لازوال قسط نمبر 15

(Muhammad Shoaib, Faisalabad)

اچھا پھر کل ملتے ہیں۔۔‘‘فون کو ڈسکنیکٹ کرتے ہوئے وہ کمرے میں داخل ہوا۔وجیہہ بیڈ شیٹ بچھا رہی تھی۔اس نے ایک نظر وجیہہ کی طرف دیکھا ضرغام کا پسندیدہ رنگ زیب تن کئے ہوئے تھی۔ وجیہہ کو اپنے من پسند رنگ کی ساڑھی میں دیکھ کر اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ چھا گئی۔ وہ خراماں خراماں اس کے پاس گیا۔ وہ جیسے ہی بیڈ شیٹ بچھا کر پیچھے ہٹی تو اس کی پشت ضرغام کے فولادی سے سینے جاٹکرائی اور اپنا توازنی کھو بیٹھی لیکن اس سے پہلے وہ گرتی ضرغام نے اسے اپنی بانہوں میں لے لیا
’’ تم ٹھیک تو ہو ناں۔۔‘‘ضرغام نے دونوں ہاتھوں سے اسے حمائل کئے ہوئے تھا۔ وہ بھی اپنے دونوں ہاتھ اس کی گردن پر رکھے ہوئے تھی۔
’’ہاں۔۔‘‘ آنکھوں میں حیا کے بادل چھا گئے۔اس نے آنکھیں چراتے ہوئے اپنے ہاتھ ضرغام کی گردن سے ہٹائے تو ضرغام نے بھی اسے سیدھا کر کے اپنے ہاتھ پیچھے ہٹا لئے۔ضرغام کی نظریں اب بھی وجیہہ کے چہرے پر مرکوز تھیں۔جس پر حیا کا دامن اس کے دل کو چھو رہا تھا
’’تمہیں کیسے پتا چلا کہ مجھے سبز رنگ پسند ہے۔۔‘‘ضرغام کے الفاظ میں ا نتہاکی چاشنی تھی۔ وہ اس چاشنی کو کانوں کے ذریعے اپنے وجود کا حصہ بنا رہی تھی مگر اتنی سکت نہیں تھی کہ ضرغام کی آنکھوں کا سامنا کر پائے۔
’’وہ ۔۔ امی نے بتایا تھا کہ آپ کو سبز رنگ پسند ہے ۔ ‘‘ پیچھے ہٹ کر اس نے صوفے سے کپڑے سمیٹنا شروع کر دئیے۔
’’صحیح۔۔پھر اس رنگ کو پہننے کی کوئی خاص وجہ؟‘‘وہ اس کے پاس چلا گیا۔ایک بار پھر جب وہ پلٹی تو ضرغام کے سینے کو اپنے سامنے پایا۔ اس کی مقناطیسی نگاہوں کو اپنے وجود کے گرد پایا۔اس کے بائیں ہاتھ میں موجود انگوٹھی ضرغام کے کھلے گریبان سے عیاں ہوتے سینے کو بالوں میں الجھ گئی۔اس کا لمس وہ پہلی بار اتنے قریب محسوس کر رہی تھی۔ آنکھوں کا اثر پہلے سے زیادہ گہرا ہوچکا تھ۔ اس کی سانسیں اس کے انگلیوں کو مس کر رہی تھیں۔دل کے دھڑکنے کا احساس وہ اپنے ہاتھوں کے ذریعے محسوس کر سکتی تھی۔وہ جتنا اس سے بچنے کی کوشش کر رہی تھی، وہ اُس کے اتنا ہی قریب آتا جا رہا تھا۔اپنے ہاتھ بڑھا کر اس نے وجیہہ کے دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیا۔ ایک گدگدی اس کے جسم میں سرایت کر گئی۔وہ مزید اس کی مقناطیسی نگاہوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔ اپنی نگاہیں جھکا ئیں تو نظریں اس کے سینے پر جا ر ٹھہر گئیں۔دل کے دھڑکتا ہوا وہ اب دیکھ سکتی تھی۔یہ احساس بھی وہ برداشت نہ کرسکی۔ اپنی آنکھیں بند کرلیں۔۔دھیرے سے اس نے اس کی انگوٹھی اتار کر اس کے ہاتھوں میں تھمادی ۔
’’جواب نہیں دیا تم نے ابھی تک۔۔۔ کوئی خاص وجہ اس رنگ کو پہننے کی؟‘‘شاید وہ اس کی حالت کو سمجھ چکا تھا۔اسی لئے پیچھے ہٹ کر ایک بار پھر سوال کیا
