کشمیر کا المیہ (٢)

(Asrar Ahmed Raja, Karachi)
آزادکشمیر کا المیہ یہ ہے کہ اس خطہ زمین پر پاکستانی سیاسی جماعتوں کے نمائندے اپنی سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہیں وہ آزادکشمیر کے عوام کے سامنے نہ تو جوابدہ ہیں اور نہ ہی اُن پر کوئی اخلاقی ، انسانی ، آئینی اور قانونی گرفت ہے ۔

آزادکشمیر کا المیہ یہ ہے کہ اس خطہ زمین پر پاکستانی سیاسی جماعتوں کے نمائندے اپنی سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہیں وہ آزادکشمیر کے عوام کے سامنے نہ تو جوابدہ ہیں اور نہ ہی اُن پر کوئی اخلاقی ، انسانی ، آئینی اور قانونی گرفت ہے ۔ جو کوئی اپنی پارٹی سربراہ کی خوشنودی حاصل کر لیتا ہے وہ حکومت کرنے کا حق رکھتا ہے۔ یہ طرز حکمرانی ڈوگرہ نظام ہی کی ایک مشکل ہے جو ریاست کے مختلف علاقوں میں پھیلی جاگیروں ، چھوٹی ریاستوں اور راجواڑوں پر مشتمل تھی ۔ ہر راجہ ، میر ، را ، تھم اور جاگیر دار مہاراجہ کی خوشنودی حاصل کرتا تھا اور اپنے علاقے ، ریاست اور جاگیر میں اس پر کوئی قانون لاگو نہ تھا۔ ان ریاستوں اور جاگیروں میں بسنے والے عوام مقامی حکمرانوں کے رحم و کرم پر ہوتے تھے جنہیں مقامی پولیس ، انتظامیہ اور فوج کی مدد حاصل تھی۔ نام نہاد آزاد ی کی شکل میں چیف ایگزیکٹو آف پاکستان ہی آزادکشمیر کا مہاراجہ ہے جو کشمیر کونسل ، وزارت امور کشمیر اور مہاجرین مقیم پاکستان کی آزادکشمیر اسمبلی میں نمائندگی کے ذریعے حکومت کرتا ہے۔

یوں تو آزادکشمیر کا ایک عبوری آئین اور عدالتی نظام بھی ہے مگر اعلیٰ عدلیہ کے پاس از خود کارروائی کرنے کا کوئی اختیار نہیں ۔ آزادکشمیر کی سب سے نچلی سطح کی عدالت نائب تحصیلدار اور سب جج کی ہے۔ ان عدالتوں تک رسائی کے لیے تھانے اور پٹوار خانے کے لیے بھاری نذرانے کے علاوہ مقامی سیاسی غنڈے اور اُس کے لیڈر کی مرضی و منشا ضروری ہے۔

تھانہ اور پٹوار خانہ ہی اصل اور بااختیار حکومت اور جرائم کی فیکٹریاں ہیں ۔یہ فیکٹریاں سیاستدانوں ، حکمرانوں اور وزیروں مشیروں کی ملکیت ہیں۔ جب تک یہ فیکٹریاں قائم ہیں مہاراجوں کے جانشین پیدا ہوتے رہیںگئے اور جبر کا نظام قائم رہیگا ۔ سرکاری ملازمین سرکار اور ریاست کے نہیں بلکہ سیاستدانوں کے ذاتی ملازم بننے پر مجبور ہیں ۔ سرکاری ملازمین ہی سیاستدانوں کی الیکشن مہم چلاتے ہیں جو مہم کی آڑ میں عوام کے لیے کھلی دھمکی ہوتی ہے ۔سیاسی ٹھیکیدار کو ووٹ نہ دینے کی سزا جائیداد سے محرومی ، جھوٹے مقدمات کا سامنا اور نوکری سے برخاستگی کی شکل میں ہو سکتی ہے ۔ سرکاری ملازمین عدم تحفظ کی بناء پر سیاسی غنڈہ گردی کا شکار ہوتے ہیں اور مجبوراً ظلم و جبر کا راستہ اختیار کر تے ہیں ۔ آزادکشمیر کے جبری نظام حکومت کا ڈوگرہ راج سے موازنہ کیا جائے تو ڈوگروں کے مظالم قدرے نرم دیکھائی دیتے ہیں۔ ڈوگرہ دور میں زمین ریاست کی ملکیت تھی اور جوشخص مالیہ دینے کی استعداد رکھتا تھا وہ اتنی زمین حاصل کر سکتا تھا۔ ڈوگرہ دور میں ناتوڑ کا قانون رائج تھا اور یہ نظام سب کے لیے یکساں تھا ۔ پولیس کسی سیاستدان کے آگے نہیں بلکہ قوانین کے سامنے جوابدہ تھی۔ جھوٹے مقدمات کا کوئی تصور نہ تھا۔ ڈوگرہ قوانین کی برکت سے ہی آزادکشمیر کی مٹی محفوظ ہے ورنہ مجید حکومت وادی نیلم کے سارے پہاڑ زرداری خاندان کو الاٹ کر چکی ہوتی ۔

