اعلیٰ تعلیمی نظام اورلڑکیوں کاا ستحصال:حقیقت یا فسانہ

(Izza Moin, )

 حال ہی میں مجھے شموئل احمد کا افسانہ ’’لنگی ‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ مجھے اپنے اس مضمون میں جو کچھ تحریر کرنا ہے اس کے لئے مجھے اس بحث سے کوئی سروکار نہیں کہ مذکورہ افسانے کی فنی خوبیاں اور خامیاں کیا ہیں ؟اس افسانے کی ادب میں کیا اہمیت ہے ؟ اس کو فن کی کسوٹی پہ پرکھنے کے بعدکیا نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں؟ شموئل احمد کا فکشن نگاری میں کیا مقام ہے یا مجموعی طور پر ادب میں ان کا کیا مرتبہ ہے ؟ میں نے اپنے اس مضمون کا خاکہ تیار کرنے کے لئے ’’لنگی‘‘ افسانہ کے فیس بک پر لگنے کے بعد اس پر ہوئے رد عمل اور تبصرے کو پیش نظر رکھا ہے۔ یعنی مجھے اس بات سے سروکار ہے کہ اس افسانے کی اشاعت کا کیا اثر ہوا اور طلبہ و پروفیسر کے کیا خیالات سامنے آئے ۔ جہاں تک مجھے اندازہ ہے ادب کے تقریباً سبھی باذوق اور سنجیدہ قاری نے اس افسانے کو پڑھا ہوگا ۔ افسانے کا مختصر سا قصہ یہ ہے کہ ایک لڑکی کس طرح ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرتی ہے۔ اسے کتنی قربانیاں دینی پڑتی ہیں ۔اس کا کیسے استحصال کیا جاتا ہے۔ ’ عیاش فطرت کا پروفیسر ابو پٹی ‘ کیسے لڑکی پر اپنے ڈورے ڈالتا ہے اور کیسے اس کی مجبوری کا ناجائزفائدہ اٹھاتا ہے۔یعنی افسانے کا موضوع اعلی تعلیمی ادارے میں اساتذہ کی من مانی اور اسکالرس خاص طور پر خاتون اسکالرس کی بے بسی ہے اور مجبوری ہے۔