’’ جی وجہ تو ہے۔۔‘‘وہ کپڑوں کو لے کر وارڈ روب کی طرف بڑھی
’’یہی تو پوچھ رہا ہوں کہ کیا وجہ ہے۔۔‘‘اس نے ایک بار پھر وجیہہ کا تعاقب کیا۔ اس بار وہ اس کی حدت سے آگاہ تھی۔ یکدم پلٹنے کی بجائے وہ کچھ دیر تک اس کی طرف پشت کئے ہی کھڑی رہی
’’ جواب تو دو۔۔‘‘ انتہا کی چاشنی بھی صحت کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے مگر نہ جانے کیوں وہ اس کے الفاظ کو یونہی سنتا رہنا چاہتی تھی۔ اس نے اپنے ہاتھ وجیہہ کے شانوں پر رکھے تو اس کے وجود میں ہلچل سی مچ گئی۔ پورے وجود میں ایک گدگدی سی ہونے لگی۔ اس نے دھیرے سے اپنے ہاتھوں کو شانوں کی طرف بڑھایا اور ضرغام کے ہاتھوں کو نیچے کر تے ہوئے آہستہ سے سِرک گئی
’’ویسے مجھے خاموشی بالکل پسند نہیں مگر آج نہ جانے کیوں تمہاری اس خاموشی میں بھی مجھے ایک سرور مل رہا ہے۔۔‘‘اس نے اپنی حالت وجیہہ کے سامنے رکھی تھی
’’یہ احساس صرف پاکیزہ رشتوں میں ہی محسوس کیا جاسکتاہے۔۔‘‘اس نے پلٹ کر ہلکی سی تبسم کو لبوں پر سجائے ضرغام کی طرف دیکھا تھا
’’کیا مطلب۔۔۔؟‘‘ ماتھے پر ہلکے سے شکن نمودار ہوئے تھے
’’مطلب بہت جلد سمجھ جائیں گے۔۔‘‘ یہ کہہ کر وہ دروازے کی طرف بڑھی
’’ جانے سے پہلے جواب تو دے دو۔۔‘‘ہاتھ بڑھا کر پوچھا
’’ آنے کے بعد بھی تو دیا جا سکتا ہے۔۔‘‘ اس نے معنی خیز لہجے میں ایک ثانیے کے لئے ضرغام کی طرف دیکھا اور پھر کمرے سے باہر کی طرف چل دی۔وہ صرف مسکراکر رہ گیا۔ اپنے خیالوں کو جھٹک کر اس نے اپنے سینے کی طرف نگاہ دوڑائی تو وجیہہ کا احساس ابھی بھی اس کے سینے پر تھا۔اس کی خوشبو ابھی بھی سانسوں میں تحلیل ہو رہی تھی۔اس نے ہاتھ بڑھا کر اپنے سینے کے اس حصے کو چھوا جہاں وجیہہ کا ہاتھ لگا تھاتو ایک عجیب سی کشش اس کے جسم میں سرایت کر گئی۔مگر ایک بار پھر اس نے اپنے خیالوں کو جھٹکا اور وارڈروب کی طرف بڑھ کر اپنا نائیٹ سوٹ نکالا۔
’’ یہ سوٹ۔۔۔‘‘ایک بار پھر وہ نائیٹ سوٹ کو دیکھ کر عجیب سی کشمکش کا شکار ہوگیا۔ہر لمحہ ایک نیا احساس اس کے اندر جنم لے رہا تھا۔ ایک طاقت اسے وجیہہ کی جانب کھینچ رہی تھی۔اس کا من پسند سیاہ کرتا پاجامہ وجیہہ نے نائیٹ ڈریس کے طور پر آئرن کر کے ہینگر کیا تھا۔شاور لینے کے بعد وہ واپس کمرے میں آیا تو کمرے میں ہر طرف اندھیرا تھا۔ واش روم میں جاتے ہوئے اس نے روشنیاں بجھائی نہیں تھیں مگر اب تمام روشنیاں بجھائی جا چکی تھیں۔
’’ یہ لائٹس کس نے آف کی؟‘‘اپنے آپ سے اس نے سوال کیاتو دروازے سے ایک روشنی داخل ہوئی۔ وہ یک تک اس روشنی کی طرف دیکھنے لگا
’’ وجیہہ یہ تم ہو۔۔‘‘ روشنی مدہم تھی۔ مگر آہستہ آہستہ اس میں تیزی آتی جا رہی تھی۔ ایک وجود اس کو ضرغام کی طرف بڑھا رہا تھا۔روشنی کے ساتھ کچھ اور بھی تھا مگر وہ دیکھنے سے قاصر تھا
