چند دنوں کی زندگی

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: مدیحہ مدثر ، کراچی
’’چند دنوں کی زندگی ہے خوب عیش کرلو،جیسے چاہو جیو،کھل کے جی لو ‘‘یہ جملے آج کل بہت عام ہیں۔ ٹی وی پر چلتے اشتہارات ہوں ڈرامہ ہو یا عام انسان کی بات ہر شخص خود بھی ان جملوں پر عمل کررہا ہے اور دوسروں کو بھی یہی درس دے رہا ہے۔ چند دن کی زندگی ہے ،کھالے پی لے جی لے۔ دوسروں کی پرواح چھوڑجو کرنا ہے کر گزرو اور اس جملے کی آڑ میں کوئی بھی کام جس سے اس کے نفس کو تسکین پہنچے کر گزرتاہے۔ چاہے وہ کام صحیح ہو یا غلط بس عیش کرنا ہے ۔ جتنا عیش کرسکتے ہو کرلو، ڈرو نہیں جینا ہے تو بے خوف ہوکر جیو جیسے چاہو جیو اور اپنے نفس کی تسکین کے لیے پھر ضرورت پڑہتی ہے ۔ پیسوں کی پھر کماؤ پیسے ڈر کس بات کا پیسے کمانے ہیں چاہے حرام ہوں یا حلال۔یعنی اپنے مذہب کو بالکل بھول بیٹھے ہیں ہم ہمارا دین ہم سے کیا کہہ رہا ہے اس کی کوئی پرواح نہیں ہمیں جبکہ چنددن کی زندگی اگر اس جملے پر تھوڑاغور کریں تو ہمارے نبیﷺ نے بھی یہی بتایا ہے کے یہ دنیا کی زندگی چند دن کی ہے لیکن ساتھ ہی آخرت کی ابدی اور ہمیشہ رہنے والی زندگی کی بھی خبر سنادی سمندر میں انگلی ڈالی جو پانی انگلی پر آیا وہ دنیا کی زندگی اور پورا سمندر آخرت کی زندگی یعنی ہمارے نبیﷺ کے مطابق یہ دنیا کی زندگی چند روز کی ہے جس میں ہمیں آخرت کی عبدی زندگی کی تیاری کرنی ہے۔ دنیا کی زندگی آخرت کی کھیتی ہے۔ عیش عشرت کے لیے ہم دنیا میں نہیں آئے جودل میں آئے وہ کر گزریں ہم کچھ بھی کرلیں کوئی پکڑ نہیں ہماری بے خوف ہوکر جینا کے کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہماری زندگی ہے کوئی کیوں کچھ کہے نہیں بلکہ زندگی میں جو کچھ کرینگے اس کی پکڑ آخرت میں ہونی ہے ہر بات کی سزا اور جزا آخرت میں ملنی ہے۔ اس لیے ہمیں اﷲ اور اس کے رسولﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر پورا اترنا ہے ۔ہر وہ عمل کرنا ہے جو ہمیں جنت تک پہنچادے وہی ابدی زندگی ہے اور اس جملے کو ہم یوں لے لیں تو ہماری زندگی سنور جائے آخرت آسان ہوجائے۔ چند دن کی زندگی ہے جتنی نیکیاں سمیٹ سکتے ہو سمیٹ لو۔ چند دن کی زندگی ہے آخرت کے لیے جتنا اجرجمع کر سکتے ہو کرلو۔ چند دنوں کی زندگی ہے جتنا علم لوگوں تک پہچاسکتے ہو پہنچا دو۔ آخر کب اس زندگی کا وقت پورا ہوجائے ہم کچھ کہہ نہیں سکتے کیونکہ یہ زندگی چند روز کی ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1226 Articles with 497358 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Jul, 2017 Views: 202

Comments

آپ کی رائے