مجیدی دور میں محترمہ فریال تالپور نے وادی نیلم کا دورہ کیا توانہیں رتی گلی کے نواح میں ایک خوبصورت چوٹی پسند آگئی ۔فریال تالپور پر قدرتی رعنائیوں اور فطرت کی حشرسامانیوں نے اس قد ر اثرڈالا کہ آپ نے یہ چوٹی اپنے نام الاٹ کروانے یا خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ مجاور وزیراعظم کی جگہ خادم صدر سرکاری ہیلی کاپٹر پر سوار ہاپنتے کانپتے وادی نیلم پہنچے اور عالیہ حضوری کی خدمت میں عرض کی کہ قانون کے مطابق کوئی غیر ریاستی باشندہ کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا ۔ گزارش کی کہ یہ سب ڈوگروں کا کیا دھرا ہے ورنہ ہم تو سارا آزادکشمیر بیچ کر کب کے اس مسئلے سے چھٹکار ا حاصل کر چکے ہوتے۔ اخبارات نے کئی روز تک اس واقع پر چھوٹی بڑی سرخیاں لگائیں ۔ شکرہے کہ جناب مشتاق منہاس جیسے دانشور اور کشمیر ہائوسنگ سکیم کے ماہر کو لکھنا نہیں آتا ورنہ وہ مولانا چراغ حسن حسرت کی طرح نیل فری کا افسانہ ضرور لکھتے۔ آزادکشمیر اسمبلی میں براجمان شیخ المشایخ نے بھی محترمہ فریال تالپور کی مدد نہ کی ورنہ وہ کہہ سکتے تھے کہ مائی شاردہ نے خواب میں بشارت دی ہے کہ محترمہ فریال تالپور کی پسندیدہ چوٹی پر ایک محل تعمیر کیا جائے اور اسے بھٹو زرداری بیٹھک قرار دیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا تومائی ناردہ اور کاشی دیو ساری وادی پر قہر نازل کر دینگے ۔

