شجر ممنوعہ (صفحہ نمبر ١)

(Kanwal Naveed, Karachi)

دل اُسی چیز کے لیے کیوں تڑپتے ہیں جو ہمیں نہ مل سکنے کا اندیشہ ہو!

کبھی کبھی انسان کو سب کچھ ختم ہوتا نظر آتا ہے ۔ وہی بعض اوقات نئی شروعات کے لمحے ہوتے ہیں۔ ہر مشکل کے بعد ہی آسانی ہے۔ یہ ہی زندگی ہے ۔ شواف نے کچھ لمحے سوچا ،انکھوں میں اُتر آنے والے آنسواب اس کے چہرے کو دھوچکے تھے۔ کچھ بھی آسان کہاں ہوتا ہے۔ کچھ بھی آسان ہو ہی نہیں سکتا۔ انسان دنیا میں آسانیوں کے لیے نہیں آزمائشوں کو سر کرنے کے لیے آیا ہے۔ جب وہ آگ میں کود جاتا ہے تو کودنے کے بعد گلزار بنتی ہے۔

رب نے میرے لیےیہ طے کیا ہے ،تو یہ ہی سہی۔ جو لوگ آزمائشوں پر کھرے نہیں اُترتے وہ آسانیوں کے حقدار ہی نہیں ۔ آسانی تو وہ کامیابی ہے ۔جو آزمائش کو سر کرنے کے بعد انعام کے طور پر دی جاتی ہے۔ انعام والے ۔رب نے انعام یافتہ لوگوں کی صف ہی الگ کر دی۔ ان میں شامل ہونا کس قدر مشکل ہے۔ وہ انکھیں بند کیے اپنی ذات کو اشکار کرنے میں مصروف تھی۔بند کمرے کے کونے میں تنہائی میں اپنی ذات کے ساتھ جنگ میں مصروف۔ جب خود سے خود کی لڑائی ہو تو جیت کس کی ہو گی؟ اُسے اپنی روح کے اندر بازگشت محسوس ہوئی۔ وہ ہر اس سلاخ کو توڑ دینا چاہتی تھی۔ جن کے پیچھے اب اس کا دم گھٹنے لگا تھا۔ کچھ بھی ہو جائے تو کچھ نہیں ہوتا۔ کچھ بھی ہو جائے تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔ وہ اپنے ہر خوف کو اپنے وجود سے نکال باہر پھینکنا چاہ رہی تھی۔ وہ یہ سب کسی کے لیے نہیں ، صرف اپنے لیے کرنا چاہ رہی تھی۔ اس کی زندگی میں یہ پہلی بار تھاکہ وہ کچھ فقط اپنے لیے کرنا چاہ رہی تھی۔ میں تھک چکی ہوں ۔اے !میرے مالک ۔ کیا تیرے انعام والوں کی صفحوں میں سب سے آخری صف میں اورسب سے آخری انسان کی جگہ مجھے مل سکتی ہے۔ اس نے حلق سے اُترتی ہوئی کڑواہٹ کو اپنے پورے وجود میں پھیلتے ہوئے محسوس کیا۔ اس کی روح سے پھوٹنے والا سوال جواب پا چکا تھا۔ وہ اطمینان قلب محسوس کر رہی تھی۔

شواف نے اپنے کھلے بالوں کو سمیٹنے کی کوشش کی جو اس کے شانوں پر بے ترتیبی سے پھیلے تھے ،اس کی زندگی کی طرح جو ترتیب سے مفقود تھی۔ مگر اب وہ سمجھ چکی تھی کہ اسے کیا کرنا ہے، کب اور کیسے کرنا ہے۔ وہ اپنے کمرے میں آکر الماری سے کپڑے نکال رہی تھی۔ اسی کے دماغ میں کل کی گگو گونجنے لیے۔ اوصاف کی باتیں ۔ اس نے ایک لاکی سانس لاک۔ وہ کیف طرح بھی گزرے ہوئے لمحات کو خود سے دور نںیے کر پا رہی تھی۔کچھ گایہ کیے نہیں جاتے ہو جاتے ہیں ۔ انسان سوچ سمجھ کر نںیھ کرتا۔ کیوں ہوتے ہیں ،خود اس کی سمجھ سے بالا تر ہوتے ہیں ۔ شواف نے خودکو سمجاینے کی کوشش کی تھی۔ اس نے اپنے ہونٹوں پردھیرے دھیرے زبان پری ی۔اوصاف کبھی بھی خود کو میری جگہ رکھ کر کبھی نہیں سوچ سےت ۔ اس کی انکھوں سے پھر آنسووں بےنا لگے ۔ آخر یہ آنور ختم کیوں نہیں ہوتے؟ اس نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ پرئ وہی کل کی باتیں !کیوں میرے دل و دماغ سے نکل نہیں جاتیں یہ باتیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان کی سوچیں اس کی زندگی بدل دیتی ہیں ،انسان باخبر ہو یا بے خبر کچھ فرق نہیں پڑتا۔شواف نے اوصاف کی بات سن کر غصے سے اپنے نیچے کے ہونٹ کو دانتوں میں دبایا۔ وہ اسے کچھ کہنا چاہتی تھی مگر خاموش رہی۔ اوصاف اپنی ہر بات مکمل بیان کر دیتا مگر شواف اپنے جواب اپنے دل میں لیے کمرے سے خاموشی سے باہر نکل جاتی۔

پانچ سال کی اس شادی شدہ زندگی سے وہ دونوں ہی عاجز آ چکے تھے ۔ان دونوں کے درمیان انا کی نہ نظر آنے والی آہنی دیوار تھی ۔شواف کو شروع سے شادی شدہ زندگی ہی منحوس لگتی تھی۔ جو دو لوگوں کو ایک پنجرے میں بند کر کے اس پنجرے کے دروازے کو اقدار کے تالے سے بند کر دینے کا نام ہے۔ انہیں ڈرایا جاتا ہے ،کبھی لوگوں کی نظروں سے تو کبھی ،ماں ۔باپ کی بددعاوں سے۔قیدی ساری عمر ایک دوسرے کو کوستے ہیں مگر نہ پنجرے کو چھوڑتے ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کو۔ شواف نے یہی دیکھا تھا۔
(جاری ہے)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 182706 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
13 Aug, 2017 Views: 646

Comments

آپ کی رائے
اسلام علیکم ۔ تحریر میں لفظوں کی بناوٹ میں بہت غلطیاں ہوتی ہیں ۔جو آپ پبلش کرتے ہیں۔جبکہ اصل تحریر جہاں سے میں لکھنے کے بعد کاپی کرتی ہوں ۔ اس میں ایسی کوئی غلطی نہیں ہوتی۔ پلیز آپ چیک کریں ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ کنول نوید
By: kanwalnaveed, Karachi on Aug, 14 2017
Reply Reply
0 Like