لازوال قسط نمبر 13

(Muhammad Shoaib, Faisalabad)

انمول اور عندلیب کی باتیں رضیہ بیگم کے دل میں گھر کرتی جا رہی تھیں۔عندلیب کی آزادانہ سوچ انمول کو گھر داری کی طرف راغب کرنے کی بجائے دنیا کی طرف گھسیٹتی جا رہی تھی ۔ پہلے جو وہ ان کا احترام کرتا تھا آہستہ آہستہ ختم ہوگیاتھا۔
’’ انمول۔۔۔!!‘‘کمر میں درد کی ایک لہر دوڑی تھی۔ جس وجہ سے وہ اونچا نہ کہہ سکیں اور مسلسل آہستہ آواز میں اسے بلاتی رہیں۔
’’کیا ہے امی؟‘‘سیڑھیاں اترتے ہوئے وہ روکھے انداز میں جھلا کر بولا تھا
’’انمول۔۔ ذرا بازار سے آئی او ڈیکس لے آنا۔۔‘‘درد کی شدت کی وجہ سے انہوں نے اپنا بائیں ہاتھ پیچھے کمر پر رکھا ہوا تھا
’’ امی ابھی تو میں تھک چکا ہوں۔۔۔ کل صبح لے آؤں گا۔۔‘‘کچن کی طرف جاتے ہوئے اس نے اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہا تھا
’’ لیکن بیٹا۔۔آہ۔۔۔ درد ۔۔‘‘درد سے کراہتے ہوئے کہا تھا
’’امی۔۔ پین کِلر ٹیبلیٹس کھا لیں۔۔۔ افاقہ ہو جائے گا۔۔‘‘شیلف سے ایک گلاس اٹھایا اور پانی پینے کے بعد مفت کا مشورہ دے کر دوبارہ اپنے کمرے کی طرف چل دیا
’’لیکن انمول۔۔‘‘انہوں نے اٹھنا چاہا مگر درد کی ٹیس بڑھ گئی اور وہ اٹھ نہ سکیں مگر انمول نے دیکھنا تک گوارا نہ کیا۔
’’ انمول۔۔‘‘سب سے اوپر والے سٹیپ پر پہنچا تو اس کے کان میں رضیہ بیگم کی آواز آئی تو اس نے پلٹ کر دیکھا لیکن اس سے پہلے کہ وہ رضیہ بیگم کی طرف بڑھتا کمرے سے عندلیب کی آواز آئی
’’ انمول۔۔ میں انتظار کر رہی ہوں۔۔‘‘
’’ آیا میری جان۔۔۔‘‘رضیہ بیگم کی حالت کو نظر اندازکرتے ہوئے وہ چلاگیا۔رضیہ بیگم وہیں درد سے کراہتی رہیں۔علی عظمت کسی کام سے شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ گھر میں وہ اس وقت عندلیب اور انمول کے ہوتے ہوئے بھی اکیلی تھیں۔آج انہیں وجیہہ کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی تھی
’’امی۔۔۔آپ نا اس درد کا اچھی طرح علاج کروائیں۔۔یوں بار بار دردکو ہونا ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ایک آواز نے سرگوشی کی تھی
’’آج پھر درد ہو رہاہے ناں۔۔دیکھائیں میں آئی او ڈیکس لگا دیتی ہوں۔۔‘‘ایک بار پھر سرگوشی ہوئی ۔ انہوں نے حسرت کے ساتھ ادھر ادھر دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا
’’ وجیہہ۔۔۔‘‘درد کی شدت میں وہ بس اتنا ہی کہہ سکیں۔ آنکھوں میں موجود آنسو ان کے غم کی ترجمانی کر رہے تھے
٭ ٭ ٭
’’ کتنی بار کہا ہے آپ کو آپ اپنی صحت کا خیال رکھا کریں۔۔یہ تو اچھا ہوا پھپا جی کا فون آگیا تھاورنہ آپ تو اسی درد میں کراہتی رہتیں۔‘‘رضیہ بیگم کو بستر پر لٹاتے ہوئے حجاب نے کہا تھا
’’بس بیٹا!‘‘درد کی شدت اب بھی ویسی ہی تھی
