میں سلمان ہوں(٤٨)

(Hukhan, karachi)
خود میں بسا لیا تم نے
اَمر بنا دیا تم نے
کہتا ہوں سچ
جیون بنا دیا تم نے
جب تک امجد کےبیٹے کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوجاتی‘‘،،،تم اس کی جگہ،،مطلب آپ اس کی جگہ ڈرائیور کرلو،،،امچد تم ،،جب تک بیٹا ٹھیک نہ ہو جائے،،گھر سے نہ آنا،،ایسا نہ ہو کہ بس یہاں پہنچو،،،اور پھر سے گھر کی دوڑ لگانی پڑ جائے‘‘،،سلمان صرف جی کہہ سکا‘‘،،امجد کے چہرے پرلکھی ہوئی پر پریشانی کوپڑھا‘‘،،،امجد بھائی آپ بے فکر ہو کر جاؤ‘‘،،انشااللہ تمہارا بیٹا،،،ایک دم فٹ ہو جائے گا‘‘،،،اللہ ماں سے ذیادہ پیار کرتا ہے اور کئی گنا ذیادہ کرتا ہے‘‘،،وہ کیسے تمہارے بیٹے کی تکلیف دیکھ سکے گا‘‘،،اور جلدی میں بیٹے کے لیے کھلونے لے جانا نہ بھول جانا‘‘،،بچوں کی آدھی بیماری کھلونے دیکھ کے ختم ہوجاتی ہے‘‘،،،
روزی میڈم نے پہلے ہی بہت لے دئیے ہیں‘‘،،میں تو پریشان ہوں اتنی دور لے کر کیسے جاؤں گا‘‘،،،امجد کے لہجے میں تشکرتھا‘‘،،روزی ہلکا سامسکرا دی‘‘،،،وہ کسی بزرگ کی طرح امجد کو بیٹے اور سفر کے بارے میں ہدایات دینے لگی‘‘،،
سلمان حیرانی سے اس ڈول (گڑیا)کو تکتارہا،،،سلمان کے کندھے پرکسی نے زوردار ہاتھ مارا وہ چونک ساگیا‘‘،،،
واؤ‘‘مسٹرسلمان!ایٹ لاسٹ یو آر ہیئر آگین،،،پھر اس کے کان کے پاس آہستہ سے کہا‘‘،،یہ میرا پیس ہے،،ڈونٹ لک ایٹ ہر‘‘،،،ایم گونا کِل یو فار ڈیٹ‘‘،،،خود ہی زورسے قہقہہ لگایا‘‘،،سلما ن کارنگ سرخ ہو گیا‘‘،،،فراز بہت ہی فرینک قسم کا انسان تھا‘‘،،،سلمان کو سرخ ہوتا دیکھ کر اس نے سلمان کے چہرے کی طرف اشارہ کرکے کہا‘‘،،،امیزنگ گلو،،،
یو آر سَم کائنڈ آایسٹرن سٹف‘‘،،،روزی نے فراز کو دیکھا‘‘،،،اِز ایوری تھنگ آل رائٹ؟،،فراز نے فورََََا کہا،،یس اٹ اِز،، اِٹز بٹوین می اینڈ سلمان‘‘،،،سلمان مسکرا کے رہ گیا‘‘،،ویسے یہ کب کب ہنستا ہے‘‘،،فراز نے سلمان کی طرف اشارہ کرکے روزی سے کہا‘‘،،،روزی نے پرسکون لہجے میں کہا‘‘،،،وین ایور ہی فیل سم تھنگ فنی،،،ہی ازناٹ سو ٹاک ایٹوو‘‘،،،موسٹلی ہی از کوائٹ سینس ایبل‘‘،،،فراز نے اثبات میں سر ہلایا‘‘،،یس نو ڈاؤٹ‘‘،،،
سلمان خوش تھا‘‘،،،وہ کچھ دن کے بے روزگار رہنے سے بچ گیاتھا‘‘،،،سلمان آپ کو یہاں ہی رکنا ہوگا‘‘،،،سلمان نے سکون سے کہا‘‘جی ٹھیک ہے‘‘،،فراز کو پوراشہر گھمانا ہے‘‘،،انٹی کوبھی‘‘،،،کیونکہ ان محترمہ کےپاس ذیادہ ٹائم نہیں ہے‘‘،،،اینڈ آئی ڈونٹ وانا اَن اِیزی اینی ون،،،فراز نے شکوہ کردیا‘‘،،،مگر ساتھ ہی مسکرا کے،،اپنی کمپلین کو اچھی سی پیکنگ چڑھا دی‘‘،،میں صرف سلمان کو ہی تنگ کروں گا‘‘،،،پھر زور سے اک ہاتھ کندھے پرمارا‘‘،،سلمان سر ہلا کے رہ گیا‘‘،،،روزی نے سلمان کو دیکھا‘‘،،،کچھ چاہیے سلمان آپ کو‘‘،،،سلمان اپنے کندھے کو سہلارہا تھا،،
مسکرا کے بولا‘‘،،اگر ایک کندھا مجھے ایکسٹرا مل جاتا تو بہتر ہوجاتا‘‘،،،روزی زور سے ہنسی،،،سلمان یہ ناممکن ہے،،
فراز کو بات ہی سمجھ نہ آئی وہ منہ کھولے دونوں کو دیکھ رہاتھا‘‘،،،روزی اپنے روم کی طرف بڑھ گئی‘‘،،،یار میرے طوفانی قسم کے جوک پر مسکرائی تک نہیں‘‘،،تم نے ایسا کیا کہا‘‘،،،سلمان نے مسکرا کے کہا‘‘،،،وہ بہت مشرقی ہے
کچھ مشرقی لطیفے سیکھو‘‘،،فراز سر ہلاکے رہ گیا‘‘،،(جاری)
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 879954 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jun, 2017 Views: 632

Comments

آپ کی رائے
Bhut hi jaandaar
By: Rahi, Karachi on Jun, 30 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Jun, 30 2017
0 Like
Zbardast
By: Sohail memon, Karachi on Jun, 27 2017
Reply Reply
0 Like
Awesome bhai
By: Hukhan, Karachi on Jun, 27 2017
Reply Reply
0 Like