سفید پوش (مڈل ولوئرمڈل کلاس) کوڈھونڈ کر ان کی مدد کریں

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)
پہلے یہ خبر پڑھ لیجئے جو ایک معروف صحافی مزمل احمد فیروزی نے دی ہے کہ’ اٹک کے علاقے حضرومیں غربت سے تنگ ماں نے بچوں کی جانب سے عیدکے کپڑوں کا تقاضہ کرنے پر تین بچوں سمیت30فٹ گہرے کنویں میں چھلانگ لگادی جس کے نتیجے میں دو بچے جاں بحق ہوگئے، رپورٹرکا کہنا ہے کہ یہ سچی خبر ہے ہمارے معاشرے کے لیے شرم کا مقام ہے، اپنے ارد گرد ان سفید پوشوں پر نظر رکھیں جو مانگ نہیں سکتے لیکن بچوں کے لیے عید کی خریداری بھی نہیں کر سکتے۔اس پریشر کے نتیجے میں اس سسٹم سے بغاوت کرتے ہوئے موت کو گلے لگالیتے ہیں۔ رپورٹرکا کہنا ہے کہ یہاں کئی لوگ سر عام افطار ی کا بندوبست کرتے ہیں اور اس کی تصاویر بھی شیئر کرتے ہیں کیا ہی اچھا ہو ایسے مخیر حضرات اور ادارے سفید پوشوں کو ڈھونڈ کر ’’نیک کام‘‘ کرنے میں سبقت لے جائیں۔

صحافی نے اپنا فرض خوش اسلوبی سے پورا کرتے ہوئے معاشرہ کے تمام طبقوں کی توجہ غریبوں کے علاوہ سفید پوش (مڈل کلاس) کی جانب مبذول کرائی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں سفید پوش (مڈل کلاس)اور لوئر مڈل کلاس افراد کی زندگی انتہائی مشکل میں ہے۔ معاشرے کا یہ طبقہ ظاہر میں غریب نظر نہیں آتا اور نہ ہی اس کی خودداری اسے ہاتھ پھیلانے اور اپنی مشکل ظاہر کرنے کی اجاذت دیتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ملک میں غریبوں کی مدد کرنے کا رواج بہت عام ہوچکا ہے،یہ ہمارا مذہبی فریضہ بھی ہے ۔ لوگ انفرادی طور پر بھی اور اس مقصد کے لیے قائم فلاحی ادارے بھی غریبوں کی مدد میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ یہ امداد صرف ان لوگوں تک پہنچتی ہے جو مانگنے میں شرم محسوس نہیں کرتے، ان میں سے بہت بڑا طبقہ تو ایسابھی ہے کہ جس نے بھیک لینا اپنا حق اور اسے اپنا پیشہ بنا لیا ہے اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ ہی نہیں پھیلاتے بلکہ کچھ لیے بغیرٹلتے ہی نہیں۔ ہمارے ہاں مختلف فلاحی اداروں کی جانب سے راشن کی تقسیم، کپڑوں اور دیگر سامانِ ضروریا کی تقسیم کے علاوہ دستر خوان لگانے اور وہاں کھانا کھلانے کا بھی عام رواج ہوچکا ہے۔ بڑے اور کشادہ چوراہوں پر فٹ پا ت پر قبضہ کرتے ہوئے فلاحی اداروں نے دستر خوان لگانا شروع کردیے ہیں۔ کبھی آپ نے دیکھا کہ کھانے کھانے والے کون لوگ ہوتے ہیں۔ وہی جو سڑکوں پر بھیک مانگتے، کوڑا کرکٹ چنتے، راہ چلتے ایسے افراد جو اس میں شرم محسوس نہیں کرتے ۔ ان میں کوئی سفید پوش شامل نہیں ہوتا وہ تو شرم و حیا کی وجہ سے بھوکا رہ لیتا ہے لیکن اس دستر خوان پر شامل نہیں ہوتا۔ صدقہ ، خیرات عام طور پر رمضان المبارک میں زیادہ دیا جاتا ہے۔حالانکہ یہ ضروری نہیں ، ذکواۃ، صدقہ، خیرات کے لیے رمضان کا مہینہ ہی مقرر نہیں ہم دیگر گیارہ مہینوں میں بھی یہ نیک کام کرسکتے ہیں لیکن ہم نے خود ہی ایسا ماحول پیدا کردیا ہے کہ پیشہ ورگداگروں نے سمجھ لیا ہے کہ اس مہینے میں ذکواۃ، صدقہ، خیرات لوگ زیادہ دیتے ہیں چنانچہ دور دراز کے شہروں ، گاؤں دیہاتوں سے لوگ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی بڑے شہروں کا رخ کرتے نظر آتے ہیں۔ عام دنوں کے علاوہ ہمیں میدانوں، پلوں کے نیچے،بڑے بڑے پائپوں کے اندر، درختوں کے یہ تلے حتیٰ کہ کھلے آسمان کے نیچے ، سخت دھوم و گرمی میں پناہ گزینوں کے غول کے غول بسیرا کیے نظر آتے ہیں ہمارے معاشرے کا یہ طبقہ رمضان اور عید پر پورے سال کے لیے مال بٹو ر کر چلتا بنتا ہے۔ ایک تیسرا طبقہ ذکواۃ، صدقہ، خیرات لینے والوں میں ہمارے آپ کے گھروں میں کام کرنے والے ملازمین، عرف عام میں جنہیں ہم ماسیاں کہتے ہیں ان کا بھی ہے۔ متعدد فلاحی ادارے ذکواۃ، صدقہ، خیرات کے حصول کے لیے شاہراہوں پر کیمپ لگائے ذکواۃ، صدقہ، خیرات جمع کرتے نظر آتے ہیں ۔ روز اخبارات میں آدھے آدھے صفحہ پر مشتمل اشتہارات چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ اشتہارات کے لیے رقم کہا سے آتی ہے ۔ یہ رقم بھی ذکواۃ، صدقہ، خیرات کے لیے جمع کی گئی پونجی سے ہی ادا کی جاتی ہے۔ ایک ایک اشتہارلاکھ سے کم کا نہیں ہوتا۔ کسی بھی دینی مدرسہ کو دیکھ لیں سالوں میں نہیں مہینوں میں کئی کئی منزلہ عمارت کھڑی ہوجاتی ہے۔ یہی حال فلاحی اداروں کا ہے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے کئی کئی عمارتوں کے مالک بن جاتے ہیں۔