جنہوں نے افسانہ پڑھا ہے اور بالخصو ص جنہوں نے فیس بک سے پڑھا ہے انہوں نے ظاہر ہے کمینٹس بھی پڑھے ہوں گے ۔پروفیسرحضرات نے اس افسانے کو کس نظر سے دیکھا ہے اوراپنے کن خیالات کا اظہار کیا یہ سب فیس بک کے پوسٹ سے واضح ہیں ۔مجھے بہت سے پروفیسر کے خیالات کا اظہار اور ان کے وہاں موجود ہونے پر حیرت ہوئی۔ بعض نے الگ سے تبصرے بھی لکھے ۔اس لئے میں اپنی بات اس کے آگے سے شروع کرتی ہوں ۔تبصرے کے طور پر افسانے کے موضوع اور حقیقت سے اس کے قریب ہونے پر جو کچھ لکھا گیا ہے اسے پڑھ کر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ کوئی بھی اسے پڑھ لے تو سہم جائے ۔حالانکہ بہت سے کمینٹس افسانے کے خلاف میں بھی ہیں لیکن اس کی وضاحت میں اس تحریر میں آگے کروں گی۔ حیرت اس بات پر ہے کہ افسانے کی حمایت میں جن لوگوں نے اظہار خیال کیا ہے ان میں تقریبا ًسبھی نے اور بالخصوص اسکالرس نے اس امر پر مہر ثبت کی ہے کہ واقعی میں تعلیمی اداروں میں یہ سب عام ہے یعنی خواتین کو ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں عزتیں نیلام کر کے حاصل ہو رہی ہیں ۔ان سب کا کہنا ہے کہ مذکورہ افسانہ اور اس کا موضوع حقیقت سے بہت قریب ہے ۔اس امر کی پرزور حمایت وہ طلبہ کر رہے ہیں جو کسی نہ کسی یونیورسٹی میں ریسرچ کر رہے ہیں ۔انھیں اس بات کے اعتراف میں کوئی عار نہیں کہ افسانے میں لڑکی کے ساتھ پروفیسرکا جو رویہ پیش کیا گیا ہے وہ بالکل حقیقت پر مبنی ہے ۔بعض اسکالرس صرف حمایت ہی نہیں کر رہے بلکہ ان کا دعوی ہے کہ ہماری درسگاہوں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ مجھے جن طالب علموں سے اس کے ورول{verbal} ثبوت مہیا ہوئے ہیں ان میں جامعہ کے اسکالر پیش پیش ہیں ۔میل اسکالرس کھلے طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ شموئل احمد نے حقیت کو بے نقاب کردیاہے ۔ان کا کہنا ہے کہ جامعات میں کیا کچھ ہو رہا ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔پروفیسر حضرات خواتین کی طرف زیادہ جھکے ہوئے ہوتے ہیں ۔ بعض پروفیسران ایسے ہیں جوصرف خاتون اسکالر کو ہی اپنے زیر نگرانی پی ایچ ڈی کرانے میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔داخلہ ہوتے ہی خوش شکل لڑکیوں کو قریب کرنے کے لئے طرح طرح کے حربے استعمال شروع کرتے ہیں ۔ان کی تمام تر ہمدردیاں فی میل اسکالرس کے ساتھ ہوتی ہیں ۔جامعات کے تحقیق کر رہے لڑکوں کو یہ شکایت ہے کہ یہی ہمدردیاں ان کے ساتھ کیوں نہیں ہوتی ہیں ۔اس متعصبانہ رویے کی وجہ ان کے ذہن کی گندگی تو نہیں ؟؟افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ملک کی وہ یونیورسٹیاں جن کے کیمپس کا اسلامی ماحول نہ صرف ہندوستان میں بلکہ عالمی پیمانے پر مشہور ہے وہ بھی اس غلاظت سے پاک نہیں ہیں۔ہم مثال کے طور پر جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹیوں کے نام لے سکتے ہیں۔دہلی یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کا تو خیر ماحول ہی مغربی ہے ۔ان پر بات کرنا بے سود ہے ۔ان کا کیا ذکر کرنا ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاواقعی یونیورسٹیوں کا حال ایسا ہی ہے ؟ کیا طالبات کی عزت اعلی تعلیمی داروں میں محفوظ نہیں ؟ طالبات کیوں ان اداروں میں بدنام ہو رہی ہیں ؟سوال اس لئے ذہن میں پیدا ہوا کہ افسانہ ’’لنگی ‘‘ پر بعض پروفیسروں نے تبصرہ کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ جو حضرات مذکورہ افسانہ پڑھ کر واویلا مچا رہے ہیں ان میں وہی لوگ پیش پیش ہیں جن کی لنگیاں کھل کر منظر عام پر آگئی ہیں ۔ در اصل وہ کہنا یہ چاہ رہے ہیں کہ واقعی میں اساتذہ کا کردار صاف ستھرا نہیں ہے۔

