لاہور میں ایک کورس کا تصویری البم

(Amadul Amin, Islamabad)
پچھلے دنوں لاہور میں ٩ دن کا ایک کورس ٹرین دی ٹرینرز کے نام سے قاسم علی شاہ فاؤنڈٰیشن کے تحت منعقد ہوا جس میں شرکت کا موقع ملا ۔

لاہور میں ایک کورس کا تصویری البم
لاہور میں9 دن کیTrain The Trainer کے عنوان سے ایک ورک شاپ قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن کے تحت ہوئی جس میں مجھے شرکت کا موقع ملا ۔ یہ تحریر اس ورک شاپ کی البم پر مبنی ہے ۔ تصاویر ملاحضہ فرمائیں ۔

آگاہی کی دہلیز
وقت سے کچھ قبل ہی میں عمران بھائی کے بتائے ہوئے پتے پر پہنچ چکا تھا، بیرونی گیٹ کو تالا تھا اور دوپہر کی چلچلاتی دھوپ نے بُراحال کر رکھا تھا ۔گرمی اور حبس سے پناہ گاہ کی تلاش میں تھا ، پھیری والے سے 50 روپے کے آڑو لیے اور لنچ کیا اورگیٹ کھلنے کاانتظار کرنے لگا۔انتظار میں وقت گزر ہی نہیں رہا تھا ۔اسی بلڈنگ کے ساتھ اگلے گیٹ سے لوگوں کی آمد و رفت نظر آئی تو وہاں موجود گارڈ سے پوچھنے پر پتا چلا کہ رستہ یہی ہے ، ایک وسیع پارکنگ ایریا ،موٹر سائیکلز اور گاڑیوں سے بھرچکاتھا ۔ ایک چھوٹے دروازے سے اس بلڈنگ کو رستہ نکل رہا تھا ۔ LSMکے نام سے یہ دومنزلہ بلڈنگ تھی ۔بلڈنگ پر مختلف کورسز کے تعارف آویزاں تھے ۔بالآخر میں آگاہی کی دہلیز پر تھا ۔ پچھلے 6 گھنٹوں کے سفر اور گیٹ کے باہر ایک گھنٹے کے انتظار نے یہ بتا دیا تھا کہ علم و آگاہی کی دہلیز تک پہنچنے کے لیے یہ سب مراحل طے کرنے پڑتے ہیں ۔ گرمی اور حبس جہالت کی علامت تھی اور میری پناہ کی تلاش وہی علم و آگاہی کی دہلیز تھی ۔گیٹ کا تالا بتا رہا تھا کہ زندگی کے جھمیلوں میں علم و آگاہی کے داروازوں کو بظاہر تالا نظر آتا ہے لیکن انسان کی تلاش اور اس کا شوق اس کو بالآخربھلےایک قدرِ تنگ ہی سہی مگر ٹھیک رستہ ضرور بتاتا ہے لہذا تالاکھلنے کا انتظار نہ کرو اور وہ چھوٹا دروازہ ڈھونڈو ۔ لوگوں کی ایک الگ دروازے سے آمدو رفت یہ بتا رہی تھی علم کے متلاشی لوگوں پر نظر رکھو کہ کن مناروں سے وہ روشنی حاصل کرتے ہیں لیکن ان راستوں پر موجود گارڈ سے تصدیق ضرور کر لو ورنہ گمراہ بھی ہو سکتے ہو ، تصدیق ہو جائے تو سمجھ لو کہ راستہ اسی طرف ہے ۔ پارکنگ میں پہلے سےموجود گاڑیاں اور موٹر سائیکلز نے یہ انکشاف کیا کہ حضور آپ کے علاوہ ، آپ سے زیادہ ٹرپ رکھنے والے لوگ آپ سے پہلے علم و آگاہی کی دہلیز پر موجود ہوں گے لہذا گھمنڈ میں نہ رہنا کہ تم ہی ہو جو یہاں تک پہنچے ۔ اب تمہارا کام یہ ہے کہ ان سبقت لے جانے والوں سے گھل مل جاؤ ، سیکھو اور مراد پاؤ۔