’’ جی میں ہوں۔۔‘‘ وہ اس کے بالکل سامنے آکر ٹھہر گئی
’’تم نے لائٹس کیوں آف کیں؟‘‘اس نے سوال داغا
’’پہلے نیچے دیکھئے۔۔‘‘اس نے نیچے سٹول کی طرف نگاہ مبذوک کروائی تو اس نے آہستہ آہستہ اپنی نگاہیں نیچے کیں۔ ایک کیک تھا جس پر ہیپی برتھ ڈے ضرغام لکھا ہوا تھا۔
’’ ہیپی برتھ ڈے ضرغام۔۔‘‘اس بار وجیہہ کی باتوں میں چاشنی تھی جسے وہ محسوس کررہا تھا
’’آج میرا برتھ ڈے تھا؟‘‘ وہ دنیا میں اس قدر محو ہوچکا تھا کہ اپنا جنم دن تک بھول چکا تھا ۔ اس لئے کیک کو دیکھ کر اس نے تصدیق چاہی تھی۔
’’ جی ہاں مسٹر ضرغام۔۔ آج آپ کا برتھ ڈے ہے۔آج آپ پورے چھبیس سال کے ہوچکے ہیں۔ ‘‘ اس کا ہر لفظ معنی خیز تھا۔ ہر لفظ میں محبت پنہاں تھی۔جسے وہ محسوس کر سکتا تھا۔
’’لیکن تمہیں کیسے معلوم ہوا؟‘‘ وہ ابھی تک حیران تھا
’’آپ کو اس بات پر حیران نہیں ہونا چاہئے کہ مجھے کیسے معلوم ہوا بلکہ آپ کو تو اس بات کی خوشی ہونی چاہئے کہ آپ کی بیوی نے آپ کا برتھ ڈے یاد رکھا۔ شادی کے بعد یہی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہی تو ہوتی ہیں جو میاں بیوی کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتی ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرتی ہیں۔‘‘وہ یک ٹک اسی کی طرف دیکھتا جا رہا تھا
’’اب جلدی سے کیک کاٹیں۔۔‘‘ چھری کو ضرغام کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
’’اچھا۔۔‘‘ اس کے ہاتھوں سے چھری لیتے ہوئے اس نے کیک کاٹا۔ وجیہہ آہستہ آہستہ اس کو وِش کرتی رہی۔اپنے ہاتھوں سے کیک کا ٹکڑا اٹھا کر اس نے سب سے پہلے وجیہہ کو کھلایا۔
٭ ٭ ٭

’’ تم یہاں شاپنگ کر لو۔۔بعد میں مجھے کال کر دینا۔۔ لے جائیں گے تمہیں۔۔‘‘بے نیازی دیکھاتے ہوئے عندلیب نے حجاب سے کہا تھا۔ حجاب نے استفہامیہ انداز میں انمول کی طرف دیکھا
’’ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ انمول کو۔۔ مجھ سے بات کرو۔۔۔‘‘عندلیب نے نے تیکھی نظروں سے پوچھا
’’ لیکن۔۔۔‘‘حجاب نے کچھ کہنا چاہامگر انمول کی اس کے وجود کو نظر انداز کردیا۔ وہ خاموشی سے دونوں کو دیکھتی رہ گئی اور دونوں اس کے وجود کو نظر انداز کرکے ااگے کو چل دیئے
’’ویسے اس بہانے ہمیں بھی گھر سے نکلنے کا بہانہ مل گیا۔۔‘‘دونوں ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر شاپنگ مال میں پھر رہے تھے۔
’’کیوں جناب ؟ کیا میں تمہیں ویسے شاپنگ پر نہیں لاتا کیا ؟‘‘
’’ میں نے ایساتو نہیں کہا۔۔۔‘‘ اس نے وضاحت کی
’’ لیکن مطلب تو یہی تھا ناں۔۔‘‘معمولی سی ناک سکیڑ کر جواب دیا
’’ اچھا اچھا۔۔ اب زیادہ موڈ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔‘‘ ہلکا سا تھپڑ اس کی کمرے میں رسید کرتے ہوئے کہا