میں کیوں اس افسانے کا ذکر کر رہی ہوں ؟ کیوں اس افسانے پر ہونے والے تنازعات بیان کر رہی ہوں ؟ جواب یہ ہے کہ مجھے اس سال سے انشااﷲ ریسرچ اسکالر کے طور پر شمار کیا جانے لگے گا ۔ میں لڑکی ہوں اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والوں کی قطار میں شامل ہونے جا رہی ہوں ۔اب تک ایم اے کی کلاسز اٹینڈ کی ہیں۔ تھوڑ ابہت لکھنے پڑھنے سے بھی میرا رشتہ رہا ہے ۔حالانکہ بعض دوستوں کا دعوی ہے کہ میں نے اس مرحلے میں بھی بہت سے مضامین لکھے ہیں ۔میری اس عادت پر میرے بعض دوستوں نے مجھے زود نویس کا خطاب تک دے دیا ۔ایم اے کے دوران لکھتے اور پڑھتے ہوئے کبھی یہ احساس ہی نہ ہوا کہ بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں ہو کیا رہا ہے ۔لیکن اب بہت سارے خدشات سر اٹھائے کھڑے ہیں ۔کہاں ایڈمشن لوں ؟ نگراں کے طور پر کسے منتخب کیا جائے ؟ اس بحر علم اور بحر غلاظت میں کون پاکدامن ہے ؟ کیسے یا کس کو ضامن بنایا جائے ؟ الغرض بہت زیادہ فکر مند ہوں ۔

آپ بڑی آسانی سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ خواتین کو ڈاکٹریٹ کی سند اسی راستے پر چل کر ملتی ہے ۔یعنی اپنی عزت داو پہ لگا کر وہ سند پا تی ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو بہ ہوش و حواس میرے مندرجہ ذیل کچھ سوالوں کے جواب دیجئے ۔
۱۔پی ایچ ڈی ہولڈر خواتین کی تعداد زیادہ ہے یا مردوں کی ؟
۲۔ادب میں متحرک شخصیات میں خواتین زیادہ ہیں یا مرد ؟
۳۔موجودہ وقت میں پی ایچ ڈی کرنے والوں میں لڑکوں کی تعداد زیادہ ہے یا لڑکیوں کی ؟

