یوم عیدالفطر امت محمدیہﷺ کی بخشش کا دن ہے

(Qari Muhammad Ansar Ahmed, India)

 عید نام ہے ماہ شوال کے پہلے دن اور ذی الحجہ کے دسویں دن کا، ان دنوں کو عید اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں لوگ اطاعت الٰہی یعنی ماہ رمضان کے فرض روزے اور حج سے فارغ ہوئے اور اطاعت رسول ﷺ کی طرف لوٹ آئے یعنی انہوں نے شوال کے چھ روزے رکھے اور حضور ﷺ کی زیارت کی تیاری کی، یا انہیں عید اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ دن ہر سال لوٹ آتے ہیں۔یا اس لئے کہ اس میں اﷲ تعالیٰ بار بار فضل و کرم کرتا ہے یا اس لئے کہ ان کے آنے سے خوشیاں لوٹ آتی ہیں، بہر حال تمام توجہیات میں عود کا معنیٰ پایا جاتا ہے۔حضور ﷺ نے پہلی بار نماز عید ۲؁ ھ میں نماز عید الفطر ادا کی اور پھر اسے کبھی ترک نہیں فرمایا لہٰذا یہ سنت مؤکدہ ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ اپنی عیدوں کو تکبیر سے زینت بخشو ۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے عید کے دن تین سو مرتبہ سبحن اﷲ و بحمدہِ پڑھی اور مسلمان موتیٰ کی روحوں کو اس کا ثواب ہدیہ کیا تو ہر مسلمان کی قبرمیں ایک ہزار انوار داخل ہوتے ہیں اور جب وہ مرے گا اﷲ تعالیٰ اس کی قبر میں ایک ہزار انوار داخل فرمائے گا ۔(مکاشفۃ القلوب) جناب وہب بن منبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا کہنا ہے وکہ شیطان ہر عید پر نوحہ و زاری کرتا ہے اور تمام شیطان اس کے ارد گرد جمع ہو کر پوچھتے ہیں اے آقا! آپ کیوں غضبناک اور اداس ہیں ؟ وہ کہتا ہے اﷲ تعالیٰ نے آج کے دن امت محمدیہ ﷺ کو بخش دیا ہے ،لہٰذا تم انہیں لذتوں اور خواہشات نفسانی میں مشغول کرو ۔

جناب وہب بن منبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے عید الفطر کے دن جنت کو پیدا فرمایا اور درخت طوبیٰ عید الفطر کے دن بویا، جبرئیل کا وحی کے لئے عید الفطر کے دن انتخاب کیا۔اور فرعون کے جادو گروں کی توبہ بھی اﷲ تعالیٰ نے اسی دن قبول فرمائی،

زمانۂ جاہلیت:۔حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ جب مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضور ﷺ کو معلوم ہوا کہ یہاں کہ لوگ سال میں دو دن کھیل کود میں مصروف رہتے ہیں،اور خوشی مناتے ہیں اس پر حضور ﷺ نے لوگوں سے دریافت کیا کہ یہ دو دن کیسے ہیں ؟لوگوں نے عرض کیا :ان دنوں میں ہم لوگ زمانۂ جاہلیت کے اندر خوشیاں مناتے اور کھیل کود کرتے تھے۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے تمہارے لئے ان دنوں کو ان سے بہتر دنوں میں تبدیل کر دیا ہے ان میں سے ایک عید الفطر اور دوسرا عید الاضحی کا دن ہے۔اب تم لوگ بھی اس عید کے دن خوشیاں مناؤ ۔

حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی سخاوت: حضرت عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ نے ایک روز ہم لوگوں کو اﷲ کی راہ میں صدقہ و خیرات کرنے کا حکم فرمایا اور حسن اتفاق سے اس موقع پر میرے پاس کافی مال تھا ۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے آگے بڑھ جانا کسی دن میرے لئے ممکن ہوگا تو وہ آج کا دن ہوگا ۔ میں کافی مال خرچ کر کے آج ان سے سبقت لے جاؤں گا ۔ حضرت عمر فرماتے ہیں میں نے آدھا مال لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔تو رسول اﷲ ﷺنے مجھ سے دریافت فرمایا اپنے گھر والوں کے لئے تم نے کتنا چھوڑ رکھا ہے ؟ آپ ؓ فرماتے ہیں میں عرض کیا آدھا مال ان کے لئے چھوڑ رکھاہے ۔ پھرحضور ﷺ نے حضرت ابو بکر ؓ سے پوچھا کہ اپنے اہلو عیال کے لئے کیا چھوڑ آئے؟ آپ ؓ نے عر ض یا رسول اﷲ ﷺ ان کے لئے میں نے اﷲ اور اسکا رسول چھوڑ آیا ہوں یعنی میرے اور میرے اہل و عیال کے لئے الل اﷲ اور اس کا رسول کافی ہیں۔٭پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس صدیق کے لئے ہے خدا کا رسول بس٭