’’آپ کو آپی کی با ت مان لینی چاہئے تھی۔کم سے کم ایک بار چیک تو کروا ہی لینی چاہئے ۔ آئے دن کمر کا درد ہونا اچھی بات نہیں ہے۔۔‘‘ دراز سے ٹیبلٹس نکال کر انہیں کھلائیں
’’ بس بیٹا۔۔چند منٹوں کا تو ہوتا ہے درد۔۔‘‘پانی کے ساتھ ٹیبلٹس لینے کے بعد کہا
’’لیکن خیال تو رکھنا چاہئے ناں آپ کو۔۔‘‘حجاب نے ان سے گلاس لے کر ٹیبل پر رکھا
’’خیال۔۔ وجیہہ تھی تو رکھتی لیتی تھی۔اب تو شاید ۔۔۔‘‘ ان کی آواز بھر آئی تھی
’’ سوچا تھا کہ انمول کی بیوی آئے گی ہمارا خیال رکھے گی۔ اس گھر کو جوڑ کر رکھے گی مگر شاید سب خواب اب کرچی ہو چکے ہیں۔۔‘‘آنکھیں بھی پر نم ہوگئیں تھی
’’ پھپو۔۔ جو ہوا سو ہوا۔۔ جو آپ کی پرواہ نہیں کرتا اُن کی خاطر دل بھی نہیں میلا کرنا چاہئے ۔۔‘‘ ان کے رخسار سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
’’اب آپ آرام کریں۔۔میں آپ کے لئے جوس بنا کر لاتی ہوں۔۔‘‘یہ کہہ کر حجاب نے رضیہ بیگم پر لحاف اوڑھایا اور دروازے کی طرف چل دی۔
’’کاش عندلیب کی جگہ تم ہوتی حجاب۔۔۔!! کاش۔۔‘‘انہوں حسرت کے ساتھ دروازے کی طرف دیکھا
٭ ٭ ٭
اللہ اکبر ۔۔۔ اللہ اکبر
اذان کی پرکیف آواز اس کے کانوں میں شہد گھولنے لگی تو اس کی نیند بھی آہستہ آہستہ اس سے دور ہٹنا شروع ہوگئی۔ کروٹیں بدلنے کے بعد وہ انگڑائی لیتے ہوئے اٹھی اور سائیڈ لیمپ آن کیا تو کمرے میں ہلکی سی روشنی پھیل گئی۔ اس نے ایک نظر اپنے دائیں طرف دوڑائی تو ضرغا م کو پرسکون سویا ہوا پایا۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر اس کا وجود بہت وجیہہ لگ رہا تھا۔
’’ سوتے ہوئے آپ بہت اچھے لگتے ہیں۔‘‘پیار سے اپنا ہاتھ ضرغام کے چہرے پر پھیرتے ہوئے اس نے زیر لب کہا تھا۔ یہ کہہ کر وہ اٹھی اور واش روم میں جا کر وضو کیا اور نماز کی تیاری میں مصروف ہوگئی۔نماز پڑھنے کے لئے وہ شگفتہ بی بی کی کمرے میں چلی گئی تاکہ ضرغام کی نیند میں مخل نہ ہوں۔دونوں ساس بہو نے نماز فجر ادا کی ۔
’’امی آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟‘‘دعاکرتے ہوئے شگفتہ بی بی بار بار سر پر ہاتھ پھیر رہی تھیں
’’ بس سر میں درد ہو رہا ہے۔۔۔‘‘
’’ سر میں درد ہو رہا ہے؟ دکھائیں بخار تو نہیں ہے آپ کو؟‘‘تسبیح مکمل کر کے اس نے شگفتہ بی بی کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر ٹمپریچر چیک کیا
’’اللہ کا شکر ہے ۔۔ ٹمپریچر تو نہیں ہے۔ میں ابھی ٹیبلٹ لا کر دیتی ہوں کمرے سے۔۔۔‘‘اٹھ کر وہ اپنے کمرے کی طر ف گئی ۔ کمرے میں جا کر دروازہ کھولا تو دیکھ کر اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ بیڈ خالی تھا۔ضرغام وہاں نہیں تھا۔آنکھوں سے اشک جا ری ہوگئے۔ دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے وہ یک ٹک سامنے دیکھتی رہی۔اسے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کرے ۔ کیا کہے کیا نہ کہے۔منہ پر ہاتھ رکھے وہ اپنی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی
’’ وجیہہ وہ میں کہہ رہی تھی کہ۔۔۔ ‘‘ پیچھے سے شگفتہ بی بی آئیں اور اس کے شانوں پر ہاتھ رکھا
’’ وجیہہ تم ٹھیک تو ہو ناں۔۔۔‘‘وجیہہ کو ایسے دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے دیکھ کر وہ گھبرا گئی تھیں
’’امی ۔۔ وہ ۔۔ یہ۔۔‘‘ اس نے پیچھے مڑ کر کہا شگفتہ بی بی کی توجہ سامنے مرکوز کروائی۔ شگفتہ بی بی نے آگے بڑھ کر دیکھاتو ان کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہوگئے۔ اتنے عرصے کے بعد انہوں نے ضرغام کو نماز پڑھتے دیکھا تھا۔تشہد میں بیٹھا وہ نماز فجر ادا کرنے میں مصروف تھا۔دونوں آگے بڑھیں۔وجیہہ کی تو آنکھوں سے آنسو ہی تھمنے میں نہیں آرہے تھے۔شادی کے بعد پہلی بار اس نے ضرغام کو نماز پڑھتے دیکھا تھا۔ سر کو سفید ٹوپی سے ڈھانپے وہ بہت وجیہہ لگ رہا تھا۔دائیں طرف سلام پھیرا اور پھر بائیں طرف سلام پھیرا۔دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔
’’ اے خدا! میرے بیٹے کی ہر دعا قبول فرمانا۔۔‘‘شگفتہ بی بی کا سردرد اپنے بیٹے کو اپنے رب کے ساتھ لو لگاتا دیکھ کر اڑنچھو ہوگیا
’’ آمین۔۔‘‘وجیہہ کی لب سے برجستہ جاری ہواتھا
’’امی آپ؟ ‘‘ دعا مانگنے کے بعد اس نے جائے نماز اٹھا کر پیچھے دیکھا تو دونوں کی آنکھوں کو پرنم پایا۔شگفتہ بی بی کی طرف بڑھ کر اس نے کہا تھا
’’بہت خوشی ہوئی تمہیں نماز پڑھتا دیکھ کر۔۔۔‘‘ پیار سے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
’’یہ سب آپ کی بہو کا کیا دھڑا ہے۔۔‘‘ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے جواب دیا اور پھر ٹیبل کی طرف بڑھا
’’ پانی؟‘‘ اس نے سوالیہ انداز میں وجیہہ کی طرف دیکھا
’’وہ آپ جلد ی اٹھ گئے تھے ناں۔۔ اس لئے بھول گئے۔۔ ابھی لاتی ہوں۔۔‘‘پلکوں پر چمکتے آنسوؤں کو پونچھتے ہوئے کہا اور پھر کمرے سے باہر چلی گئی
’’اب کبھی مت چھوڑنا نماز۔۔۔‘‘پیار سے اس کے رخسار کو تھپتھپایا اور پھر کمرے سے باہر آگئیں
٭ ٭ ٭
حجاب رضیہ بیگم کے لئے ناشتہ بنانے میں مصروف تھی کہ اس کی نظر سامنے ٹی وی لاؤنج کی طرف گئیں۔ انمول سیڑھیاں اتر کر باہر کی طرف جا رہا تھا
’’ انمول۔۔‘‘ حجاب کی آواز سن کر انمول کے قدم تو رک گئے مگر اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا
’’ انمو ل مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے۔۔‘‘بالوں کی لٹوں کو کان کے پیچھے اڑیستے ہوئے حجاب نے کہا
