پویلین چلتا کیا۔محمد عامر جو کمر کی تکلیف کے باعث سیمی فائنل نہیں کھیل پائے تھے، انہوں نے ابتدائی اوورز میں اِن فارم اور ٹورنامنٹ کے بہترین بلے بازوں روہیت شرما ، دھون اور ویرات کوہلی کی وکٹیں لیں۔ اس کے بعد رہی سہی کسر دیگر بالروں نے پوری کی۔مُلکی اور غیر مُلکی میڈیا پر تبصرہ نگاروں نے دل کھول کر ہر کھلاڑی کی تعریفوں کے پُل باندھے جو بلا شبہ اس کے مستحق بھی ہیں۔اوول کے میدان میں اس تاریخی فتح پر پاکستانیوں نے قریہ قریہ، گلی گلی اور شہر شہر فتح کا جشن منایا اور سوشل میڈیا پر بھی اپنی خوشی کا اظہار پوسٹوں اور کمنٹس کی صورت میں کیا۔ فیس بُک پر ایک پوسٹ نے راقم الحروف کو آج کا کالم لکھنے پر مجبور کیا ۔ پوسٹ دل موہ لینے والے چند الفاظ پر مشتمل تھی۔ ’’ہمیں اس تاریخی فتح پر اوول ٹیسٹ کے ہیرو فضل محمود کو بھی یاد رکھنا چاہیئے جنہوں نے 1954 ء میں پاک انگلینڈ سیریز میں اوول کے میدان پر 12/99 کی تباہ کُن بولنگ کروائی تھی ‘‘۔

ماضی کا لیجنڈ اور سپرسٹار کھلاڑی فضل محمود 1954 ء میں عبدالحفیظ کاردار کی قیادت میں انگلینڈ کا دورہ کرنے والی پہلی پاکستانی ٹیم کا حصہ تھے۔ پچاس کی دہائی میں انگلینڈ ٹیم کا شمار دنیائے کرکٹ کی صفِ اول ٹیموں میں ہوتا تھا۔ اُن کے پاس لین ہٹن ، ڈینس کامپٹن ، پیٹر مے ، ٹریور بیلی ، الیک بیڈسر ، سٹیتھم ، گاڈفرے ایون اور فرینک ٹائی سن جیسے عظیم کھلاڑی موجود تھے۔سیریز کا آغاز لارڈز میں ڈرا ٹیسٹ میچ سے ہوا جب کہ ٹرینٹ بریج ٹیسٹ پاکستان بُری کارکردگی کی بناء پر ایک اننگز اور 129 رنز سے ہارا۔ تیسرا ٹیسٹ مانچسٹر میں بارش کی وجہ سے بے نتیجہ رہا۔ چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آخری معرکہ اوول کے میدان میں کھیلا گیا ۔ پاکستانی ٹیم پہلی اننگز میں لڑکھڑاتی ہوئی محض 133 رنز بنا کر ڈھیر ہوگئی۔ اُمید یہی کی جارہی تھی کہ انگلینڈ اپنی پہلی اننگز میں بآسانی سے برتری حاصل کرکے پاکستان کو جیت کا ہدف دے گا لیکن ایسا نہ ہُوا۔ پاکستانی بالروں فضل محمود 6/53 اور محمود حسین 4/58 کی عمدہ بولنگ کی بدولت میزبان ٹیم 130 رنز سے آگے بڑھ نہ سکی۔یاد رہے اس اننگز میں فضل محمود کی بولنگ پر تین کیچ بھی ڈراپ ہوئے۔بد قسمتی سے پاکستانی ٹیم دوسری اننگز میں بھی کوئی بڑا سکور کرنے میں کامیاب نہ ہوئی اور 164 رنز پر پوری ٹیم آؤٹ ہوگئی۔اسپنر وارڈلے نے 56 رنز دے کر سات کھلاڑی آؤٹ کیے۔ یوں انگلینڈ کو سیریز دو صفر سے جیتنے کا آسان موقع ہاتھ آیا۔ کیوں کہ 168 رنز کا ہدف انگلینڈ کے لئے کوئی دردِ سر نہیں تھا۔ ایک موقع پر انگلینڈ کی فتح یقینی نظر آرہی تھی جب ا سکور 109/3 ہوگیا۔ لیکن چھ فٹ اور دو انچ قد کے فاسٹ بالرفضل محمود کی بولنگ انگلینڈ کی فتح کے بیچ میں دیوار بن گئی جنہوں نے تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 46 رنز کے عوض چھ کھلاڑی آؤٹ کر کے کرکٹ کی جنم بھومی انگلینڈ کی جیت کا خواب چکنا چور کردیا اورپوری ٹیم 143 رنز بنا کر پویلین لوٹ آئی۔انہوں نے مجموعی طور پر اس ٹیسٹ میچ میں ننانوے رنز کے عوض بارہ وکٹیں حاصل کیں اور پاکستان کی انگلینڈ کے خلاف اولین فتح میں کلیدی کردار ادا کرنے پر ’’اوول کا ہیرو‘‘ کے خطاب سے نوازا گیا۔ اس دورے کی کارکردگی پر انہیں ’’وزڈن‘‘ (جس کو کرکٹ کی مقدس کتاب تصور کیا جاتا ہے ) نے سال کے پانچ بہترین کھلاڑیوں میں شامل کیا۔یاد رہے کہ فضل محمود نے پاکستان کی جانب سے 34 ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں 139 وکٹیں 24.70 کی بولنگ اوسط سے حاصل کیں۔ ٹیسٹ میچوں میں چار مرتبہ دس دس وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ بھی سر انجام دیا۔ اُن کی یہ کارکردگی بھارت، انگلینڈ ، ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے خلاف رہی۔ ان ملکوں کے خلاف پاکستان کی پہلی جیت کے ہیرو بھی فضل محمود تھے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 124134 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Jun, 2017 Views: 623

Comments

آپ کی رائے