ذکواۃ، صدقہ، خیرات لینے والوں میں کہیں ہمیں سفید پوش (مڈل کلاس) یا لوئر مدل کلاس نظر آتے ہیں۔کہیں نہیں، یہ ہمارے معاشرے میں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم انفردی طور پر اپنے محلوں میں، اپنے قرب و جوار میں ایسے لوگوں کو ڈھونڈ نکالیں، خود بھی خاموشی سے ان کی مدد کریں اور لوگوں کو بھی ان کی مدد کرنے کی ترغیب دیں۔ غریبوں کی مدد کرنے والے فلاحی اداروں کو بھی اپنے مقاصد اور طریقہ کار میں سفید پوشوں کی مدد کرنے اور اس کا طریقہ کار طے کرنا چاہیے۔ ایسے خاندانوں کی خاموشی کے ساتھ مدد کی جانی چاہیے۔حکومت کی جانب سے جو ذکواۃ جبراً جمع کی جاتی ہے اس کی تقسیم کے بارے میں غریبوں کو علم ہی نہیں۔ بلدیاتی نمائندے ایسے کاموں میں زیادہ فعال کردار ادا کرسکتے ہیں اس لیے ان کا تعلق اپنے مختصر سے علاقے سے ہوتا ہے وہ اپنے علاقے کے افراد کوبخوبی جانتے ہیں نیز اس علاقے کے مکینوں کے ذریعے سفید پوش ضرورت مندوں کو اس نظام میں لایا جاسکتا ہے۔ لیکن بد قسمتی کہ ہمارے ملک میں بلدیاتی نظام عدالتی ڈنڈے کے زور پر قائم تو ہوگیا لیکن ہماری حکومتوں کو اقتدار میں شراکت کسی طور قبول نہیں۔ بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دینے میں کوئی بھی برسرِ اقتدار جماعت تیار نہیں۔قومی، صوبائی اور سینٹ کے نمائندوں کا خیال ہے کہ اگر بلدیاتی نمائندوں کو اختیار دے دیا گیا تو پھر وہ کیا کریں گے۔ ان کی دکان کیسے چلے گی، ان کی چودھراہٹ ختم ہوجائے گی، ترقیاتی فنڈ جو انہیں مل رہا ہے اختیارات دے دینے کی صورت میں اس فنڈ کا اختیار بلدیاتی نمائندے کو مل جائے گا۔ ایسا صرف اس لیے ہے کہ ہماری سیاسی تربیت نہیں ہورہی۔ قومی، صوبائی اور سینٹ کے اراکین کا کام تو قانون سازی کرنا ہے، حکومت کے ساتھ حکومت سازی میں معاونت کرنا ہے ۔ گلیاں،سڑکیں، نالے، صفائی ستھرائی، نکاسی، پانی کی فراہمی اور دیگر کاموں سے ان نمائندوں کا کیا کام؟ لیکن کیا کیا جائے مائنڈ سینٹ ہے جو سمجھتا ہے کہ اگر بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دیدئے گئے تو شاید ہمارے ہاتھ سے حکومت چلی جائے گی۔ ماضی میں قائم ہونے والے بلدیاتی نظام جو ایوب خان کے زمانے میں بی ڈی سسٹم، جنرل مشرف کے دور میں سٹی حکومت کے نظام کے فوائد لوگوں کے علم میں ہیں۔ دراصل نیت میں کھوٹ ہو تو پھر کوئی کام کربھی لیا جائے تو اس کا فائدہ نہیں ہوتا۔ حکومت نے دل سے بلدیاتی نظام قائم نہیں کیابلکہ عدالت کے ڈنڈے نے اس سے یہ کام کرایاجس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہیں۔

