قیام پاکستان کے مقصدکاعدم حصول

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)

ہرسال اگست کامہینہ شروع ہوتے ہی ان تاریخی دنوں کی یادتازہ ہوجاتی ہے جب مملکت خدادادپاکستان کاقیام عمل میں لایاگیا۔یہ ملک ہمیں پلیٹ میں رکھ کرنہیں دیاگیا بلکہ طویل جدوجہداورلازوال قربانیوں کے بعدیہ ملک ہمیں ملاہے۔پاکستان اس لیے نہیں بنایاگیا کہ یہاں ایک دوسرے پرکیچڑ اچھالا جائے ۔ وطن عزیزا س لیے نہیں بنایا گیا کہ یہاں لوٹ مارکابازارگرم کیاجائے۔ہماراپیاراملک اس لیے نہیں بنایاگیا کہ یہاں رشوت، سفارش، اقرباپروری کاکلچرعام کیا جائے۔پاکستان اس لیے نہیں بنایاگیا کہ یہاں شراب اوردیگرمنشیات کی خریدوفروخت اوراس کااستعمال کیاجائے۔وطن عزیزپاکستان اس لیے نہیں بنایاگیا کہ یہاں ایک دوسرے کوبدنام کرنے کاکوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیاجائے۔اس مملکت خدادادکاقیام اس لیے عمل میں نہیں لایاگیا کہ یہاں سودی بینکاری نظام چلایاجائے۔ہماراپیاراملک پاکستان اس لیے نہیں بنایاگیا کہ یہاں توہین رسالت کے جرم میں سزایافتہ مجرموں کوسزائے موت دینے کی بجائے انہیں زندہ رکھا جائے۔پاکستان کاقیام اس لیے عمل میں نہیں لایاگیا کہ ناموس رسالت ایکٹ پرترمیم کرنے والوں کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیاجائے۔وطن عزیزاس لیے نہیں بنایاگیا کہ دن دیہاڑے پاکستانیوں کوقتل کرنے والوں کوچھوڑ دیاجائے ۔پاکستان اس لیے نہیں بنایاگیا کہ یہاں سیاسی، لسانی، مذہبی تعصب پھیلایاجائے۔اس کے علاوہ بھی ہمارے ملک میں بہت سے ایسے کام ہورہے ہیں جن کاموں کے لیے پاکستان نہیں بنایاگیا۔ایسی بات بھی نہیں ہے کہ پاکستان بنانے کاکوئی مقصد نہیں تھا۔پاکستان کاقیام عمل میں لائے جانے کابھی ایک مقصدتھا ۔یہ مقصدکیاتھا یہ کوئی رازنہیں ہے۔ملک کابچہ بچہ یہ بات اچھی طرح جانتاہے کہ پاکستان بنانے کاکیامقصدتھا۔وہ مقصدتھا کہ مسلمان اسلامی اصولوں کے مطابق اپنی زندگیاں گزارسکیں۔تحریک پاکستان کے دوران لگایاجانے والانعرہ بھی اس مقصدکی واضح نشاندہی کرتاہے جس مقصدکے لیے پاکستان بنایاگیا۔وہ نعرہ یہ تھا۔ پاکستان کامطلب کیا۔لاالہ الا اللہ۔پاکستان کاقیام عمل میں لائے جانے کامقصدتھا کہ یہاں اسلامی نظام نافذ کیاجائے۔یہ ملک اس لیے بنایاگیا تھا تاکہ یہاں کے باشندے آزادی کے ساتھ شرعی اورملکی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے اپنے جائزکام کرسکیں۔یہ ملک اس لیے بنایاگیا تھا تاکہ مسلمانوں کی عبادات میں خلل ڈالنے والاکوئی نہ ہو۔پاکستان کاقیام عمل میں لانے کامقصدملک میں نظام مصطفی نافذکرناتھا۔ہم نے اس ملک کوتجربہ گاہ بنادیا۔کبھی یہاں پارلیمانی نظام رائج کیاجاتاہے توکبھی صدارتی نظام لے آیاجاتاہے۔کبھی جمہوریت کادوردورہ ہوتاہے توکبھی مارشل لاء لگادیاجاتاہے۔ہم نے اسلامی اصولوں کے مطابق زندگیاں گزارنے کے لیے یہ ملک حاصل کیاتھا ہم نے اب اسلامی اصولوں کوہی فراموش کردیاہے۔