’’ توبہ کیسے زمانہ آگیا ہے۔۔ بیوی بھرے شاپنگ مال میں اپنے میاں پر ہاتھ اٹھا رہی ہے۔۔‘‘ انمول نے پھلجڑی چھوڑی
’’ انمول۔۔‘‘ ہنسی پر قابو کرتے ہوئے اس نے جبڑے بھنچے تھے
’’اچھا۔۔ اب شاپنگ کریں۔۔ اس طرح کرتے ہیں پہلے اس شاپ میں چلتے ہیں۔۔ ڈریس پسند کرتے ہیں بعد میں باقی کی شاپنگ وغیرہ۔۔۔‘‘ ایک شاپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انمول نے کہا تھا۔
’’ ہاں۔۔‘‘ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے عندلیب اور وہ اس شاپ کی طرف چل دئیے۔ دونوں ایک کے بعد ایک ڈریس کو چیک کر رہے تھے اور مسلسل ریجکٹ کر رہے تھے۔ کبھی ایک ڈریس انمول کو پسند آتا تو عندلیب ریجکٹ کر دیتی تو کبھی عندلیب ایک ڈریس پسند کرتی اور انمول ناک سکیڑ کر ناپسندیدگی کا اظہار کرتا
’’ارے عندلیب تم؟؟؟‘‘پیچھے سے ایک آواز آئی تو وہ دونوں پلٹے
’’ ارے مہتاب تم؟‘‘عندلیب نے حیرانی سے پوچھا تھا۔
’’اتنے دن بعد مل رہی ہو۔۔ کہاں تھی تم؟عندلیب کے ساتھ گلے ملتے ہوئے مہتاب نے حیرت سے پوچھا تھا
’’میں تو یہیں تھی تم سناؤ۔۔۔ اتنے سال کہاں تھی؟ نظر ہی نہیں آئی۔۔‘‘انمول ایک طرف سینے پر ہاتھ باندھے دونوں کی گفتگو سنتا رہا اور دونوں سب سے قطع نظر آپس میں بات کرتے رہے
’’میں۔۔۔ ‘‘وہ اس سے پہلے کچھ کہتی ایک مردانہ آواز نے مداخلت کی
’’مہتاب! تم یہاں اور میں تمہیں۔۔۔‘‘اس آواز پر دونوں نے پلٹ کر دیکھا ، انمول بھی اس آواز کے ماخذ کی طرف متوجہ ہوا
’’ارے یہ کیا! عندلیب تم۔۔؟‘‘ اس نے حیرت سے کہا تھا
’’ اور تم شاید منیر ہو ناں۔۔‘‘کچھ سوچتے ہوئے عندلیب نے کہا تھا۔
’’ہاں یہ منیر ہی ہے۔۔ ‘‘مہتاب نے اس کے ہاتھوں کو اپنی بانہوں میں لیتے ہوئے کہا
’’ اس کا مطلب تم دونوں نے۔۔‘‘ اپنی خوشی کو کنٹرول کرتے ہوئے عندلیب نے کہا تھا
’’ہاں۔۔ تم صحیح سمجھی ۔ تم سناؤتم نے شادی نہیں کی۔۔‘‘ مہتاب نے استفہامیہ انداز میں پوچھا تھا
’’جی نہیں۔۔۔آپ کی دوست کا غلام پاس ہی کھڑا ہے۔۔‘‘اپنے ہاتھوں کو عندلیب کے شانوں پر رکھتے ہوئے انمول گویا ہوا تھا
’’واؤ۔۔ تمہاری پسند کی تو داد دینی پڑے گی عندلیب۔۔ جب بھی چنوں کی ہیروں کو ہی چنو گی۔۔‘‘مہتاب نے ایک نظر میں ہی انمول کی خوبصورتی کو سر تا پا ٹٹول ڈالا
’’جب بھی سے آپ کا مطلب؟‘‘انمول نے استفہامیہ انداز میں مہتاب کے وجود کی طرف دیکھا جو ابھی بھی عندلیب کی قسمت پر رشک کر رہی تھی
’’ہمیشہ سے اس کی نظر نے ہیرا ہی تراشا ہے اپنے لئے ۔۔۔ کبھی فہیم کی صورت میں تو کبھی تمہاری صورت میں۔۔‘‘ اس بار منیر نے کہا تھا۔منیر کی بات سن کر وہ چونکا اور حیرت سے عندلیب کی طرف دیکھا
’’ارے یہ تو مذاق کر رہے ہیں۔۔‘‘عندلیب نے بات ٹالتے ہوئے کہا
