کرکٹ اور انا‎

(Javed Hussain Afridi, )

چیمپئن ٹرافی کی جیت کا معاملا بڑا استعجاب اور شدید دوغلے پن کا شکار ھے
چونکہ ھم اﷲ کی فضل سے فاتح ہوگئے ہیں خواہ یہ معجزہ تھا، ٹیم ورک تھی یا کوئی اپ سیٹ، بحرحال ٹرافی اب پاکستان کے قبضے میں ھے
مگر اب یہ فتح اپنے سیاسی مقاصد اور انا کے لیۓ بڑے خشوع ؤ خضوع کے ساتھ استعمال هو رھی ھے
مختلف گوشوں سے اپنے حق میں کریڈٹ لینے کی آوازیں کی جارہی ہیں کوئی حکومتی پالیسی کو فتح کا حقدار گردان رھا ھے تو کوئی عمران خان کے مشورے کو کھلی فتح قرار دے رہے ہیں کسی کے نزدیک مینجمنٹ اور سلیکٹرز کے سر سہرا بندھا جانا چاہیے کوئی اسے اپنی دعاوؤں اور رمضان کی برکت سے منسوب کررهے ہیں
عرض مختلف اذہان کے مختلف افکار ہیں اور یہ ایک فطری عمل ھے مگر کیا حالات ہوتے اگر یہی ٹیم پچھلے میچ کی طرح یہ میچ بھی ہار جاتی تو مذکورہ بالا عناصر میں کوئی بھی رضاکارانہ طور پر اس شکست کو اپنے ساتھ منسوب کرتا...بالکل نہیں
کیوں کہ هم بحثیت قوم چڑھتے سورج کے پجاری ہیں ..ھم جیت جانتے ہیں شکست نہیں جانتے، هم اپنی خوبیاں تو بخوشی آشکارہ کرتے ہیں مگر اپنی خامیوں پر کبھی غور نہیں کرنا چاھتے، هم ہر قابل تحسین کام اپنے نام اور تعلق سے جوڑنا چاھتے ہیں خور کسی کی ملکیت ہی کیوں نہ هو مگر کوئی ذلت آمیز کام دوسروں پر اسکا حق سمجھ کر توپتے ہیں خواہ وہ اپنی ذات سے متعلق ہی کیوں نہ هو
آپ یقین کریں اگر خدا نخواستہ یہی معرکہ هم ہار جاتے تو پھر " میں " کی بجائے " تم " ہوتا اور یہی ایک مسلّم حقیقت ھے
اب چونکہ هم چیمپئن ہیں اسلیے ھماری مینجمنٹ ، ھمارے کھلاڑی ، ہمارے سلیکٹرز اور ھماری سیاسی قیادت کو هم آہنگ هو کر چیمپئن کی طرح سوچنا چاہیے اور ماضی ؤ حال کے قصے چھیڑ کر اپنا وقت برباد کرنے کی بجائے مستقبل کی طرف سوچنا ھوگا
کیوں کہ عوام نے یہ جنون اپنے ملک میں دیکھنا ھے اور گزشتہ سات سال سے اپنے ھوم گراؤنڈ پر کرکٹ دیکھنے کے لیے ترس رھی ھے. اب جبکہ بے تہاشا نیا ٹیلنٹ اپنے سلیکٹرز کے منتظر ھے اسلیے عوام کی آرزو بھی یہی ھے کہ پرانے پٹھے ہوۓ مہرے اور چلے ہوئے کارتوس محض بنام تجربہ بار بار نہ آزمایا جائے اور نیا خون جیسا کہ ثابت ہورہا ہے ٹیم میں شامل اور مستقل کیا جائے
جسطرح کئی سالوں سے پاکستانی کرکٹ زوال پذیر رہی جس میں مختلف عوامل مشتمل رہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بورڈ کو ان سارے عوامل کی ازسرنو جائزہ لینا چاہیے اور ان تمام عناصر کو دور کرے جس کی وجہ سے ناکامی مقدر بنتی رہی وہ خواہ مینجمنٹ اسٹاف کی نااہلی تھی یا سفارش پر کئے ہوۓ کھلاڑی هو یا کھلاڑیوں کی سوشل میڈیا پر فعال رہنا وغیرہ وغیرہ
اسی طرح وہ تمام عوامل کو بروئے کار لانے چاہیے جو دنیا کی ٹاپ آرڈر ٹیموں میں ہیں اور ہمارے کھلاڑیوں میں غیر موجود ہیں
امید ہے اگر مستقل مزاجی اور جیت کے جذبے کیساتھ کام کیا گیا تو ا منی ورلڈ کپ کی طرح پورا ورلڈ کپ بھی ہمارا ھوگا

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Javed Hussain Afridi

Read More Articles by Javed Hussain Afridi: 15 Articles with 6709 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Jun, 2017 Views: 442

Comments

آپ کی رائے