ہم نے پاکستان اس لیے بنایا تھا کہ یہاں اسلامی نظام، نظام مصطفی نافذ کریں گے۔ ہم نے اب تک کتنے ہی آئین بنائے ہیں اوررائج الوقت آئین میں کتنی ہی ترامیم کرڈالی ہیں۔ ہم نے ابھی تک اسلامی نظام نافذ نہیں کیا۔ہم نے انگریزوں، یہودیوں، عیسائیوں اورعالمی قوتوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے یہ ملک بنایاتھا ہمارے اب بھی ان کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں۔ اسلام کے نام پرحاصل کیے گئے ملک میں نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ یہاں بغیراجازت مذہبی پروگرام نہیں کرایاجاسکتا۔مساجدسے دینی مسائل اورمذہبی واقعات پرمشتمل تقریر، نعت خوانی اورتلاوت قرآن پاک کی آوازباہرنہ آئے۔وہ لاؤڈ سپیکرجوصرف اذان اورخطبہ کے وقت استعمال ہوتے تھے اوران کی آوازچاروں طرف گونجتی تھی وہ بھی اتارلیے گئے ہیں۔ فرقہ واریت اورلسانی تعصب کاایساوائرس چھوڑاگیا ہے کہ ان کے مضراثرات سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔ہم ایک دوسرے کے حقوق کاکتناخیال رکھتے ہیں اس سے واضح ہوجائے گا کہ مریض چاہے ایڑیاں رگڑرگڑ کرمرجائیں ڈاکٹرہڑتال پرہی رہتے ہیں۔چاہے کتنے قیدیوں کی ضمانتیں رہ جائیں وکیلوں نے توہڑتال ہی کرنی ہے۔تعلیمی معیارڈاؤن ہوتا توہوجائے اساتذہ تواحتجاج ہی کریں گے۔چاہے لاکھوں کیوسک پانی سمندرمیں چلاجائے، چاہے سیلاب سے لاکھوں جانیں ضائع ہوجائیں، چاہے سیلاب سے لاکھوں ایکڑکھڑی فصلات اورمکانات تباہ ہوجائیں ہم نے کالاباغ ڈیم نہ بننے دیاہے اورنہ ہی بننے دیں گے۔یہاں کسی بھی ادارے کا چپڑاسی جوتنخواہ لے رہا ہے پچانوے فیصدآئمۃ المساجدکی تنخواہ اس کانصف بھی نہیں۔ایک دکان میں بحث ہورہی تھی جوملک میں اسلامی نظام کے نفاذکی طرف رخ کرگئی۔فریق مخالف کاموقف تھا کہ یہاں اسلامی نظام اس لیے نافذ نہیں کیاجاسکتااوریہ موقف ہراس شخص کابھی ہے جویہاں اسلامی نظام چاہتاہی نہیں ہے کہ یہاں مولوی تقسیم ہیں۔یہاں فرقے بندیاں ہیں، ہرفرقہ اورہرمولوی اپنااپنااسلامی نظام چاہتاہے۔یہ تمام مولوی اورفرقے کسی ایک نظام پرمتفق نہیں ہو سکتے۔ہم نے کہا کہ جن امورپراختلاف نہیں ہے وہ تونافذ کردیں،قتل کابدلہ قتل ہے اس پہ کسی کااختلاف نہیں، سودحرام ہے اس پہ کسی کااختلاف نہیں،جائیدادکی تقسیم اوروراثت کی تقسیم پہ کسی کااختلاف نہیں۔چورکی سزاہاتھ کاٹناہے اس پہ کسی کااختلاف نہیں۔شراب، جوا، منشیات حرام ہیں اس پہ کسی کااختلاف نہیں ۔ منشیات کے استعمال کی اسلامی سزاؤں پرکسی کااختلاف نہیں۔نمازپرکسی کااختلاف نہیں اختلاف ہے تونمازکے اوقات پر ہے، روزہ کی فرضیت پرکسی کواختلاف نہیں اختلاف ہے توسحری وافطاری کے اوقات پرہے۔جولوگ پاکستان میں اسلامی نظام کے عدم نفاذ کاذمہ دارمولویوں کوسمجھتے ہیں کیاوہ بتاسکتے ہیں کہ اس ملک میں جتنے بھی آئین بنے اورجتنی بھی ترامیم ہوئیں کیایہ مولویوں سے پوچھ کرکی گئی ہیں۔یہاں جتنے بھی نظام رائج رہے ہیں کیاوہ سب مولویوں سے اجازت لے کررائج کئے گئے تھے۔