’’مذاق؟؟ ارے وہ مذاق تھا؟ پورے کالج میں فہیم اور تمہارے چرچے وہ سب مذاق تھا؟‘‘ مہتاب نے پھلجڑی چھوڑی تھی
’’ ارے کیوں آگ لگا رہی ہو؟‘‘عندلیب نے ہنستے ہوئے کہا
’’ میں آگ لگا رہی ہوں۔۔ !!‘‘مہتاب نے کہا
’’ اچھااچھا۔۔ اتنے عرصے بعد ملے ہو ، آج بھی کیا ایک دوسرے کی ٹانگ ہی کھینچنی ہے۔۔‘‘منیر نے کہا
’’ چلیں ۔۔ کسی ریسٹورانٹ میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔۔‘‘انمول نے پیشکش کی جسے سب نے فوراً قبول کر لی
’’ویسے فہیم بھی اسی شہر میں ہے ۔۔‘‘ مہتاب نے ایک بار پھر سرگوشی کی
’’سچ۔۔‘‘ یہ خبر سن کر وہ ایک دم اچھل پڑی
’’ کہا تھا ناں ۔۔ کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔۔‘‘مہتاب نے منیر سے ہنستے ہوئے کہا
’’ جسٹ شیٹ اپ یار۔۔‘‘منہ بسوڑتے ہوئے عندلیب نے کہا۔انمول ان کی باتوں سے محظوظ ہوتا رہا
٭ ٭ ٭
گلابوں کی رعنائی پورے کمرے کو اپنے سحر میں جکڑے ہوئے تھی۔ہلکے گلابی رنگ کے پھولوں کی لٹیں بیڈ کو چاروں اور سے گھیر ے ہوئے تھیں۔اسی بیڈ پر وہ اپنا لہنگے کا دامن بکھیرے اپنے ساجن کا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی۔ ہاتھوں میں ایک کپکپی سی تھی۔ جو وہ اپنے پلو کے انگلیوں میں لپیٹ کر چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔آنکھیں جھکی جھکی سی دروازے پر مرکوز تھیں مگر دروازہ تھا کہ کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ انتظار طوالت پکڑتا جا رہا تھا۔گھڑی کی ٹک ٹک بھی اس کی انتظار کی نوید سنا رہی تھی۔
محبتوں میں جو ہوتا ہے وہ تو ہونا تھا
کہ جاگنا تھا مقدر میں اور نہ سونا تھا
ہنسی ہنسی میں کسی کو بنا لیا اپنا
کسے خبر تھی کہ یہ عمر بھر کا رونا تھا
گرے ہیں ضبط کے آنسو جو میرے سینے میں
سوادِ دل کو انہی پانیوں نے دھونا تھا
بس اتنی بات سمجھ میں نہ آسکی اپنے
کہ کاٹنا تھا وہی کچھ جو ہم نے بونا تھا
یہ دست وپا تو مرے ذہن کی کمان میں ہیں
وگرنہ دل کے لئے تو میں اک کھلونا تھا
یہ کشمکش ہی رہی عمر بھر محبت میں
کسی کو اپنا بنانا، کسی کو کھونا تھا
کوئی نہیں ہے جو ساتھی ہو زندگی بھر کا
یہ بوجھ سعد اکیلے ہی ہم کو ڈھونا تھا
دل ہی دل میں وہ اپنے محبوب کی بڑائی بیان کرتی جا رہی تھی۔ اس کا بے چینی سے انتظار کرتی جا رہی تھی مگر انتظار تھا کہ ختم ہی نہیں ہورہا تھا۔ گھونگٹ کی اوٹ میں وہ بار بار دروازے کو دیکھتی جو بند رہا۔پھر دیکھا، بند رہا کچھ ثانیے بعد دیکھا ۔ بدستور بند رہا۔آنکھوں میں کاجل اب سیاہی بننے لگا تھا مگر امید تھی کہ وہ آئے گا مگر امید امید ہی رہی۔ایک نظر وال کلاک پر گئی رات کا ایک بج رہا تھا۔اس نے بے چینی میں اپنی مٹھیاں بھینچیں مگر اس پر کوئی اثر نہ پڑا۔کمرے کا دروازہ بدستور بند رہا۔بیٹھے بیٹھے اس کی کمر اکڑ چکی تھی ۔