میں سلمان ہوں(٥٧)

(Hukhan, karachi)
نہیں ہوتی اب روشن ہماری کوئی شام
ہر دیا ہم نے جلا کے دیکھ لیا،،،،،،،،،،!

چاند بہت چھوٹا سا ہو رہا تھا مگر اس کی روشنی پوری ایمانداری سے زمین کو منور کررہی تھی‘‘،،،چھوٹے سے گھر کے صحن میں سلمان کی بات سن کے بانو غصے سے سر انکار میں ہلا کے بولی‘‘،،سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘،،،اک بچے کے باپ سے بچی بیاہ دوں میں‘‘،،،اب وہ ایسا بھی بوجھ نہیں جسے کسی مصیبت کی طرح اتار پھینکوں‘‘،،،اس کا باپ کبھی نہیں مانے گا‘‘،،،شریقے میں ہم کیا منہ دکھائیں گے‘‘،،،ہم غریب ضرور ہیں مگر میری ندا کوئی عام سی لڑکی نہیں‘‘،،
وہ اپنا اچھا بھلا سمجھتی ہے‘‘،،،پورے خاندان میں اس جیسی کوئی اک بھی لڑکی نہیں‘‘،،،
سلمان نے حوصلے سے کہا‘‘،،دیکھئے میں آپ سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں‘‘،،،مجھے اس معاملے میں بالکل بھی نہیں بولنا چاہیے‘‘،،،مگر کچھ ایسی باتیں ہیں جو آپ کو ندا کا ہمدرد بن کے ہی سوچنا ہوں گی نا کہ ماں بن کے‘‘،،،اب وہ بچی نہیں ہے‘‘،،،اس میں کوئی شک نہیں وہ اک بچے کا باپ ہے‘‘،،،یہ کوئی گناہ نہیں‘‘،،،پڑھا لکھا بندہ ہے‘‘،،،وہ گھر پر ڈرائیور ہے جبکہ وہ ان کی فیکٹری کا ڈرائیور تھا‘‘،،،اس کی شرافت اور خاندانی پن دیکھ کے ہی دو جوان لڑکیوں والے گھر میں اس کو ٹرانسفر کر دیا‘‘،،،وہ آج بھی فیکٹری کا ہی ملازم ہے‘‘،،،جب وہ ساٹھ سال کا ہو جائے گا اسے سوشل سیکیورٹی سے باقاعدہ پنشن ملے گی‘‘،،،
سال میں اس کو چھٹیاں ملتی ہیں وہ نہ کرے تو اسے پیسے ملتے ہیں‘‘،،،میڈیکل کمپنی کا ہے‘‘،،،گریٹویٹی ملے گی جو کہ لاکھوں میں ہوتی ہے‘‘،،،شکل کا اچھا ہے‘‘،،،بس اک بوڑھی ماں ہے‘‘،،اک بیٹا ہے اس کا ک������ل اثاثہ‘‘،،،باقی رہے آپ کے رشتے دار‘‘،،،جو صرف کام بگاڑ سکتے ہیں‘‘،،،بنا نہیں سکتے‘‘،،،کبھی انہوں نے آپکی یا ندا کے کل کی فکر کی ‘‘
ندا سب سے الگ ہے کیونکہ آپ نے اسے فضول قسم کے رشتے داروں سے دور رکھا ہوا ہے‘‘،،،بانو حیرت سے سلمان کو دیکھ رہی تھی‘‘،،،وہ ان کا کوئی بھی نہیں تھا‘‘،،،مگر اب بہت کچھ لگ رہا تھا‘‘،،،بانو کو تو سلمان بھی بہت پسند تھا‘‘،،،مگر اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں تھا‘‘،،،،
سلمان نے بانو کو نیم رضامند دیکھا تو آخری تسلی دی‘‘،،،آپ کو کون کہہ رہا ہے کہ آپ کل ہی شادی کردو‘‘،،،اپنی پوری تسلی کرلینا‘‘،،،اس کے گھر بھی میں آپ لوگوں کے ساتھ جاؤں گا‘‘،،،کریم صاحب بھی اس کی ضمانت دیں گے‘‘،،،بانو نے کہا اچھا دیکھیں گے‘‘،،،سلمان اٹھ کے اپنے کمرے میں چلاگیا‘‘،،،دروازے پر جانی پہچانی سی دستک ہوئی‘‘‘،،،،(جاری)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 864188 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Jul, 2017 Views: 610

Comments

آپ کی رائے
well done bhai
By: rahi, karachi on Jul, 14 2017
Reply Reply
0 Like