مسلمانوں کے باہمی حقوق (۳ ) خیر خواہی کرنا !

(Abdul Bari Shafique, Mumbai)

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ ؓ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: ’’حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ :قِيلَ مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَسَمِّتْهُ وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ‘‘۔ ( صحیح مسلم:کتاب السلام، باب مِنْ حَقِّ الْمُسْلِمِ لِلْمُسْلِمِ رَدُّ السَّلاَمِ.ح:۵۷۷۸)
ترجمہ : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا :’’ایک مسلمان کادوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں ،پوچھا گیا اے اللہ کے رسول ﷺوہ کون سے حقوق ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’جب تم کسی مسلمان سے ملو تو اس کو سلام کرو، جب وہ تم کو دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرو،جب وہ تم سے نصیحت طلب کرے تو اس کو اچھی نصیحت کرو،جب وہ چھینک کے بعد ا لحمدللہ کہے تو اس کی چھینک کا جواب میں ’’یرحمک اللہ‘‘ کہواور جب وہ بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کرواور جب وہ فوت ہوجائے تو اس کی نماز جنازہ میں جاؤ۔
تشریح: ’’نصح‘‘ یا ’’نصیحت‘‘ کے معنیٰ عام طور سے ہماری اردو زبان میں خیرخواہی سے کیا جاتاہے ،اوردراصل یہ لفظ’’نصح العسل ‘‘ سے ماخوذ ہے۔جس کے معنٰی شہد کو چھاننا اور اسے خالص بنانا کہ اس میں موم یا کسی دوسری چیز کی آمیزش اور ملاوٹ نہ ہو۔یہ بڑا ہی مختصر اور جامع کلمہ ہے جو کئی معنوں پر مشتمل ہے ،اس سے مراد یہ بھی ہے کہ ہمارے دل میں ہر اس شخص کے لئے جس کے ہم خیرخواہ ہیں کسی قسم کی کدورت اور دھوکہ وفریب نہ ہو اور ہم اس کے لئے ہر بھلائی کے خواہاں ہوں ۔
مذکورہ حدیث اس بات کی طرف رہنمائی کررہی ہے کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ الفت ومحبت اور خیرخواہی کرنا اسے اچھا مشورہ دینا ،بھلائیوں کی طرف راغب اور برائیوں سے روکنا نہایت ہی مستحسن اور اللہ کے نزدیک محبوب عمل ہے ،جسے دین کی بنیاد اور اس کا جوہر کہاگیاہے ۔چونکہ دین اسلام دراصل خیرخواہی ، الفت ومحبت اورامن وشانتی کا نام ہے ۔جیساکہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ : ’’الدین النصیحۃ ‘‘ دین خیرخواہی کا نام ہے ، صحابہ نے پوچھا کس کے لئے اے اللہ کے رسول ﷺ ؟ تو جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ للہ ولکتابہ ولرسولہ ولأئمۃ المسلمین وعامتھم‘‘۔(مسلم :کتاب الایمان:۹۵)اس کی کتاب اور رسول کے ساتھ ،نیز مسلم ائمۃ وحکمرانوں اور عام مسلمانوں کے لئے ہوگی ۔
اس حدیث سےیہ معلوم ہواکہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ خیرخواہی کرنا اسے اچھا مشورہ دینااس کے دکھ درد میں شریک ہونااس کی غمگساری کرنا لازم وضروری ہے اور آپ ﷺ نے فرمایاکہ جب تمہارا کوئی بھائی تم سے مشورہ طلب کرے تو اس کے ساتھ خیرخواہی کرتے ہوئے اسے اچھا مشورہ دو ۔ ’’وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ ‘‘۔