کچھ دیر تک اس نے ٹیک کا سہارہا لیا مگر انتظار ختم نہیں ہوا۔ آنکھوں میں نمی ابھر آئی۔ہاتھوں کی کپکی پہلے سے زیادہ زور پکڑ گئی۔ہچکیاں بھی ابھرنے لگیں مگر جذبات کو سمیٹنا پڑا۔ اٹھ کر وارڈ روب سے سمپل ڈریس نکالا اور چمکتا سرخ جوڑا اور زیورات خود اپنے ہاتھ سے اتارے۔ آنکھوں سے آنسو روانی کے ساتھ بہہ رہے تھے۔ دل بھی جذبات سے بھر چکا تھا مگر بند کمرے میں کوئی دیکھنے والا نہیں تھا۔ واش روم میں جا کر سمپل سا بلیو ڈریس پہن کر واپس آئی۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے چہرے دیکھا ۔ جہاں ایک رات کی دلہن بنا اپنے ساجن کے کھڑی تھی ۔ہاتھوں میں رنگ برنگی چوڑیوں کی کھنکھناہٹ کی آواز اس وقت کانوں میں رس گھولنے کی بجائے سیسے کا کام کررہی تھیں۔ اس نے ایک جھٹکے سے تمام چوڑیاں اتار پھینکی۔ہاتھوں کی طرف نگاہ دوڑائی تو لال مہندی ، جذبات کا بہتا ہوا خون محسوس ہوا۔آنکھوں سے آنسو بہنے لگ گئے۔ کاجل پورے چہرے پر پھیل گیا مگر دروازہ بند رہا۔جذبات کا خون ہوتا رہا ، درد بڑھتا رہا مگر دوا کرنے والا کوئی نہ تھا۔
٭ ٭ ٭
’’یہ رپورٹ مسز شہناز نے بنائی تھی۔۔آپ دیکھ لینا۔۔‘‘وجیہہ نے ایک فائل شگفتہ بی بی کی طرف بڑھائی جو کہ پہلے ہی ایک دوسری فائل کو بغور دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے وجیہہ سے فائل لے کر اس پر نگاہ دوڑائی
’’براق گروپس کا معیار دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔۔‘‘ رپورٹ دیکھ کر ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ چھا گئی
’’ ماشاء اللہ۔۔‘‘وجیہہ کی زبان سے جاری ہوا
’’ویسے اس میں تمہارا بہت ہاتھ ہے ۔ جب سے تم سے براق گروپس کی باگ دوڑ سنبھالی ہے۔ یقین مانو اتنی پروگریس ہوئی ہے ناں جتنی پچھلے پانچ سالوں میں بھی نہیں ہوئی۔۔۔‘‘انہوں نے اپنی نظریں وجیہہ پر مرکوز کیں
’’ نہیں امی۔۔ایسی کوئی بات نہیں ، یہ سب تو تمام سٹاف کی محنت اور۔۔‘‘ابھی وہ اپنا جملہ مکمل ہی نہ کر پائی تھی کہ کیبن کا دروازہ ایک زور دار آواز کے ساتھ کھلا اور ایک لڑکی روتے ہوئے داخل ہوئی۔ دونوں اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
’’ وجیہہ۔۔‘‘ وہ لڑکی وجیہہ کو دیکھتے ہی اس کے گلے لگ گئی
’’ میڈم۔۔ میں نے روکا بھی تھا مگر انہوں نے ایک نہیں سنی۔۔‘‘ سیکرٹری اس لڑکی کے پیچھے پیچھے کیبن میں آئی تھی۔ وہ وجیہہ کے گلے لگے مسلسل روتی جا رہی تھی
’’ کوئی بات نہیں۔۔ آپ ان کے پانی لائیں۔۔‘‘ شگفتہ بی بی نے سیکرٹری سے کہا
’’جی آپ۔۔‘‘ وجیہہ نے اسے دلاسا دیتے ہوئے سر پر ہاتھ پھیرا ۔ وہ سسکیاں بھرتے ہوئے پیچھے ہٹی۔سیاہ عبایا میں وہ لڑکی اپنے آپ کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔چہرے پر آنسوؤں کے راستے خود بخود اپنا راستہ بنائے ہوئے تھے۔وجیہہ کو یہ چہرہ جانا پہچانا لگا تھا مگر یاد نہیں آرہا تھا کہ کہاں دیکھا ہے؟
