قانون کی طالبہ کا23 خنجروں کا حساب

(Mian Muhammad Ashraf Asmi, Lahore)

وہ لاء کالج کی طالبہ تھی اُس کا صرف یہ قصور تھا کہ وہ مردوں کے معاشرے میں ایک خاتون تھی۔ اُسے ماں باپ نے قانون کی تعلیم دلوانے کے لیے کالج بھیجا تھا ۔ اُس کے کی آنکھوں میں اپنے مستقبل کے حوالے سے بہت سے چمکتے خواب تھے۔ پھر وہی ہوا جو مردوں کے معاشرے میں بگڑئے امیر زادے کرتے ہیں۔ بگڑئے اور بااثر امیر زادے نے اُسے اپنی خواشات کی تکمیل میں رکاوٹ کی بناء پر راستے سے ہٹا نے منصوبہ بنایا۔ اِس باعزم لڑکی کے حوصلے کے سامنے سماج کی دیوار کھڑی کردی گئی ۔ اُس امیر زادئے نیں اُسے بھری سڑک پر خنجر سے بیس سے زائد وار کیے۔ لیکن وہ بچ نکلی اُسے اُس کے ڈرائیور نے اُس امیر زادے کے چنگل سے آزاد کروایا جس وقت وہ امیرزادہ ہلمٹ پہنے موٹر سائکل پر سوار ہوکر بیچ سڑک کے اُسے پر خنجر کے وار کر رہا تھا اُس وقت اُس کی معصوم چھوٹی بہن بھی سارا منظر دیکھ رہی تھی کہ یہ ظالم ا میر زادہ کیوں قتل کرنا چاہتاہے۔اُس ننھی گڑیا نے بھی اُس قاتل کو ہلمٹ سرکنے پر چہرئے سے پہچان لیا تھا۔تفصیلات کے مطابق قانون کی طالبہ خدیجہ کے وکیل نے قاتلانہ حملہ کرنے والے ہم جماعت کے ہیلمٹ کی ڈی این اے فرانزک رپورٹ عدالت میں جمع کرادی جس کے تحت ہیلمٹ سے ملا خون خدیجہ کے خون کے نمونوں سے جب کہ پسینوں کے ذرات کے نمونے ملزم کے پسینے سے مطابقت رکھتے ہیں۔خیال رہے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھیجے جانے والا ہیلمٹ قاتلانہ حملے کے وقت ملزم شاہ حسین نے پہن رکھا تھا اور حملے کے بعد گھبراہٹ کی وجہ سے ہیلمٹ گر گیا تھا جسے پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا اور بعد ازاں خدیجہ کے وکیل نے ہیلمٹ کو فرانزک لیب بھیج کر ڈی این اے کروایا۔یاد رہے کہ گزشتہ سال 3 مئی کو نجی لاء کالج کی طالبہ خدیجہ صدیقی کو ہم جماعت شاہ حسین جو معروف وکیل کا بیٹا بھی ہے نے چھریوں کے 32 وار کر کے شدید زخمی کردیا تھا تاہم خوش قسمتی سے مہینوں موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد خدیجہ کو نئی زندگی مل گئی تھی۔تاہم قانون کی طالبہ خدیجہ کا امتحان یہی پر بس نہیں ہوا بلکہ جب اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کی تو اس کے سامنے سب بڑی رکاوٹ خود ملزم کے والد نے اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خدیجہ اور اس کے خاندان کو مقدمہ سے باز رکھنے کے ہتھکنڈے جاری رکھے۔خوش قسمتی سے سوشل میڈیا پر یہ معاملہ زور پکڑ گیا اور پھر الیکڑانک میڈیا نے بھی اس کیس کو بھرپور انداز سے اُٹھایا اور بلا آخر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے نوٹس لیتے ہوئے 24 مئی کو جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسین اعوان کو روزانہ کی بنیاد پر کیس کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے طالبہ خدیجہ صدیقی پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزم شاہ حسین کو 7 سال قید کی سزا سنا دی۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے طالبہ خدیجہ صدیقی پر قاتلانہ حملہ کرنے کا جرم ثابت ہونے پر ملزم شاہ حسین کو سات سال قید کی سزا سنا دی، جس کے بعد مجرم کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔خدیجہ کے وکیل نے کہا کہ یہ کیس کوئی لینے کو تیار نہیں تھا لیکن اﷲ کی مدد سے سرخرو ہوئے اور خدیجہ کو فوری انصاف ملا۔