عقیدہ صفات ذاتی اور صفات فعلی باری تعالی

(محمد اعظم, لاہور)
صفات ذاتی سے مراد یہ ہے کہ خدا کی ذات کے ماوراء کسی شےٴ کا تصور کئے بغیران صفات کو خدا سے متصف کیا جائے۔ دوسرے الفاظ میں، ان صفات کو خدا سے متصف یا مرتبط کرنے کے لئے صرف خدا کی ذات ہی کافی ہے یعنی کسی خارجی امر کو مدنظر رکھنے یا ذات خدا کا ان سے تقابل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

عقیدہ صفات ذاتی اور صفات فعلی باری تعالی

خداوند متعال کی صفات کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں سے اہم ترین صفات ذاتی (یعنی توحید ذات) اور صفات فعلی (توحید فعلی) ہیں۔

صفات ذاتی
صفات ذاتی سے مراد یہ ہے کہ خدا کی ذات کے ماوراء کسی شےٴ کا تصور کئے بغیران صفات کو خدا سے متصف کیا جائے۔ دوسرے الفاظ میں، ان صفات کو خدا سے متصف یا مرتبط کرنے کے لئے صرف خدا کی ذات ہی کافی ہے یعنی کسی خارجی امر کو مدنظر رکھنے یا ذات خدا کا ان سے تقابل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ حیات وقدرت جیسی صفات اس زمرے میں آتی ہیں۔ اگر اس کائنات اور عالم ہستی میں ذات خدا کے سوا کوئی بھی موجود نہ ہو یعنی فقط اور فقط خدا تنہا ہو تو بھی خدا کو حی اور قادر کہا جاسکتا ہے۔

صفات فعلی
صفات ذاتی کے بالمقابل، صفات فعلی ہیں کہ جب تک خدا کی ذات سے خارج کسی امر یا شیٴ کو مدنظر نہ رکھا جائے ، ان صفات کو خدا کی ذات کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا۔ لہٰذا صفات فعلی وہ صفات ہیں کہ جن کے اتصاف کے لئے ذات خدا کے علاوہ کوئی شیٴ ہو تاکہ اس کی ذات سے اس شیٴ کا رابطہ قائم کیا جاسکے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بھی موجود کائنات میں وجود نہ رکھتا ہو تو خدا کو خالق نہیں کہا جاسکتا۔ اسی طرح اگر کسی بھی مخلوق پر تکالیف واحکام الٰہی کی انجام دہی واجب نہ ہو تو خدا کوشارع نہیں کہا جا سکتا ، نیز اگر کوئی بھی بندہ معصیت ونافرمانی خدا انجام نہ دے تو خدا کو غفور بھی نہیں کہا جاسکتا۔
یہیں سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ خالق، شارع اور غفور جیسی صفات، صفات فعلی میں شمار کی جاتی ہیں۔ صفات فعلی اور ذاتی میں اہم ترین امتیاز اور فرق مندرجہ ذیل ہیں:
۱ ۔ صفات فعلی وہ صفات ہیں جو ذات سے صادر ہونے والے فعل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے ساتھ تقابل کے ذریعہ ذات سے متصف ہوتی ہیں یعنی یہ صفات فعل خدا سے انتزاع اور اخذ کی جاتی ہیں جب کہ صفات ذاتی فقط اور فقط دائرہٴ ذات کے ساتھ متصل ہیں۔
۲ ۔ صفات فعلی قابل نفی و اثبات ہیں ،اس معنی میں کہ بعض شرائط میں ان کی نفی کی جاسکتی ہے اور بعض میں اثبات۔ دوسرے الفاظ میں ،ان میں سے ذات خدا سے ہر صفت کی نفی یا اثبات ممکن ہے مثلاً خدا زمین کو خلق کرنے سے قبل ”خالق زمین“ نہیں تھا لیکن زمین کی خلقت کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ ”خدا زمین کا خالق ہے۔“
اسی طرح بعثت رسول اکرم سے پہلے خدا قرآن کا نازل کرنے والا نہیں تھا لیکن بعثت کے بعد ”منزِّل قرآن“ ہوگیا۔

اس کے برخلاف ، صفات ذاتی ہمیشہ اور تمام شرائط اور اوقات میں ذات اقدس سے پیوستہ اور آمیختہ ہیں یعنی کسی بھی صورت میں خدا کی ذات سے ان کو الگ نہیں کیا جاسکتا ، پس خدا وند ازل سے لیکر ابد تک ان صفات کا حامل و و اجدرہے گا۔

مختصر یہ کہ جس طرح خدا کی ذات میں کسی کو شریک بنانا جائز نہیں ہے اسی طرح اس کی صفات میں بھی کسی کو شریک بنانا جائز نہیں ہے وہ اپنی ذات میں بھی یکتا اور احد ہے اور اپنی صفات میں بھی یکتا اور احد ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج حافظ تصدق اور جعفر جتوئی جیسے غالی اور نصیری ملاوں نے آئمہ اہل بیت علیہم السلام کو خالق اور رازق جیسے ناموں سے پکارنا شروع کر دیا ہے شیعہ قوم کو ان جیسے نصیریوں سے بچنا چاہئیے وگرنہ ایک دن ایسا آئے گا کہ یہ لوگ ممنبر حسینی سے خدا کی وحدانیت اور احدیت بیان کرنے کی بجائے اہل بیت علیہم السلام کو خالق ، مالک ، رازق کے ساتھ خدا کی چھٹی کروا دیں گے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد اعظم

Read More Articles by محمد اعظم: 41 Articles with 29508 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Jul, 2017 Views: 1158

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