آزادکشمیر کی صحافتی جدوجہد کے ستارے اور ممتاز شمیم مرحوم

(Tahir Ahmed Farooqi, muzaffarbad azad kashmir)
آزادکشمیر کی صحافتی جدوجہد کے ستارے اور ممتاز شمیم مرحوم

تحریر طاہر احمد فاروقی

پاکستان میں آزادی رائے سے پہلے پورے ملک کی طرح آزاد جموں وکشمیر میں بھی سیاست کی طرح صحافت بھی ایک خاص مائنڈ سیٹ کی تابعدار رہی جب الیکٹرانک میڈیا تھانہ قومی روزناموں کی ریل پہل ہوتی تھی ۔ریاستی روزنامے تھے نہ انکا تصور تھا ۔یہاں آزادکشمیر میں تو چار پانچ روزنامے جو نام ہی کے ہوتے تھے سوائے جنگ نوائے وقت کے باقی دو چار انگلش اخبارات درجن بھر آتے تھے ۔زیادہ تر ہفت روزہ کا رجحان تھا جو موجودہ اخبارات کے ایک صفحے بھی نہیں بلکہ آدھا صفحہ فولڈ کر کے اس وقت کے صحافتی ڈسپلن کے مطابق حکمرانوں کے بیانات اور کچھ واقعات سمیت ہلکا پھلکا تڑکا لگا کر مضمون یا اداریہ کی شکل میں جہاں جہاں کیلئے ضروری ہوتا تھا وہاں وہاں کیلئے شائع ہو جاتے تھے ان میں بعض مزاحمتی مزاج رکھنے والے سیاسی کارکنوں کیلئے حوصلہ افزائی کا بہت بڑا ذریعہ بھی رہے جو قلم دوات کے دور میں جرات کی آواز یا پھر زندہ ضمیر والوں کیلئے ہمت حوصلہ بڑھانے میں معاون ثابت ہوتے تھے ۔اکثریت حالات واقعات کے تناظر میں اپنی اور جس کا ڈنڈہ اس کی بھینس کے مصداق باہمی تسکین و فلاح کے حلقہ میں گھیرے ہوئے تھے ۔پھر جناب مجیب الرحمان شامی کا روزنامہ پاکستان جناب ظفر حجازی کا روزنامہ اساس اور ضیاء شاہد ،خوشنود علی خان کا روزنامہ خبریں ،مہتاب عباسی کا حامد میر کی زیر ادارت روزنامہ اوصاف آتے گئے ۔اور ایک لامتناعی سلسلہ چل نکلا ۔یہاں آزادکشمیر میں بھی پورے ملک کی طرح نوجوان اخبارات سے بطور نمائندہ منسلک ہونا شروع ہو گئے ۔مجھ سمیت خورشید الزمان عباسی حال امریکہ ،جہانگیر اعوان ،تنویر تنولی کو رب العزت ہمشیہ خوش و خرم رکھے درازی عمر عطا کرے ۔استاد محترم رانا شبیر راجوری ،روزنامہ اساس کی مظفرآباد ٹیم میں لے آئے اور جب پورے آزادکشمیر میں بڑے چھوٹے کسی روزنامہ میں تنخواہ کا تصور ہی نہ تھا پہلے ہی ماہ تین تین ہزار تنخواہ دے کر یہاں صحافت کرنے والوں کیلئے اجرت کی بنیاد رکھی ۔مگر نئے لوگوں کیلئے اعلیٰ ایوانوں حتیٰ کہ پریس کلب ہا سمیت ایک ہی ٹریڈ تنظیم تھی میں اس طرح داخلہ ممنوع اور ناپسندیدگی ہوتی تھی جس طرح نئے آنے والے انسان ہی نہیں ہیں ۔سارے آزادکشمیر میں یہی حال تھا ضیائی مائینڈ سیٹ عوامی رائے سامنے لانے یا اختلاف رائے رکھنے والوں کو برداشت نہیں کرتا تھا ۔ایسے میں حالات نے نئی کروٹ لینا شروع کی اور کارکن صحافیوں یا اخبار نویسوں کی آواز بننے ان کی پہچان وقار عزت نفس حقوق کی سربلندی کیلئے چند احباب راولپنڈی جمع ہوئے جنہوں نے سینٹرل یونین آف جرنلسٹس کا قیام عمل میں لایا پہلے صدر ممتاز شمیم چوہدری منتخب ہوئے ۔یعنی اپنے وقت کے بہت بڑے اثر و رسوخ قوت اور خود کو ناخدا مزاج کا حامل سمجھنے والوں کے مقابلے میں خالی جیب پیدل و مصائب و آلام کے دور میں ٹینکوں سے ٹکرا جانے کیلئے آگے ممتاز شمیم کو کیا گیا جنہوں نے ماسوائے بہت ہی قابل ،احترام نثار راتھر کے باقی سب ناتجربہ کار نوجوانوں کی ٹیم ساتھ لے کر آزادکشمیر بھر میں صحافتی سیاست کا ایک ایسا انقلاب برپا کر دکھایا جس کے سامنے خود کو بہت بڑا سورما سمجھنے والے بھی نہ ٹھہر سکے جو نہتے اخبار نویسوں سے دوانگلیاں ملانا بھی گنا ء عظیم سمجھتے تھے وہ دیکھتے ہی رہ گئے اور سی یو جے ایک طاقت بن گئی کیسے بنی اس کی طاقت سچے جذبے ،ایثار قربانی تھے ۔ممتاز شمیم نے سب کو ایک خاندان کے افراد کی طرح ساتھ لے کر سفر کا آغاز ایسے کیا جیسے ایک بزرگ کرتا ہے جو بچے لڑ جائیں ناراض ہو جائیں تو ان کی بات سنتا ان کو پیار سے سمجھاتا اور بغلگیر کر کے پھر پیار محبت کرنے والے جذبوں کی تسبیح میں باندھ دیتا۔