انگریزی کیوں مسلط ہے؟

(Ata Ur Rehman Chohan, Islamabad)

سترسال پہلے انگریز سامراج سے آزادی حاصل کرلینے کے باوجود ہمارے نظام تعلیم اور کاروبار حکومت چلانے والے دفتری نظام پر انگریزی زبان کی عمل داری کیوں قائم ہے؟ یہ سوال تو ہے لیکن کتنے پاکستانی اس کو سوال سمجھتے ہیں؟

بابائے قوم ، بانی پاکستانی قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے مارچ 1948 میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں بہت ہی واضع الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ ـ’’ میں آپ پر واضع کردینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردوہوگی اورصرف اردواردو کے سوائے اور کچھ بھی نہیں۔ جو آپ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے، ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم باہم متحد نہیں ہوسکتی، اگر پاکستان کے مختلف حصوں کو باہمی متحد ہو کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا ہے تو اس کی سرکاری زبان ایک ہی ہو سکتی ہے اور وہ میری ذاتی رائے میں اردو ہے۔اردو وہ زبان ہے جس کو براعظم کے کروڑوں مسلمانوں نے پرورش کیا ہے، جسے پاکستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سمجھا جاتا ہے۔پاکستان کی سرکاری زبان جو مملکت کے مختلف صوبوں کے درمیان افہام و تفہیم کا ذریعہ ہو، صرف ایک ہی ہوسکتی ہے اردو کے سوا اور کوئی نہیں‘‘۔

پاکستان میں بنائے گئے تمام دساتیر میں بھی قومی زبان اردو کو ریاست کی سرکاری اور دفتری زبان قرار دیتے ہوئے محدود مدت میں نفاذ کی ضمانت دی گئی اور 1973 کے دستور کی دفعہ 52-A میں دس سالوں میں سارے سرکاری اور دفتری نظام کو اردو میں منتقل کرنے کی ضمانت دی گئی تھی۔ عدالت عظمیٰ ، پاکستان نے 2015 میں اپنے فیصلے میں دستور کے تقاضوں کے مطابق قومی زبان اردو کو بطور سرکاری اور دفتری زبان نافذ کرنے کا واضع حکم جاری کیا۔

یاد رہے کہ دستور 1973 کی منشا کے مطابق دفتری نظام کو اردو میں منتقل کرنے کے لیے بنیادی اور ضروری اقدامات و تیاری کے لیے ذولفقار علی بھٹو سابق وزیر اعظم نے ’’مقتدرہ قومی زبان‘‘ کے نام سے وفاقی سطح پر کابینہ ڈویژن کے ماتحت ایک ادارہ قائم کیا ، جسے یہ ہدف دیا گیا کہ وہ دس سالوں میں انگریزی کی بجائے اردو کو بطور سرکاری اور دفتری زبان نافذ کرنے کے لیے اقدامات کرے۔ جنرل ضیاالحق مرحوم سابق صدر پاکستان نفاذ اردو میں گہری دلچسپی رکھتے تھے، انہوں نے اس ادارے کو مزید فعال کیا اور ان کے دور میں اردو ٹائپ رائٹراور تقریبا تمام سرکاری دستاویزات کا اردو ترجمہ اور معاملات مملکت چلانے کے لیے درکار مراسلت کے نمونہ جات بھی اردو میں مرتب کرلیے گئے تھے۔ نصاب تعلیم کو اردو زبان میں منتقل کرنے کی بھی تیاری کرلی گئی تھی۔ طب، انجنیئرنگ اور دیگر سائنسی علوم کی کتب اور درسی مواد بھی اردو زبان میں مرتب ہو چکا تھا۔اس دوران وفاقی اور صوبائی حکومت کے افسران اور عملہ اراکین کودفتری اردو مراسلت اور طریقہ کار کی عملی تربیت بھی دی گئی اور جو افسران و عملہ اراکین اردو مراسلت کورس کرتے تھے انہیں اضافی طور پر مالی فائدہ (ایک سالانہ ترقی) بھی دی گئی تاکہ سرکاری ملازمین میں اردو سے دلچسپی پیدا ہو سکے۔ ایک موقع پر ’’مقتدرہ قومی زبان ‘‘ نے صدر مملکت کو یہ تحریک کردی کہ نفاذ اردو کے تمام انتظامات مکمل ہیں اور صدر مملکت نفاذ اردو کا باقاعدہ اعلان کرنے والے تھے کہ وہ ایک حادثے کا شکار ہوگئے اور نفاذ اردو کا خواب پھر ادھورا رہ گیا۔

ضیاء الحق مرحوم کے بعد نفاذ اردو کا معاملہ کھٹائی میں پڑا رہا، ہر آنے والی حکومت دستور میں دی گئی دس سال کی مدت میں عدالت کے ذریعے توسیع کرواتی رہی اور انگریزی زبان ہمارے سرکاری اور دفتری نظام میں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی رہی۔آخر 2015میں ایک عدالت عظمیٰ پاکستان نے حتمی طور پر فیصلہ دے دیا کہ قومی زبان اردو کو فوری طور پر سرکاری اور دفتری زبان کے طور پر نافذ کردیا جائے۔ اس فیصلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے تحریری یقین دہانی بھی لی گئی۔

