آزادی نسواں کی آڑ میں چھپے درندے

(M Raheel Moavia, )

حقوق نسواں اور آزادی نسواں کے نعرے ایسے نعرے ہیں کہ جس سے بہت جلد متاثر ہونا پڑتا ہے آزادی نسواں کے نعرے حقوق نسواں کی علمبردار تنظیمیں بلند کرتی ہیں اور عورتوں کی عزت ،توقیراور ان کے بنیادی حقوق کے لئے کوشاں ہیں لیکن جس سمت کی طرف آزادی کے نام پر عورت کو لے جایا جاتا ہے در حقیقت وہاں عورت غیر محفوظ ہو جاتی ہے عورت کی عزت ،شرافتاور تقدس کو ختم کردیا جاتا ہے اور وہ ہر ایرے غیرے مرد کی کڑوی کسیلی برداشت کرتی ہے ہر کسی کی گندی ہوس زدہ نظروں کا نشانہ بنتی ہے اور ہر کسی کے الٹے سیدھے جملے برداشت کرتی ہے۔درحقیقت عورت کو زیادہ تر جاب پر رکھنے والے مرد کے بنیادی مقاصد خود اور اپنے کلائنٹس (کسٹمر ز) کو خوش کرنا ہوتا ہے ۔اگر یہ غلط ہے؟عورت کو اپنی رنگین مزاج طبیعت کی خوشی کے لئے نہیں رکھا جاتا تو ایک سوال ہے اگر آپ واقعی عورت کی آزادی چاہتے ہیں تو آپ کو ائیر ہوسٹس،بس ہوسٹس،ریسپشنسٹ ،اور سیلز گرل خوبصورت اور نوجوان ہی کیوں درکار ہیں؟کیا جو ذرا خوبصورت نا ہو وہ عورت نہیں ؟کیا جس کی ذراعمر بڑھ جائے وہ عورت نہیں ؟درحقیقت عورت کی آزادی پر فریب نعرے کی آڑ میں خوبصورت عورت تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں گزشتہ دنوں ایک ایئر ہوسٹس کی تصویر سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنی رہی۔ایئر ہوسٹس ذرا سی زیادہ عمر کی تھی اور ذرا پرکشش نا تھی۔انہی نام نہاد حقوق نسواں کی علمبردار تنظیموں کا واسیلا دیکھنے قابل تھا ایک بھونچال برپا تھا کہ اس عمر کی عورت کو تو گھر میں ہونا چاہیے یہ ملازمت پر کیوں ہے؟کوئی کہہ رہا تھا کہ ہم ایسی بدصورت ایئر ہوسٹس کی وجہ سے پیچھے ہیں اس لئے ہمارا ادارہ (پی آئی اے )بدنام ہے ۔طرح طرح کی انتہائی قابل مذمت گفتگودیکھنے کو ملی۔مگر آپ سوچیے کہ اسلام عورت کو گھر کی زینت قرار دے کر فکر معاش جیسی بڑی ذمہداری سے عورت کو سبکدوش کرتا ہے تو یہ لوگ واویلا کرتے نظر آتے ہیں یہ آزادی نسواں کی بات کرتے ہیں مگر کیا آزادی صرف 18سال سے 30,25سال کی عمر تک ملنی چاہیے؟جس عورت کو ابھی پختہ عقل نہیں جو ابھی معاشرے کا داؤ پیچ نہیں سمجھتی اسے تو بازار میں لے آئیں اور جو معاشرے کی چالاکیوں کو سمجھنے لگ جائے اسے گھر میں ہونا چاہیے بچوں کی تربیت کرنے پر گھر میں مامور ہونا چاہیے اسے ملازمت چھوڑ دینی چاہیے تاکہ کسی خوبصورت لڑکی کو لایا جا سکے ۔واہ رے تیری فریبی
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M Raheel Moavia

Read More Articles by M Raheel Moavia: 8 Articles with 4376 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Jul, 2017 Views: 1140

Comments

آپ کی رائے
آپنےبا لکل صحیح لکھا ھےآج کی عو ر ت ما ڈ ر ن ھو نے کے چکر میں اپنی عزت اور پا کیز گی کھو چکی ھے دس مر د و ں کے سا تھ بیٹھ ک چا ئے پیتی ھے تو کہتی ہے مجھے لله نے بڑ ی عز ت د یی ہے میر ی بہنو یہ عز ت نہیں ہے عز ت و ہ ہے جو اسلا م نے د ی ہے
ذ ر ا سو چو
By: shameem, islamabad on Jul, 31 2017
Reply Reply
0 Like
اور ان عورتوں میں بھی وہی ان کے گندے معیار پر پوری اترتیں ہیں جو نظر کی اور جسم کی پاکیزگی سے زیادہ دل صاف ھونا چاہیے کے شیطانی فلسفے کی قائل ھوتی ھیں ۔ کیونکہ اسی سوچ کو پھیلا کر ہی عورتوں کو بےپردگی کے لیے قائل کیا جاتا ھے ۔ اور باشرع عورتوں کو ان ملازمتوں کے لیے نااھل تصور کیا جاتا ھے ۔ چاھے وہ یتیم ھو ۔ بیوہ ھو ۔
By: طاہر محمود قمر, راولپنڈی on Jul, 12 2017
Reply Reply
0 Like