حضرت عثمان ؓ سخاوت کے دھنی:جنگ تبوک کے موقع پر مسلمانوں کو اﷲ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دے رہے تھے کہ حضرت عثمان غنی ؓ اٹھے اور عرض کیا یا رسول اﷲ ﷺ سازو سامان سمیت ایک سو اونٹ میں اﷲ کی راہ میں قربان کیا۔ حضور ﷺ نے پھر ترغیب دی حضرت عثمان غنی ؓ نے عرض کیا یا رسول اﷲ ﷺ سازو سامان سمیت دو سو اونٹ میں اﷲ کی راہ میں قربان کیا ۔حضور ﷺ پھر ترغیب دی توعرض کیا یا رسول اﷲ ﷺ سازو سامان سمیت تین سو اونٹ میں اﷲ کی راہ میں قربان کیا اس کے علاوہ آپ ؓ نے ایک ہزار دینار دینار آپ ﷺ کے سامنے پیش کر دئے۔آپ ﷺ نے فرما عثمان کے اس نیک عمل کے بعد اب اسے کوئی بات ضرر نہ دے گی۔(مشکوٰۃ شریف ص ۵۵۳)

حضرت سیدنا عمر فاروقؓ نے ایک مرتبہ عید کے دن اپنے بیٹے کو پرانی قمیص پہنے دیکھا تو رو پڑے، بیٹے نے عرض کیا! ابا جان آپ کس لئے رو رہے ہیں؟ آپ ؓ نے فرمایا: بیٹے مجھے اندیشہ ہے کے آج عید کے دن جب لڑکے تجھے اس پھٹے پرانے کپڑے میں دیکھیں گے تو تیرا دل ٹوٹ جائے گا ، بیٹے نے عرض کیا!اے ابا جان دل تو اس کا ٹوٹے گا جو رضائے الٰہی کیو نہ پا سکا ہو یا جس نے اپنے ماں باپ کی نا فرمانی کی ہو ،اور مجھے امید ہے کہ آپ کی رضامندی کے طفیل اﷲ تعالیٰ بھی مجھ سے راضی ہو گا، یہ سن کر حضرت عمر فاروق ؓ رو پڑے اور بیٹے کو گلے سے لگایااور اس کے لئے دعائے مغفرت کی۔(مکاشفۃ القلوب)

حضرت علی کی سخاوت:ایک دفعہ حضرت امام حسین ؓ بیمار ہو گئے حضرت علی نے نظر مانی کہ اﷲ تعالیٰ اس صاحبزادے کو شفا دیدے تو وہ تین روزے رکھیں گے، نذر قبول ہوئی، آپ نے روزہ رکاھ اور افطارکے لئے کچھ نہ تھا آپ تھوڑی سی روئی لائے ،فاطمہ ؓ نے اس روئی کا سوت کات کر اس کو موحیرت سے جو پیسے آئے اس کا آٹا منگا کر روٹیاں پکائیں ، جب افطار کا وقت ہوا تو ایک مسکین نے دروازے پر سوال کیا ، آپ نے وہ روٹیاں مسکین کو دے دی۔اور خود پانی پر اکتفا کر کے صبح کا روزہ رکھا۔

بروز عید کے اعمال: حضرت بریدہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ عید الفطر کے دن جب تک حضور ﷺ کچھ کھا نہ لیتے عیدگاہ کو تشریف نہ لے جاتے اور آپ طاق کھجوریں تناول فرماتے۔(بخاری)حضرت جابر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ عید کے دن دو مختلف راستوں سے آتے جاتے تھے۔(بخاری) عیدین کی نماز کے بعد مصافحہ و معانقہ کرنا جیسا کہ عموماً مسلمانوں میں رائج ہے بہتر اس لئے کہ اس میں اظہار مسرت ہے (بہار شریعت)

اﷲ تعالیٰ ہم تمام مسلمانوں کو صحیح معنوں مین عید منانے کی توفیق عطا فرمائیں(آمین ثم آمین)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qari Muhammad Ansar Ahmed

Read More Articles by Qari Muhammad Ansar Ahmed: 4 Articles with 1561 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Jun, 2017 Views: 542

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