دل پے دستک
راشد صاحب اپنے مخصوص انداز میں Brand Your Self کے عنوان سے گویاں تھے اورتمثیلاً ایک شخصیت کی کہانی سنا رہے تھے کہ اچانک انہوں نےاسی شخصیت کو سٹیج پر دعوت دی جس کی کہانی سنا رہے تھے ، تالیوں کی گونج میں ایک پر وقار اور طمانیت سے بھرپور مسکراتا چہرہ ،عقب کی جانب سے نمودار ہوا ۔تالیوں کی گونج بتا رہی تھی کہ وہ کیا ہیں۔ یقین جانیے داد اور ادب کے اس اظہار میں مجھ پر بے خودی کی کیفیت طاری تھی ۔ اُس شخصیت سے میں پہلے سے مثاثر تو تھا ہی مگر آج اسے دیکھنے کے بعد ، خیالات نے ایک نیا دھارا پکڑلیا اور اس مسکراتے چہرے کے اندر جھلکتا اخلاص و محبت مجھے بہا لے گیا ۔ مجھے میری زندگی کا " بابا " مل چکا تھا ۔ میں مولانا ابو اعلیٰ مودودی ؒ کی تحریروں اور حسن البناء شہید ؒکی زندگی سے کافی متاثر تھا لیکن اگر کوئی زندہ شخصیت مجھے متاثر کر سکی تو وہ قاسم علی شاہ صاحب ہیں۔صوفیانہ فکر کے حامل شاہ صاحب اور اسلامی انقلاب کی فکر کے حامل مولانا مودودیؒ اور اما م حسن البناء شہیدؒ میں ایک چیز مشترک ہے اوروہ " دل پے دستک " ہے۔ آج پہلی دفعہ جب وہ میرے سامنے کھڑے تھےاور پوری کلاس سے مخاطب تھے تو اُن کی باتوں کاسحر میرے دل و دماغ کی دنیا میں گھر کر رہا تھا ۔ اس سے قبل میرا یہ خیال تھا کہ تحریک دینے والی شخصیات میں ایک عنصر ایکٹنگ کا بھی پایا جاتا ہے جس سے وہ لوگوں کو اپنا گرویدہ بناتے ہیں لیکن شاہ صاحب کی باتوں سے لگ رہا تھا کہ وہ دل سے بولتے ہیں اور اپنی باتوں کو خود بھی محسوس کرتے ہیں اور سامعین کے دل بھی جیتے ہیں۔سنا تھا کہ پچھلے زمانے میں مقرر پوری پوری رات مخاطب رہتے لیکن ایک بھی فرد مجلس سے نہ اُٹھتا ، کوئی اکتاہٹ نہ ہوتی ، لوگ اُن کے الفاظ میں ایسے گم رہتے کہ وقت کا پتا ہی نہ چلتا ۔میں سوچتا کہ اگر اِس دور کو دیکھا جائے تویہ ناممکن بات لگتی ہے لیکن آج اس وقت مجھے یہ بات ممکن لگنے لگی جب شاہ صاحب اختتامی الفاظ کے ساتھ ہم سے رخصت چاہ رہے تھے اور میں سو چ رہا تھا کہ وہ بولتے جاتے اور ہم سنتے جاتے اور رات بیت جاتی ۔شیشن مکمل ہوا دوستوں کی آپس کی گفتگو نے تال پکڑی مگر میں اپنی نشست کے ساتھ پیوست سوچوں کی جنگ میں جا چکا تھا کیونکہ مجھے میری زندگی کا " بابا "مل چکا تھا ۔