کیاکالاباغ ڈیم بنانے سے مولویوں نے روک رکھا ہے،کیاامریکہ کواڈے مولویوں کے کہنے پردیے گئے تھے۔کیاایمل کانسی اورعافیہ صدیقیہ کومولویوں نے کہا تھا کہ امریکہ کے حوالے کردو،دن دیہاڑے پاکستانیوں کوقتل کرنے والے ریمنڈ ڈیوس کوکیامولویوں کے کہنے پرچھوڑدیاگیاتھا۔ٹی وی چینلوں پربے ہودہ کمرشل اشتہارات کیاکسی مولوی کے نے ترتیب دیے ہیں۔ملک میں لوڈشیڈنگ کے ذمہ داربھی کیامولوی ہیں۔ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ کیامولویوں کی وجہ سے رکاہواہے۔کیاسقوط ڈھاکہ کے ذمہ داربھی مولوی ہیں۔ یہاں اسلامی جمہوری اتحادبن سکتاہے یہاں متحدہ مجلس عمل بنائی جاسکتی ہے جس میں تمام مکاتب فکرکے علماء موجودہوتے ہیں۔ تمام مکاتب فکرکے علماء اسلامی جمہوری اتحاداورمتحدہ مجلس عمل میں متفق ہوسکتے ہیں توکیااسلامی نظام کے نفاذ پرمتفق نہیں ہوسکتے۔رہی یہ بات کہ کون سافقہ رائج کیاجائے توجس طرح انتخابات میں جس سیاسی پارٹی کی نشستیں زیادہ ہوتی ہیں وہ حکومت بناتی ہے۔یہاں جمہوریت ہے یہاں اکثریت کافیصلہ تسلیم کیاجاتا ہے، اسی اصول کے تحت جس فقہ کے پیروکاراکثریت میں ہیں اسی فقہ کونافذ کردیاجائے۔اسلامی نظام کے نفاذ میں رکاوٹ یہ مولوی اورفرقے نہیں وہ لوگ ہیں جواسلامی نظام کانفاذ پاکستان میں نہیں چاہتے۔جس فورم سے نظام نافذ ہوتاہے، آئین سازی ہوتی ہے، آئین میں ترمیم ہوتی ہے، نظام کونافذ کرنے کااختیارجس فورم کے پاس ہے وہ فورم مولویوں کے پاس نہیں سیاستدانوں کے پاس ہے۔یوں توپاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل بھی کام کررہی ہے۔ اس کی سفارشات پراب تک کتناعمل ہواہے یہ واقفان حال بخوبی جانتے ہیں۔کوئی یہ بات بھی نہ سمجھ لے کہ مولوی پاکستان میں اسلامی نظام کے نافذ نہ ہونے کے ذمہ دارہی نہیں۔اس نظام کے نافذ نہ ہونے کے جتنے ذمہ دارسیاستدان ہیں اس سے کہیں زیادہ مولوی بھی ہیں۔اگرچہ جس فورم سے یہ نظام نافذ ہوناہے وہ فورم سیاستدانوں کے پاس ہے تاہم مولویوں کی بھی اس سلسلہ میں ذمہ داریاں ہیں۔اس نظام کے نفاذ کے لیے جس جدوجہداورلائحہ عمل کی ضرورت تھی وہ اپنایاہی نہیں گیا۔نظام مصطفی ملک میں نافذ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جس فورم کے پاس یہ اختیارہے اس فورم تک رسائی حاصل کی جائے۔ہمارے اکثرمذہبی راہنماؤں اورمذہبی تنظیموں نے سیاست کوشجرممنوعہ تصورکیے رکھا۔اس خوف سے کہ کہیں یہ مذہبی راہنمااسمبلیوں میں پہنچ کرنظام مصطفی ہی نہ نافذکردیں کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مشائخ اورعلماء کااسمبلیوں میں کیاکام؟صرف چندمذہبی تنظیمیں ایسی ہیں جوسیاست میں کام کررہی ہیں۔یہ بات بھی نہیں کہ پاکستان میں مولویوں کواسمبلیوں تک رسائی نہیں۔ہردورحکومت میں علماء بھی اسمبلیوں میں موجودہوتے ہیں۔اس وقت بھی اسمبلیوں میں مشائخ عظام اورعلماء کرام کی خاص تعدادموجودہے۔ یہ علماء مختلف سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے منتخب ہوکرآئے ہیں۔