’’ لیکن مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔‘‘اس نے روکھے انداز میں جواب دیا
’’لیکن مجھے کرنی ہے اور وہ بھی ابھی کے ابھی۔۔۔‘‘ اس نے سپاٹ لہجے میں کہا
’’ہاں کہو۔۔‘‘ بے رخی سے اس نے پلٹ کر حجاب کی طرف دیکھا
’’تم نے اپنی مرضی سے شادی کی مجھے اس سے کوئی کوئی غرض نہیں اور نہ ہی میں تمہاری پسند کو برا کہتی ہوں۔ تم نے وہ کیا جو تمہیں ٹھیک لگا مگر انمول ان سب میں بھلا پھپو جان کا کیا قصور ہے؟تم ان کو کس بات کی سزا دے رہے ہو؟‘‘وہ یک ٹک اس کے چہرے کے تاثرات کو دیکھ رہی تھی جو ہر لمحہ بدل رہے تھے
’’مجھے ان بے کار باتوں کے لئے روکا ہے؟‘‘ اس کے چہرے سے بیزاریت واضح ہو رہی تھی
’’یہ باتیں بیکار نہیں ہیں انمول۔۔وہ تمہاری ماں ہیں۔۔‘‘اس نے سختی سے کہا
’’ اور وہ میری بیوی۔۔۔‘‘جھٹ جواب دیا
’’تو بیوی کو بیوی کی جگہ رکھو۔۔ اور ماں کو ماں کی جگہ پر۔۔‘‘
’’یہ سب باتیں کرنے والی تم ہوتی کون ہو؟ مہمان ہو مہمان بن کر رہو اور چلتی بنو۔۔۔‘‘کراخت لہجے میں جواب دیا
’’انمول۔۔‘‘رضیہ بیگم کمرے سے ڈرائنگ روم کی طرف آرہی تھیں ۔ انمول کی باتیں سن کر انہیں بہت دکھ پہنچا
’’ہنہ۔۔۔‘‘وہ گردن جھٹکتے ہوئے آگے بڑھ گیا
٭ ٭ ٭
’’مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میرا یہاں رہنا کسی کو اچھا نہیں لگ رہا ۔۔‘‘ آئینے کے سامنے میک اپ کرتے ہوئے عندلیب نے انمول سے کہا تھا جو ابھی ابھی شاور لے کر باہر آیاتھا۔ بالوں سے پانی کے قطرے ابھی بھی فرش پر ٹپ ٹپ گر رہے تھے۔
’’ ایسا تمہیں کس نے کہا ؟‘‘بیڈ سے ٹاول اٹھا کر اپنے بالوں کو صاف کرتے ہوئے اس نے ترچھی آنکھوں سے عندلیب کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا ۔ جو اب آنکھوں میں کاجل لگا رہی تھی
’’کہا تو کسی نے نہیں مگر اُن کا رویہ تو یہی بتاتا ہے ناں۔۔‘‘کاجل لگانے کے بعد اس نے آئینے میں اپنے پورے چہرے کا جائزہ لیا کہ کہیں کچھ کمی تو نہیں رہ گئی
’’تم اُن کے رویوں کی طرف غور ہی نہ کیا کرو۔۔۔‘‘وارڈروب سے شرٹ نکال کر پہنتے ہوئے اس نے کہا تھا۔
’’لیکن انمول کوئی کب تک برداشت کر سکتا ہے۔ آخر ہم رہتے تو ایک ہی گھر میں ہیں۔صبح شام باہر آتے جاتے ان کا چہرہ دیکھنا تو پڑتا ہے ناں۔۔!!‘‘آئینے کے سامنے سے کھڑی ہو کر وہ انمول کے پاس گئی اور اس کی شرٹ کے بٹن اپنے ہاتھوں بند کرنے لگی
’’ عندلیب۔۔ میری جان۔۔‘‘ اس نے ابھی شرٹ کے نچلے حسے کے دو بٹن ہی بند کئے تھے کہ انمول نے اس کے ہاتھو ں کر پکڑ کر سینے کی طرف کیا۔ وہ جھکی آنکھوں سے گلہ کرتی رہی