ہیروز
یہ دیکھے پُر مسر ت پیشانیاں ،کامیابی کی علامتیں ، ہر کسی کامنفرد انداز ، بنا کسی معاوضے کے ، کامیابیوں کی چابیاں ہاتھوں میں تھمائے جا رہیں کہ لو بھائی جو تم بننا چاہتے ہو بن جاؤاور اس کے لیے جو لمبا سفر ہم نے کاٹا ہے تم اس مشکل سے بچ جاؤکہ ہم ہی نم کیے دیتے ہیں یہ مٹی ذرا ۔ یہ ہیں ڈاکٹر شاہد ضیاءصاحب ،زندگی کی ساٹھ بہاریں گزار چکے ہیں ، تنزح و مزاح سے بھرپور ،زندگی کے تجربات پر مبنی گفتگو، Public Speaker کا موضوع منفرد انداز گفتگو کرتے ہوئے ۔ان سے ملیےیہ ہیں محترمہ توشیبہ سرورصاحبہ اپنے نام کے طعنے کو اپنا Brandبنایا،دنیا کی پرواہ نہ کی اور آج ہمارے سامنے Brand your Self کے موضوع پر نرم دم گفتگو ۔ جناب ڈاکٹر علی ساجد ، کلاس روم میں داخل ہوئے تو یوں لگا میرے مرحوم استاد عبدالرحمٰن صاحب آ گئے ہیں ، پورے شیشن کے دوران اُن کی آواز کا رعب اور اثر کم نہ ہو ا ، بلکہ ہمارے بھی جذبات کو ایک رخ دے رہے تھے۔ایک اورمحسن استاد سے ملیے محترم علی عباس صاحب، نہ تکبر نہ خود پسندی کا شوق ،ٹرینیز کے ساتھ گھل مل جانے والی بے مثال شخصیت ۔محترم سمیع باجواہ ایک با رعب شخصیت کے مالک ، دلیل کی دنیا میں دلوں کو مو لینے کی صلاحیت سے مالا مال۔ محترم ظفر سعید صاحب ایک کھلی ڈھلی اور حقیقت پر مبنی سچی اورتھوڑی کڑوی گفتگو کر تے ہیں اور یہ ہیں" جو کبھی یہاں تھے آج ہیں اوج ثریاپر "،کے مصداق سابقہ ٹرینی محترمہ فریحہ فاطمہ ،سہیل عالم ،ڈاکٹر ثاقب بٹ اورفرحان اکبر۔ارے ہاں ! یہ تصویر کے دونوں کونوں میں بھی کچھ ہستیاں کھڑی ہیں ، آئیں ان سے ملاتا جاؤں ۔راشد بھائی ، سلیقہ مندی اور وقت کی پابندی کی مثال اور سارے پروگرام کے روح رواں ہیں ۔کبھی کبھی ڈانٹ بھی دیتے ہیں لیکن بڑے ہی مشفق ہیں ۔اور یہ دوسرے کونے میں کھڑے ہیں وجاہت بھائی ، انتہائی شیریں زبان ، قربانیوں کا استعارہ ۔ میں ایک ایسی وادی میں تھا جہاں دل و دماغ ان ہستیوں کے درمیان اتنا محو ہو چکا تھا کہ ڈر تھا کہ کہیں یہ خواب ٹوٹ نہ جائے اور یہ حسین وادی بھولا ہوا خواب نہ بن جائے ۔ مگر کہا بھلایا جا سکتا ہے ان اساتذہ کوجن کے اخلاص نے ہماری زندگی کے ان لمحات کو ایک البم بنا دیا تھا ۔کیوں نہ ہو تاثیر انہوں نے علم حاصل کیا، مشقتیں کاٹیں اور پھر علم کو پھیلانے کا فن جانتے بھی ہیں ، ایک بے ڈھنگے پتھر کو ہیرا بنانا بھی جانتے ہیں۔ امید پیدا کرتے ہیں ، زندگی کے فلسفے سے آگاہ کرتے ہیں،بے مقصدیت سے لا تعلق کرتے ہیں اور ایک صحیح مگر قدر مشکل راہوں کا راہی بناتے ہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amadul Amin

Read More Articles by Amadul Amin: 2 Articles with 1071 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Aug, 2017 Views: 482

Comments

آپ کی رائے