امیری اور غریبی کی اکائیوں میں مختلف کیٹگر یز ہیں ۔ ایک تحقیقاتی ادارے بذپاک(BUZZPK) کی رپورٹ کے مطابق 2017 میں پاکستان میں دس امیر ترین افراد میں شاہد خان ، آصف علی زرداری، سر انور پرویز، میاں نواز شریف، صدر ا لدین ہاشوانی، ملک ریاض حسین، میاں محمد منشا، ناصر شون، چودھری خاندان اور رفیق حبیب شامل ہیں ، یہ فہرست بر سبیل تذکرہ آگئی یہاں ایسے امیروں کی بات نہیں ہورہی بلکہ معاشرے کی غریب اکائیوں میں سفید پوش یعنی مڈل کلا س اور لوئر مڈل کلا س کے بارے میں کچھ حقائق کی نشاندھی کرنا ہے۔ غریبوں کی بھی مختلف اقسام ہیں ایک تو وہ جو کھلے آسمان تلے، تپتی دھوپ ، پرانی عمارتوں ، پلوں کے نیچے، بڑے بڑے پائپوں کے اندر بسیرا کیے ہوتے ہیں۔ ان کے بچوں کے تن پر کپڑے نہیں ، پیروں میں چپل نہیں ، یہ مرد، عورتیں اور بچے ہمیں فٹ پات پر ، سنگل پر ہاتھ پھیلائے نظر آتے ہیں۔ انہیں ایک اعتبار سے پیشہ ور بھکاری بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس قسم کے لوگ مستقل طور پر کچھی آبادیوں میں رہائش رکھتے ہیں محنت مزدوری بھی کرتے ہیں اور ان کی عورتیں گھر وں میں ماسیوں کا کام بھی کرتی ہیں۔ ان خاندانوں کا سہاراوہ گھرانے ہوتے ہیں جہاں یہ ماسیاں کام کرتی ہیں۔ ہماری امداد زیادہ تر ایسے ہی خاندانوں کو جاتی ہے۔ اس لیے کہ ہمیں اس میں سہولت نظر آتی ہے ، وہ از خود امدادی سامان گھر سے لے جاتی ہیں۔ غربت کی ایک اور اکائی سفید پوش یعنی مڈل کلا س اور لوئر مڈل طبقہ بھی ہے۔ سفید پوشی کی تعریف میں وہ لوگ آتے ہیں جو عزت داری کا بھرم رکھتے ہیں، رکھ رکھاؤ والے ہوتے ہیں اور اپنی وضعداری کو قائم رکھتے ہیں۔غریب ہوتے ہیں لیکن اپنی غربت کو ظاہر نہیں کرتے، جو کچھ اللہ نے دیا ا س پر صبر شکر اور توکل کرکے اس پر گزبسر کرتے ہیں۔اس قسم کے لوگ بھی توجہ کے مستحق ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کی سفید پوشی کے بے شمار واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا گھر تو ہوتا ہے لیکن گرمیوں میں گرم، سردیوں میں سرد، برسات میں اللہ کی رحمت پورے گھر کو پانی پانی کردیتی ہے، گھر کا ایک فرد کمانے والا اور دس سے پندرہ افراد کھانے والے، ایسے گھروں کی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے اس لیے نہیں ہوپاتے کہ ان کے جہیز کی تیاری والدین کے لیے ممکن نہیں ہوتی۔ ایسے افراد ہماری توجہ کے مستحق ہیں ۔ یہ لوگ کبھی بھی از خود ہمارے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے انہیں ڈھونڈنا ہوگا، تلاش کرنا ہوگا، یہ ہم سب کا فرض بھی ہے اور ذمہ داری بھی ۔ہمیں اس قسم کے ’’نیک کام‘‘میں سبقت لے جانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 767 Articles with 659784 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
24 Jun, 2017 Views: 1372

Comments

آپ کی رائے