’’ بیٹا! تم کون ہو؟‘‘سیکرٹری اس کے لئے پانی کا گلاس لائی تو شگفتہ بی بی نے اس کو پانی کا گلاس دیا
’’ وجیہہ۔۔مم۔۔‘‘ اس کی آواز سسکیوں کی نذرہو رہی تھی۔ وجیہہ نے اسے کندھوں سے پکڑ کر بٹھایا اور پیار سے پانی کا گلاس پینے کو دیا۔ اس نے سسکیاں بھرتے ہوئے پانی کا گلاس پیا
’’آپ کو میرا نام کیسے معلوم؟‘‘وجیہہ نے استفہامیہ انداز میں پوچھا
’’میں آئینہ۔۔۔‘‘ اس نے سسکیاں بھرتے ہوئے کہا تھا
’’ آئینہ۔۔‘‘کچھ سوچتے ہوئے کہا ’’ مگر معاف کیجیے میں نے آپ کو پہنچانا نہیں۔۔‘‘اس کے سامنے بیٹھ کر پوچھا
’’بیٹا کیا ہوا تمہیں؟تم ایسے رو کیوں رہی ہو؟کیا ہوا؟‘‘ شگفتہ بی بی بھی سامنے بیٹھ چکی تھیں۔ دونوں کے چہرے پر کئی سوال تھے جواب صرف آئینہ کے پاس تھے مگر اس کی آواز صرف سسکیوں کے نذر ہو رہی تھی
’’میں آئینہ ہوں۔۔ جہاں آپ جاب لینے آئی تھیں، اُس دن ۔۔‘‘ وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ وجیہہ نے ذہن پر زور ڈالا
’’جو اُس دن سر کے کیبن میں آپ کے ساتھ گئی تھی۔۔‘‘اس بار اسے یاد آگیا۔ یہ وہی تھی۔ وجیہہ نے غور سے اس کی طرف دیکھا لباس بدل چکا تھا۔ اس نے عریاں لباس آج عبائے میں محفوظ تھا۔ دودھیا رنگت آج سیاہی کے اندر محصور تھا۔ چہرے پر پرکشش ہنسی آج کہیں غائب ہوچکی تھی۔اس نے ایک بار پھر آئینہ کے وجود کو ٹٹولا وہ بدل چکی تھی۔
’’ تم آئینہ؟ کیا ہوا تمہارے ساتھ؟‘‘اس نے حیرت سے استفسار کیا
’’ آپ نے صحیح کہا تھااُس دن عورت کا حسن نمودو نمائش کے لئے نہیں ہوتا۔ باہر اپنے حسن کا اظہار صرف گناہ کی دعوت عام ہے۔ کاش میں اُس دن آپ کی بات کو سمجھ سکتی۔۔‘‘ ایک بار پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
’’ آئینہ۔۔ روتے نہیں، مجھے سکون سے بتاؤآخر کیا ہوا ہے ؟‘‘
’’ وہ۔۔ اس نے میرے ساتھ۔۔‘‘آنسوؤں کا ضبط ٹوٹ گیا۔ بپھرے ہوئے سمندر کی طرح آنسو بہتے جا رہے تھے
’’ مجھے انصاف چاہئے۔‘‘اس نے روتے ہوئے وجیہہ سے التجا کی تھی۔ ڈھکے چھپے الفاظ میں اس نے وجیہہ کو سچائی سے روشناس کروایا جسے وہ فوراسمجھ گئی
’’ آئینہ۔۔۔سنبھالو اپنے آپ کو۔۔‘‘وجیہہ نے اٹھ کر اس کے کندھوں کو ہلکا سا تھپتھپایا
’’ دیکھو بیٹا!عورت کا مطلب ہی چھپانے والی چیز ہے اور اس کاحسن صرف اس کے شوہر کے لئے ہوتا ہے۔اوروں کے سامنے اپنے وجود کو ظاہر کرناصرف برائی کو ہی دعوت دیتا ہے۔جس لڑکی مین جتنا حسن ہوتا ہے اس کے لئے اتنی ہی احتیاط ضروری ہوتی ہے۔‘‘شگفتہ بی بی نے سمجھانے کی کوشش کی تھی
’’ میں سمجھ چکی ہوں۔۔۔میں غلط تھی جو اوروں پر اپنے آپ کو عیاں کرتی رہی اور اس کی سزا اُس نے مجھے۔۔۔‘‘ایک بار پھر آنسو بے قابو ہوگئے۔
