کیا عورت کی زندگی چادر اور چار دواری ہے؟(۲)

(Sahar Ali, Rawalpindi)

سن۱۱۰۲ میں، میں نے ایک مضمون لکھا ۔نہیں جانی تھی کے وہ مضمون اتنا اہم ہو جائیگا۔ایک اہم بات واضع کرتی چلوں کہ اس مضمون کو لکھنے کا مقصد عورتوں میں اس بات کا شعور اْجاگر کرنا تھا کہ وہ اپنے آپ کسی صورت کم نہ سمجھیں۔اس پر بہت سے لوگوں نے اپنی آراہ کااظہار کیا۔مگر غور طلب بات یہ بھی ہے کے ان آراہ کے اظہار کرنے والے سب مرد ہیں اور میں نے سب کو نہایت تحمل مزاجی سے پڑھا۔پر ایک چیز جس نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کیا وہ تھی(اسلامی تعلیم کی کمی)میں نے اس بات نہایت سنجیدگی سے لیا۔قرآن کو پڑھنے کا مشورہ دیا گیا۔قرآن کو کھولا تو دیکھتی ہوں کے میرے اللہ نے تو پوری سورہ اْتار ی ہے عورت کے لئے ۔

کیوں کہ اسلام میں اْن کا مقام بہت بلندہے۔عورت کو قابل ذکر چار رشتوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
*ماں *بہن *بیٹی *بیوی
پر افسوس تو مجھے اس بات ہے کہ ان چار رشتوں سے آگے کبھی سوچا ہی نہیں گیا ۔اور بند کر دیا چاردواری میں۔اس کی تعلیم پر توجہ نہیں دی گئی ۔ہندو معاشرت کو دیکھتے ہوئے ہم نے بھی عورت کو گھر میں قید کر دیا۔آج بھی دہی علاقوں میں عورت کا مقام گھر میں موجود مال مویشی سے زیادہ نہیں ہے ۔ہمارا معاشرہ تو وہ معاشرہ ہے۔جہاں جب بیٹی کو گھر سے رخصت کیا جاتا ہے تو ساتھ کہ دیا جاتا کہ بیٹی مرجانا مگر اس گھر میں واپس مت آنا۔میں پوچھتی ہوں کہاں لکھا ہے ایسا قرآن میں؟اسلام میں دیکھیں تو حضرت فاطمہ شادی کے بعد گھر تشریف لاتیں تو حضرت محمدﷺکھڑے ہو کے ان کا استقبال کرتے۔

بات کرتے اسلام کی نظرسے، اسلام عورت کو صرف چارتکٍ محدود نہیں کرتا۔ بلکہ ان ہی رشتوں کی آگے مختلف درجہ بندی کرتا ہے ۔ عورت ایک عالمہ ہے۔یہاں مثال ہے حضرت عائشہ کی،آپ سے بہت سی احادیث روایت ہیں۔حضورﷺکے وصال کے بعد بھی صحابہ آپ کے پاس دین کی تعلیم لیتے۔چونکہ آپ حکمت بھی جانتی تھیں سو آج کے دور کے مطابق آپ ڈاکٹر بھی تھیں۔

عورت ایک bussins woman بھی ہے ۔حضرت خدیجہ کے نام سے توسب واقف ہیں آپ کسی تعریف کی محتاج نہیں.ہم سب جانتے ہیں کہ آپ نے حضورﷺسے جب شادی کی خواہش کی تب بھی ،اور اس کے بعد بھی اسی پیشے سے وابستہ رہیں۔

حضر ت خولہ،
حضر ت اْم عمارہ ،حضر ت صفیہ(جوحضورﷺکی پھوپھی تھیں)(worrior)جنگی مشقوں میں پیش پیش رہیں ۔زخمیوں کو پانی پلانے کے ساتھ ساتھ آپ خواتین نے باقاعدہ تلوار بازی بھی کی۔یعنی عورت کسی بھی طرح کمزور نہیں۔ بات کروں حضرت زینب کی تو آپ ایک بہترین بہن ثابت ہوئیں۔نام آئے حضرت فاطمہ کا تو آپ جنابہ ایک قابل مثال بیٹی اور بیوی تھیں۔میں مثالیں دیتی جاؤں گی اور نام آتے جائیں گے۔فہرست بہت لمبی ہو جائے گی۔

میں اپنے مضمون کا اختتام اپنی بہنوں کو مخاطب کر کے کہوں گی کے جن عورتوں کی میں نے مثال دی ہے۔ا نہوں نے یہ سب کام پردے میں رہ کر کےئے کسی نے بھی اسلام کے احکامات کے خلاف کوئی کام نہیں کیا۔سو اگر آپ کو میری تحریر میں یورپ کی آواز نظر آتی ہے تو میں آپ سے معزرت کروں گی۔میں بار بار کہوں گی کی تعلیم غرض سے یا کسی معاشی وجہ سے اگر گھر سے نکلیں تو پردے کا احتمام کریں۔اور اپنے آپ کو خود قابل عزت بنائیں۔خود کو بازار کی زینت نا بنائیں۔بے جہ بناؤ سنگار نا کریں۔
اللہ سے دعا ہے کے مجھے اور آپ کو اسلامی احکامات پر چلنے والا بنائے(امین)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sahar Ali

Read More Articles by Sahar Ali: 23 Articles with 72025 views »
https://www.youtube.com/channel/UCJp9DAvuxtE-Wt5KhEaZxpw.. View More
12 Jul, 2017 Views: 692

Comments

آپ کی رائے
Maazrat aurat ka maqam ghar me hi hai aurton aur larkion ki wajha se mard hazrat baghair job ke idhar odhar certificate le kar offices me chakkar laga rahen hain mard ka kam rozi kamana hai aur aurat ka kam ghardari hai is me bachche palna khana banana kapre dhona safai suthraye bachon ko parahana aur achi taleem dena hai ghar ke tamam kam aurton ke zimme hain aur rozi kamana mard ka kam lekin aaj kal olti ganga bah rahi hai mard bekar hai tu larkion ki shadi keyse hogi aur maashra kaise chalega larkian bahut hain lekin mrd hazrat shadi nahi kar sakte keunke job nahi mard ko bhi chayye sahi se taleem hasil kare aur mehnat kare insha Allah kamyab hoga............
By: mahfuzurrehman, Karachi on Aug, 16 2017
Reply Reply
0 Like