جہاں تک میرا خیال ہے آپ کا جواب یہی ہوگا کہ لڑکوں کی ہر جگہ بہتات ہے ۔کیوں کہ پورے شہر میں مشکل سے کوئی ایک ہی پی ایچ ڈی کئے ہوئے خاتون ہوتی ہے ۔لیکن ایک شہر میں کئی مرد حضرات پی ایچ ڈی ہولڈر ہوتے ہیں ۔اب آپ یہ بتائیں کہ آپ کے کہنے کے مطابق لڑکیوں کو تو عزتیں نیلام کرکے پی ایچ ڈی کی ڈگری ملی ۔لیکن اتنی بڑی تعداد میں مردوں کو کیسے ڈگریاں تفویض کی گئیں ؟ کیا سب نے اپنی ذاتی محنت سے یہ ڈگریاں حاصل کیں ؟یا یہاں بھی دال میں کچھ کالا ہے؟؟ لڑکوں کے بارے میں بھی یہ بات گردش کرتی رہتی ہے کہ وہ پیسے دے لیکر پی ایچ ڈی کامقالہ لکھوا لیتے ہیں او ر نگراں کو کچھ کھلا پلا کر اس پہ ڈگری بھی حاصل کر لیتے ہیں۔اب رہی بات عورتوں کی تو ان میں زیادہ تر اسکالرس شادی شدہ ہی ہوتی ہیں ۔پہلے یا دوسرے سال میں ہی سب کی شادی خانہ آبادی ہو جاتی ہے ۔اگر یہ بات ہے تو بھائی کون آدمی اپنی شریک حیات سے اتنا بے خبر ہوگا کہ اسے کھلے عام پروفیسر کی عیاشی کے لئے چھوڑ دے ۔اب اگر افسانے کو حقیقت سے جوڑ کر دیکھاجائے یا جیسا کہ بعض اسکالرس کا دعوی ہے کہ افسانہ حقیقت سے بہت قریب ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جامعات میں برائی ہے۔ کیونکہ آنکھوں دیکھا حال جھوٹ تو نہیں ہو سکتا ۔ طلبہ اگر خود اس کا اعتراف کریں تو اس سے بڑھ کر بھلا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے ۔اس لئے میں یہ تسلیم کئے لیتی ہوں کہ بعض پروفیسر غلط ذوق رکھتے ہیں۔وہ لڑکیوں پر فریفتہ رہتے ہیں۔ وہ لڑکوں کو نظر انداز کر کے لڑکیوں کو آگے لاتے ہیں۔ لڑکوں کا حق صلب کر کے لڑکیوں کی آنچل میں ڈال دیتے ہیں۔ اگر یہ سب کچھ ہے تو پھر میرا یہ سوال ہے کہ لڑکے اس کے خلاف کیوں احتجاج نہیں کرتے ؟ کیوں اسی راہ پر سکون سے چلتے جا رہے ہیں ؟ ۔میری نظر ملک کی سیاست پر بھی رہتی ہے ۔ اس ملک کا بھی کیا کیا جا سکتا ہے ۔مجھے معلوم ہے یہاں ہر شعبے میں کرپشن ہے ۔اس لئے تعلیم کے میدان میں کرپشن نہ ہو ایسا کیسے ممکن ہے ۔لیکن مجھے حیرت تو ان لوگوں پر ہے جو اس نظام کو تسلیم کئے ہوئے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ۔ان میں ایسے بھی ہیں جو بڑے سورما کہے جاتے ہیں اور وہ خود کو ’سورما ‘مانتے بھی ہیں؂۔ جیسا کہ ہم نے یہ سنا ہے کہ کیمپس میں دبنگئی بھی بہت ہوتی ہے ۔گروپ بندی ہوتی ہے ۔ہر یونیورسٹی میں طلبہ کے گروہ بنے ہوئے ہوتے ہیں ۔ آپ نے بھی سنا ہوگا کہ طلبہ کی دہشت سے پرنسپل بھی کانپتے ہیں ۔ارے بھئی کسی اور کو کیا دیکھنا آپ خود اپنی مثال لے لیجئے۔ ابھی کوئی ذرا سا کوئی تاو کی بات کر دے توآپ یہ کہتے ہوئے دوڑ پڑیں گے کہ ’’ہم بھی دو ہاتھ رکھتے ہیں ‘‘۔ اگر واقعی میں تعلیمی مراکز کا اتنا برا حال ہے تو کہاں ہے آپ کی وہ للکار ۔ اگر آپ کا حق مارا جا رہا ہے تو آپ صدائے احتجاج بلند کیوں نہیں کرتے۔یا پھر آپ اپنی کمزوری اور نا اہلیت الزام تراشی کے پردے میں چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں؟؟
دوسری طرف افسانہ’’لنگی‘‘ پر کمینٹ کرنے والوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے سیدھے سیدھے خواتین کے کردار کو ہی نشانہ بنا یاہے ۔وہ لڑکیوں کے کردار کو ہی کمزور ثابت کرنے کے درپے ہیں ۔اکثر لوگ اس نظریے کے ہیں کہ خواتین اپنا کام نکالنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں ۔یہاں میرا سوال یہ ہے کہ سب کو کردار کی ایک ہی کسوٹی پر تولنے والے آپ کون ہوتے ہیں ۔ اگر کچھ لڑکیاں بہکاوے میں آ جا تی ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام لڑکیاں پی ایچ ڈی کی ڈگری غلط راستے پہ چل کر حاصل کر تی ہیں ۔ بعض حضرات تو لڑکیوں کی قابلیت پر ہی سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں۔وہ ہر جگہ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ پی ایچ ڈی کی تھیسس لکھنا لڑکیوں کے بس کا روگ نہیں۔ یہ بات آپ ایسے دور میں کہہ رہے ہیں جبکہ دنیا دیگر شعبوں اور تعلیمی سرگرمیوں میں خواتین کی ذہانت اور علم کی قائل ہو گئی ہے ۔ ہر شعبے میں خواتین نے اپنی نمائندگی درج کرائی ہے ۔ ہندوستان کا سب مشکل ترین امتحان یوپی ایس سی کو مانا جاتا ہے۔ آپ اس کا رزلٹ دیکھیں۔ لڑکیوں نے لڑکوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔گزشتہ کئی سالوں سے اس مقابلہ جاتی امتحان میں لڑکیاں ہی اول مقام حاصل کر رہی ہیں۔ بلکہ بعض دفعہ تو پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن پہ لڑکیوں کا ہی قبضہ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ دسویں اور بارہویں کے نتائج بھی دیکھ لیں ۔ہر سال لڑکیاں ہی اول مقام حاصل کرتی ہیں۔اس طرح کے امتحانات میں لڑکیوں کا لڑکوں سے سبقت لے جانا کیا یہ ثابت نہیں کرتکہ لڑکیاں واقعی میں لڑکوں سے زیادہ محنت کر تی ہیں ۔