اس سب کے باوجود سرکاری سطح پر نفاذ اردو کے لیے اب تک کوئی قابل ذکر تیاری نہیں کی گئی، نہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں قومی زبان کے نفاذ کے لیے کوئی آواز اٹھ رہی ہے اور نہ ہی صوبائی اسمبلیوں سے کوئی مطالبہ اور قرارد اد سامنے آئی ہے۔ کوئی سیاسی اور سماجی پلیٹ فارم بھی قومی زبان کے لیے آواز اٹھانے پر تیار نہیں۔ سول اور ملٹری مقتدرہ تو انگریزی میں اپنی عافیت سمجھتی ہے اور انگریزی میں لکھنے اور بولنے کو ہی سرکاری سطح پر اہلیت کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ ملک کی اشرافیہ اور ان کے بچے تو انگریزی میں جنم لیتے ہیں اور انگریزی میں ہی پرورش پاتے ہیں اور اسی لیے یہ طبقہ (کلاس) مستقل طور پر پاکستان کے وسائل پر قابض ہے۔ شعبہ تعلیم میں جو کچھ بچا کچھا بجٹ میسر ہوتا ہے اس کا اسی فیصد انگریزی میڈیم سکولوں اور اشرافیہ کے لیے مختص تعلیمی اداروں کی بھینٹ چڑھتا ہے تاکہ اشرافیہ کی اگلی نسلوں کو پاکستان پر قابض رکھا جاسکے۔

براعظم پاک و ہند پر انگریزی نافذ کرنے والے انگریزی مفکر لارڈ میکالے نے برطانوی پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں نے ہندوستان کے طول و عرض میں کئی سفرکیے مجھے وہاں کوئی بھکاری نہیں ملا، نہ کوئی چور، میں نے اس ملک کو مالا مال دیکھا ہے۔مجھے وہاں اعلیٰ اقدار دیکھنے کو ملیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ جب تک ہم ان کی اعلیٰ اقدار کو ختم نہ کردیں، ان کو اپنا غلام نہیں بنا سکتے۔ ان کے نظام تعلیم کو بدلے بغیر یہ ممکن نہیں ہوگا اور نہ ہی ان کی اعلٰی سماجی اقدار اور ان کی تہذیب کو شکست نہیں دی جاسکتی۔ اس لیے میں تجویزکرتا ہوں کہ ہم انگریزی زبان کی بالادستی قائم کرکے ان کی خوداری، ان کی تہذیب اقدار کو تباہ کرکے وہ سب کچھ حاصل کرسکتے ہیں ، جو ہم چاہتے ہیں۔

قائداعظم ؒ سے ضیاالحق ؒ تک کی راہنمائی اور عملی جدوجہد، دستوری تقاضوں اور عدالتی فیصلوں کے باوجود ابھی تک انگریزی تسلط سے ہماری جان نہیں چھوٹ رہی۔ اس تسلط کے پیچھے ایک منظم گروہ ہے جو لارڈ میکالے کے فلسفے پر کاربند ہے اور اہل پاکستان کو جہالت کے اندھیروں اور اخلاقی پستی سے باہر نہیں نکلنے دے رہا۔ قوم انگریزی تہذیب کی شعوری غلامی کے چنگل میں اس بری طرح پھنس چکی ہے کہ غلامی کا طوق گلے سے اتارنے پر تیار نہیں۔ جب کہ وہ اس کی استطاعت بھی رکھتی ہے۔ یہی دراصل تہذیبی غلامی کہلاتی ہے جس چاہنے کے باوجود چھٹکارا حاصل نہیں کرپاتا۔

کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ انگریزی کے بغیر جدید علوم کا حصول ممکن نہیں رہے گا۔ اس کی اطلاع کے لیے اسرائیل عبرانی زبان میں دنیا کے جدید ترین علوم کی تعلیم دے رہا ہے۔ ایران ، جرمنی، فرانس،چین الغرض دنیا کی تمام ترقی یافتہ اور ترقی پذیر اقوام نے اپنی قومی زبان کو ہی ذریعہ تعلیم بنایا اور اپنی منازل حاصل کیں۔ ہم خود تو انگریزی تہذیب کے غلام رہے ہی اور آئندہ نسلوں کو بھی غلامی اور جہالت کے اندھیروں کے سپرد کرنا چاہتے ہیں۔

اہل پاکستان کے پاس نفاذ اردو کے لیے 2018 کا فیصلہ کن سال میسر ہے۔ اگر عام انتخابات میں عوام سیاسی جماعتوں کو نفاذ اردو کے ایجنڈے پر عمل درآمد کا پابند بنا سکے تو انگریزی سے نجات حاصل ہو جائے گی، بصورت دیگرہماری آئندہ نسل اردو سے اتنی دور نکل چکی ہو گئی جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ ابھی ہم رومن اردو کے دور سے گزررہے ہیں، کل ہمارے بچے شائید اردو بول تو سکیں گے لیکن لکھ نہیں سکیں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Atta ur Rahman Chohan

Read More Articles by Atta ur Rahman Chohan: 125 Articles with 64942 views »
عام شہری ہوں، لکھنے پڑھنے کا شوق ہے۔ روزنامہ جموں کشمیر مظفرآباد۔۔ اسلام آباد میں مستقل کالم لکھتا ہوں۔ مقصد صرف یہی ہے کہ ایک پاکیزہ معاشرے کی تشکیل .. View More
08 Jul, 2017 Views: 557

Comments

آپ کی رائے