مجھے یقین ہے کہ اگر محترم مشتاق منہاس پیپلز پارٹی میں ہوتے تو اسکا انتہائی معقول حل تلاش کر لیتے۔ وہ ساری وادی نیلم کو کشمیر ہائوسنگ سکیم میں بدل کر متعلقہ پہاڑی پر بھٹوہائوس تعمیر کروا دیتے یا پھر یہ پہاڑی کسی فرضی کشمیری مہاجر کوالاٹ کر دیتے جس کے ذریعے نیلم میں بھی ایک زرداری ہائوس بن جاتا ۔تعمیر و ترقی ہو یاعوامی فلاح و بہبود سوائے جنرل حیات خان مرحوم کے ،کسی سیاستدان یا تحریک آزادی کشمیر کے نام پر صدقہ و خیرات پر پلنے والے نام نہاد خود ساختہ لیڈر نے کوئی کام نہیںکیا۔ مسلم کانفرنس نے طویل عرصہ تک اقتدار کا لطف اٹھایا اور اپنے جانشین اور حواری پیدا کرنے کے علاوہ کوئی بڑا کارنامہ سر انجام نہیں دیا ۔ 1971 ء کے سانحے کے نتیجے میں قائم ہونے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے آزادکشمیر چپٹر کھولا تو برادری ازم اور قبائلی نفرت کی بنیادوں پر آزادکشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی جسکا بنیادی مقصد آزادکشمیر کو گلگت وبلتستان سے الگ کرنا اور دونوں حصوں کو الگ الگ صوبوں کی شکل میں پاکستان میں مدغم کرنا تھا۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں آزادکشمیر کا عبوری آئین بنا جسے بغیر کسی بحث کے چند گھنٹوں میں ہی منظور کر لیا گیا۔ حیرت کی بات ہے کہ جس ملک کا آئین بنایا گیا اُس کے عوام اور دیگر سیاسی جماعتوں سے کوئی رائے لیے بغیر حفیظ پیزدارہ کا جلد ی میں لکھا گیا مسودہ آزادکشمیر کے عوام پر مسلط کر دیا گیا ۔ 1974کے اس عبوری آئین میں بشمول کشمیر کونسل اور وزرات اُمور کشمیر کے تما م تر اختیارات چیئرمین کشمیر کونسل (چیف ایگزیکٹو آف پاکستان ) کو تفویض کر دیے گئے ۔ عبوری آئین میں آزاد جموں وکشمیر کی تشریح و تعریف کی وضاحت میں لکھا گیا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کے اُن علاقوں پر مشتمل خطہ زمین ہے جو ریاست کے باشندوں نے آزاد کروایا جس پر وقتی طور پر ایک انتظامی حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ مستقبل میں اگر مزید علاقہ اس عملداری میں شامل ہوا تو اُسے بھی آزادکشمیر کی جغرافیائی حدود میں شامل سمجھا جائیگا ۔ ظاہر ہے کہ یہ علاقہ مقبوضہ جموں وکشمیر ، لداخ کا ہی ہوسکتا ہے۔

آزادکشمیر کی جغرافیائی حدود کا تعین کرتے وقت گلگت ، بلتستان ، یٰسین اور ملحقہ یاغستانی علاقوں کو شامل نہ کرنے پر تو کسی نے اعتراض نہ کیا مگر بعد ا ز خرابی بسیار آزادکشمیر ہائی کورٹ نے دلیرانہ فیصلہ کرتے ہوئے گلگت ، بلتستان کو آزادکشمیر کا علاقہ قرار دیا ۔ عبوری آئین میں اس بات کا ذکر بہر حال موجود ہے کہ آزادکشمیر ریاست جموںوکشمیر کے اُن علاقوں پر مشتمل ہے جنہیں مقامی لوگوں نے مسلح جدوجہد کے ذریعے آزاد کروا یا ۔ تعریف کے اس حصے کی تشریح از خود اس بات کی دلالت کرتی ہے کہ گلگت ، بلتستان ، یٰسین ، گوپس ، داریل تانگیز، چلاس ، اور غورتک کا علاقہ1947ء کے جہاد آزادی تک ریاست جموں وکشمیر کی عملداری میں تھا۔ ڈوگرہ حکومت اور مقامی راجگان کے درمیان انتظامی معائدہ موجود تھا جس کے تحت یہ ریاستیں اور راجواڑے ریاست کا حصہ تصور کی جاتی تھیں۔ مہاراجہ گلاب سنگھ کے دور میں چک خاندان کے زیر انتظام سبھی علاقوں پر ڈوگرہ عملداری قائم کی گئی جو کہ مملکت کشمیر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ کا حصہ ہے ۔ڈوگروں نے مقامی راجگان کی باہمی جنگوں ، ڈاکہ زنی ، مسافروں اور چین سے حجاز مقدس سفر کرنے والے حجاج کے قافلوں کو لوٹنے کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو غلام بنانے پر پابندی عائد کر دی اور مجرموں کے لیے سخت سزائوں کا اعلان کیا۔ یوں تو ڈوگروں کی غلامی بھی بد تر تھی مگر راجگان کے ظلم میں کچھ کمی ضرور واقع ہوئی۔ (جاری)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: asrar ahmed raja

Read More Articles by asrar ahmed raja: 89 Articles with 52549 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Aug, 2017 Views: 483

Comments

آپ کی رائے