جیسے بچے بچپن میں آپس میں لڑتے اور بزرگ شفقت و پیار سے پھر ملا دیتے تو انکا دل و دماغ ایکدوسرے کیلئے مرمٹنے والے دوستوں جیسا ہوتا تھا وہ اپنے مزاج ،عادات ،برداشت ہمت کی خوبیوں سے ناتواں لوگوں کو شجر دار درخت بنانے میں کامیاب ہو گئے ۔ محترم منہاج برناکی تحریک چلی ۔پہلے ویج بورڈ ایوارڈ کے حصول و نفاذ کے لیے تاریخی مقدمہ بازی کے اعصاب شکن امتحان آئے جس میں پورے ملک کی صحافتی قیادت کے ساتھ ممتاز شمیم چوہدری بھی نمایاں ہوتے تھے ۔مقصد آزادکشمیر کے صحافیوں کے حقوق کیلئے زیادہ سے زیادہ تائید حمایت کاحصول اور انکا حصہ بن کر طاقت بنانا تھا ۔جن کی قیادت میں میرے سمیت بہت سے دوستوں نے لاہور ہائیکور ٹ میں ویج بورڈ کی تحریک میں حصہ لیا اسلام آباد تک جہدوجہد کی کامیابی تک وفاؤں کے چراغ روشن کرتے رہے ممتاز شمیم چوہدری سی یو جے کے بانی روح رواں ہونے کے باوجود قیادت عہدوں سے چپکے رہنے کے بجائے صاف شفاف انتخابی عمل کے ذریعے یونین میں جمہور کے اصولوں کو آگے بڑھاتے ہوئے نئی لیڈر شپ بھی تیار کرتے رہے ۔ان کے قافلے کے سفر میں شامل ہونے والے اخبارات نکال کر مالک بن گئے ۔بڑی بڑی گاڑیوں سمیت دور حاضر کی سہولیات حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے مگر ممتاز شمیم کوئی بڑا بینک بیلنس ،جائیداد بنانے کے حوالے سے نالائق ہی رہے ۔ان کی اثاثہ زندگی خوشیاں غم سب سی یو جے ہی تھی جیسے روح جسم کا رشتہ ہوتا ہے وہی انکا اور سی یو جے کا بندھن تھا ۔؛جس میں کبھی کمزوری نہیں آئی مگر عمر ،صحت ،حالات نے عارضہ قلب سمیت دشواریوں سے دوچار کر دیا جس کا وہ مقابلہ کرتے رہے اور آخری دم تک اپنی پہلی آخری محبت جستجو و پہچان سی یو جے کے ساتھ نبھاتے رہے اور ان کی یہ محبت تقسیم ہوئی تو وہ بھی دنیا چھوڑ گئے ۔اللہ رب العزت ان کو مجبور بے بس بلکہ اندھیروں میں چلنے والوں کو روشنی کی امید دلا کر سالار قافلہ بننے کے کردار کے طفیل اپنی رحمتوں سے نوازے اور سی یو جے والوں سمیت سب کو احساس برداشت اخلاص ایثار کے وہ جذبے جو روٹھ گئے ہیں کو دوبارہ زندہ جاویداں کرنے کی توفیق عطاء فرمائے رشتے ناطے احساس کے ہوتے ہیں وہ نہ رہے تو پھر کچھ باقی نہیں رہتا ہے ۔بھمبر کے بزرگ صحافی ممبر گورنر باڈی پریس فاؤنڈیشن خالد حسین خالد بھی رمضان المبارک میں ایک حادثے کا شکار ہوکر اس جہاں فانی سے کوچ کرگئے ہیں سی یو جے کی پہنچان بہت پیارا نڈر دلیر دوست عامر مظفر قریشی بھی جوان سالی میں اللہ کو پیارا ہوگیا ڈسٹرکٹ باغ کے بڑے ہی حلیم و شفیق انسان راجہ سلیم کیانی کوٹلی سے عرفان قریشی‘سکندر کامران‘طارق پسوال‘طارق محمود چغتائی جیسے دوست جدا ہوچکے ہیں راجہ ظفر حسین مرحوم بھی سب کچھ چھوڑ گئے بلکہ ہم سب ہی نے چلے جانا ہے جس کے بعد جائیداد اثاثے نہیں بلکہ کردار زندہ رہتے ہیں نیلم سے بھمبر تک سی یو جے کو اپنے جگر کا لہو دے کر سنوارنے والے سبھی دوستوں اور نئے خون کی ذمہ داری بنتی ہے آنے والوں کو اچھا مستقبل دینے کے لیے درپیش بہت بڑی آزمائش میں رضا الہی کے لیے اجتماعی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے جہاں سے تقسیم کی بنیاد شروع ہوئی ہے وہاں سے ہی سب قربانی کا مظاہرے کرتے ہوئے سینٹرل یونین کو دوبارہ متحد کرتے ہوئے صحافتی تاریخ کا انمول باب رقم کریں اللہ رب العزت سب مرحومین کو جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے۔اور ہم سب کو اخلاص و دیانت کے ساتھ دوبارہ ایک ہو جانے کی توفیق عطا فرمائے ۔امین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 205 Articles with 70669 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Jul, 2017 Views: 571

Comments

آپ کی رائے