’’برداشت کرنا پڑتا ہے۔زندگی میں کچھ بھی پانا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ تم ہماری ہی مثال لے لو۔ ہماری شادی کن حالات میں ہوئی تھی۔ میں تو صرف تمہارے ڈیڈ سے ملنے گیا تھا اور تمہارے ڈیڈنے اسی وقت میرے سامنے شرط رکھ دی کہ اگر میں تم سے پیار کرتا ہوں تو ابھی کہ ابھی تم سے شادی کروں۔۔اُس وقت میرے لئے فیصلہ کرنا کتنا مشکل تھا لیکن میں نے کیا ناں۔اب جب تمہیں اس مشکل سے گزرنا پڑ رہا ہے تمہیں بھی گھبرانا نہیں چاہئے۔ حالات کا مقابلہ کرنا چاہئے۔۔‘‘ اپنی آنکھیں عندلیب کے چہرے پر ٹکائے وہ اسے پیار سے سمجھارہا تھا مگر اس کے چہرے پر ناگواری کے اثرات تھے۔ایسا لگ رہا تھا جو بات وہ سننا چاہتی تھی وہ یہ کہہ ہی نہیں رہا تھا۔عندلیب کے چہرے پر ناگواری کے احساسات کو بھانپتے ہوئے اس نے اس کا ہاتھ پیار سے چوما
’’سمجھنے کی کوشش تو کر رہی ہوں ناں۔۔‘‘اس کی آنکھوں میں شوخ پن غالب تھامگر دوسری طرف صرف ناگواری کے احساسات تھے
’’لیکن انمول مجھے حالات سے مقابلہ کرنا نہیں آتا اور نہ ہی میں کسی ڈرامے کی ہیروئن کی طرح گھر گھرہستی کی خاطر لمبے لمبے امتحانوں سے نہیں گزر سکتی ہوں۔ میں آج کی لڑکی ہوں مجھے ہر چیز سٹیبل چاہئے ناں کہ میں خود اس کو سٹیبل بناؤں۔میں چاہتی ہوں کہ حالات میری مرضی کے مطابق چلیں ناں کہ میں حالات کے بتائے ہوئے ڈگر پر نکل پڑوں۔۔‘‘اس نے خفگی سے اپنے ہاتھوں کو انمول کے ہاتھوں سے آزاد کروائے اور چہرے کا رخ پھیر لیا
’’لیکن عندلیب۔۔۔ تھوڑا ساتو صبر کیا جاسکتا ہے ناں۔۔‘‘اس کے دونوں شانوں کو پکڑ کر اس کا چہرہ اپنی طرف کیا۔
’’صبر۔۔۔ تم تو جانتے ہو میں کتنا صبر کر سکتی ہوں پھر بھی تم مجھے صبر کرنے کا کہہ رہے ہو؟‘‘استفہامیہ انداز میں اس کے چہرے کی طرف دیکھا
’’ہاں۔۔‘‘ اس نے اثبات میں سرہلایاتو عندلیب بھی ایک سوچ میں ڈوب گئی۔جو وہ کہنا چاہتی تھی صاف صاف کہہ بھی نہیں سکتی تھی۔ ایسا کرنے سے اس کی اہمیت انمول کی نظروں میں کم ہو سکتی تھی۔مجبوری کا نام شکریہ سمجھ کر اس نے بھی اثبات میں سر ہلادیا
’’اب کن سوچوں میں گم ہو؟ پارٹی میں نہیں جانا کیا؟‘‘چٹکی بجاتے ہوئے اس نے عندلیب کو سوچوں کی دنیا سے باہر نکالا ۔ عندلیب نے حیرانی سے انمول کے چہرے کی طرف دیکھا جو مسکرا رہا تھا۔
’’ میں تو تیار ہوں۔۔۔ تم ہی دیر کر رہے ہو۔۔‘‘اس نے سارا ملبہ انمول پر ہی ڈال دیا
’’ اچھا جی۔۔ خود ہی باتوں کے جال میں الجھا کر مجھے تیار ہونے سے روک رہی تھی اور اب سارا ملبہ بھی مجھ پر ہی ڈال رہی ہو۔۔ یہ اچھی بات نہیں ہے۔۔‘‘ہلکے سے شوخ لہجے میں کہا
’’ اچھا اچھا۔۔ اب زیادہ باتیں مت بناؤ۔۔ جا کر اپنی شرٹ کے بٹن بند کرو۔۔۔‘‘گردن جھٹکتے وہ آئینے کی طرف بڑھی اور ایک بار پھر اپنے چہرے کا جائزہ لیا۔
* * * *