یہ اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں کے ایجنڈوں پرتوکام کرتے ہیں لیکن اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے انہوں نے کبھی کوشش نہیں کی۔یوں پاکستان میں جس فقہ کے پیروکاروں کی اکثریت ہے وہ مذہبی طورپرسیاست سے کوسوں دورہے۔اس فقہ سے وابستہ مشائخ وعلماء کی اکثریت اب بھی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی ۔ لیکن اب اس فقہ کے پیروکارعلماء اور مذہبی تنظیموں میں بھی سیاسی شعورانگڑائی لے رہاہے۔اسی فقہ سے وابستہ مختلف مذہبی سیاسی تنظیمیں کام کررہی ہیں۔ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ تمام علماء درس وتدریس اور وعظ ونصیحت کی ذمہ داریاں چھوڑ کرسیاست میںآجائیں ۔تمام علماء کونہیں اتنے علماء کومختلف مذہبی سیاسی تنظیموں کے پلیٹ فارم سے سیاست میں ضرورہوناچاہیے کہ قومی وصوبائی اسمبلیوں کی تمام نشستوں پرکسی نہ کسی عالم دین کاانتخاب ضرورہوجائے۔جس طرح اس تحریرمیں پہلے ہی لکھاجاچکا ہے کہ ہردورحکومت میں اسمبلیوں میں مولویوں کی خاص تعدادموجودہوتی ہے موجودہ دورحکومت میں بھی مشائخ وعلماء کی خاص تعدادموجودہے۔ان مشائخ وعلماء نے ہماری معلومات کے مطابق کبھی اسلامی نظام کے نفاذ کی کوشش نہیں کی۔ان علماء نے کبھی سودکے خلاف احتجاج نہیں کیا۔ان مشائخ وعلماء نے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ سودکوآج سے ہی ختم کیاجائے۔ جب ملعون سلمان تاثیرنے توہین رسالت کے جرم میں عدالت کی طرف سے سزایافتہ مجرمہ کے حق میں اورتوہین رسالت ایکٹ کے خلاف زبان درازی کی اسمبلیوں میں موجودمشائخ وعلماء کرام اس وقت بھی خاموش رہے۔ان مشائخ وعلماء میں سے کسی نے بھی اسمبلیوں میں کھڑے ہوکریہ مطالبہ نہیں کیا کہ توہین رسالت ایکٹ کے خلاف زبان درازی پرملعون گورنرکے خلاف ایکشن لیاجائے۔پھرجب ممتازقادری کوتختہ دارپرچڑھایاجارہا تھا یہ علماء ومشائخ اس وقت بھی خاموش رہے۔ملک میں اسلامی نظام نافذہوتاتوکسی کوتوہین رسالت ایکٹ کے خلاف زبان درازی کی جرات نہ ہوتی، ممتازقادری کوتختہ دارپرنہ لٹکایا جاتا ۔ پاکستان اس لیے بنایاگیا کہ اس ملک میں اسلامی نظام نافذ کیاجائے گا، اسلامی نظام نافذ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مشائخ عظام وعلماء کرام پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں تک رسائی حاصل کریں، سینیٹ اوراسمبلیوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مشائخ وعلماء سیاست میں بھی دلچسپی لیں۔تمام علماء متفق ہوکراس اندازسے سیاسی مہم چلائیں کہ اتنے مشائخ و علماء سینیٹ اوراسمبلیوں میں پہنچ جائیں کہ یہ کسی بھی آئین اورقانون کوآسانی سے ختم یاتبدیل کرسکیں اسوراس میں ترمیم کرسکیں۔ وہ جونظام چاہیں نافذ کرسکیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 338 Articles with 155470 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Aug, 2017 Views: 513

Comments

آپ کی رائے