یہ نصیحت وخیرخواہی کرنا انبیائے کرام کا بھی شیوہ تھا قرآن مجید میں اللہ نے کئی انبیاء کے نصح وخیرخواہی کا تذکرہ فرمایاہے :جیساکہ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کے قول کو نقل کیا (جب انہوںنے اپنی قوم کے ساتھ خیرخواہی کرتے ہوئے فرمایا تھا)کہ : ﴿ أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنْصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾(اعراف:۶۲)’’تم کو اپنے پروردگار کا پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے ان امور کی خبر رکھتا ہوں جن کی تم کو خبر نہیں‘‘۔ اسی طرح ہود علیہ السلام کے بارے میں قرآن شاہد ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:﴿أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ ﴾(اعراف: ۶۸)’’تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور میں تمہارا امانتدار خیرخواہ ہوں‘‘۔اسی طرح صالح علیہ السلام نے فرمایا: ﴿وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَكِنْ لَا تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ﴾(اعراف:۷۹)’’اس وقت (صالح علیہ السلام) ان سے منہ موڑ کر چلے، اور فرمانے لگے کہ اے میری قوم! میں نے تو تم کو اپنے پروردگار کا حکم پہنچادیا تھا اور میں نے تمہاری خیرخواہی کی لیکن تم لوگ خیرخواہوں کو پسند نہیں کرتے۔
انبیائے کرام کے علاوہ امت کے صلحاء اور اللہ کے متقی وپرہیز گار بندوں کا بھی امت کے ساتھ یہی معاملہ تھا ،وہ بھی امت کے ہر فرد کے ساتھ شفقت ومحبت اورہمدردی و خیرخواہی کا جذبہ رکھتے تھے ۔حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ :” بعض صحابہ رضی اللہ عنہم ارشاد فرماتے تھے کہ جس ذات کے قبضہ میں میری جان ہے ، اگر تم چاہو تو میں خدا کی قسم کھاکر کہہ سکتاہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سب سے محبوب بندے وہ حضرات ہیں جو بندوں میں اللہ کی محبت پیدا کرتے ہیں اور انہیں ایسے اعمال کی ترغیب دیتے ہیں ، جس سے اللہ ان سے محبت کرنے لگے اور روئے زمین پر نصح و خیر خواہی کو عام کرتے ہیں‘‘۔(جامع العلوم والحکم :ج؍۱ص: ۲۲۴)
اورابن علَیّہ حضرت ابو بکر مزنی سے نقل کرتے ہیں کہ صحابہٴ کرام ؓ میں حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا جو نمایاں مقام ہے اور ان میں سب سے بڑھ کر صاحب فضل وکمال ہیں ، اس کا سبب صرف نماز اور روزہ نہیں ہے ،بلکہ ان کو یہ مقام ان کے دلی احوال کی وجہ سے حاصل ہوا ، ان کے دل میں اللہ کی محبت اور مخلوق سے خیر خواہی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔ فضیل بن عیاض فرماتے ہیں کہ جن کو بھی اللہ تعالیٰ کا قرب اور ان سے خصوصی تعلق قائم ہوا ہے ، میرے خیال میں نماز و روزے کی کثرت سے نہیں ہوا ،بلکہ سخاوت ، دل کی صفائی اور لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کے نتیجے میں حاصل ہوا ۔ حضرت عبد اللہ بن مبارک سے پوچھا گیا کہ بہترا ور افضل عمل کونسا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ سے خیر خواہی سب سے اچھا عمل ہے۔ظاہرہے کہ جو اللہ کے ساتھ خیر خواہی کرے گا وہ اس کی مخلوق کے ساتھ ضرور خیر خواہی کرے گا ، بعض اسلاف سے منقول ہے کہ میری دلی خواہش ہے کہ ساری مخلوق اللہ کی مطیع و فرماں بردار ہوجائے ، اگرچہ اس جد و جہد میں میرے گوشت کو قینچی سے کاٹ ڈالاجائے ۔ ( (ایضاص:۲۲۵)