’’ مجھ سے نہیں سنی جاتی آپ کی باتیں۔۔یہاں نہ جاؤ۔۔ وہاں نہ جاؤ۔۔ اتنی دیر کہاں لگا دی؟ کہاں تھے؟ یہ وقت ہے گھر آنے کا ؟ اور پتا نہیں کیا کیا کچھ۔۔۔میں تنگ آچکا ہوں آپ دونوں کی باتوں سے۔۔‘‘عندلیب اور انمول پارٹی سے رات گئے واپس آئے تو علی عظمت اور رضیہ بیگم کو ٹی وی لاؤنج میں انتظار کرتے ہوئے پایا۔ پہلے تو دونوں نے انہیں نظر انداز کر دیا مگر جیسے ہی وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگے تو علی عظمت کے سوال نے انمول کے غصے کو ہوا دینے کا کام کیا تھا
’’لیکن میں نے صرف یہی کہا ہے کہ بیوی کے ساتھ یوں رات رات تک باہر رہنا اچھی بات نہیں ہوتی۔۔‘‘علی عظمت کا لہجے بدستور دھیمہ تھا۔وہ بات کو بڑھانا نہیں چاہتے تھے مگر جو انداز انمول کے تھے اس سے ایسا لگتا تھا جیسے وہ بات کا بتنگڑ بنانے کے موڈ میں تھا
’’پلز۔۔ ۔ آپ نصیحتیں کرنا بند کریں۔۔ ایک تو چلی گئی نصیحتیں کرنے والی مگر ایسا لگتا ہے جاتے ہوئے اپنی روح اسی گھر میں چھوڑ گئی۔۔‘‘ اسے جھلاتے ہوئے وجیہہ کو باتوں میں گھسیٹا تھا
’’ انمول! وہ تم سے بڑی ہے۔۔‘‘پہلی بار رضیہ بیگم نے انمول کے سامنے یہ جتلایا تھا کہ وجیہہ اس سے بڑی ہے
’’اوہ۔۔ بڑی جلدی خیال آگیا۔۔۔‘‘اس نے طنزیہ انداز میں کہ تھا
’’چلو انمول۔۔۔ ان کی تو عادت ہی بن گئی ہے روک ٹوک کرنے کی۔۔۔‘‘عندلیب نے انمول کا ہاتھ پکڑ کر لے جانا چاہا جو علی عظمت کو ایک پل کے لئے بھی نہ بھایا
’’ ہم اپنے بیٹے سے بات کر رہے ہیں۔۔۔‘‘ انہو ں نے عندلیب کے وجود کو نظر انداز کیا تو انمول کا غصہ مزید بھڑک گیا
’’ابو۔۔ یہ میری بیوی ہے۔۔آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا میری بیوی سے ایسے بات کرنے میں۔۔۔‘‘آنکھیں دیکھاتے ہوئے انمول نے کہا تھا
’’ انمول۔۔ ایسے بات کرتے ہیں اپنے ابو سے؟‘‘رضیہ بیگم کی آواز گونجی ۔ انہوں نے پہلی بار سخت لہجے میں انمول کو ڈانٹا تھا۔جو کہ انمول کے ناقابل برداشت تھا
’’ ویسے ٹھیک ہی کہتی ہے عندلیب۔۔ آپ سب اسے یہاں دیکھ کر ہی خوش نہیں ہیں۔۔اب تو مجھے بھی ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہمیں یہاں سے چلے ہی جانا چاہئے۔۔‘‘ یہ سن کر دونوں کو ایک دھچکا لگا تھا۔
’’ انمول۔۔‘‘ علی عظمت یہ برداشت نہ کر سکے اور ایک طماچہ اس کے رخسار پر پیوست کیا
’’اپنے ہاتھ اپنے قابو میں رکھیں۔۔۔‘‘ اس نے عقابی نظروں سے دیکھتے ہوئے مزید کہا