اس موقع پر قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی نے مسرت بھرے لہجے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین نہیں آرہا کہ ان کے حق میں فیصلہ آگیا۔ خدیجہ نے کہا کہ ہم کمزورنہیں لیکن معاشرے نے ہمیں کمزور بنایا ہے، میری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں اور لڑائی صرف ظلم کے خلاف تھی، کیس میں جن لوگوں نے ساتھ دیا ان سب کی شکرگزار ہوں، اﷲ تعالیٰ نے مجھے موت کے منہ سے نکالا جس پر رب تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوں۔ خدیجہ صدیقی حملہ کیس کا چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے انتظامی نوٹس لیا تھا اور مقدمے کا ایک ماہ میں ٹرائل مکمل کرنیکا حکم دیا تھا۔ حسین موٹر سائیکل پر سوار تھا اور اس نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا لیکن خدیجہ کے ڈرائیور نے اسے پکڑنے کی کوشش کی جس کے دوران اس کا ہیلمٹ گرگیا اور وہ پہچان لیا گیا۔اس مقدمے میں اہم موڑ اس وقت آیا جب شاہ حسین کا والد جو خود بھی وکیل ہے اس کیس پر اثر انداز ہوا اور وکیلوں نے خدیجہ کا کیس لڑنے سے انکار کردیا بلکہ ان پر اخلاقی بے راہ روی کے الزامات بھی لگائے گئے جس پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے واقعہ کا نوٹس لیا۔ خدیجہ اور شاہ حسین مقامی لاء کالج میں قانون کے طالب علم تھے۔ لاہور کی مقامی عدالت نے لاء کالج کی طالبہ خدیجہ صدیقی پرہونے والے حملے کے کیس میں مجرم شاہ حسین کو مجموعی 23 سال قید اور3 لاکھ 34 ہزارسولہ روپے جرمانے کی سزا سنا ئی۔عدالتی حکم کے مطابق جب تک مجرم خدیجہ صدیقی کو جرمانہ ادا نہیں کرتا اس وقت تک وہ رہا نہیں ہوسکے گا۔پراسکیوشن کی جانب سے ملزم شاہ حسین کے خلاف بارہ گواہان پیش کیے گئے جن میں آٹھ پولیس اہلکار، لیڈی ڈاکٹر خدیجہ صدیقی کی چھوٹی بہن صوفیہ صدیقی اور ڈرائیور شامل تھا۔پولیس نے ملزم سے واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل اور چھری بھی برامد کی جبکہ فرانزک رپورٹ میں بھی ملزم کے خلاف جرم ثابت ہوا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ مجرم قانون کا ایک نوجوان طالب علم ہے جس کے سامنے ایک شاندار مستقبل ہے مگر خدیجہ صدیقی بھی ایک نوجوان طالبہ ہے جس پر گزرنے والے کرب کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔مجرم نے خدیجہ صدیقی کو قتل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوٹی مگر وہ معجزانہ طورپر بچ گئی۔ مقدمے کے حالات مد نظر مجرم سے کوئی رعایت نہیں برتی جاسکتی۔عدالت کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے خدیجہ صدیقی نے کہا کہ زندگی اور موت اﷲ کے ہاتھ میں ہے، یہ کیس میرے ایمان کا امتحان تھا۔انہوں نے کہا کہ کیس کے دوران میری کردار کشی کی گئی لیکن جس اﷲ نے زندگی دی اس نے عزت بھی دی ہے،جن لوگوں نے ساتھ دیا ان کی شکر گزار ہوں۔خدیجہ صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ اس کی کسی کے ساتھ دشمنی نہیں ہے بلکہ اس نے 23 خنجروں کا حساب لینا تھا وہ لے لیا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 226330 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More
01 Aug, 2017 Views: 397

Comments

آپ کی رائے