یہاں ایک شکایت سسٹم سے بھی ہے۔کیوں کہ گزشتہ کچھ دنوں میں ہم نے جو دیکھا اور پڑھا وہ یقیناً بہت افسوسناک اور مایوس کن ہے۔ افسانہ ’’لنگی‘‘ اور اس پر کئے گئے ریسرچ اسکالرس کے تبصروں کو پڑھ کر یہ یقین ہو چلا ہے کہ بدقسمتی سے کچھ بدنظمی اور کچھ گندگی ہمارے تعلیمی اداروں کا حصہ ہیں ۔اب سوال یہ ہے کہ جب بات اتنی پھیل گئی ہے اور اتنا سب کچھ ہورہا ہے تو کیا وجہ ہے کہ کروڑوں روپئے لڑکیوں کی تعلیم پر خرچ کرنے والی حکومت تعلیمی اداروں کی طرف سے عورتوں کو درپیش خطرات کا ازالہ کرنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھا رہی ۔ کیوں سسٹم کی لاپروائی کا یہ حال ہے کہ اعلی تعلیم حاصل کررہی عورتوں کی عزت محفوظ نہیں ؟کیوں نہیں ہر ادارہ میں خاتون اسکالرز کو فی میل نگراں مہیا کئے جاتے ہیں ؟ یاپھر ریسرچ اسکالر اور تحقیق کے درمیان سے نگراں کا وجود ہی ختم کیا جائے ۔پورا ملک بلکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ عورتوں کی زندگی کتنی نازک اور تلوار کی دھار پر چلنے جتنی مشکل ہوتی ہے ۔موتی کی سی آب ہے ایک بار چلی گئی تو پھر نہیں ملتی ۔شیشہ میں بال پڑ جائے تو ختم نہیں ہوتا ۔لڑکیاں اتنی نازک ہوتی ہیں کہ اگر ایک بار ان پر شک کی نگاہ اٹھ جائے تو زندگی بھر وہ اس شک کو مرد کے دل سے نہیں نکال سکتی اگرچہ فی نفسہ وہ پاکدامن ہو تی ہیں ۔اس لئے حکومت اور تعلیم نسواں کی حمایت کرنے والوں سے میری اپیل ہے کہ وہ ایسا نظام مہیا کریں جہاں ایک لڑکی اعلی تعلیم حاصل کرتے ہوئے کسی بھی مرحلے میں خود کو بے بس محسوس نہ کرے ۔ایسا سسٹم بنایا جائے کہ اعلی تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیاں سہمی اور ڈری ہوئی نہ رہیں ۔اگر ایسا ممکن نہیں یعنی اعلی تعلیمی اداروں میں اعلی تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں کا استحصال ہوتا رہے گا اور پی ایچ ڈی کی اسناد انھیں اپنی عزتیں نیلام کرکے ملتی رہیں گی تو یہی سمجھا جائے گا کہ تعلیم نسواں کا نعرہ کھوکھلا ہے اور حکومت لڑکیوں کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لے سکتی ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Izza Moin

Read More Articles by Izza Moin: 10 Articles with 7751 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Jul, 2017 Views: 959

Comments

آپ کی رائے
Izza moin .d/o Abdul Moin
Sambhal uttar pradesh india
[email protected]
By: Izza Moin , Sambhal india on Jul, 09 2017
Reply Reply
0 Like