’’وجیہہ آپ میری مدد کریں گی ناں۔۔مجھے انصاف چاہئے۔۔‘‘ اس نے ہاتھ جوڑ کر اس کے سامنے منت سماجت کی
’’میں تمہاری مدد کرونگی مگر۔۔‘‘وجیہہ نے اثبات میں سر تو ہلایا مگر پھر ایک سوچ نے نظر ثانی پر مجبور کیا
’’پلز آپ انکار مت کرنا۔ آپ کے علاوہ کوئی اسے سزا نہیں دلاسکتا ۔ کل اس کی پیشی ہے پلز آپ یہ کیس لڑیں پلز۔۔۔‘‘ وہ روتے ہوئے اس کے سامنے منتیں کر رہی تھی
’’ دیکھو آئینہ۔۔۔میں تمہارا کیس ضرور لڑتی مگر مین عدالت کی چوکھٹ پر قدم بھی نہیں رکھنا چاہتی۔۔‘‘
’’ دیکھیں میں آپ کے پاس بڑی امید لے کر آئی ہوں۔۔‘‘ وہ اس کے قدموں میں بیٹھ گئی
’’ آئینہ۔۔ اٹھو ۔۔ یہ کیا کر رہی ہو۔۔؟‘‘ اس کو کندھوں سے پکڑ کر اٹھایا
’’ پلز میری مدد کریں۔۔‘‘ آئینہ کے بار باراصرار پر وہ کچھ سوچنے لگی
’’اچھا۔۔ میں تمہیں اپنی ایک دوست کا نمبر دیتی ہوں۔ وہ تمہارا یہ کیس ضرور لے گی۔‘‘وجیہہ نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا
’’ لیکن۔۔۔‘‘ وجیہہ کے انکار پر اسے مایوسی ہوئی
’’تم فکر نہ کرو۔۔وہ تمہارا کیس اچھے طریقے سے ہنڈل کرے گی ‘‘ وجیہہ کی یقین دہانی پر اسے کچھ حوصلہ ہوا۔کچھ دیرباتیں کرنے کے بعد وہ وہاں سے چلی گئی
’’حالات انسان کو کیسے بدل دیتے ہیں؟ اُس دن کی آئینہ اور آج کی آئینہ میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔‘‘جاتے ہوئے اس کے وجود کو دیکھتی رہی
’’وقت چیز ہی ایسی ہے ، ہر شے کو بدل کر رکھ دیتی ہے لیکن انسان بھی کتنا ڈھیٹ ہے جب تک خود ٹھوکر کھا کر نہ گرے ، نہیں سنبھلتا۔۔‘‘شگفتہ بی بی نے حسرت بھرے لہجے میں کہا
’’کاش ! انسان دوسروں میں بھی سیکھ سیکھتے۔۔‘‘سردآہ بھرتے ہوئے وجیہہ نے آنکھیں بند کر کے ضرغام کے بارے میں سوچا ۔ جو خود بھی انہی مراحل سے گزر رہا تھا
’’ کاش ! ضرغام بھی سدھر جائیں۔۔‘‘دل نے کہا تھا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ناول ابھی جاری ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Shoaib

Read More Articles by Muhammad Shoaib: 64 Articles with 63829 views »
I'm a student of Software Engineering but i also like to write something new. You can give me your precious feedback at my fb page www.facebook.com/Mu.. View More
08 Aug, 2017 Views: 553

Comments

آپ کی رائے
very Nice
human psychology ko express krny mein maharat hasil hai ap ko
buht gehra mushaheda hai insani jzbat o ehsasat k hwaly sy
buht umdah naovel jaraha hai new episode ka intzar rehta hai khoob likhtay hain ap b
GOOD LUCK AND STAY BLESSED ALWAYS
By: uzma ahmad, Lahore on Aug, 10 2017
Reply Reply
1 Like
thank u so much
By: Muhammad Shoaib, Faisalabad on Aug, 30 2017
0 Like