توبہ کی دستک

(ثمرین, Peshawar)

انسان ہونے کے ناطے ہم سے غلطیاں اور کوتاہیاں چاہتے یا نہ چاہتے ہو ہی جاتی ہیں. لیکن میرا رب اتنا رحیم و کریم ہے کہ ہم اس کی بارگاہ میں سچے دل سے اپنی غلطیوں اور گناہوں کی معافی مانگیں تو ہماری آہ و پکار سنی جاتی ہے، جب بھی جس مقام پر بھی اس سے رجوع کریں تو وہ سنتا ہے اور ہماری توبہ قبول کر لیتا ہے . میرا رب تو خود کہتا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری پکار سنتا ہوں. میرا رب تو ستر ماءوں سے زیادہ اپنے بندے سے پیار کرتا ہے. ہمیں یقین اس لیئے نہیں ہوتا کیونکہ ہمارے دل میں کہیں نا کہیں شک پوشیدہ ہوتا ہے اپنی توبہ کے قبول نہ ہونے کا ، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہمیں خدانخواستہ اللہ پر یقین نہیں بلکہ ہمیں ہمارا گناہ پہاڑ جتنا معلوم ہوتا ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ شاید ہماری دعا قبول نہ ہو. لیکن اللہ کا کرم اس چیز کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمیں رب کی زات سے مایوس نہیں ہونا چاہیئے. وہ زات تو اس کیڑے کی بھی چاپ سنتی ہے جو بے زبان ہے تو جب ہم رجوع کریں تو وہ کیسے ہمیں اپنے در سے مایوس بھیج سکتا ہے. ایک مشہور مقولہ ہے : "توبہ کا خیال خوش بختی کی علامت ہے ، جو اپنے گناہ کو گناہ نہ سمجھے وہ بڑا ہی بد قسمت ہے ". جب انسان کے دل میں کوئی ایسا غم پیدا ہو جائے جس کی وجہ سمجھ میں نہ آئے تو وہ انسان کے کسی ایسے گناہ کا نتیجہ ہے جس کی گناہ کا موقع نہ ملنا بھی اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے. اگر آپ کا ضمیر اور نیت صاف ہے تو کوئی آپ کو اچھا کہے یا برا آپ اپنی نیت پر جانچے جائیں گے دوسروں کی سوچ پر نہیں. دیکھا جائے تو زندگی سفر ہے اس آزان سے لے کر جس کی نماز نہیں ہوتی ، اس نماز تک جس کی آزان نہیں ہوتی. ہمارا رب تو اتنا عظیم ہے کہ شام کو جو فرشتے ہمارے گناہ اس کے پاس لے کر جاتے ہیں وہ انہی کے ہاتھوں صبح ہمارے لیئے رزق بھیجتا ہے. ہمیں ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے رہنا چاہیئے کیونکہ قیامت کے دن ہر وہ چیز جس کے سامنے آپ نے اللہ کا زکر کیا ہوگا گواہی دے گی کہ اللہ تیرا یہ بندہ تیری عبادت میں ہر وقت مشغول رہتا تھا. سورت النور میں ہے کہ : مومنو تم خدا سے توبہ کرو تاکہ تم فلاح پا سکو" (آیت نمبر 31). کہتے ہیں جو شخص سجدوں میں روتا ہے اسے کبھی تقدیر پر رونا نہیں پڑتا. گناہوں کا بوجھ ہلکا کرنے کا سب سے بہترین حل نماز ہے. جب کوئی شخص نماز کے لیئے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے سر اور کندھوں پر رکھ دئیے جاتے ہیں جیسے جیسے وہ رکوع اور سجدے میں جاتا ہے تو اس کے گناہ گرنا شروع ہو جاتے ہیں. دعا میں گرا ایک آنسو پوری تقدیر بدل سکتا ہے. اسلیئے ہمیشہ اللہ تعالی سے اچھے کی امید رکھنی چاہیئے اور مثبت سوچنا چاہیئے. اللہ تعالی سے دعا ہے کہ میں ہماری توبہ اور استغفار قبول کر کے ہمیں بھی اپنے پسندیدہ بندوں شامل کر لے. آمین.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ثمرین

Read More Articles by ثمرین: 14 Articles with 16250 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Jul, 2017 Views: 765

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