اسی طرح نبی کریم ﷺ کے ایک جلیل القدر اور پیارے ساتھی جریر بن عبداللہ بجلی ؓ کا واقعہ ہے کہ وہ آپ ﷺکی خدمت میں بیعت لینےکے لیے حاضر ہوئے تو آپﷺنے فرمایا : ” اے جریر ! اپنا ہاتھ بڑھاوٴ ، حضرت جریر ؓنے عرض کیا : آپ مجھ سے کس چیز پر بیعت لینا چاہتے ہیں ؟ آپﷺنے فرمایا : اسلام لانے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کرو “۔ ․(المعجم الکبیر للطبرانی :۳۴۶۵)اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت جریر بن عبد اللہؓ جب ایک جگہ کے گورنر تھے تو اس وقت انہوں نے فرمایا تھا کہ میں نے آپ ﷺکے دست مبارک پر ابتداً جو بیعت کی تھی اس میں مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کا ذکر نہیں ہوا تھا ، میں بیعت سے فارغ ہوکر جب واپس جانے لگا تو آپ ﷺنے مجھے بلایا اور فرمایا کہ میں صرف مذکورہ امور پر بیعت کرنے سے راضی نہیں ہوں ، تم اس بات پر بھی مجھ سے بیعت کرو کہ ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کیا کروگے ، حضرت جریر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس پر بھی بیعت کی ۔ ․(ایضا :۳۴۵۷)نیزایک روایت میں اس طرح ہے کہ حضرت جریرؓ نےنبی کریمﷺ سے عرض کیا کہ میں آپ کے دست مبارک پرہجرت کرنے کی بیعت کرتا ہوں۔ آپﷺنے ہجرت پر مجھ سے بیعت لے لی اور یہ شرط بھی لگائی کہ ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کروگے ، میں نے اس شرط کو قبول کیا اور اس پر بھی بیعت کی ۔ (ایضا:۲۴۶۴)ان احادیث سے نصح و خیر خواہی کی اہمیت مزید معلوم ہوتی ہے کہ آپ ﷺنےصحابہ کو بلابلاکراس پر بیعت لی اور اپنی طرف سے اس کا اضافہ کرکے اس پر بھی بیعت لی ، البتہ بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺنے جن امور پر بیعت لی تھی ان میں مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی ابتدا ہی سے شامل تھی ۔(صحیح بخاری،:۵۷)
مذکورہ تمام نصوص شرعیہ سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ خیرخواہی کرنا ،اچھا مشورہ دینا اور ان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ پیش آنا بڑی اہمیت کا حامل اور اللہ کے نزدیک محبوب ترین عمل ہے ۔ مسند احمد کی ایک حدیث ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ: میرے بندے کے اعمال میں محبوب ترین عمل میرے بندوں کے ساتھ خیر خواہی کرنا ہے “۔ (مسند احمد:۲۲۱۹۱)اور طبرانی کی روایت میں ہےکہ : ”أحب عبادة عبدي إلي النصیحة “(المعجم الکبیر ،۷۸۸۰)” میرے بندے کی میرے نزدیک محبوب ترین عبادت دوسروں کے ساتھ نصح وخیر خواہی کرنا ہے “ ۔
قارئین کرام !مذکورہ دلائل اس بات پر دال ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ خیرخواہی کرنا ،انھیں اچھا اور بہتر مشورہ دینا ،امر بالمعروف والنھی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ حق ہے ۔ جس سے انحراف کرنے والا بروز قیامت عذاب الہٰی کا شکار ہوگااوردنیا میں بھی ذلیل ورسواء ہوگا ۔ لہذا ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے بھائیوں ،رشتہ داروں ،اعزہ واقارب اور دوست واحباب کے ساتھ الفت ومحبت اور نصیحت وخیرخواہی کا معاملہ کریں ۔ تاکہ ہمیں دنیا وآخرت دونوں میں سرخروی نصیب ہوسکے ۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیںتمام لوگوں کے ساتھ خیرخواہی اور اچھا معاملہ کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔آمین!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Bari Shafique

Read More Articles by Abdul Bari Shafique: 114 Articles with 68283 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Jul, 2017 Views: 1782

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