میں سلمان ہوں(٦٦)

(Hukhan, karachi)
دیکھ کے چہرہ اس کا
یاد آیا پھول حسین گلشن کا

سلمان کو جاڑے کی اس سرد رات میں چارسو بیس(٤٢٠) والٹ کا جھٹکا سالگا‘‘،،،سامنےتیسری رات کا نازک سا
چاند کھڑا تھا‘‘،،،مگر اس کی چاندنی چودھویں کی رات سے کم نہ تھی‘‘،،،وہ آئینے میں دیکھ کے کیا تیار
ہوئے‘‘،،،ہم دل کے ہاتھوں نظریں چرانے پر مجبور ہوئے‘‘،،،،
سلمان کے سامنے ایسا معصوم حسن تھا‘‘،،،جو کائنات کا ایسا تحفہ تھا‘‘،،،جو ہر آنکھ کو نصیب نہیں ہوتا‘‘،،،�
روزی نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے کہا‘‘،،،بہت سردی ہے سلمان‘‘،،،پلیز لَٹ می اِن‘‘،،،،سلمان کے کہیں دور اندر سے
شیور‘‘،،،کی گھٹی سی آواز آئی‘‘،،،اس کے لیے آپ کو سامنے سے ہٹنا ہوگا‘‘،،،روزی کی آوازمیں نہ ختم ہونے والی شرارت
سی تھی‘‘،،،سلمان کا چہرہ شرم اور شرمندگی سے لال سرخ ہوگیا‘‘،،،روزی کو سلمان کی حالت پر رحم آگیا‘‘،،،،سلمان کسی مشین کی طرح اس کے سامنے سے ہٹ گیا‘‘،،،اس کا اعتماد،،،اس کا وجود کسی گیس کے غبارے کی
طرح ہوا میں تحلیل ہوگیاتھا‘‘،،،
روزی نے امجد ڈرائیور کے کمرے پر نظر دوڑائی‘‘،،،اپنی خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں پر عینک کو ٹھیک کیا‘‘،،،،ہیٹر
نہیں ہےسلمان؟؟؟۔۔۔۔! سلمان چونک کے بولا‘‘جی‘‘،،،روزی کو تفریح آنے لگی‘‘،،،،وہ اک ایسے انسان کو متاثر کر
رہی تھی‘‘،،،جو انسان کم اور پتھر ذیادہ تھا‘‘،،،،مگریہ پتھربن جانے کی صلاحیت اس کی اپنی ذات کی حد تک
محدود تھی‘‘،،،،ورنہ کسی کا دکھ اور پریشانی اس کے دل کو بے چین کردیاکرتے تھے‘‘‘،،،،
روزی نے سلمان کی طرف دیکھ کرکہا‘‘،،،جی کیا؟،،،! ہے،،،،یا،،،،نہیں‘‘،،،سلمان جیسے خواب دیکھ کر فارغ ہوا ہو‘‘،،،
جی جی ہے‘‘،،،،مگر پرانا ہے‘‘،،،بس،،،نو پرابلم‘‘،،،سلمان کی شرمندگی اس کی معصومیت کا بتارہی تھی‘‘،،،
روزی نے بہت ہی نرم لہجے میں کہا‘‘،،،سلمان‘‘،،،،،(جاری)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 881916 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Aug, 2017 Views: 535

Comments

آپ کی رائے
boss cut to cut drama
By: sohail memon, karachi on Aug, 05 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Aug, 07 2017
0 Like