’’ اب ہم اس گھر میں مزید نہیں رک سکتے۔۔ کل ہی یہ گھر چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ آئی بات سمجھ میں۔۔‘‘یہ کہہ کر وہ عندلیب کا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں چلا گیا۔ دونوں پر تو جیسے قیامت ہی ٹوٹ پڑی تھی۔ رضیہ بیگم نے علی عظمت کی طرف دیکھا جو یاس کے ساتھ انمول کو جاتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ ایک باپ کے لئے اپنے بیٹے کی طرف سے یہ دھمکی کہ وہ ان کو چھو ڑ کر چلا جائے گا کسی قیامت سے کم نہیں ہوتی۔پاؤں تلے سے زمین نکل جاتی ہے ۔ سر سے آسمان چھن جاتا ہے۔ایک باپ کو اپنے بڑھاپے میں صرف ایک بیٹے کا ہی تو سہارا ہوتا ہے مگر اگر وہی ان کو بے سہارا چھوڑنے کی بات کرے تو اس دل پر کیا گزرتی ہے ۔ یہ صرف وہی دل جانتا ہے جس پر بیت رہی ہوتی ہے
’’ نہیں انمول۔۔ ہم ایسے نہیں جا سکتے۔۔ یہ گھر تمہارا ہے۔ اس گھر پر صرف تمہارا حق ہے۔ تم ایسے ہی یہ سب چھ چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔۔ ‘‘ شب خوابی کا لباس پہن کر وہ اس کے پہلو میں آبیٹھی تھی۔وہ سینے پر ہاتھ باندھے نیم دراز لیٹا تھا
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘اس نے استفہامیہ انداز میں عندلیب کی طرف دیکھا تھا
’’مطلب یہ کہ اس جائیداد پر صرف تمہارا حق ہے۔ اگر تم اپنا حق لئے بغیر چلے گئے تو تمہیں و ہ اپنی جائیداد سے بے دخل کر دیں گے اور اس طرح ساری کی ساری پراپرٹی تمہاری بہن کو مل جائے گی۔۔‘‘ اس کی باتوں سے دوغلاپن صاف واضح ہو رہا تھا ۔ عندلیب کی باتوں نے انمول کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ اس نے اپنی نظریں سامنے دیوار پر مرکوز کر لیں او ریک ٹک دیوار کی طرف دیکھتا رہا
’’میں تمہیں تمہارے والدین کے خلاف بھڑکا نہیں رہی بلکہ سچ کہہ رہی ہوں۔۔‘‘ اس نے شاطرانہ انداز میں اپنا داؤ چلا تھا
’’میں جانتا ہوں۔۔۔‘‘اس نے بنا اس کی طرف دیکھے کہا تھا۔ یہ سنتے ہی عندلیب نے اپنا سر انمول کے کندھوں پر ٹکا لیا
’’میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں انمول۔۔ تمہیں کھونے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی،۔۔۔اور جو کچھ بھی کہہ رہی ہو ں تمہارے بھلے کے لئے کہہ رہی ہوں۔۔‘‘انمول کے بازو کو سرہانا بنائے اس نے آنکھیں بند کرکے کہ تھا۔ اس نے سرسری طور پر عندلیب کی طر دیکھا اور پھر دوبارہ توجہ دیوار کی طرف مرکوزکر لیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لازوال میں پیش آنے والے واقعات آپ اگلی اقساط میں پڑھ سکیں گے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Shoaib

Read More Articles by Muhammad Shoaib: 64 Articles with 64007 views »
I'm a student of Software Engineering but i also like to write something new. You can give me your precious feedback at my fb page www.facebook.com/Mu.. View More
23 Jul, 2017 Views: 461

Comments

آپ کی رائے